غزل ہم فقیروں کا جو رکھ لو گے بھرم، آتے ہیں
ہم فقیروں کا جو رکھ لو گے بھرم، آتے ہیں ✍ سانول° رمضان M Sanwal Ramzan
ہم فقیروں کا جو رکھ لو گے بھرم، آتے ہیں ✍ سانول° رمضان M Sanwal Ramzan
تمہاری یاد کی قالین دل پہ گھاس اگےترا نشاں بھی نہ ہو اور تیری آس اگے تجھے بھی عشق کا مفہوم پھر سمجھ آۓتو کربلا میں ہو اور تیرے لب پہ پیاس اگے وہ اس سے اپنے برہنہ بدن کو ڈھانپ سکےغریب۔شہر کی بیٹی کے سر کپاس اگے تمھارے بعد چمن وحشتوں نے گھیر لیاتمھارے
غزل:خوابوں، خیالوں میں بس تو ہی تویادوں کی کتابوں میں بس تو ہی تو تجھے کہاں نہیں تلاش کیا میں نےدل کے حجابوں بس تو ہی توخوشبو کے تعاقب میں گھومتا رہا تنہاگلاب کے شبابوں میں بس تو ہی تو رقیب کی تنہائی دیکھی نہ گئی ھم سےاس کی طلب نگاہوں بس تو ہی تو
اردو غزل کا آغاز و ارتقاء (کلاسیکی اردو غزل کی روایت) ” آب حیات” کے مصنف مولانا محمد حسین آزاد نے امیر خسرو کو پہلا شاعر قرار دیا ہے جب کہ مولوی عبدالحق کے مطابق امیر خسرو سے بھی پہلے حضرت بابا فرید گنج شکر کے ابتدائی نمونے ملتے ہیں۔ اگرچہ ان بزرگوں کے ہاں
غالب کی غزل گوئی کی خصوصیات غالب کی غزل گوئی کا تعارف ہماری شاعری کے ایک نقاد نے غالب کی غزل کو ٹی ایس۔ ایلیٹ کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایلیٹ کا ارشاد بجا ہے کہ کسی شاعر کا کلام سنتے ہی سامعین داد دینے لگیں تو اس کی عظمت مسلم نہیں
مومن خان مومن کی غزل گوئی مومن خان مومن کی غزل گوئی کا تعارف مومن کا ایک مشہور شعر ہے :۔ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا غالب نے یہ شعر سن کر کہا تھا مومن کے اس شعر کے بدلے میں اپنا پورا دیوان دینے کو تیار ہوں۔ نیاز
خواجہ حیدر علی آتش کی غزل گوئی کی خصوصیات آتش کا نظریہ شعر بندش الفاظ جڑانے سے نگو کے کم نہیں شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا یہ ہے آتش کا نظریہ شعر مطلب یہ کہ آتش کی رائے میں شاعر کا رنگین ، دلکش خیال تصویر بن کر شعر کے سانچے میں
مصحفی کی غزل گوئی کی خصوصیات اردو شعراء میں مصحفی ایک بلند مرتبے پر فائز ہیں مگر ان کی اتنی قدر نہیں ہوئی جتنی قدر کے وہ مستحق تھے ۔ فارسی، عربی شاعری، نثری رسالوں اور شعرا کے تین تذکروں کے علاوہ ایک دیوان قصائد اور نو دواوین غزلیات ان سے یاد گار ہیں۔ جو
خواجہ میر داد کی غزل گوئی (تعارف اور غزل گوئی کی خصوصیات) مولانا محمد حسین آزاد خواجہ میر درد کا ان بلند پایہ شاعروں میں شمار کرتے ہیں جنھوں نے اردو زبان کو خراد اتار۔ جناب امیر مینائی جو خود ایک خوش گو شاعر اور سخن فہم ہیں خواجہ میر درد کے شعروں میں پسی
میر تقی میر کی غزل کا تعارف ایک فارسی شاعر نے اپنے قطعے میں یہ مضمون ادا کیا کہ شاعری میں تین پیمبر گزرے ہیں : فردوسی انوری اور سعدی اصل قطعہ یہ ہے۔ سننے والے نے پوچھا ” اور حافظ ؟ ” وہ تو خدائے سخن تھا ۔ یہ شاعر نے برجستہ جواب دیا۔