شہر آشوب کی تعریف
شہر آشوب نظم کی ایک ایسی قسم ہے جس میں کسی شہر کی تباہی و بربادی، اہل ہنر و حرفہ، زعمائے حکومت و عوام کی پریشانی، تہذیبی و تمدنی انحطاط اور اقدار کی شکست و ریخت اور مجلسی زندگی کے ابتر ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہر آشوب پر ایک مختصر نظر | pdf
"نوراللغات” میں آشوب کا مطلب گھبراہٹ اور فتنہ ہے جبکہ الغات کشوری میں اس کا مطلب: شور و غوغا، فتنہ فساد وغیرہ ہے۔ ابتدا میں شہر آشوب صرف لڑکوں کے حسن و جمال کی بنیاد پر رونما ہونے والے فتنوں کا احاطہ کرتے تھے، بعد میں ان میں مزید موضوعات شامل ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اردو میں شہر آشوب کی روایت
شہر آشوب میں ہیئت کی کوئی قید نہیں، اس لیے اس کی شناخت موضوع سے ہی ہوتی ہے۔ یہ غزل، قطعات، رباعیات اور مثنویوں کی صورت میں بھی لکھے گئے ہیں۔
"شہر آشوب” کے اہم موضوعات
1۔ شہر یا ملک کی بر بادی
۲۔ لڑکوں کے حسن و جمال کی فتنہ پروری
۳ ۔ سیاسی ابتری و انتشار
۴ ۔ اہل ہنر و حرفہ کی بے روزگاری
۵۔ معاشی بد حالی وغیرہ۔
شہر آشوب کی صنف فارسی سے اردو میں داخل ہوئی۔ اس ضمن میں حاتم ہوا اور نظیر اکبر آبادی نے خوب نام کمایا۔ زیادہ تر شہر آشوب مسدس میں لکھے گئے۔
پروف ریڈر: مجاہد شاہ
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں