ترنم ریاض کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ | Tarannum Riaz ki afsana nigari ka tanqeedi jaiza
ترنم ریاض کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ
مصنف کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترنم ریاض
مرتب کردہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظور احمد
کتاب کا نام ” اہم افسانہ نگاروں کے فکر وفن کا تنقیدی جائزہ موضوعات و فنی خصوصیات”
ترنم ریاض
جدید افسانوی ادب کی نمائندگی کرنے والی ترنم ریاض کے افسانے عورت کے استحصال اور سماج میں اس کی ثانوی حیثیت کے رد عمل کے طور پر تشکیل پاتے ہیں۔
ترنم ریاض سرینگر (کشمیر) میں ۹ راگست ۱۹۶۳ء کو پیدا ہوئیں ، ان کے والدین چودھری عمر اختر خاں اور والدہ ثریا بیگم نے انکی ادبی تربیت کی ۔ ترنم ریاض نے ایم اے ( ایجوکیشن ) اور بی ، ایڈ کشمیر یو نیورسٹی سے کیا ہے ۔ حالانکہ ان کی مادری زبان کشمیری ہے مگر وہ اردو، ہندی، انگریزی، پنجابی اور پہاڑی زبان سے تخلیقی سطح پر استفادہ کر سکنے کی حد تک واقف ہیں وہ ریڈیو اور ٹی وی پر خبریں پڑھتی ہیں ( نیوز ریڈر ) اس کے علاوہ ادبی صحافت میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں اور درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ان کے شوہر ریاض پنجابی بھی افسانہ نگار ہیں اور international centre for peace studies کے ڈائرکٹر ہیں۔ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اور آکسفورڈ میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ترنم ریاض کے دو بیٹے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قدرت اللہ شہاب کی افسانہ نگاری | PDF
ترنم ریاض کو بچپن سے ہی تخلیق میں دلچسپی رہی۔ انہیں پینٹنگ کا شوق تھا اور درجہ ہفتم سے ہی انہوں نے لکھنے کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کی پہلی کہانی اور نظم روزنامہ آفتاب ( سری نگر ) میں ۱۹۷۵ء میں بیک وقت شائع ہوئیں ۔ وہ صحافتی رجحان بھی رکھتی ہیں۔ جس میں خواتین کا مشہور جریدہ VIZ‘ کی ادارت ( روزنامہ آفتاب ) مارننگ ہیرالڈ کی نائب مدیر، کشمیر ٹرینڈس (انگریزی) کی نائب مدیر رہ چکی ہیں۔
ترنم ریاض کے دو افسانوی مجموعہ ” یہ تنگ زمین مادرن پبلیشنگ ہاؤس، دہلی ۱۹۹۸ء میں اور ابابیلیں لوٹ آئیں گئی نرالی دنیا پبلیشرز، دہلی ۲۰۰۰ ء میں شائع ہو چکے ہیں۔
سنو کہانی“ (ہندی) وشنو بھاسکر ، ساہتیہ اکاڈمی، دہلی ۱۹۹۳ء میں شائع ہوئی۔
اس کے علاوہ انہوں نے انتیا ڈیسائی کے ناول A Cat on a House boat کا اردو میں۲۸۵
ترجمہ ہاؤس بوٹ پر بلی ساہتیہ اکاڈمی کے لئے ۱۹۹۳ء میں کیا۔
گوسا ئیں بابا کا بھوت ہندی سے اردو میں ترجمہ ساہتیہ اکاڈمی دلی ۱۹۹۶ء میں کیا۔
بیسویں صدی میں خواتین کا ادب انتخاب برائے ساہتیہ اکاڈمی دلی ۲۰۰۳ء میں شائع ہوا۔
ترنم ریاض کی چند کتابیں زیر طبع ہیں۔ جس میں ایک ناول ”صحرا ہماری آنکھ میں، شعری مجموعہ، حکایت حرف تمنا ہمبرزل، ایک مختصر ناول ” مورتی اور تحقیقی و تنقیدی مضامین چشم نقش قدم ہیں، ان کا شعری مجموعہ ” ہمبرزل تیار ہے۔
ترنم ریاض کے افسانوی مجموعہ ” یہ تنگ زمین پر ۱۹۹۹ء میں اتر پردیش اردو اکاڈمی انعام سے نوازہ گیا ہے۔
وہ گورننگ کونسل ساہتیہ اکاڈمی دہلی اور ساہتیہ اکاڈمی دہلی کی رکن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اردو افسانہ بنیادی مباحث | PDF
ترنم ریاض پوئیٹری سوسائٹی دہلی اور پوئٹری کلب آف انڈیا کی ممبر ہیں۔
ترنم ریاض کے افسانوں کے موضوعات اس زمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ آزاد ذہن اور آزاد فضاء میں سانس لینے والی ترنم ریاض کو اپنی کہانیوں کا تانہ بانہ اپنے ماحول سے ملتا ہے۔ ان کے اظہار اور بیانہ سے ان کے اعلی اقدار کا پتہ چلتا ہے۔
محبوب الرحمان فاروقی ترنم ریاض کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
پچھلے ۵۰۴۰ برسوں میں اردو میں چند ایسی افسانہ نگار پیدا ہوئیں انہوں نے خوبصورت افسانوں سے ادب ادب کو مالا مال کیا۔ اس نسل سے تو نہیں لیکن اس قبیل سے
ترنم ریاض کا بھی تعلق ہے۔ ترنم ریاض بہت دنوں سے کہانیاں لکھ رہی ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ کم لکھتی ہیں کم شائع ہوتی ہیں۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ افسانہ لکھتے وقت بہت زیادہ
منائی کی قائل نہیں ہیں۔ وہ اس انداز سے انسان لکھتی ہیں جسے رو برو گفتگو میں مشغول ہوں ۔
وہ قاری کے ذہن پر کچھ اس قسم کا سحر کر دیتی ہیں کہ اس کا ذہن ادھر ادھر بھٹکنے نہیں پاتا۔
ترنم ریاض ملکی اور ر غیر ملکی دونوں ادب سے استفادہ کرتی ہیں، انہیں کے ۔ کے۔ دارو والا کملیشور، رحمان رامی اور امرتا پریم کے ساتھ قرۃ العین حیدر ، ناصر کاظمی ، شہر یار، مظہر امام ، مظفر حنفی ، زاہدہ زیدی اور رفعت سروش کی تحریر میں متاثر کرتی ہیں۔ مغربی ادب میں انہیں برونٹے ، اور ناول کنیسر وارڈ نے متاثر کیا۔ موضوعات کے لحاظ سے ترنم ریاض کی کہانیاں اس لحاظ سے الگ کہی جاسکتی ہیں کہ وہ پہلے سے کسی طے شدہ موضوع کے بجائے نئے نئے موضوعات منتخب کرتی ہیں، جو تانیثی ادب اور شعور کی اپنی پہچان لئے ہوئے ہوتے ہیں۔
وہ اپنے موضوعات کے متعلق خو لکھتی ہیں :
ہر انسان اپنے حسی اضطراب اور روحانی اسرار لئے جیتا ہے ، دنیا کا ہر ذی روح اپنے ساتھ ایک کہانی لیکر چلتا ہے، کسی کی کہانی مختصر ہوتی ہے کسی کی طویل، کبھی دردانگیز کبھی پر مسرت ، مگر یہ دونوں کیفیات دیر پانہیں ہیں۔ وقت کے یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جن میں ہماری زندگیوں کے واقعات و حادثات جنم لیتے ہیں افسانے بن جاتے ہیں ۔
جدید افسانہ نگاروں نے علامت اور استعارے کے استعمال میں نت نئے تجربات کر کے قاری کو کہانیوں سے دور کر دیا تھا مگر ترنم ریاض افسانہ نگاروں کے اس حلقے سے تعلق رکھتی ہیں جنہوں نے قاری سے کہانی کو جوڑنے کا ایک اہم فریضہ ادا کیا اور کہانی پن کی واپسی ہوئی ، رشتوں کی بے روحی بڑے شہروں کے مسائل غریبی سے پیدا ہونے والی نا آسودگی تشد د اور فرقہ وارانہ فسادات ان کے خاص موضوعات ہیں۔ خود ان کے مطابق:
مجھے احساس ہے کہ دنیا تضادات کا مجموعہ ہے۔ میری نظر میں یہ تضادات افسانوں کی تخلیق میں ایک بہت بڑا رول ادا کرتے ہیں، تضادات قائم رہیں گے اور میرے افسانے بھی میری تخلیقی صلاحیت اور قابلیت کے حساب سے ظہور پذیر ہوں گے ۔
ترنم ریاض کا تعلق کشمیر سے ہے، اسی لئے وہ خوبصورتی کو فطری طور سے قبول کرتی ہیں اور کشمیر کی دہشت گردی اور افراتفری سے بے چین رہتی ہیں ۔ پڑھے لکھے نو جوانوں کو دہشت گرد کے طور پر دیکھکر وہ دکھی ہو جاتی ہیں۔ افسانہ مٹی ان کی اسی سوچ کا مظہر ہے۔ جس مٹی کی خوشبو ان کے اندر بھی بھی ہوئی ہے۔
اس افسانے کے متعلق وہ بتاتی ہیں:
افسانہ مٹی نے بھی از حدر نجیدہ کیا تھا مجھے اس افسانے کو تحریر کرنے سے پہلے میں کچھ دیر کیلئے اس ماحول میں رکی تھی ، وہاں کی گھٹن ، درد کرب اور ہر شئے پر محیط مایوسی میرے اندر جذب ہو گئی تھی تب مٹی کا ظہور ہوا تھا۔ اے
افسانہ مٹی کشمیر کے بگڑتے ہوئے حالات کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے۔ جس کا کردار بلال احمد انجنیر رنگ کا طالب علم ہے مگر اس وقت دہشت گردی کے ایک جرم میں جیل میں قید ہے، اور ڈیوٹی پر تعینات کشن لال ، لیتا ہے یہ تعلق ہے انسان دوستی اور انسانیت کا۔
بلال احمد کا تعارف افسانے میں اس طرح دیا گیا ہے:
"بلالاحمدآر۔ای۔سی(Regional engineering college)
کا سال اول کا طالب علم رول نمبر ۲۲ بیچ ۱۹۹۱ء غیر حاضر ہے۔ کیا وہ علم کا طلبگار نہیں رہا… بلال احمد کہاں ہے۔ گھر میں بھی نہیں ہے۔ اس کے کالج کے دوست اب اس علاقے کی طرف بہت کم آتے ہیں … بلال احمد کی ماں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد سڑک پر نکل آتی۔ جینیس ٹی شرٹ پہنے کسی لڑکے کو بغور دیکھتی ہے۔ پھر … بلال احمد کے متعلق پوچھتی ہے ۔ پھر مایوس ہو کر رو پڑتی ہے۔ کسی اور طرف چل دیتی ہے۔ اپنی طرح کی کئی عورتوں سے اس کی پہچان ہو گئی ہے۔ کسی کا لڑ کا غائب ہے کسی کا شوہر … کسی کا بچہ دل کا مریض
ہو گیا ہے کسی کی بیٹی گونگی ہوگئی ہے۔ بلال احمد بھی غائب ہے، پتہ نہیں اس کی ماں اسے کب دیکھے گی۔ دیکھے گی بھی یا …
مٹی کہانی میں جہاں پولس کے جبر اور ظلم کو بیان کیا گیا ہے وہیں دوسری طرف وہاں کے ابتر معاشی حالات اور انتظامیہ کی نا اہلی کی طرف بھی دھیان کھینچا گیا ہے۔
اصل میں سب کو جھیلیں اور پہاڑ چائیں ، بھلے ہی زمین خون سے سرخ ہو جائے ، اس پر ادھر والے بھی اپنا آسمان چاہتے ہیں ادھر والے بھی۔
یہ بات تم اپنے لیڈروں سے کیوں نہیں کہتے۔ کشن لال کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
رہبر ہوتا تو ہم اس طرح کیوں بھٹکتے ، جن پر تکیہ تھا، اعتماد شکن ہوئے۔
لیڈر ہمارے بھی اسے ہی ہیں … اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ کشن لال نے آہستہ سے کہا: اسے ہیں ۔ اگر پہلے پہل تم لوگوں کی طرف سے کوئی مخلصانہ برتا ؤ حاصل ہوتا تو نوبت یہاں
تک نہ پہونچتی ، چن چن کر قصور وار ہی پکڑے جاتے تو عام لوگوں کا ساتھ بھی میسر ہوتا کہ خود ہر امن پسند انسان ان حالات سے پریشان تھا … ہم تو دونوں طرف سے پس گئے۔ ۲ ترنم ریاض کے مطابق وہ موضوعات کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتی نہیں ہیں بس جو چیز یا بات دل کو چھو جائے اسے افسانے کے روپ میں پیش کر دیتی ہیں۔ ” یہ تنگ زمین مجموعہ کے ابتدائیہ میں وہ اعتراف کرتی ہیں کہ افسانے میرے لئے اپنے رد عمل کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔
مظہر امام کے مطابق:
ترنم ریاض کے افسانوں کی جو فضاء ہے وہ بڑی مانوس سی فضا ہے جس سے ہم سب واقف ہیں۔ ان کے اظہار میں کوئی تصنع آمیز صفائی نہیں ہے۔ بہت ہی صفائی اور
شستگی کے ساتھ وہ اپنے افسانوں کا تانا بانابنتی ہیں۔ کہیں کہیں تو ان کے اسلوب میں خاص طرح کی مقناطیسیت آجاتی ہے جو اپنے ساتھ ساتھ پڑھنے والے کو بہالے جاتی ہے۔ ترنم ریاض اپنی سادگی ، بے تکلفی اور بے ساختگی کی وجہ سے ہمیں متاثر کرتی ہیں۔ لے باپ ترنم ریاض کا یہ افسانہ مرد ذات کی بیحسی اور عورت کے استحصال کی کہانی ہے ۔ یہ استحصال عورت کی صورت میں ایک بیوی اور مختلف عمروں کی چار بیٹیوں کا ہے۔ باپ جو گھر کا ذمہ دار ہوتا ہے اس کی بے حسی کسی طرح گھر کو جہنم بنادیتی ہے۔ اس کا نقشہ ترنم ریاض نے اس طرح کھینچا ہے:
اس کو کتنا ارمان تھا اپنی بچیوں کی اونچی تعلیم کا ۔ وہ خود ہی محنت مشقت سے ان کی پڑھائی کا خرچ پورا کر لیتی ، اس میں باپ کا کوئی ہاتھ نہ تھا، باپ کو اپنے علاوہ گھر میں کسی اور کی بہبودی سے کوئی واسطہ نہ تھا، ہاں امی کے پلنگ سے لگ جانے کے بعد وہ صرف ناظمہ کو ہی ہر کام کے لئے بلاتا ہے
باپ کا وجود گھر میں صرف ایک مرد کی حیثیت سے تھا نہ وہ بیوی کے لئے ذمہ دار تھا اور ناہی بچیوں کو باپ کی شفقت سے نوازتا ہے، بلکہ اکثر وہ اپنے کمرے میں ناظمہ کو بلا لیتا، ماں کھاٹ پر لیٹی چیختی ” شیطان … درندے … سانپ ہو تم … اپنے ہی بچوں کو کھاتے ہو… سانپ … میری معصوم کلیوں کو … میری بچیوں پر .. میری … میری سے
مگر وہ بے حس بنار ہتا اور آخر کار ایک دن لڑکیوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہونچ جاتا ہے۔ کہانی کا یہ انجام عبرتناک ہے اور اس طرح کے موضوع کو ایک افسانے کی شکل میں شاید ترنم ریاض نے ہی پہلی بار پیش کیا ہے۔ خواتین افسانہ نگاروں کے یہاں دو نسلوں یعنی نئی اور پرانی پیڑھی کا ٹکراؤ کسی نا کسی صورت میں ضرور بیان کیا گیا ہے، کہانی ”امان“ کی ”اماں جن کی اب گھر والوں کو کوئی ضرورت نہیں ہے وہ کہانی کی راوی کو بتاتی ہیں:
اور بچے تو ہیں نا ؟“
کھوب ہیں کھوب … کوئی بانجھ نا ہی ہوں میں۔ پوتے پوتیاں ہیں بس ایک بیٹی تھی وہ وہ تیری جیسی تھی وہ ۔ اماں کی آواز بھرا گئی۔
کیا کرتے ہیں بچے
دکان ہے کپڑے سیتے ہیں۔ ان پر پھول بیلیں کاڑھتے ہیں ، پوتے بھی کام کرتے ہیں میرے … اتنے لمبے لمبے سندر ہیں … کوئی میری طرح تھوڑے ہیں …. تمہارے بابا پر گئے ہیں۔
اماں وہیں رک جاتی ہیں دن رات میں تبدیل ہو جاتا ہے مگر وہ سکون سے سوتی ہیں۔ ان کے گھر سے ان کو پوچھنے دیکھنے کے لئے کوئی نہیں آتا۔ تب کہانی کی راوی سوچتی ہے:
اندر اماں چپ چاپ سوئی تھیں نرم گرم قالین پر ۔ باہر بارش تیزی سے رستی جارہی تھی ، اماں کو لینے کوئی نہیں آیا تھا۔ شاید اس لئے کہ اگر کسی کو آنا ہوتا تو وہ گھر سے نکلا اما کو لینے کوئی اس کہ اگرکس کو ہوا تو وہ گھر سے نکلا ہی کیوں کرتیں۔
عورت کے خوابوں اور ارمانوں کو روندھتا ان کا پراثر افسانہ بابل ہے۔ جہاں ایک نازک سی خوبصورت لڑکی کا بیاہ اس سے بہت زیادہ عمر کے ایک آنکھ سے بے نورلڑکے سے کر دیا جاتا ہے۔ یہ نا انصافی اور ظلم کہانی کی راوی ٹرین پر سے دیکھتی ہیں ۔
شیرنی ترنم ریاض کی یہ کہانی انسانیت پر ایک چوٹ ہے۔ بے خوف نجمہ جس نے کسی سے ڈرنا نہیں سیکھا تھا ، کھیتوں اور جنگلوں میں گھومتے ہوئے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئی تھی ۔ اس کا ڈرنا … افسانہ نگار ایک تجس سا پیدا کر دیتی ہیں۔ آخر کیا شئے ہے جس سے نجمہ ڈرگئی ہے۔ کیونکہ کہانی کی راوی خاتون نے اسے گاؤں میں آدھی رات کو چہل قدمی کرتے دیکھا تھا۔ جو کہتی تھی ڈرکا ہے کا جی … ڈرنا تو صرف اوپر والے سے چاہئے“۔
کہانی کی راوی اسے اپنے ساتھ شہر لئے آئیں اور تیسری منزل پر اپنے فلیٹ کی چھت پر کنارے بنے کمرے کو اسے رہنے کے لئے دیدیا۔ جہاں وہ کچھ دنوں میں ایڈ جسٹ ہو جاتی ہے۔ اور گھر کا سارا کام کاج خوش اسلوبی سے سنبھال لیتی ہے۔ مگر وہ ڈر کیسے سکتی ہے؟ کہانی کی راوی اس سے کریدتی ہیں۔ تو وہ بتاتی ہے:
میں جب اپنے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر کے غسل خانے کی طرف جانے
گی … تو ایک عجیب سی آواز آئی ….
جیسے کوئی سرگوشیوں میں کہہ رہا ہو جی … سنو کیا نام ہے تمہارا ابھی میں نے غسل خانے کی طرف دو ہی قدم بڑھائے تھے کہ پھر سے آواز آئی اے سنونا … کیا نام ہے تمہارا … میں بھی ادھر ہی رہتا ہوں … اس ساتھ والے مکان میں کام کرتا ہوں … ادھر دیکھونا مجھ سے کیا شر مانا دیکھو … ادھر او پر … میں نے اوپر دیکھا… پھر دائیں طرف کی دیوار کی طرف نظر ڈالی تو … تو … تو بی بی جی … وہ پھر سکنے لگی ۔ ادھر … دیوار پر ایک پاؤں ادھر کو لٹکائے ایک مونچھ والا لڑکا بیٹھاتھا جی… میرے کمرے کے دروازہ کے بالکل قریب … دیوار پر چڑھا ہوا میں ڈر گئی …
ہم عصر ادیبوں کی طرح ترنم ریاض بھی اپنے افسانوں میں عہد حال کے وہ تمام مسائل کو پیش کرتی ہیں جن سے آجکی نسل کا تعلق ہے ۔ چاہے وہ شوہر بیوی کے ازدواجی اور گھر یلو مسائل سے وابستہ ہوں جیسے کہانی ” میرا پیا گھر آیا اور بجھائے نہ بنے اور برآمدہ یا پھر سماج کے ظلم اور بربریت کے شکار لوگ جیسے اچھی صورت بھی کیا اور ایجاد کی ماں جیسے افسانے ۔ ترنم ریاض بچوں کو محور بنا کر بہت اچھے اور دلچسپ افسانے پیش کرتی ہیں۔ جس میں بچوں کی نفسیات کے متعلق کھولتی جاتی ہیں۔ بچے کس طرح بڑوں کے نقشے قدم پر چلتے ہیں ان کے یہ افسانے دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ ماں باپ کے لئے لمحہ فکر بھی ہیں۔ مثلاً آدھے چاند کا مکس“ اور ” میرا کا شام آدھے چاند کا مکس“ کا ایک اقتباس دیکھئے:
آپ نے کبھی کسی سے پیار کیا ہے؟“
” میں نے آپ سے کیا ہے نہ … بہت سا پیار… آپ سب کو پیار کرتی
ہوں میں۔
میں نے وہی جواب دیا جو مجھے دینا چاہئے تھا۔
ہاں وہ… وہ تو ہے … میں اس پیار کی بات نہیں کر رہا… کسی لڑکے سے آپ
نے پیار کیا ہے۔
ہاں آپ کے پاپائے
شادی سے پہلے
ہاں مگر منگنی ہو جانے کے بعدتو تب آپ کتنی بڑی تھیں یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس کی”مگر میں تو ابھی الیون پلس ہی ہوں وہ دھیرے سے بوئے ۔ کےترنم ریاض کے مکالمے مختصر اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ بچوں کی نفسیات سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔
ان کی کہانی ” یہ تنگ زمین بچوں کی نفسیات سے ہی متعلق ہے جس میں کشمیر کا تشدد، ظلم و جبر بچوں کے معصوم ذہنوں اور دل و دماغ پر کس طرح حاوی ہو گیا ہے ۔ پیش کیا گیا ہے۔ بچوں کی یہ فطری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے منھ سے کھیل کھیل میں جانوروں اور پرندوں کی بولیاں نکالتے ہیں مگر بدلتے ہوئے ماحول کے پیش نظر بچے پیڑ پودوں پر بیٹھے پرندوں کی بولیاں نکالنے کے بجائے بندوقوں اور بموں کی آوازیں نکال رہے ہیں۔ یہ کہانی تشدد کے نتیجے میں بچوں پر اس کے اثرات کو واضح طور پر دکھا رہی ہے۔
افسانہ ایک تھکی ہوئی شام میں انہوں نے اکثر سڑکوں کے مناظر کو ایک حساس نظر سے محسوس کر کےکہانی کے تانے بانے میں لکھا ہے۔ جن میں ایک معصوم بچہ اپنی ماں کے ساتھ غریبی اور مفلسی کو بانٹ رہا ہے:
اس کا ایک ہاتھ اپنی ماں کی پیٹھ پر تھا جس کی ریڑھ کی ہڈی گردن سے آخر تک یوں ابھری ہوئی تھی جیسے کوئی بڑا ساکن کچھورا ہو اس کے سامنے ایک میلی سی چادر پر رنگ برنگی چھوٹی ٹی چھوٹی گیندیں بھی ہوئی تھیں اور سب آنے جانے والوں کو اپنی نحیف سی آواز میں اپنی مختصری دکان کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ترنم ریاض کی یہ مختصر کہانی اپنے اندر پیار اور محبت کا سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔ جن میں ماں کی محبت اور پیار کرنے کا انداز ایک نصیحت لئے ہوئے ہے۔ کہانی کا یہ اختتام قاری کے جذبات کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ماں صرف ماں ہوتی ہے۔ اسکے پیار کرنے کا انداز یکساں ہوتا ہے چاہے وہ
غریب ماں ہو یا پھر امیر۔
بڑے شہروں کے مسائل اور پیچیدہ حالات میں پھنسے بچوں کی نفسیات سے ڈیل کرتی ایک پر اثر کہانی شہر ہے
مصنفہ کے مطابق :
میں نے افسانہ شہر جس کرب سے گزر کر لکھا ہے وہ بیان سے باہر ہے کہ اسے خوشخط لکھنے کے خیال سے مجھ پر یاسیت طاری ہو جاتی تھی۔ شہر کہانی امان اس کی بیوی اور دو چھوٹے چھوٹے بچے سونو اور ثوبیہ کی کہانی ہے۔ امان کا ٹرانسفرشہر میں ہو جاتا ہے اور اسے اپنے ایک دوست کا چودھویں منزل کا مکان مل جاتا ہے۔ بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر وہ آفس کے کسی ضروری کام سے تین چار روز کے لئے چلا جاتا ہے۔ گھر میں فون کی سہولت ابھی نہیں ہے، دوسری صبح گھنٹی کی آواز سے بچے بیدار ہوتے ہیں مگر ان کی ماں کئی بار بلانے پر بھی نہیں اٹھتیں ، بچے پریشان ہو جاتے ہیں، پھر دیکھتے ہیں کہ:
مگر ممی بول ہی نہیں رہی تھیں۔ ممی کے دہانے کے چاروں طرف کوئی سفید سی چیز جمی ہوئی تھی۔ ہاتھ پاؤں بھی کچھ عجیب طرح سے پھیلے ہوئے تھے ۔
بچے کچھ سمجھ نہیں پاتے اور ماں کو عجیب عجیب کی حالت میں دیکھتے ہیں۔ مصنفہ نے اس صورت حال کی اتنی اچھی تصویر کشی کی ہے کہ ماحول میں پھیلا ڈر اور دہشت قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور ہر لمحے معصوم بچوں سے رحم اور ہمددری کا خیال پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اتنی اونچائی پر ان کی رہائش جہاں سے نیچے آواز کا پہونچنا ناممکن ہے اور اونچے دروازوں کو کھولنا بچوں کے بس کے باہر ہے اور وہ اس ماحول میں ایسے ہی وقت گزار نے پر مجبور ہیں:
سونو اس کے قریب جا کر اسے اٹھانے لگا تو اسے محسوس ہوا کہ ممی کے پاس سے خراب کی بو آرہی تھی، ہمی نہائی نہیں ناکل سے … کپڑے بھی نہیں بدلے … ہم بھی نہیں نہائے … اس نے گریبان سونگھا… اس نے پھر ممی کی طرف دیکھا … ممی کی شکل بدلی ہوئی سی لگ رہی تھی . وہ آہستہ آہستہ ایک دوالئے قدم اٹھاتا ہوا دیوار سے لگ گیا … اس کی نظریں ماں کے چہرے پر گڑھی تھیں … وہ دیوار کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا کمرے کے دوسرے کونے میں پہونچ گیا … وہاں سے ماں کے تلوے نظر آ رہے تھے اور پھر ماں کا باقی جسم بعد میں چہرہ … یہ اس کی کمی نہیں … پتہ نہیں کون ہے اور کیا ہے۔ اس نے دیکھا کہ بیڈ پر پڑی ہوئی میں جیسی کوئی چیز جیسے دب کر پھیل گئی ہے ۔ بند آنکھیں جیسے بڑے بڑے ابھرے ہوئے دائروں میں دھنسی پڑی تھیں۔ اس چیز کے ہاتھ پاؤں اور چہرہ جانے کس رنگ کے تھے … دوسرے ہی پل اس نے منھ دوسری طرف موڑا اور پوری طاقت لگا کر ڈرائینگ روم کی طرف بھاگا ۔ اس کا چہرہ خوف سے سفید ہو گیا تھا۔ بدن پسینہ پسینہ ہو رہاتھا۔
ترنم ریاض کشمیر کی خوبصورت وادیوں کی پیداوار ہیں جہاں ہر قدم پر پیڑ پودے ندیاں اور جھیل ہیں، یہ مناظر ان کے اندر تک پھیلے ہوئے ہیں اسی لئے ان مناظر کو بیان کرنے میں وہ کہیں کہیں شاعرانہ انداز اختیار کرتی چلی جاتی ہیں :
کچھ ہی مہینے پہلے کی بات ہے درخت ابھی ابھی اپنی رنگین بانہوں سے برف جھاڑ کر لہرانے لگے تھے۔ بہار کا موسم شروع ہی ہوا تھا۔ بادام کے پیڑ ننھے ننھے ہرے پتوں اور گلابی شگوفوں کی چیز اوڑھے شرمائے شرمائے سے جھکے جارہے تھے ۔ ہر ہر جانے کس نگر سے ہجرت کر کے آتے اور چناروں کی کھوکھلی ٹہنیوں پر اپنی لمبی چونچ سے ٹک ٹک آوازیں پیدا کرتے ہوئے چھید کر کے جانے کن ننھے ننھے کیڑوں کے سکون میں خلل کا باعث بنتے اور فیروزی رنگ کے دھلے دھلائے نکھرے نہلائے آسمان میں ایک لمبی سی اڑان بھر کر دوبارہ اسی کام میں ، نئے انہماک سے مشغول ہو جاتے ، نرم نرم دھوپ ہری ہری دھرتی کو اپنی کرنوں سے گد گدا دیتی اور گھاس کے تنکے لہک لہک کر فضا میں اپنی مہک بکھیر دیتے۔
ترنم ریاض نے اپنے افسانوں میں سیاسی ، سماجی ، معاشی ، اقتصادی اور عصری ہر طرح کے موضوعات کو سمیٹ لیا ہے تک زمین بھی چھوئی موئی ایک تھکی ہوئی شام می باپ ، اور شہر ان کی پر اثر انداز میں لکھی ہوئی کہانیاں ہیں۔
انکے کردار مختلف رنگوں میں رنگے ہونے کے باوجود زمین سے اپنا رشتہ برقرار رکھتے ہیں ۔ ” میرا پیا گھر آیا کی شمع جب شادی شدہ زندگی کے ظلم وستم سے گھبرا کر روحانی سکون کی تلاش میں گھر سے نکلتے لگتی ہے تو اس کا شوہر شہیر حسد اور جلن کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔ مگر شمع اسے نہیں بتاتی کہ وہ خواجہ کی درگاہ پر حاضری دینے جاتی ہے اور اکثر خواجہ کے فقراء کے لئے کھانا بھی لے جاتی ہے ۔ جہاں اس کے تڑپتے ہوئے دل کو سکون ملتا ہے۔ شہیر کے دل کی بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔ اور آخر ایک دن اس کے لوٹنے پر وہ ٹوٹے ہوئے انداز میں کہتا ہے :
آخر تم جاتی کہاں ہو؟ بتاؤ مجھے وہ دہاڑا شمع نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کہاں سے آ رہی ہو۔ ۔ تم بتاؤ اس کا یہ جملہ سن کر شمع پانی کا گھونٹ منھ میں لئے نکلے بغیر شہر کی طرف دیکھنے لگی۔ اس جملے میں ایک گلہ تھا جو شمع نے پہلی بار محسوس کیا۔ ایک شکوہ تھا جو آج تک شہیر کی آواز میں سنائی نہ دیا تھا۔ ایک شکست تھی جس کا وہ کبھی عادی نہ تھا۔ اور ایک التجا تھی۔ جو برسوں پہلے اس کی باتوں میں ہوا کرتی تھی۔
شمع گلاس لبوں سے لگائے سوچتی رہ گئی کہ کیا وہ شہیر کی لاپر واہیاں بیوفائیاں اور بد زبانیاں معاف کر کے اسے شکوک کے سلگتے آتش فشاں سے کھینچ لے یا اس کی دی ہوئی الم زدہ تنہائیوں کے بدلے میں اسے بھی ساتھ رہ کر تنہائیاں سونپ دئے ۔
ترنم ریاض کی کہانیوں کے بارے میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی لکھتے ہیں:
ترنم ریاض ان افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں جن کا اظہار اور بیانیہ ان کی اپنی ذات کے ساتھ تہذیب و ثقافت اور اعلی اقدار پر بنی ہوتا ہے، مجھے ترنم ریاض کی کہانیوں میں روایت کے بھر پور شعور کے ساتھ تجربہ کا رنگ بھی شامل نظر آتا ہے۔ وہ صورت حال کو کہانی بنانا جانتی ہیں اور اپنے زمانے کے اسلوبیاتی رویوں سے واقفیت کے باعث کسب فیض بھی کرتی ہیں۔ ۲
ترنم ریاض جدید افسانہ نگاروں کے بیچ ایک اہم اور مستند مقام بنا چکی ہیں وہ پابندی سے لکھ رہی ہیں ۔ ان کی فکر اور مسائل سے نبرد آزماں ہونے کی ان کی قوت نے ان کے لئے ایک منفرد مقام بنالیا ہے اور آگے بھی ان سے اچھے افسانوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔
اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں وہ بتاتی ہیں:
” میرے نزدیک ادب کی کوئی بھی صنف خیالات کا وسیلہ بن سکتی ہے ۔ کوئی چیز نظم بن کر اترے یا افسانہ وغیرہ بنکر خود کو تحریر کر والے، اس میں میری شعوری کوشش نہیں ہوا کرتی ۔
نوٹ:یہ تحریر پروفیسر آف اردو واٹس ایپ کمیونٹی کے ایک رکن نے پی ڈی ایف سے تحریری شکل میں منتقل کی ہے۔براہ کرم نوٹ کریں کہ پروفیسر آف اردو نے اس کی پروف ریڈنگ نہیں کی ہے۔