تنافر کی تعریف و تفہیم | Tanafur ki Tareef o Tafheem
موضوعات کی فہرست
تنافر تعارف و تفہیم
تنافر کی تعریف
تنافر عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی "بھاگنے” اور "نفرت کرنے” کے ہیں۔ اصطلاحاً، ادب میں وہ کیفیت جس میں کلام کے دو متحد المخرج یا قریب المخرج حروف کا اتصال ایسا ہو کہ انہیں ادا کرتے وقت ناگواری محسوس ہو، تنافر کہلاتا ہے۔
تنافر کو مشرقی ادبیات کی قدیم اصطلاح سمجھا جاتا ہے، جو عام طور پر فصاحت کے منافی تصور کی جاتی ہے۔ اس کی موجودگی کلام میں ایک عیب پیدا کر دیتی ہے، جو تخلیق کار کے مجر بخن (عیب) کو ظاہر کرتا ہے۔
حسرت موہانی کی تعریف
حسرت موہانی تنافر کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
"جب کسی شعر میں دو ایسے الفاظ متصل آ جاتے ہیں، جن میں پہلے لفظ کا آخری حرف وہی ہو جو دوسرے لفظ کا حرفِ اول ہو، تو ان دونوں حرفوں کے ایک ساتھ تلفظ سے ایک قسم کی جھجک اور ناگواری پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے عیبِ تنافر کہا جاتا ہے اور شاعر کو حتی الامکان اس سے احتراز لازم ہے۔”
(ماخذ: نکاتِ سخن، مرتبہ ڈاکٹر بشیر عابد، گوجرانوالہ فروغ ادب اکادمی، 2011، ص 83)
تنافر اور قدیم علمائے ادب کا نظریہ
قدیم علمائے ادب نے تنافر کو فصاحت کے خلاف قرار دیا ہے اور کلام میں اس کی موجودگی کو ایک نقص سمجھا ہے۔ تاہم، بڑے بڑے شاعروں اور سخن وروں کے کلام میں بھی تنافر کے نمونے پائے جاتے ہیں۔
تنافر کی اقسام
علمائے ادب نے تنافر کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے:
- تنافرِ خفی
- تنافرِ جلی
- تنافرِ خفی
یہ وہ تنافر ہے جو کلام میں زیادہ نمایاں نہیں ہوتا اور فصاحت کو زیادہ متاثر نہیں کرتا۔ علمائے ادب کے ایک بڑے گروہ کے نزدیک تنافرِ خفی کو عیب نہیں سمجھا جاتا۔
مثالیں:
1.
نام سنتے ہی اس کا کیوں قائم پھر کیا
تو نے اضطراب شروع
2.
چاندنی چھٹکی ہمارے اشک کے سیلاب سے
رات کو روئے جو ہم اک مہ لقا کے واسطے
3.
کچھ حالِ غیر مجھ سے قسم لے اگر کہوں
ظالم، میں وہ نہیں کہ اِدھر کی اُدھر کہوں
4.
یوں تو ہے ہر رند کو ساقی سے چشم التفات
بزم میں ملتا ہے کس کو جامِ صبا دیکھیے
5.
غیر کی بزم میں، میری تو خبر کیا لو گے
ابھی اپنی ہی نہیں تم کو خبر، دیکھ لیا
6.
دل پر محیط رنج، محسن کی سپاہ ہے
تم کیا گئے کہ کشورِ راحت تباہ ہے
ان اشعار میں ایک ہی حرف کی تکرار سے تنافر پیدا ہوتا ہے، تاہم یہ تنافر کلام میں ایسی جھجک پیدا نہیں کرتا کہ فصاحت پر منفی اثر ڈالے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہلِ علم تنافرِ خفی کو عیب نہیں سمجھتے۔
حواشی
مرتب کردہ: ثمینہ شیخکتاب: ادبی اصطلاحاتکوڈ: 9015صفحہ: 122 تا 123
پروف ریڈر: (طیبہ)
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں