اردو ناول کا مختصر آغاز و ارتقاء


اردو ناول کا مختصر آغاز و ارتقاء

اردو میں ناول کی صنف انگریزی ادب سے آئی ہے اسی لئے اردو ناول کے آغاز کا مطالعہ کرتے ہوئے انگریزی ناول کے آغاز کی طرف دھیان ضرور جاتا ہے ان دونوں زبانوں میں ناول کے آغاز کے درمیان129 ( ایک سو انتیس ) برس کا فاصلہ حائل ہے۔

انگریزی ادب میں سیموئیل رچرڈ سن کا ” پامیلا آرور، چور یوارڈڈ ( Pamila or Virtue Rewarded 1740 ء میں منظر عام پر آیا اور اس طرح گویا انگریزی قصہ کہانی نے ناول کا روپ اختیار کر لیا یہ چوں کہ ناول کا ابتدائی نمونہ ہے اس لئے اس میں وہ صفات ولوازم کامل صورت میں موجود نہیں ہیں۔ جو بعد میں انگریزی ناول کا امتیاز بنے اس کے باوجود انگریزی ادب میں لفظ ناول سب سے پہلے اسی کے لئے استعمال ہوا ہے
۔ رچرڈ سن ہی کے معاصر ہنری فیلڈنگ کا ناول جوزف "اینڈ یوز” 1742ء میں منظر عام پر آیا۔ ہنری فیلڈنگ کے اس ناول کو انگریزی ناول نگاری کے فن کی پہلی مثال قرار دیا گیا۔ ہنری فیلڈنگ کو بابائے ناول نگاری بھی کہا جاتا ہے اور اس اعزاز کی وجہ ان کا ناول نام جونز ( Tom Jones) ہے

اس ناول کو انگریزی ناول نگاری کا پہلا عظیم اور مکمل نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ ناول نگاری کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کی بنیاد اس ناول سے نہ پڑتی ہو۔ یہ توانگریزی ناول کے آغاز کا قصہ ہوا.

ہم اردو ناول کے آغاز کی طرف آتے ہیں یہاں بھی بات قصہ کہانی سے ناول تک کے سفر کی ہے اور اس سفر کی پہلی مضبوط ترین کڑی ڈپٹی نذیر احمد کا ناول مراةالعروس(1869ء) ہے

اردو ناول کا آغاز ڈپٹی نذیر احمد کے ان قصوں سے ہوتا ہے جن کو ناول کی ابتدائی صورت قرار دیا جاتا ہے۔ ان قصوں میں وہ فنی لوازم دکھائی نہیں دیتے جو انگریزی ناول کے مثالیے سے سامنے آتے ہیں ۔

قصوں کو بسا اوقات مکمل طور پر ناول قرار دینے سے احتراز کیا جاتا ہے لیکن چوں کہ کسی بھی صنف ادب کا پہلا نمونہ اس کی کامل ترین تصویر نہیں ہوتا اس لیے اردو میں ناول نگاری کی پہلی منزل ڈپٹی نذیر احمد کے قصے ہی بنتے ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ان قصوں کی تفصیل دیکھتے ہیں۔

مراة العروس 1869 عورتوں کی تعلیم اور انتظام خانہ داری

بنات النعش 1872 ء ( مراۃ العروس کا دوسرا حصہ )

توبة النصوح 1877 ، خدا پرستی

ابن الوقت 1888ء

رویائے صادقہ

ایامٰی

گویا مراۃ العروس جو 1869ء میں لکھا گیا اردو زبان کا وہ پہلا قصہ قرار پاتا ہے جس پر ناول ہونے کا تاثر لیا گیا یا یوں کہیے کہ جس سے ناول نگاری کے مطالعے کا آغاز کیا جاتا ہے۔

مراة العروس وہ تمام شرائط پوری نہیں کرتا جن کا تقاضا جدید ناول سے کیا جاتا ہے۔ یہ وہی شرائط ہیں جو انگریزی ناول نے پیش کیں اور جو معیار نہیں لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ڈپٹی نذیر احمد کے یہی قصے تھے اردو ناول نگاری کے آغاز کا باعث بنے

خود ڈپٹی نذیر احمد کے ہاں بھی مراۃ العروس 1869ء سے لے کر فسانہ مبتلا 1885 ء تک ارتقاء کی ایک صورت صاف نظر آتی ہے اور یوں ہم دیکھتے ہیں کہ فسانہ مبتلا میں وہ تمام صفات موجود ہیں جو ناول کی ساخت کا بنیادی جزو بنتی ہیں۔

آئیےایک اقتباس کا مطالعہ کرتے ہیں:

"نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار اور ان کے قصوں کا تعلق اردو کے اولین ناول کہنے کی یہ وجہ ہے کہ حسن اتفاق سے ان کا تعلق اردو افسانے کی اس قسم سے ہے جسے قصہ کہانی کہتے ہیں

اور قصہ کہانی میں ناول کی بھی چند خصوصیات لکھی جاتی ہیں دونوں ہی داستان کے مافوق الفطرت واقعات ، عجائب نگاری طلسماتی فضا اور غیر انسانی مخلوق سے پاک ہوتے ہیں ان میں اسی دنیا کی نقشہ کشی ہوتی ہے جو ہم اپنے گردو پیش دیکھتے ہیں

اور ایسی ہی مخلوق سانس لیتی ہے جیسی اس دنیا میں آباد ہے اس کے علاوہ قصہ کہانی میں اتفاقات کی بھی اس قدر کثرت نہیں ہوتی جتنی داستانوں میں نظر آتی ہے چنانچہ اس باب میں بھی قصے کہانی ناول سے قریب نظر آتے ہیں”

( ڈاکٹر سہیل بخاری، ناول نگاری ، اردو ناول کی تاریخ و تنقید ص 50)
مجوز و مطالعات

اردو ناول نگاری میں ڈپٹی نذیر احمد کے مقام ، ڈپٹی نذیر احمد کے قصوں کی اہمیت، مطالعہ اور تجزیہ تنقید کے لیے درج ذیل کتب: کا تفصیل سے مطالعہ کیجیے۔

1-ناول نگاری اور ناول کی تاریخ و تنقید، ڈاکٹر سہیل بخاری

2-داستان سے افسانے تک ،سید وقار عظیم

3 -ناول اور ناول نگار، تالیف علی عباس حسینی تلخیص و ترتیب ڈاکٹر اسلم عزیز

4 نذیر احمد کی ناول نگاری، انیس ناگی

پروف ریڈر: ایم فل سکالر رخسانہ یاسمین

حواشی

موضوع کا نام:1-اردو ناول کا آغاز،کتاب کا نام:اردو داستان اور ناول:فکری و فنی مباحث (بنادی کورس)کورس کوڈ:9011صفحہ نمبر:14تا15مرتب کردہ:زائرہ تسنیم

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

1 خیال ”اردو ناول کا مختصر آغاز و ارتقاء“ پر

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں