اردو ڈرامہ کی تعریف اور ارتقاء | Urdu Drama ki Tareef aur Irtiqa
اردو ڈرامہ کی تعریف اور ارتقاء
دنیا کی تمام قدیم تہذیبوں میں کسی نہ کسی صورت میں ڈراما پایا جاتا ہے۔
انسانی تاریخ میں نثر کی قدیم ترین صنف ڈراما ہے۔ ڈرامے نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اپنا سفر شروع کیا تھا کیوں کہ "اظہار ذات” اور "نقل” انسانی جبلت کا حصہ ہیں اور یہی چیز ڈرامے کا محرک بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روایتی اردو ڈرامہ: ایک نظر | PDF
لفظ ” ڈراما” یونانی سے لاطینی اور بعد ازاں فرانسیسی سے ہوتا ہوا انگریزی میں آیا۔ یہ یونانی لفظ ڈراؤ (Drau) سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ” کرنا” یا "کر کے دکھانا ہے۔ یہ ایک وسیع اور ہمہ گیر صنف زندگی کی عملی تصویر کا کام دیتی ہے ۔
داستان، ناول اور ڈراما بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہیں لیکن ڈراما پڑھنے یا بیان کرنے کی چیز نہیں ہے یہ ایسی کہانیوں یا کھیل کا نام ہے جنھیں اسٹیج پر کرداروں اور مکالمات کے ذریعے ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
ہندوستان میں کالی داس ( چندر گپت دوم کا درباری شاعر) کا ڈراما ابھگیان شاکنم شکنتلا ) اور یونان میں سوفوکلیز کا ڈراما ایڈی پس ریکس‘ عالمی کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرامہ کی تعریف اور اقسام
واجد علی شاہ کے لکھے ہوئے رہس "رادھا کنیا” کی بدولت اسے پہلا ڈراما نگار کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں کمرشل ڈراما نگاروں میں نوشیروان ہی مہروان جی آرام، طالب، بنارسی ، سید مہدی حسن ، احسن لکھنوی، آغا حشر کاشمیری اور پنڈت نارائن پرشاد بے تاب کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔
امانت کے "اندر سبھا "سے متاثر ہو کر امام بخش کا نپوری نے” ناگر سبھا "لکھی جو بنگال میں بہت مشہور ہوئی۔
بمبئی میں اردو ڈرامے کی نشو ونما کا سہرا دادا بھائی سہراب جی پٹیل کو جاتا ہے۔ انھوں نے پارسی ڈراما نگار نوشیروان جی مہروان جی سے متعدد ڈرامے اردو میں ترجمہ کرائے۔
بنارس میں پیدا ہونے والے آغا حشر کاشمیری اردو کے مقبول ترین ڈراما نگار ہیں۔
ڈراما نگاری کا سلسلہ رابندر ناتھ ٹیگور اور کئی اور ہندوستانی ڈراما نگاروں سے ہوتا ہوا، ذائق لکھنوی محشر انبالوی، نازاں دہلوی، عزیز احمد خان دل لکھنوی، شمس لکھنوی،
عبد اللطیف شاد، میر غلام عباس ، مراد لکھنوی ، نشر لکھنوی، حکیم احمد شجاع، امتیاز علی تاج، سجاد انصاری، نیاز فتح پوری، سعادت حسن منٹو، صالحہ عابد حسین، احمد ندیم قاسمی ، ایم ڈی تاثیر، پریم چند، ابراہیم جلیس ،علی عباس حسینی، انتظار حسین، انور سجاد، میرزا ادیب ،اشفاق احمد، بانو قدسیه ،مستنصر حسین تارڑ اور امجد اسلام امجد تک پہنچتا ہے۔
پروف ریڈر :ایم فل سکالر رخسانہ یاسمین
حواشی
کتاب کا نام: ادبی اصطلاحات کوڈ:9015صفحہ نمبر:51-52 موضوع: ڈراما,مرتب کردہ: ثانیہ سعید
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں