اردو نظم کا تعارف

کتاب کا نام: بنیادی اردو،کورس کوڈ:9001،عنوان :اردو نظم کا تعارف،مرتب کردہ: فاخرہ جبین

اردو نظم کا تعارف

نظم (Poema) اطالوی زبان کا لفظ ہے ۔ poema سے انگریزی میں Poem بناء جس کے معنی میں بنانا یا تخلیق کرنا۔ نثر کے مقابلے میں کسی بھی موزوں کلام کو نظم کہا جاتا ہے مگر اصطلاحی معنی میں شاعری کی ایسی صنف جس میں تسلسل کے ساتھ کوئی خیال پیش کیا جاتا ہو نظم کہلاتی ہے۔

تسلسل کی وجہ سے نظم کا ایک موضوع بھی ہوتا ہے۔ شاعر اگر عنوان کے طور پر موضوع نہ بھی لکھے، جب بھی نظم کے اندر ایک موضوع موجود ہوتا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اعظم کے حوالے سے لکھتے ہیں:

نظم کے پیکر کی خصوصیات اس کی اکائی ہوتی ہے اور نظم کا ہر مصرع اپنی مجرد حیثیت سے محروم محض ایک مرکزی خیال کی تعمیر میں صرف ہوتا ہے۔“

(جدید نظم کی کروٹیں لاہور سنگ میل پبلی کیشنز ، ۲۰۰۷ ص ۲۱)

عموماً تمام اصناف شاعری کو نظم ہی کہا جاتا ہے کیوں کہ نظم میں منظوم کلام ہوتا ہے، جس کی کوئی ایک بحر ہوتی ہے، جب کہ نر منظوم کلام نہیں ہوتا اور وہ کسی بحر میں نہیں لکھا جاتا۔ اس لحاظ سے غزل مثنویاں ، قصائد، پابند نظمیں، کینوز مر ھے سب نظم ہی کہلا ئیں گے۔ منظوم کلام بھی طرح طرح کے ہوتے ہیں ؟

ایک منظوم کلام غزل کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے جس میں مسلسل خیال نہیں ہو تا جب کہ دوسرا منظوم کلام نظم کی بیت میں لکھا جاتا ہے، جس میں مسلسل خیال پایا جاتا ہے۔ اردو میں غزل کو نظم سے علینہ وصیف کن خیال کیا جاتا ہے ۔ اٹھارھویں صدی میں نظیر اکبر آبادی وہ شاعر ہے، جس نے ایک بڑی تعداد میں خالصتا نظم لکھی۔

نظم کی اقسام

اردو میں نظم کو بہت سی شکلوں یا ہیٹوں میں لکھا جاتا ہے مگر بنیادی طور پر اس کی چار اقسام بنتی ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

پابند نظم

پابند نظم میں قافیے اور ردیف کی پابندی، جب کہ مصرعوں میں بحر کے ارکان کی تعداد کو ایک جیسا رکھا جاتا ہے۔ پابند نظم مختلف بندوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ مختلف بند ہونے کی وجہ سے اسے ترجیع بند اور ترکیب بند بھی کہا جاتا ہے۔ پابند نظم میں موضوع کے حوالے سے کوئی قید نہیں کسی بھی طرح کا موضوع اعظم میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

پابند نظم بیت (Form) کے لحاظ مسدس ، مربع ، مثمن وغیرہ میں لکھی جاتی ہیں۔ شعری اصناف، قصیدہ مرثیہ شہر آشوب مثنوی، قطعات بھی پابند نظمیں کہلاتی ہیں۔

معرفی نظم ایسی نظم کو کہتے ہیں، جس میں وزن اور بحر کا تو مکمل خیال رکھا جاتا ہے، مگر قافیہ اور ردیف کی پابندی لازمی نہیں کبھی جاتی اور ہی اس کے ایک مصر سے یا لائن میں ایک جیسے ارکان کا ہونالازمی ہے۔ مجید امجد کی ایک نظم دیکھیے :

بہت حجر کی اداس سلطنت میں

اک شاخ برہنہ تن پر تنہا

بے برگ مسافتوں میں

حیران

کچھ

زور

شگفت شوخ

کلیاں

جو ایک سرور

سرکشی میں

اعلان بیار

بھی پہلے

انجام

خزاں

پہ ہنس

پڑی ہیں

ان سطروں میں کسی قافیہ اور ردیف کا خیال نہیں رکھا گیا، اگر ایک مصرعے یا لائن میں بحر کے ارکان کی تعداد ایک جیسی ہے۔ یوں یہ نظم معری نظم کہلائے گی۔

آزاد نظم

ایسی نظم جس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں کی جاتی مگر بر کا پورا التزام رکھا جاتا ہے۔ ایک لائن میں ایک بحر کے کتنے ارکان ہوں اس کا فیصلہ بھی شاعر خود کرتا ہے یعنی اس کی پابندی بھی لازمی نہیں۔ گویا ہم کہ سکتے ہیں کہ آزاد نظم ایسی نظم

ہے جس میں صرف بحر کا خیال ضروری ہے اس کے علاوہ، ردیف ، قافیہ یا ارکان کی تعداد کی پابندی کرنا ضروری نہیں ہے۔

آزاد نظم میں خیال کو اہمیت دی جاتی ہے، آزاد نظم میں خیال تسلسل کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ پابند نظم میں قافیے یا ردیف کی وجہ سے جو خیال پیش کرنے میں رکاوٹ سمجھی جاتی تھی ، آزاد نظم میں اس پابندی سے نجات مل گئی۔

شروع شروع میں فری درس کے تنقیع میں اردو میں لکھ اس کا چلن ہوا مگر بہت جلد اس نے اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔ اردو میں چالیس کی دہائی میں آزاد نظم کو بہت مقبولیت ملی ۔ آزاد نظم کی پہلی کتاب ماورا (ن م راشد ) ہے جو ۱۹۴۱ میں شائع ہوئی ۔

مجید امجد ان م راشد میراتی ، اختر الایمان فیض احمد فیض، جیلانی کامران اختر حسین جعفری اور آفتاب اقبال شمیم آزاد نظم کے بڑے شاعر ہیں جنھوں نے آزاد نظم میں اپنے خیالات کو پیش کیا۔ اختر حسین جعفری کی ایک آزاد نظم ” امتناع کا مہینہ دیکھیے :

اس مہینے میں غارتگری منع تھی، پیڑ کھتے نہ تھے تیر سکتے نہ تھے

بے خطر تھی زمیں متعقر کے لیے

اس مہینے میں مار نگری منع تھی، یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے

قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینوں کی حرمت کے اعزاز میں

روش پر گردن خم سلامت رہے

کر بلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکلوں کا پانی امانت رہے

میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ

اس مہینے کی تشنہ لب ساعتیں ، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئے

روز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیر در مجھ سے کھلتی نہیں فرش ہموار پر پاؤں چلتا نہیں

دل دھڑکتا نہیں

اس مہینے میں گھر سے اکتا نہیں

ایسی نظم جس میں نہ کسی ردیف قافیے کی پابندی کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی بحر کا التزام رکھا جاتا ہے، نثری نظم کہلاتی

ہے۔ نثری نظم میں صرف شاعرانہ خیال کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اُردو میں نثری نظم کا آغاز فرانسیسی اعظم کی پیروی میں ہوا۔ نثری نظم

کے اہم شعرا میں مبارک احمد عبد الرشید، سارا شگفتہ، ذیشان ساحل، نسرین انجم بھی اور افضال احمد سید شامل ہیں۔

معرى نظم

معرفی نظم ایسی نظم کو کہتے ہیں، جس میں وزن اور بحر کا تو مکمل خیال رکھا جاتا ہے، مگر قافیہ اور ردیف کی پابندی لازمی نہیں کبھی جاتی اور ہی اس کے ایک مصر سے یا لائن میں ایک جیسے ارکان کا ہونالازمی ہے۔ مجید امجد کی ایک نظم دیکھیے :

بہت حجر کی اداس سلطنت میں

اک شاخ برہنہ تن پر تنہا

بے برگ مسافتوں میں

حیران

کچھ

زور

شگفت شوخ

کلیاں

جو ایک سرور

سرکشی میں

اعلان بیار

بھی پہلے

انجام

خزاں

پہ ہنس

پڑی ہیں

ان سطروں میں کسی قافیہ اور ردیف کا خیال نہیں رکھا گیا، اگر ایک مصرعے یا لائن میں بحر کے ارکان کی تعداد ایک جیسی ہے۔ یوں یہ نظم معری نظم کہلائے گی۔

آزاد نظم

ایسی نظم جس میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں کی جاتی مگر بر کا پورا التزام رکھا جاتا ہے۔ ایک لائن میں ایک بحر کے کتنے ارکان ہوں اس کا فیصلہ بھی شاعر خود کرتا ہے یعنی اس کی پابندی بھی لازمی نہیں۔ گویا ہم کہ سکتے ہیں کہ آزاد نظم ایسی نظم ہے جس میں صرف بحر کا خیال ضروری ہے اس کے علاوہ، ردیف ، قافیہ یا ارکان کی تعداد کی پابندی کرنا ضروری نہیں ہے۔

آزاد نظم میں خیال کو اہمیت دی جاتی ہے، آزاد نظم میں خیال تسلسل کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ پابند نظم میں قافیے ردیف کی وجہ سے جو خیال پیش کرنے میں رکاوٹ سمجھی جاتی تھی ،

آزاد نظم میں اس پابندی سے نجات مل گئی۔ شروع شروع میں فری درس کے تنقیع میں اردو میں لکھ اس کا چلن ہوا مگر بہت جلد اس نے اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔ اردو میں چالیس کی دہائی میں آزاد نظم کو بہت مقبولیت ملی ۔ آزاد نظم کی پہلی کتاب ماورا (ن م راشد) ہے جو ۱۹۴۱ میں شائع ہوئی ۔

مجید امجد ان م راشد میراتی ، اختر الایمان فیض احمد فیض، جیلانی کامران اختر حسین جعفری اور آفتاب اقبال شمیم آزاد نظم کے بڑے شاعر ہیں جنھوں نے آزاد نظم میں اپنے خیالات کو پیش کیا۔ اختر حسین جعفری کی ایک آزاد نظم ” امتناع کا مہینہ دیکھیے :نثری نظم :

اس مہینے میں غارتگری منع تھی، پیڑ کھتے نہ تھے تیر سکتے نہ تھے

بے خطر تھی زمیں متعقر کے لیے

اس مہینے میں مار نگری منع تھی، یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے

قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینوں کی حرمت کے اعزاز میں

روش پر گردن خم سلامت رہے

کر بلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکلوں کا پانی امانت رہے

میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ

اس مہینے کی تشنہ لب ساعتیں ، بے گناہی کے کتبے اٹھائے ہوئے

روز و شب بین کرتی ہیں دہلیز پر اور زنجیر در مجھ سے کھلتی نہیں فرش ہموار پر پاؤں چلتا نہیں

دل دھڑکتا نہیں

اس مہینے میں گھر سے اکتا نہیں

ایسی نظم جس میں نہ کسی ردیف قافیے کی پابندی کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی بحر کا التزام رکھا جاتا ہے، نثری نظم کہلاتی ہے۔ نثری نظم میں صرف شاعرانہ خیال کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اُردو میں نثری نظم کا آغاز فرانسیسی اعظم کی پیروی میں ہوا۔

نثری نظم کے اہم شعرا میں مبارک احمد عبد الرشید، سارا شگفتہ، ذیشان ساحل، نسرین انجم بھی اور افضال احمد سید شامل ہیں۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں