تدوین سے کیا مراد ہے ؟

تدوین سے کیا مراد ہے ؟ | Tadween se kya murad hai?

تدوین سے کیا مراد ہے

تدوین:

دون سے باب تفعیل کا مصدر ہے جس کے معنی جمع کرنا ، اندراج کرنا لکھنا اور ترتیب دینا ہے ۔ اصطلاح میں کسی شعری یا نثری متن کو اس کے اصول و آداب کے ساتھ مرتب کرنا یا کسی متن کو منشائے مصنف کے مطابق ترتیب دینا مثلا غبار خاطر میں مولانا ابوالکلام آزاد نے گھاس کو گھانس ”ن“ کے ساتھ لکھا ہے۔

تدوین کے مشتقات میں دیوان ( واحد ) دواوین ( جمع ) بھی ہیں جس کے معنی دفتر ، ناموں کا رجسٹر ، اشعار کا رجسٹر وغیرہ ہے۔ ڈاکٹر نسیم احمد اپنے مضمون اصول تدوین میں ( قدیم شعری متون کے تعلق سے )

تدوین کی وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

صحیح متن کی بازیافت اور اسے منشائے مصنف کے مطابق پیش کرنے کا عمل تدوین کہلاتا ہے ۔ یہ ایک مشکل فن اور نہایت صبر آزما کام ہے۔ اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے انتیک ریاض ، کڑی محنت ، عمیق ے نظر، پختہ ذہن، منصفانہ کردار مستقل مزاجی درکار ہے ۔ سہل نگاری اور عجلت پسندی اس کے لیے سم قاتل ہیں ۔ زیب داستان کے لیے کچھ بڑھا دینے کی اس میں قطعی گنجائش نہیں ، نہ تلون مزاجی ، علمی ذوق اور ذاتی پسند و نا پسند کے لیے اس میں کوئی جگہ ہے ۔ یہ کام بڑی دیانتداری اور استقامت طبع کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے ۔

انگریزی میں تدوین کے فن کو Bibliography
اور مدون اور متن کو Bibliographer کہتے ہیں۔
اردو میں تدوین متن سے زیادہ مقبول اصطلاح ترتیب متن ہے۔ ترتیب اور تدوین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ تدوین کا تعلق کتابوں سے ہے اور ترتیب ایک عام لفظ ہے ، اس لیے اس اصطلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔ تدوین تحقیق سے جدا نہیں ہے بلکہ تدوین تحقیق ہی کی ایک شاخ ہے۔ اس کے لیے انہی صلاحیتوں اور ذہنی رجحان کی ضرورت ہوتی ہے جو تحقیق کے لیے درکار ہیں۔ اردو ادب میں عموما ہر بڑے محقق نے تدوین متن کے فرائض انجام دئے ہیں۔ مثلا محمود شیرانی ، قاضی عبدالودود، مسعود حسن رضوی ادیب ، مولانا امتیاز علی عرشی ، غلام رسول مہر، مسعود حسین خاں ، ڈاکٹر نذیر احمد نور الحسن ہاشمی ، مختار الدین احمد محمود الهی ، اکبر حیدری جمیل جالبی ، مشفق خواجہ، گیان چند جین ، ڈاکٹر تنویر احمد علوی،مالک رام ، وغیرہ ان کبھی نے تدوین متن کے کام کیسے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تدوین تحقیق ہی کا ایک شعبہ ہے۔

تدوین کی اصطلاحی تعریف کو سامنے رکھ کر متن اور اصول و آداب کی وضاحت ضروری ہے تا کہ تعریف کا مفہوم مکمل ہونگے

متن :
کتاب کی اصلی عبارت ، کتاب، کپڑے یا سڑک کے بیچ کا حصہ۔ درمیان ، وسط ، درمیانی پشت ، مضبوط (فیروز اللغات )

ہر طرح کی زیر غور تحریر یا تقریر متن کہلاتی ہے۔ مثلاً شاعری، نثری کلام ، تاریخ مکتوبات ، خطوط ، فیصلے ، فتوے، خطبات ، تذکرے، بیاض ، لغت، قاموس ، صوتیات، با معنی و بے معنی عبارات وغیرہ۔

پروفیسر سید محمد ہاشم متن کی وضاحت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

متن کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ دیوان یا کلیات ہی ہو ۔ منظوم و

منثور کسی بھی شکل میں ہو سکتا ہے۔ متن منصف یا حج کا تین سطروں کا

فیصلہ یا کسی کا مختصر سا خط بھی ہو سکتا ہے اور کلیات مصحفی کے آٹھ دیوان

بھی ۔ متن کے لیے یہ کوئی پابندی نہیں کہ وہ کتنا مختصر یا طویل ہو ۔ تحقیق Mau

کے نقطہ نظر سے جو چیز ہمارے زیر بحث ہے، وہ متن ہے ۔ (۶)

مدون متن کے لیے یہ لازم ہے کہ اسے آداب تحقیق سے بھی اس قدر واقفیت اور لگاؤ ہو جتنا کہ تدوین ہے، کیوں کہ اس کے بغیر یہ حقیقی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا ۔ باالفاظ دیگر ایک مدون کے لیے محقق ہونا ضروری

ہے جبکہ محقق کے لیے مدون ہونا ضروری نہیں ہے۔

رشید حسن خاں تدوین کے سلسلے میں رقم طراز ہیں :

تدوین در اصل تحقیق سے آگے کی منزل ہے ۔ جو شخص شرائط تحقیق کو پورا کرتا ہو اور ساتھ ہی اصول تدوین سے پوری طرح واقف ہو اور اس کا تجربہ بھی رکھتا ہو ، یا اس کو ایسی تربیت ملی ہو جو تجربے کا بدل ہو سکے تو

ایسا شخص تدوین کا کام انجام دے سکتا ہے ۔ (۷)

ایسا شخص جو تحقیقی مزاج نہ رکھتا ہوں تحقیق کے اصول و آداب سے واقف نہ ہوتد وین کا کام انجام نہیں دے سکتا۔ تدوین کا کام کرنے کے لیے تحقیقی مزاج کا ہونا لازمی ہے۔ ایک زمانے میں تدوین کی کوئی اہمیت نہیں تھی نسجتا اس کو معمولی کام سمجھا جاتا تھا، لوگوں کے دلوں میں اس خیال نے تسلط کر لیا تھا کہ تدوین تحقیق کی شق ہے ۔ المختصر یہ کے تحقیق کے مقابلے میں اس کی حیثیت ثانوی اور ضمنی تھی ۔ یہاں تک کہ محمود خاں شیرانی کی تصنیف ” تنقید شعر النجم کی بہت اہمیت وافادیت تھی ۔ اس کے برعکس ان کے مرتب کردہ مجموعہ نغز کو وہ اعتبار حاصل نہیں تھا جو ان کی تحقید شعر انجم کو تھا۔ لیکن زمانے کا ورق پلٹا ، تدوین کا رجحان بڑھا اور اس کی اہمیت وافادیت کو تسلیم کیا جانے لگا۔

موجودہ زمانے میں تدوین کا معیار یہ ہے کہ جب تک قدیم متون کو تد دین کے اصول اور طریقہ کار کی پابندی کے ساتھ مرتب نہیں کیا جائے گا ، اس وقت تک نہ تو تحقیق کی بہت سی گتھیاں سلجھیں گی اور نہ ہی زبان و ادب کا صحیح ارتقاء سامنے آسکے گا۔
مدون کے مدون کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقی مذاج سے آشنا ہونے کے کے ساتھ تدوین کے اصول وضوابط اور شرائط سے بھی کما حقہ واقف ہو، یعنی اس کو اس بات کی مکمل جانکاری ہونا ضروری ہے کہ تدوین کا طریقہ کار کیا ہے؟ صحت متن کا مفہوم ، اختلاف نسخ ، اس کے علاوہ بعض دیگر متعلقات جیسے زبان قواعد زبان، قواعد شاعری وغیرہ کے ساتھ فارسی زبان وادب سے بھی بخوبی واقف ہو اور جس عہد کی تصنیف کو وہ مرتب کرنا چاہتا ہے، اس عہد کی زبان اور اس عہد کے مصنفین کی زبان کا بھی خاص طور سے مطالعہ کرے، تا کہ اس مطالعہ سے اس عہد کے معاصرین کی زبان و بیان ، املا کے مسائل ، تراکیب کی جو خصوصیات ہوتی ہیں وہ سامنے آجائیں۔ چنانچه مدون متن کو ان تمام امور سے واقف ہونا ضروری ہے۔

پی ڈی ایف سے تحریر: محمد احمد رضا سیالوی

نوٹ:یہ تحریر پروفیسر آف اردو واٹس ایپ کمیونٹی کے ایک رکن نے پی ڈی ایف سے تحریری شکل میں منتقل کی ہے۔براہ کرم نوٹ کریں کہ پروفیسر آف اردو نے اس کی پروف ریڈنگ نہیں کی ہے۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں