اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز و ارتقا | Urdu mein Maktoob Nigari ka Aaghaz o Irtiqa
موضوعات کی فہرست
اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز و ارتقا
اردو میں مکتوب نویسی کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز میں ہوا۔ مرزا قتیل نے عربی، فارسی اور ترکی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی خط لکھے۔
ان کے مکاتیب کا مجموعہ ان کے شاگرد خواجہ امام الدین عرف خواجہ امامی نے ” مخزن الفوائد” کے نام سے مرتب کیا۔
اس مجموعے میں قتیل کے پانچ اردو مکاتیب شامل ہیں۔
مولانا حامد حسن قادری نے مخزن الفوائد کی تاریخ تالیف ۱۸۱۷، قرار دی ہے ، اس لحاظ سے مرزا قتیل یہ خط ۱۸۱۷ء سے قبل کے ہیں۔
مرزا رجب علی بیگ سرور اور غلام غوث بے خبر کا شمار بھی اردو کے اولین مکتوب نگاروں میں ہوتا ہے۔
مرزا رجب علی بیگ سرور کی عام شہرت چونکہ فسانہ عجائب کے حوالے سے ہے اور اس داستان کا اسلوب مسجع و مقفی اور پیچیدہ ہے، اس لیے سرور کے مکاتیب کے بارے میں بھی یہی تأثر عام ہے۔
انشائے سرور میں شامل مکاتیب میں اگر چہ پر تکلف اور مسجع و مقفی اسلوب کے حامل مکاتیب بھی شامل ہیں تاہم بعض خطوط کی زبان سادگی، سلامت اور برجستگی کا عمدہ نمونہ ہے
اور اس نوع کے خط غالب کے خطوط سے سر مارتے ہیں۔ ان کے خطوط میں بھی جزئیات نگاری کا کمال اور دل چسپی کی فضاملتی ہے جو خطوط کو دل کشی عطا کرتی ہے۔ ایک اقتباس دیکھیے
"اب یہاں سے میرا حال سنو۔ شاید تمھارے ملال کو میں نے نہ لکھا ہو۔ اٹھارویں صفر پانچویں نمبر چار شبنہ کو دربار پیادہ جاتا تھا۔
حفیظ اللہ ساتھ تھے۔ قلعہ کے قریب دو گاہیں دوڑی آئیں۔ ایک نکل گئی، دوسری کی جھپٹ مجھ کو لگی۔
گر پڑا، کپڑے لتے ہو گئے ۔ چوٹ بہت آئی ، دربار نہ گیا۔ دن زیادہ نکل آیا تھا، چھتری بھی ٹوٹ چکی تھی ۔ "
(انشائے سرور مرتبہ میر احمد علی ص ۱۷۷)
حواشی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم،موضوع ۔۔۔{اردو میں مکتب نگاری کا آغاز و ارتقا}کتاب کا نام ۔۔۔{نثری اصناف}کوڈ نمبر ۔۔۔{9009}مرتب کردہ ۔۔۔{عارفہ راز}
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں