تکرار لفظی کی تعریف | Takrar Lafzi ki Tareef, Aqsam aur Misaalain
موضوعات کی فہرست
تکرار لفظی کی تعریف
تکرار کب زیب ہے؟
الفاظ یا حروف کی تکرار چاہے وہ ایک مصرعے میں ہو یا شعر میں عام طور پر قبیح سمجھی جاتی ہے اور تکرار الفاظ کو معایبِ سخن میں شامل کیا جاتا ہے لیکن یہی تکرار اگر قرینے اور سلیقے سے ہو تو اس سے شعر کی لطافت اور اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا ہے۔
تکرار کی دو قسمیں
اس لیے اساتذہ نے تکرار الفاظ کو دو بڑی قسموں میں بانٹا ہے:
اول: تکرارِ الفاظ (عیب) اور دوم: تکرِار الفاظ (حسین)۔
اول الذکر کا تعلق معایبِ سخن سے ہے جب کہ ثانی الذکر کا ذکر محاسن سخن میں ہوتا ہے۔ ابو الاعجاز حفیظ صدیقی کا یہ کہنا درست ہے کہ "تکرار الفاظ جب حسین ہو تو شاعر کی شعوری کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے اور تکرار الفاظ اگر قبیح ہو تو شاعر کی کوتاہئ اظہار اور عجزِ بیان کا نتیجہ”۔
تکرارِ الفاظ کا مقصد تاثیر ہے
جس طرح لفظیات کا چناؤ یا تکنیکی عناصر کا استعمال تخلیق کار کے فنی شعور کی نشان دہی کرتا ہے، اسی طرح الفاظ کی تکرار سے اس کی فنی بصیرت ظاہر ہوتی ہے کیوں کہ الفاظ کی تکرار محض آرائش کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد کلام کی تاثیر اور اظہار کی دل کشی کو بڑھاتا ہوتا ہے۔
کسی حسین لفظ یا حرف کی تکرار کلام میں بیداری پیدا کرنے کا موجب بھی ہے اور کسی خاص بات یا سکتے پر زور دینے اور قاری کو اس کی طرف متوجہ کرنے کا سبب بھی۔ یہ کاری گری اور ہنر مندی کا کام ہے اور شاعر؛ خیال کی عمدہ اور مؤثر ترسیل کے لیے اس کو کام میں لاتا ہے اور تکرارِ الفاظ (حسین) تخلیق کار کی شعوری کوشش کا نتیجہ ہے۔
تکرارِ الفاظ کے حسن کا فیصلہ کون کرے؟
تکرار الفاظ کے حسن کا فیصلہ مذاقِ سلیم سے ہوتا ہے۔ مولانا حسرت موہانی اس ضمن میں لکھتے ہیں:
"تکرارِ الفاظ کے حسین یا قبیح ہونے کا کوئی قاعدہ یا ضابطہ مقرر نہیں ہے۔ اس بات کا فیصلہ کہ تکرار معیوب ہے یا مستحسن ، شاعر کے مذاقِ صحیح کے سوا اور کسی سے نہیں ہو سکتا۔
نکاتِ سخن/مرتبہ ڈاکٹر بشیر عابد/گوجرانولہ فروغ ادب اکادمی ۲۰۱۱ ء/ص: ۱۴۴
تکرارِ الفاظ کی چند مثالیں
قادر الکلام شعراء نے تکرارِ الفاظ کے حسن سے اپنے اظہار و بیان کی لیاقت کا ثبوت مہیا کیا ہے اور بسا اوقات معمولی خیال یا مضمون بھی تکرار الفاظ کے حسن سے چمک اٹھا ہے۔ اردو شعرا کے کلام میں تکرارِ الفاظ (حسین) کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں؛ چند مثالیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
کس تجاہل سے یہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو
تیرے کوچے میں ستم گار! ترے کوچے میں
(مصطفی خاں شیفتہ)
رہے اُس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلف میں
تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
(مرزا غالب)
ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم یہ نوک گیاہ
مثال قطرۂ شبنم رہے، رہے ، نہ رہے
(نظیر اکبر آبادی)
کہاں گلوں کے وہ تختے ، وہ لالہ زار کہاں
بہار میں تو نظر لگ گئی ، بہار کہاں
(شاد عظیم آبادی)
ٹھہری ہے اب تو آپ کے وعدے پر زندگی
وہ زندگی کہ جان ہے جس سے عذاب میں
(حفیظ جونپوری)
ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہ مثال قطرۂ شبنم رہے، رہے ، نہ رہے
(نظیر اکبر آبادی)
کہاں گلوں کے وہ تختے ، وہ لالہ زار کہاں
بہار میں تو نظر لگ گئی ، بہار کہاں
(شاد عظیم آبادی)
ٹھہری ہے اب تو آپ کے وعدے پر زندگی
وہ زندگی کہ جان ہے جس سے عذاب میں
(حفیظ جونپوری)
نہ سمجھ مجھ کو رائیگاں نہ سمجھ
نہ کہی تیرے کام کا نہ سہی
(آزاد سہارن پوری)
حواشی
کتاب کا نام: ادبی اصطلاحات کوڈ: 9015صفحہ: 104 تا 105موضوع: تکرار الفاظ,مرتب کردہ: ثمینہ شیخ
پروف ریڈر: محمود الحسن مدراسی
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں