تنقید کی اقسام | Tanqeed ke Aqsam
موضوعات کی فہرست
تنقید کی اقسام
تنقید کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں:
نظری تنقید
عملی تنقید
نقد الانتقاد
نظری تنقید
نظری تنقید کا تعلق ادب اور فن پارے سے متعلق مختلف نظریات سے ہے۔ ایک دبستان مختلف قوانین و ضوابط اور خیالات کو مد نظر رکھ کر اپنے نظریات کا تعین کرتا ہے اور مختلف لوگ اس کی پیروی کرتے ہوئے اس کو پھیلاتے ہیں۔ تنقید میں نظریات کا تعلق اکثر تنقیدی دبستانوں کے ساتھ ہی ہے اس لیے تنقید کی تاریخ کو بڑی حد تک دبستانوں کی تاریخ کہا جا سکتا ہے۔ نظری تنقید بنیادی طور پر ایسے اصول و نظریات وضع کرتی ہے جن کی روشنی میں تخلیقی متون کو پر کھا جاتا ہے۔ نظری تنقید کے پیش نظر بالعموم کسی قسم کے سوالات ہوتے ہیں ، ابوالاعجاز حفیظ صدیقی ان پر روشنی ڈالتے ہیں:
ب کیا ہے، اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں، ادب میں روایت کا کیا مقام ہے؟ ادب شخصیت کا اظہار ہے یا روح عصر کا انعکاس؟ ادب پارہ لاشعوری رجحانات و کیفیات کا آئینہ ہے یا فن کار کی شعوری کاوشوں کا حاصل؟ ادب کا زندگی کے ساتھ کیا رشتہ ہے؟ تخلیقی عمل کے منازل و مراحل کیا ہیں؟ تنقید کی اہمیت کیا ہے؟ نقاد کے کیا فرائض ہیں ۔ ۔ ۔۱۴
کلیم آن لدین احمد کی کتاب ”ادبی تنقید کے اصول ، ڈاکٹر وزیر آغا کی تنقید اور جدیدار دو تنقید، شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ” افسانے کی حمایت میں اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی جدید اور مابعد جدید تنقید ( مغربی اور اردو تناظر میں ) نظری تنقید سے متعلق کتابیں ہیں۔
عملی تنقید
عملی تنقید کا انحصار نظری تنقید پر ہوتا ہے۔ نظری تنقید ہی عملی تنقید کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ عملی تنقید میں کسی بھی تنقیدی دبستان کے خیالات و نظریات کو مد نظر رکھ کر فن پارے کا جائزہ اس انداز سے لیا جاتا ہے کہ اس تنقیدی نظریے کے خدو خال عملی تنقید میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ عملی تنقید کے پیچھے کسی نہ کسی تنقیدی دبستان کے اصول و نظریات کارفرما ہوتے ہیں جن کو مد نظر رکھ کر نقاد فن پارے کا جائزہ لیتا ہے ۔ ڈاکٹر سید محمد عقیل عملی تنقید کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں:
د عملی تنقید ، کا مقصد ، ادب کا تفہیمی مطالعہ ہے۔ ایسا مطالعہ جو ادب کے لیے دلچپسی بھی فراہم کرے اور اس مطالعے کا بہتر سلیقہ ہی نہ دے بلکہ بہتر مواقع اور طریقے فراہم کرے۔‘۱۵
عملی نقاد اپنا سر و کار جس قدر زیادہ علوم و نظریات سے رکھے گا ، اس کی تنقیدی فکر کا دائرہ کار اتنا ہی وسیع ہوگا۔ کلیمالدین احمد کی کتاب عملی تنقید ، شمس الرحمن فاروقی کی شعر شور انگیز ، شمیم حنفی کی کہانی کے پانچ رنگ اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب مابعد جدیدیت، اطلاقی جہات عملی تنقید سے متعلق اردو کی قابل ذکر کتا بیں ہیں ۔
نقد الانتقاد
نقد الانتقاد تنقید کی وہ قسم ہے جس میں تنقید پر تنقید کی جاتی ہے۔ تنقید پر تنقید لکھنا عام نقاد کے بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیے نقاد کا تنقید کی تمام باریکیوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔ نقد الانتقاد میں اختلاف کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں پر نقاد کا تعصب سے بچنا آسان نہیں ہوتا۔ شمس الرحمن فاروقی کی کتاب ” افسانے کی حمایت میں“ ( نظری تنقید ) افسانے کی مخالفت کی گئی ۔ رد عمل میں وارث علوی فکشن کی تنقید کا المیہ کتاب میں نہ صرف شمس الرحمن فاروقی کے نظریات سے اختلاف کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں۔
وارث علوی کی فکشن کی تنقید کا المیہ اور محد منصور عالم کی کتاب شمس الرحمن فاروقی کی تنقید نگاری نقد الانتقاد سے متعلق کتا بیں ہیں۔
ا۔ نقاد کا مطالعہ وسیع و عمیق ہو۔ ادب کی تمام اصناف اور ادبی اصطلاحات کے بارے میں گہرائی سے جانتا ہو۔ سماجی و فطری سائنسوں سے متعلقہ علوم سے واقفیت رکھتا ہو۔ فکشن اور شاعری سے متعلق نئے مباحث سے بھی آگہی رکھتا ہو۔ وہ پرانی اور نئی دونوں قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔ اس کی تنقید بین العلومی (Interdisciplinary) ہوگی تو زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں کے لیے قابل پڑھت ہوگی۔
نقاد کی خصوصیات
۲ نقاد کو غیر جانب دار ہونا چاہیے۔ وہ تخلیقی متون پر مختلف زاویوں سے کمندیں ڈالنے کی کوشش کرے۔ کسی ایک مخصوص دبستان کا اطلاق ہی ہر قسم کے فن پاروں پر نہ کرے؛ بلکہ متن کا آزاد ذہن کے ساتھ مطالعہ کرے۔ متن جو ہے ، جیسا ہے، جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے مطابق تناظرات کو دریافت کرے نہ کہ زبردستی اپنی فکر کو اس پر ٹھونسے۔ اچھا نقاد صاحب نظر ہوتا ہے ۔ وہ متن کو مختلف حوالوں سے دیکھ کر ان مخفی نکات کو سامنے لاتا ہے جو فن پارے میں ہوتے ہیں ؟ مگر عام قاری یا نقاد کا ان کی طرف دھیان نہیں جا پاتا۔
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں