شاہد احمد دہلوی کا تعارف

شاہد احمد دہلوی کا تعارف |shahid-ahmad-dehlvi-ka-taaruf

شاہد احمد دہلوی کا تعارف

کچھ اس تحریر سے:

  1. شاہد احمد دہلوی کو موسیقی میں بھی دلچسپی تھی ۔ انہوں نے دہلی گھرانے کے مشہور استاد، استاد چاند خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی تھی۔۔۔
  2. شاہد احمد دہلوی ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی مجلہ ساقی کے مدیر اور ماہر موسیقی بھی تھے۔۔۔
  3. شاہد احمد دہلوی کے بارے میں ڈاکٹر اسلم فرخی کہتے ہیں:دادا نے اردو نثر کو وہ انداز دیا تھا جس سے ناول اور افسانے کی زبان کو فروغ پانے کے امکانات بہت واضح ہو گئے تھے۔۔۔
  4. شاہد دہلوی کے خاکوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو گوشت پوست کا انسان سمجھتے ہیں۔۔
  5. شاہد احمد دہلوی ریڈیو پاکستان پر ایس احمد کے نام سے موسیقی کے پروگرام کرتے تھے۔۔۔

تعارف و سوانح

شاہد احمد دہلوی ۱۹۰۶ء میں دہلی میں پیدا ہوئے ۔ ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے عوض انھیں اہم ادبی مقام حاصل ہے۔

شاہد احمد دہلوی ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی مجلہ ساقی کے مدیر اور ماہر موسیقی بھی تھے۔

ساقی کا اجرا ۱۹۳۰ء میں دہلی سے ہوا، جس میں اپنے عہد کے نمایاں لکھنے والے شامل ہوتے تھے۔

شاہد صاحب ۱۹۳۶ء میں ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے اور اس کی دہلی شاخ کے سیکریٹری بن گئے ۔

پاکستان بننے کے بعد شاہد احمد دہلوی کراچی منتقل ہو گئے۔

خاکہ نگاری کے علاوہ دلی کی بپتا اور اجڑا دیار کے نام سے مرحوم دلی کے حالات قلم بند کیے۔

شاہد احمد دہلوی کی ایک پہچان ان کی ترجمہ نگاری بھی تھی۔

انھوں نے درجنوں کتابوں کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔

شاہد احمد دہلوی کو موسیقی میں بھی دلچسپی تھی ۔ انہوں نے دہلی گھرانے کے مشہور استاد، استاد چاند خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی تھی۔

شاہد احمد دہلوی ریڈیو پاکستان پر ایس احمد کے نام سے موسیقی کے پروگرام کرتے تھے۔

ان کے موسیقی اور سنگیت شناسی کے حوالے سے ان کے بکھرے مضامین کو یکجا کر کے شائع کر دیا گیا ہے۔

شاہد احمد دہلوی کو ۱۹۶۳ء کو ان کی خدمات کے عوض صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا گیا۔

شاہد دہلوی کے خاکوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو گوشت پوست کا انسان سمجھتے ہیں

وہ اس کی خامیوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی خوبیوں کو۔

یہی وجہ ہے کہ قاری کو شخصیت سے اپنایت پیدا ہو جاتی ہے۔

شاہد احمد دہلوی کے خاکوں کی مقبولیت کا ایک سبب ان کا انداز بیان اور اسلوب ہے ان کی نثر کا ہر پڑھنے والا معترف ہو جاتا ہے۔

الفاظ نہ کم نہ زیادہ۔ ان خاکوں میں دہلوی رنگ نمایاں ہے۔ قاری کو ہر سطر میں دہلوی محاورہ اور روز مرہ دکھائی دیتا ہے

دہلوی محاوروں کے بہت سے رنگ ان خاکوں میں محفوظ ہو گئے ہیں۔

زبان کا صحیح استعمال اور محاوروں کو برتنے کا سلیقہ
انھیں ورثے میں ملا ہے۔

شاہد احمد دہلوی کے بارے میں ڈاکٹر اسلم فرخی کہتے ہیں:

"دادا نے اردو نثر کو وہ انداز دیا تھا جس سے ناول اور افسانے کی زبان کو فروغ پانے کے امکانات بہت واضح ہو گئے تھے۔

پوتے نے اس ادبی ورثے اور روایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو افسانے کو ترقی کے نئے راستے پر گامزن کر دیا۔

شاہد صاحب اجڑی ہوئی دلی کے دل دادہ تھے۔ انھوں نے دلی کے حسن، رعنائی، رنگین اور وضع داری کو اپنی تحریروں میں جذب کر لیا۔

ان کی پر وقار شخصیت میں بھی یہی حسن ، رعنائی بانکپن اور وضع داری نمایاں تھی۔ اب ایسی وضع داری کہاں ۔”

(شاهد احمد دهلوی: شخصیت اور فن : تاج بیگم فرخی ، اکادمی ادبیات پاکستان ، اسلام آباد صفحه ۶۰)

شاہد احمد دہلوی کا تعارف

شاہد احمد دہلوی (1906-1967) ایک معروف اردو نثر نگار، ادیب، مترجم، اور موسیقی کے نقاد تھے۔ وہ دہلی کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور انہیں اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ کلاسیکی موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔

ادبی خدمات:

شاہد احمد دہلوی کی تحریروں میں دہلی کی تہذیب، ثقافت، اور موسیقی کے احوال کا خاص رنگ نمایاں ہے۔ ان کی تحریریں زبان و بیان کی نفاست اور تحقیق کی گہرائی کی وجہ سے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ وہ ماہنامہ "ساقی” کے مدیر بھی رہے، جو اردو ادب کے فروغ میں ایک نمایاں رسالہ تھا۔

اہم تصانیف:

  1. دہلی کی چند عجیب ہستیاں
  2. گنجینۂ گوہر
  3. مضراب
  4. یاد رفتگاں
  5. نغمۂ زار

موسیقی سے دلچسپی:

شاہد احمد دہلوی کو موسیقی سے خاص شغف تھا اور انہوں نے کلاسیکی موسیقی پر گراں قدر مضامین تحریر کیے۔ ان کی تحریریں ہندوستانی موسیقی کی باریکیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

وفات:

وہ 27 مئی 1967 کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا علمی و ادبی کام آج بھی اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں