سفرنامہ سفر عشق کا تجزیہ | Safarnama "Safar-e-Ishq” ka Tajziya
موضوعات کی فہرست
سفرنامہ سفر عشق کا تجزیہ
سفرنامہ سفر عشق کا تعارف
طارق محمود مرزا کا یہ سفر نامہ ” سفر عشق ” ان کی حج کی روداد ہے جو انھوں نے اپنی زوجہ کے ساتھ ادا کیا طارق محمود مرزا نے اس سفر کے لیے لبیک ٹریول ایجنسی کا انتخاب کیا تھا۔اس ایجنسی کی انتظامیہ لبنان اور مصر سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ طارق محمود مرزا نے اس کا انتخاب اس لیے کیا تھا۔کیوں کہ اس کی ماضی کی خدمات بہت اچھی تھیں وہ اپنے سفر نامے ‘سفر عشق میں’ تحریر کرتے ہیں :
’’لبیک کے انتخاب کی وجہ اس کی شہرت تھی۔ اس گروپ کے ساتھ حج پر جانے والوں نے اس کی بہت تعریف کی تھی۔(۱)
ٹریول ایجنسیاں سفر کے آغاز سے پہلے تو بہت سے وعدے کرتی ہیں۔ مگر وہاں جاکر وہ لوگوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ رحمتوں کا سفر زحمت بن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طارق محمود مرزا کی شخصیت اور فن
طارق مرزا کی اہلیہ کا ارادہ حج کرنے کا بہت برسوں سے تھا مگر طارق محمود مرزا کی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے یہ کام ہر سال اگلے سال کے لیے ملتوی ہو جاتا تھا۔ طارق محمود مرزا بھی یہی چاہتے تھے مگر زندگی کے معاملات اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔وہ اپنے سفرنا مے ” سفر عشق میں لکھتے ہیں:
’’کئی برسوں سے میرا اور میری اہلیہ کا پروگرام بن رہا تھا پروگرام بنتا اور پھر اگلے سال کے لیے ملتوی ہو جاتا تھا اہلیہ کو جلدی تھی اور میں تاخیر کر رہا تھا. کچھ کاروباری مصروفیات تھی اور کچھ من کا کھوٹ تھا۔ جو اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے رکاوٹ بن رہا تھا ۔‘‘(۲)
حج کرنے سے پہلے انسان کو اپنے من کو صاف کرنا بہت ضروری ہے۔ دنیا کی محفلوں میں انسان اتنا مصروف ہو جاتا ہے اور خالق کائنات سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالی ٰکی توفیق سے ہوتا ہے۔ حج کے لیے انسان کو اپنے آپ کو ذہنی طور پر بھی تیار کرنا پڑتا ہے وہاں پر ایک انسان کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
صبح تین بجے ان کے ایک دوست محمد جاوید نے انھیں ائر پورٹ چھوڑا تھا۔ یہ ان کا زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی جلدی ائر پورٹ آنا تھا۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں فلائٹ سے دو سے تین گھنٹے پہلے ہی ائر پورٹ پر بلوایا جاتا ہے۔ طارق محمودمرزا کی سڈنی سے روانگی صبح چھ بجے کے قریب تھی۔ اس کے لیے لبیک والوں نے امارات ایئر لائن کا انتخاب کیا تھا۔ اس بارے میں وہ رقم طراز ہیں:
یہ بھی پڑھیں: اردو سفر نامہ اور فکشن | PDF
’’۲ اکتوبر ۲۰۱۳ء کی صبح چھ بجے سڈنی سے ہماری روانگی تھی۔ امارات ایئر لائن کی یہ سولہ گھنٹے کی فلائٹ اس وقت میری زندگی کی طویل ترین فلائٹ تھی۔ دبئی میں چند گھنٹے رک کر دبئی ائیر لائن کی فلائٹ سے ہم مدینہ منورہ جارہے تھے۔‘‘(۳)
طارق مرزا جذبہ عشق کی بدولت اتنا طویل سفر کرنے کے لیے مکمل اپنا ذہن بنا چکے تھے۔ ان کو جس ائر لائن کے ذریعے لے کر جایا جا رہا تھا اس کو ایک اچھی ائر لائن سمجھا جاتا ہے۔
طارق محمود مرزا کا اس سفر کے دوران شعوری طور پر یہ سفر نامہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس لیے وہ سفر کے دوران کوئی نوٹ بک بھی اپنے ساتھ نہیں لے کر گئے تھے۔ حج کی تکمیل کے دوران وہ صرف فریضہ حج ہی ادا کرنے گئے تھے۔ اپنے سفرنامے ” سفر عشق” میں تحریر کرتے ہیں :
’’میں حج ادا کرنے گیا تھا تو میرا اس بارے میں لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔ دوران حج اور نہ واپس آنے کے فوراً بعد میں نے ایسا سوچا تھا۔ دوران حج میں نے کوئی تصویر بنائی تھی، نہ ڈائری لکھی اور نہ نوٹ تحریر کیے تھے ۔‘‘(۴)
طارق محمودمرزا نے پہلے ہی یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ اپنا تمام تر وقت یادالہیٰ میں صرف کریں گے اور اپنے دامن پر لگے سیاہ داغوں کو مٹانے کی کوشش کریں گے۔ حج کے دوران زیادہ تر لوگوں کا یہی معمول ہوتا ہے کہ وہ وہاں پر جا کر اپنا زیادہ تر وقت تصویریں لینے میں ہی گزار دیتے ہیں اور حج کے روحانی مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے انسان ہر چیز اپنے موبائل فون کی سکرین پر آسانی سے دیکھ سکتا ہے۔
طارق محمود مرزا کا پہلے تو یہ سفر نامہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر ان کی اللہ سے عقیدت اور جذبات نے لکھنے پر مجبور کر دیا ۔حج کے دوران کی تمام یادوں نے انھیں بے بس کر دیا اور انھوں نے پھر اس کے متعلق لکھنے کا سوچا ۔ ان کے پاس اس موضوع پر لکھنے کے لیے زیادہ مواد تو موجود نہیں تھا مگر جذبات ضرور تھے جن کو وہ احاطہ قلم میں لا سکتے تھے۔ طارق مرزا اپنے سفر نا ہے ” سفر عشق” میں نوشت کرتے ہیں :
’’یوں بے ارادہ اور بغیر تیاری کے لکھنے شروع کر دیا۔ میرے پاس لکھنے کے لیے بہت زیادہ مواد نہیں تھا۔ صرف جذبات تھے جنھیں احاطہ تحریر میں لانا تھا۔ ان جذبوں کو لفظوں میں پرونا کوئی آسان نہیں تھا۔ یہ عام کہانی یا ناول نہیں تھا جس میں قلم کار کو کھلی چھوٹ ہوتی ہے۔ کہ وہ جہاں تک چاہے اشیب قلم دوڑا سکتا ہے ،اس پر کوئی قدغن نہیں ہوتی یہ عام افسانہ اور کہانی نہیں تھی جس میں مبالغہ آرائی کی گنجائش ہوتی ہے۔‘‘(۵)
عام کہانی، ناول یا افسانے میں مصنف اپنے خیالات کا اظہار جس طرح مرضی چاہے کر سکتا ہے۔ اس پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا مگر مذہب ایک ایسا موضوع ہے جس سے متعلق تحریر کرنے کے لیے بہت غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ طارق مرزا کا یہ سفر بائیس دنوں پر مشتمل تھا۔ جس میں آٹھ دن مدینہ منورہ اور چودہ دن مکہ مکرمہ میں قیام کے تھے۔ طارق مرزا نے پہلے لبیک ٹریول ایجنسی کے دوسرے حج پیکج کا انتخاب کیا تھا لیکن ان کا دل اس پیکج کے دور اپنے سے مطمئن نہ تھا۔ طارق محمود مرزا کی اہلیہ مدینہ منورہ میں مزید دن گزارنا چاہتی تھیں۔ طارق محمود مرزا اس پیکج کے متعلق اپنے سفرنامے ” سفر عشق” میں تحریر کرتے ہیں:
’’دوسرے پیکیج کے مطابق حج سے صرف تین دن پہلے عازمین کی براہ راست آمد مدینہ منورہ کے لیے طے تھی تین بعد مکہ مکرمہ کے لیے روانگی تھی جہاں پہنچتے ہی مناسک حج شروع ہو جاتے ۔ حج کے بعد چند دن مکہ میں قیام اور پھر وطن واپسی ۔‘‘(۶)
کوئی بھی مسلمان روضہ رسول سے دوری برداشت نہیں کر سکتا ۔ مسجد نبوی اللہ اور اس کی رسولﷺ کی پسندیدہ جگہ ہے۔ جہاں پر ایک نماز کا ثواب عام نماز سے ہزار گنا زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے طارق محمود مرزا پیکیج کی تبدیلی کا سوچتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت وہ روضہ رسولﷺ اور مسجد نبوی میں گزار سکیں اور مدینہ منورہ میں موجود تمام تاریخی مقامات کی زیارت کر سکیں۔
طارق محمود مرزا الجنہ میں داخل ہونے کے لیے تین دن سے کوشش کر رہے تھے۔ مگر زیادہ ہجوم کی وجہ سے وہ اس کی زیارت سے محروم ہوتے رہے۔ اس سے متعلق اپنے سفرنامے ” سفر عشق ” میں لکھتے ہیں :
’’وہ درجس کے سامنے میں پچھلے تین دن سے کھڑا تھا ، اچانک ا کھلا، اگلے ہی لمحے مجھے جیسے اٹھا کر ریاض الجنتہ کے وسط میں پہنچ دیا گیا ہو۔ مجھے احساس بھی نہیں ہوا اور میں وہاں پہنچ گیا جہاں پہنچنا چند لمحے پہلے تک ناممکن لگ رہا تھا۔‘‘(۷)
طارق محمود مرزا کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا اگر وہ دوسرے پیکیج کا انتخاب کرلیتے تو وہ ریاض الجنتہ کی زیارت سے محروم رہ جاتے ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے جب وہ مدینہ منورہ میں جائے تو وہ اس مقام کی زیارت ضرور کرے۔
طارق محمود مرزا نے اپنے اس سفر کا آغاز تو سڈنی سے کیا تھا۔ مگران کے اس سفر کا اختتام پیارے ملک پاکستان پر ہوتا ہے طارق محمود مرزا واپسی پر مکہ مکرمہ سے جدہ ، جدہ سے دبئی اور دبئی سے پاکستان کے شہر اسلام آباد آئے تھے۔ طارق مرزا اسلام آباد ائیر پورٹ پر پہنچنے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار اپنے سفرنا مے ” سفر عشق” میں یوں کرتے ہیں :
’’اس وقتتقریبا آدھی رات تھی جب ہمارے جہاز کے پہیوں نے پاک سر زمین کو چھوا۔ اسلام آباد ائر پورٹ کی کھلی فضا میں اس وقت اوس بھری خنکی تھی چاندنی ، اور ائیر پورٹ کی روشنیوں میں خاصے فاصلے پر کھڑے چند جہاز نظر آئے تھے۔ کوئی ہل چل نہیں تھی۔ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ اس خاموشی کو توڑتی ہوئی شٹل بس جہاز کے سامنے آکر رکی۔ہم ایک مقدس زمین سے دوسری پاک سر زمین پر قدم رکھنے والے تھے‘‘(۸)
پوری دنیا میں ستاون اسلامی ملک ہیں۔ پاکستان ان میں ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنایا گیا۔ طارق محمود مرزا کو ملک چھوڑے تقریباً انتیس سال ہو چکے تھے۔ اان کے دل میں آج بھی پنے آبائی وطن کے لیے بہت محبت اور احترام ہے۔ طارق محمود مرزا کے سفرنامے "سفرعشق کے متعلق محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سے طارق محمودمرزا کی ملاقات 10 اکتوبر 2016ء کو ان کی رہائش گاہ پرپر ہوئی۔ اس ملاقات میں ان کے ایک دوست ناصررنا کا گاوا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس ملاقات میں طارق محمود مرزا نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو اپنی دوکتا ہیں خوشبو کا سفر ” اور "تلاش راہ ” بھی پیش کی تھیں اور اپنی آنے والی کتاب "سفر عشق ” کا مسودہ بھی پیش کیا تھا طارق محمود مرزا اپنے کالم بازگشت میں رقم طراز ہیں :
’’علاوہ ازیں میں نے اپنی اگلی کتاب ” سفر عشق کا مسودہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے التجا کی کہ وہ مسودہ پڑھ کر اپنی رائے تحریر کر دیں تو میری حوصلہ افزائی ہوگی۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’میری صحت اچھی نہیں رہتی ہے۔ ہفتے میں دو کالم بھی لکھنے ہوتے ہیں۔ جس سے تھک جاتا ہوں پھر بھی کوشش کروں گا۔‘‘(۹)
یہ ملاقات طارق مرزا کے لیے خوش کن تھی ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ محسن پاکستان سے ملیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملک پاکستان کے ایک قومی ہیرو ہیں۔ ہر پاکستانی ان کا احسان مند ہے آج اگر تمام لوگ اپنے گھروں میں امن چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس میں عبد القدیر خان کی انتھک محنت بھی شامل ہے۔ طارق محمود مرزا کو ملاقات کے ایک ہفتے بعد ڈاکٹر عبدالقد عبد القدیر خان کا فون آتا ہے جس میں وہ طارق محمود مرزا کے سفرنامے "سفر عشق ” کے مسودے کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ طارق مرزا ان کا تجزیہ اپنے کالم "بازگشت” میں تو تحریر کرتے ہیں :
’’مرزا صاحب نے کتاب کیا لکھی عشق الہٰی اور عشق رسولؐ میں کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہے ۔ انھوں نے سفر کی تفصیلات اس طرح قلم بند کی ہیں کہ مکہ شریف و مدینہ شریف میں دلی تاثرات پلیٹ میں رکھ کر آپ کو پیش کر دیے ہیں ۔ یہ کتاب دلی جذبات، عشق رسول و عشق الہیٰ کی کی نہایت اعلیٰ عکاسی ہے ۔‘‘(۱۰)
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شمار پاکستان کے ان نامور لوگوں میں ہوتا ہے ۔ جنھوں نے اس ملک کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیا۔ طارق محمود مرزا کے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ انھوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر ان کے سفرنامے کا تجزیہ لکھ کر انھیں اعزاز بخشا۔
سفرنامہ سفر عشق کا موضوعاتی جائزہ
حجاز مقدس میں ویسے تو ہوٹل بہت زیادہ موجود ہیں۔یہ ہوٹل بھی دنیا کے دوسرے مالک کی طرح بلند وبالا عمارتوں پر مشتمل ہیں۔ ان ہوٹلوں میں دنیا کے باقی ممالک کی طرح ضروریات زندگی کی تمام اشیاء میسر ہوتی ہیں۔ طارق محمود مرزا اپنے سفر نامے میں رقم طراز ہیں:
’’یورپی مالک اور دوسرے بین الاقوامی ، ہوٹلوں میں چاکلیٹ،بسکٹ ، چپس اور سافٹ ڈرنک کے علاوہ شرابیں بھی رکھی ہوتی ہیں۔ ان اشیاء کے استعمال پر ان کا بل بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ الگ بات ہے بہت سے لوگ ان چیزوں کو چھوئے بغیر وہاں کئی کئی دن رہ لیتے ہیں۔‘‘(۱۱)
’سعودی عرب کے ہوٹلوں میں حرام چیزیں نہیں ملتی ہیں سعودی عرب کے ہوٹلوں میں شرابوں کی بجائے چائے ملتی ہے۔ چائے سے زائرین کی تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے اسی وجہ سے سعودی عرب کے ہوٹل دنیا کے ہوٹلوں سے الگ ہیں اپنے سفر نامے "سفر عشق” میں طارق محمود مرزا سرکاری ملازمین کا بھی ذکر کرتے ہیں طارق مرزا کو جب نکاح نامہ کی تصدیق کے لیے آسٹریلیا میں پولیس اسٹیشن جانا پڑا تو یہ پولیس والے اردو زبان کو نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں سے ایک پولیس آفیسر نے انتہائی معذرت خواہانہ لہجے میں کہا ہے ہمیں اردو نہیں آتی لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم کسی متراجم کو بلا کر اس سے اردو پڑھوا لیں گے۔ اردو مترجم کی فیس بھی پولیس اپنے فنڈ سے ادا کرے گی اور اس نکاح نامہ کی تصدیق کے لیے رقم بھی اپنے فنڈ سے ادا کرے گی۔ طارق مرزا پولیس کے ان سرکاری ملازمین کے رویے سے متعلق تحریر کرتے ہیں :
’’میں نے اس کا دوبارہ شکریہ ادا کیا اور اس نظام کا مزید معترف ہو گیا جس میں سرکاری ملازم عوام کے آقا نہیں بلکہ ان کے خادم ہوتے ہیں۔ وہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جیسے یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہو اسی وجہ سے عوام آمن چین کی زندگی بسر کرتی ہے۔‘‘(۱۲)
در حقیقت سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہی ہوتے ہیں۔ ان کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ ملتی ہے۔ مگر پاکستان کے سرکاری ملازمین میں یہ احساس موجود نہیں۔ وہ عوام کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ وہ عام لوگوں کی نسبت خود کو بہتر اور اعلیٰ سمجھتے ہیں۔
پاکستانی مسلمانوں میں بہت سے فرقے ہیں ہر فرقہ دوسرے فرقے کے لوگوں کو کافر قرار دیتا ہے۔ پاکستان کے ہر گلی محلے میں مختلف مسالک سے وابستہ مساجد موجود ہیں اس کی وجہ سے جہاں پاکستانی ہیں وہاں یہ فرقہ پوری دنیا میں ہیں .علامہ محمد اقبال ’’جواب شکوہ نظم ‘‘میں لکھتے ہیں :
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایک ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اللہ بھی ، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ (۱۳)
طارق محمود مرزا کو بھی فرقہ پرستی سے شدید نفرت ہے۔ وہ جب فریضہ جج کی ادائیگی کی تیاری کر رہے تھے۔ اس دوران میں ویزے کے لیے یہ شرط بھی شامل تھی کہ اپنے علاقے کے کسی امام مسجد سے مسلمان ہونے کا سر ٹیفکیٹ حاصل کریں۔طارق مرزا لکھتے ہیں :
’’مولانا صاحب فرمانے لگے: اس کی وجہ یہ ہے۔ میں اپنے گروپ کے لوگوں کو یہ سر ٹیفکیٹ دیتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو میرے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں اور مالی معاونت بھی کرتے ہیں‘‘(۱۴)
فرقہ پرستی کی وجہ سے تمام مسلمان آپسی جھگڑوں کا شکار ہیں۔ اگر تمام مسلمانوں میں یہ فرقہ پرستی ختم ہو جائے تو پوری دنیا میں مسلمان ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔
طارق محمود مرزا سڈنی اور پاکستان کی ٹرینوں کا تقابل بھی کر تے ہیں۔ سڈنی کی تمام ٹرینیں بہت صاف ستھری اور ایر کنڈیشنڈ ہوتی ہیں ۔ ان ٹرینوں میں تمام مسافر دنیا و مافیہا سے بے خبرا اپنے لیپ ٹاپ یا کتاب بینی میں مصروف ہوتے ہیں۔ اگر کسی ٹرین میں کسی مسافر کو چھینک بھی آجائے تو تمام لوگ اس کو حیرت سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کی ٹرینوں میں دوران سفر چیزیں بیچنے والوں کی آوازیں کانوں میں ہر وقت گونجتی رہتی ہیں۔
طارق محمودمرزا اپنے سفر نامے میں رقم طراز ہیں:
’’سڈنی کی ٹرینیں اس کے مقابل میں بالکل روکھی پھیکی محسوس ہوتی ہیں۔ ان کو چاہیے کہ پاکستان ریلوے سے سبق سیکھیں اور مسافروں کی سہولت کے لیے ٹرینوں میں کچھ تو رونق پیدا کریں اور نہیں تو ہاکروں کو ویزے دے کر یہاں لے آئیں۔ انھیں ٹرینوں میں چٹپٹی اور کار آمد چیریں بیچنے کا موقع دے کر نہ صرف رونق بڑھائیں بلکہ مسافروں کو کی صحت بھی بہتر کریں اس سے آسٹریلیا کی ریل کی آمدن بڑھے گی اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا ‘‘(۱۵)
پاکستان کی ٹرینیں ابھی بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ مگر حکومت پاکستان ٹرینوں کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ حال ہی میں گرین لائن ایکسپریس ٹرین کا آغاز کیا گیا ہے۔ جو دنیا کی ٹرینوں کی طرح جدید قسم کی سہولتوں سے آراستہ ہے۔ شہر لاہور میں اورنج لائن ٹرین کا بھی آغاز ہو چکا ہے یہ ٹرینیں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ طارق محمود مرزا بھی ملکی ٹرینوں کو بہتر حالت میں دیکھنے کےخواہاں ہیں۔
سگریٹ نوشی ایسی عادت ہے جو اس میں مبتلا ہو جائے ، اس کا اس عادت سے چھٹکارہ حاصل کرنا مشکل ہے۔ طارق محمود مرزا کو بھی سگریٹ نوشی کی لت لگی ہوئی ہے۔ وہ اپنی اس عادت کا ذکر اپنے سفرنامے میں جگہ جگہ کرتے ہیں۔ ان کو یہ عادت عرصہ دراز سے ہے۔ سگریٹ نوشی سے متعلق اپنے سفرنامے میں رقم طراز ہیں :
’’صاحبو ! سگریٹ کے خلاف اتنا لکھا اور بولا جاتا ہے کہ جو لوگ سگریٹ نوشی نہیں کرتے وہ سگریٹ نوشوں سے ہی نفرت کرنے لگے ہیں ۔مانا کہ سگریٹ نوشی بری عادت ہے۔ لیکن سگریٹ نوشوں سے نفرت تو کوئی اچھی بات نہیں ہے۔سگریٹ نوشی کو میں خود اچھا نہیں سمجھتا ہوں لیکن کیا کروں!‘‘(۱۶)
سگریٹ نوشی ایک بری عادت ہے۔ دور حاضر کے نوجوان اس کو جدت اور فیشن کی علامت سمجھتے ہیں ۔اس کی ایک جدید قسم شیشہ نوشی بھی ہے۔ سگریٹ کے پیکٹ پر بھی درج ہوتا ہے۔ کہ سگریٹ کے استعمال سے کینسر کا مرض ہوتا ہے۔حکومتوں کو چاہیے کہ اس پر مکمل پابندی عائد کریں۔ تاکہ نو جوانسل اس سے دور رہ سکے اور اس موذی مرض سے محفوظ رہے۔
طارق محمودمرزا آسٹریلیا کی کسٹمر سروس کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ کہ وہاں کسی شخص کو اپنے ذاتی کام کے کے لئے لیے کسی قسم کی بھی سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ ایک بینک کے کسٹمر سروس کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک آپ بینک میں داخل ہوں اور ایک ٹکٹ حاصل کریں ۔ اس کے بعد اپنی باری کا انتظار کریں۔ آپ کی باری آنے پر آپ کی بات پوری توجہ سے سنی جاتی ہے۔ بینک کے عملے کا رویہ بھی آپ کے ساتھ بہت اچھا ہوتا ہے۔طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’ آپ متعلقہ کاونٹر پر جائیں تو پوری عزت اور توجہ سے آپ کی بات سنی جاتی ہے۔جب تک آپ کا کام نہیں ہو جاتا اگلے کسٹمر کو نہیں بلایا جاتا۔ چاہے گھنٹوں لگ جائیں۔ بینک اگر چار بجے بند ہوتا ہے۔ آپ تین بج کر انسٹھ منٹ پر بینک میں داخل ہو گئے ہیں۔ تو آپ کا جو بھی کام ہے ۔ وہ ضرور نمٹایا جائے گا چاہے چھ بچ جائیں بینک کے اندر موجود کسٹمرز کا کام نمٹائے بغیر عملہ کام ختم نہیں نہیں کر سکتا‘‘(۱۷)
دنیا کے بہت سے بینکوں میں کسٹمر کو تر جیح و اہمیت دی جاتی ہے۔ کسٹمرز کے ساتھ نہایت حسن سلوک سے پیش آیا جاتا ہے۔ پاکستان کے بہت سے بینک ایسے ہیں جہاں ان اصولوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔عملہ تربیت یافتہ نہیں ہوتا جس سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر عملہ تربیت یافتہ ہوگا تو لوگوں کا بینک پر یقین پختہ ہوگا اور بینک کے زر مبادلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔
فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران طارق محمود مرزا کو خدمت گاروں کے رویے سے بہت حیرت ہوتی ہے۔ اگر آپ ان خدمت گاروں کو مناسب رقم بخشش کے طور پر دیتے رہیں گے تو وہ آپ کا کام بہت جلد کر دیں گے۔ آپ کی ہر بات پر سرخم کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر بخشش نہ ملے تو وہ آپ کا کام جلدی نہیں کرتے۔ ان کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے گزر بسر کرنا بہت مشکل ہے ۔ طارق مرزا تحریر کرتے ہیں:
’’ملازمین اس بخشش اور تحفوں کے عادی ہو جا تے ہیں اگر آپ کو اپنے کمرے کی روزانہ صفائی درکار ہے، روزانہ نئے نئے تو لیے ، صابن ، شیمپو ، چائے، دودھ، چینی، بستر کی چادریں اور تکیے کے غلاف درکار ہیں تو پھر ہوٹل کے بیروں کو بخشش سے نوازتے رہیں۔ یہ کام بغیر کسی رکاوٹ کے ہوتے رہیں گے۔ دوسری صورت میں ۱۸ دس دفعہ بلا نے پر بھی نہیں آئیں گے۔‘‘(۱۸)
صفائی ستھرائی کے معاملات دیکھنے کے لیے جو عملہ معمور ہوتا ہے۔ ان کی تنخواہ بہت کم ہوتی ہے اور ان کے گھروں کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تنخواہ کے علاوہ جو رقم ان کو بخشش کے طور پر ملتی ہے۔ اس سے ان کی کچھ مالی معاونت بھی ہو جاتی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں یہ لوگ بیک وقت دو ملازمتیں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مکہ اور مدینہ ہر سال لاکھوں زائرین حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے زائرین کو انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کے مختلف مالک سے لوگ، وہاں آتے ہیں جس کی وجہ سے زبان کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ یہاں کے ٹیکسی ڈرائیور من مانے کرائے وصول کرتے ہیں۔ ان ٹیکسی ڈرائیوروں کی وردی بھی نہیں ہوتی۔ یہ چند کلومیٹر کے کئی سو ریال وصول کرتے ہیں۔طارق محمود مرزا رقم طراز ہیں :
’’ مکہ اور مدینہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں اور کرائے کی گاڑیوں کے نرخ مقرر نہیں ہیں۔ ڈرائیور من مانا کرایہ لیتے ہیں۔ ایسی پرائیویٹ کاروں پر کوئی باقاعدہ نشانی نہیں ہوتی جس سے معلوم ہو کہ یہ کرائے کی کا ر ہے۔ نہ ہی ڈرائیور نے یونیفارم پہنا ہوتا ہے۔ نہ ہی ان ڈرائیوروں کو عربی کے علاوہ کوئی زبان آتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ منہ مانگا کرایہ لیتے ہیں)۱۹)
جن شہروں میں سرکاری ٹرانسپورٹ نہیں ہوتی۔ وہاں ٹیکسی ڈرائیور اپنی مرضی کے کرائے وصول کرتے ہیں۔ سفر کے دوران طارق محمود مرزا کے ساتھ ایک خاتون بھی شریک سفر تھیں۔ اس کا نام فاطمہ تھا یہ یہ فیجی کی ہندوستانی نژاد خاتون تھی قبول اسلام سے قبل اس خاتون نے اپنے والدین کو چھوڑا اور آسٹر یلیا آگئی۔ وہاں آخر کار اس کی ملاقات ایک پاکستانی نوجوان محمد علی سے ہوئی محمد علی ایک نیک انسان تھا۔ اس نے اس عورت کے سامنے یہ شرط رکھی کہ جب تم مسلمان ہو جاؤ گی اور مجھ سے نکاح کر لوگی ، تو میں تم سے جنسی تعلق میں آؤں گا ۔ طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’مونانامی اس پلے گرل کا پہلی دفعہ کسی باقاعدہ مرد سے سامنا ہوا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے اس کو جتنے بھی لوگ ملے تھے۔ نہ وہ سنجیدہ تھے۔ نہ یہ وفادار تھی لہذا رات گئی بات گئی والا معاملہ تھا۔ ‘‘(۲۰)
طارق محمود مرزا اپنے سفر ناموں میں ایسے بہت سے لوگوں کی کہانیوں کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے نوجوان کسی دوسرے ملک کی شہرت کے لیے وہاں کی خواتین کے ساتھ دھوکہ دہی کر تے ہیں۔ البتہ کچھ نوجوان اچھے بھی ہوتے ہیں اور اس قسم کی دھوکہ دہی کو پسند نہیں کرتے۔
سعودی حکومت اور وہاں کے مقامی باشندوں کا رویہ زائرین کے ساتھ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوتا ۔ طارق محمود مرزا ایک سعودی خاتون کی بد سلوکی کا ذکر کرتے ہیں۔ جب طارق مرزا اپنی اہلیہ کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک مقامی بازار میں خریداری کے لیے جاتے ہیں۔
وہاں ایک دکان میں کسی شے کے نرخ درج نہیں تھے جب انھوں نے دکان کی مالکن سے چیز کے نرخ معلوم کیے اوروہاں سے جانے لگے تو وہ خاتون اپنی زبان میں انھیں برا بھلاکہنے لگی۔ اس قسم کے واقعات سعودی عرب کی حدود میں فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران زائرین کو پیش آتے رہتے ہیں طارق مرزا نوشت کرتے ہیں :
’’سب سے زیادہ افسوس مقامی شہریوں کے رویے پر ہوتا ہے۔ وہ انتہائی تندخو اور بدمزاج واقع ہوئی ہیں۔ اس کا تجربہ آپ کو قدم قدم پر ہو گا ۔ سب سے زیادہ بدمزاجی کا مظاہرہ وہ غیر ملکیوں کے ساتھ ہی کرتے ہیں (۲۱)
مقامی لوگوں کو رائرین کو دیکھ کر خوش ہونا چاہیے کیوں کہ ان کے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہو تےہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان لوگوں کے ایسے رویے کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے ساتھ سعودی عرب سے متعلق برے تاثرات لے کر جاتے ہیں یہ ان زائرین کا ظرف ہے کہ وہ ان سے الجھتے نہیں ورنہ سعودی حکام کی جلیں مقامی لوگوں اور زائرین سے بھری رہتیں۔
طارق محمودمرزا نے اپنے اس سفرنامے میں ترکوں کی سعودی عرب کے مقدس مقامات کے لیے عقیدت و محبت کا ذکر بھی کیا ہے ۔ طارق محمودمرزا ذکر کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کی توسیع میں ترکوں کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ترک حکومت نے اعلان کیا کہ انھیں عمارت سازی سے متعلق فنون کے ماہرین کی ضرورت ہے۔ تو مقامی ترکوں اپنی خدمات پیش کر دیں۔ استنبول کے اطراف میں ایسے ماہرین کا ایک نیا شہر بس گیا اور ان تمام ماہرین کو محلوں میں ٹہرایا گیا۔ تمام ماہرین کو یہ نصیحت کی گئی کہ وہ یہ فن اپنے ذہین بیٹوں کو سیکھائیں حکومت ترکی ان کو شہسوار اور حافظ قرآن بنائے گی ترک حکومت نے ایسے نوجوانوں کو مسجد نبویؐ کی تعمیر کے لیے سعودی عرب بھیجا اور ان نوجوانوں نے مسجد نبوی کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا مسجد نبویؐ ان کے فن تعمیر کی عمدہ مثال ہے طارق محمود مرزا رقم طراز ہیں:
’’مدینہ سے دور ایک بستی بسائی گئی تاکہ شور سے مدینے کا ماحول خراب نہ ہو ۔ اگر کسی پتھر میں ترمیم کی ضرورت ہوتی تو مسجد کے احترام کی وجہ سے یہ پتھر واپس بستی میں پہنچایا جاتا۔ ماہرین کو حکم تھا کہ ہر شخص کام کے دوران باوضو رہے ، درود و شریف اور تلاوت قرآن میں مشغول رہے۔ حجرہ مبارک کی جالیوں کو کپڑے سے لپیٹ دیا گیا کہ گرد و غبار اندر روضہ مبارک تک نہ پہنچ پائے ‘‘(۲۲)
ترک نوجوانوں نے جس عقیدت و محبت سے مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا۔ دنیا میں آج تک کسی عمارت کی تعمیر ایسے انداز سے نہیں ہوئی ۔ ترکی میں ایک میوزیم ” توپ کاپی” بھی موجود ہے جس میں انھوں نے اسلام سے متعلق بہت سی تاریخی چیزوں کو بہت عقیدت اور محبت سے سنبھال کر رکھا ہے۔ طارق مرزا جب مدینہ کے علاقے عزیزیہ سے مکہ کی طرف جارہے تھے تو انھوں نے اس سفر کے لیے بس کا انتخاب کیا۔ اس سفر کے دوران طارق مرزا نے دیکھا تھا وہاں راستے میں کوئی درخت نہیں تھا۔ یعنی مقامی باشندوں میں شجر کاری کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔ جس کی وجہ سے ہر طرف دھوپ اور حبس کا راج تھا۔ مختلف اطراف میں دھواں ہی دھواں اڑتا ہوا دیکھائی دے رہا تھا۔ وہ رقم طراز ہیں:
’’شہر میں نئی اور پرانی عمارتوں کا ملا جلا عکس نظر آیا۔ بڑی اور جدید سڑکوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی اور تنگ گلیاں بھی تھیں۔شہر میں بھی سبزہ اور درخت کم ہی نظر آئے کہیں کہیں کجھور اور اسی قبیل کے چند دوسرے درخت تھے مجموعی طور پر یہ شہر عمارتوں ، سڑکوں اور گلیوں پر مشتمل تھا۔ پارک ، باغات، کھیل کے میدان، درخت، پودے اور گھاس بہت کم نظر آئی ‘‘(۲۳)
طارق مرزا قدرت کے مظاہر سے بہت محبت کرتے ہیں انسان قدرت کی خوبصورتی کے منظر دیکھ کر بہت اچھا محسوس کرتا ہے ۔ ایسے بھی درخت آب و ہوا کو صاف کرنے نے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ گرمی کی شدت میں کمی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ درخت انسانی صحت کی بہتری میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جو انسان قدرت کے خوب صورت مظاہر کے جتنا زیادہ قریب ہوتا ہے اس کی صحت اتنی ہی بہتر ہوتی ہے وہ سانس کی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
حجر اسود جنت کا پتھر ہے۔ تمام مسلمان جو فریضہ حج و عمرہ کی سعادت کے لیے جاتے ہیں وہ اس کا بوسہ لازمی لیتے ہیں۔ حجر اسود کو چومنے کے لیے بہت تگ وپو کرنی پڑتی ہے یہاں ہجوم اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے ایک دوسرے کے ساتھ خود کو باندھے رکھا ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی مضبوط سے مضبوط ہاتھ بھی چھوٹ جاتے ہیں طارق مرزا بھی حجر اسود کا بوسہ لینے جاتے ہیں اور کافی تگ ودو کے باوجود بوسیہ لینے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ طارق مرزا حجر اسود کے لیے اپنی دلی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں وہ حجر اسود سے متعلق حضرت عمر فاروق کی عقیدت و احترام کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں:
’’حضرت عمر فاروق نے ایک مرتبہ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا تھا:’’ میں جانتا ہوں تو محض ایک پتھر ہے۔ جو نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع اگر میں نے رسول کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تجھے نہ چومتا۔‘‘(۲۴)
حجر اسود کی حیثیت ایک پتھر کی ہے۔ سلمان کو تو سجدہ تعظیمی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اُس کا سر اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں جھک سکتا۔ وہ حجر اسود کو صرف اسی لیے بوسہ دیتا ہے، کیوں کہ اس کو نبی نے چوما تھا۔
طارق محمود مرزا ایک ایمان داری کا واقعہ بھی بیان کرتے ہیں۔ فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران طارق مرزا اپنی بہت قیمتی گھڑی وضو والی جگہ پر بھول جاتے ہیں۔ ان کو اس بات کی پریشانی ہوتی ہے۔ اسی دوران لبیک ٹریول ایجنسی کی انتظامیہ کا بیٹا ان کو ملتا ہے۔ طارق مرزا گھڑی کی گھمشدگی کا ذکر اس سے کرتے ہیں تو وہ ان کو یہ کہتا ہے کہ آپ اطمینان رکھیں، آپ کی گھڑی وہیں آپ کو پڑی مل جائے گی۔ طارق محمود مرزا لکھتے ہیں :
’’وہی ہوا میری گھڑی وہیں تھی۔ جہاں میں نے رکھی تھی۔ اس دوران سینکڑوں لوگ وہاں گئے ہوں گے لیکن کسی نے بھی گھڑی کو چھونے کی کوشش نہیں کی۔ اس میدان میں ہر شخص اس وقت اللہ تعالٰی کا سپاہی بنا ہوا تھا ۔ اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کا جذبہ ہر دل میں موجزن تھا وہ کسی غلط کام کا تصوربھی نہیں کر سکتے تھے‘‘(۲۵)
فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران تمام مسلمان جذبہ ایمان سے سرشار ہوتے ہیں۔ تمام مسلمان دور دراز ممالک سے الله کے حضور پیش ہوتے ہیں۔ مسلمان ایسی ایمانداری کی سثالیں قائم کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کو ان کی کوئی ایسی بات پسند آجائے۔ کہ ان کا یہاں آنا بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو جائے۔
طارق مرزا کے نزدیک سعودی عرب میں قانون کی پاسداری صرف کتابوں میں ہی ملتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں لائسنس حاصل کرنا بہت مشکل ہے ، وہاں کوئی کم عمرگاڑی نہیں چلا سکتا لیکن یہ سب باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ طارق محمود مرزا اس تجربے کا ذکر کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’ہم نے مکہ مکرمہ جیسے انتہائی مصروف شہر میں عین حج کے دنوں بارہ تیرہ سال کے بچوں کو گلیوں میں گاڑیاں اور موٹر سائیکل دوڑاتے دیکھا۔ اور منیٰ جمرات کے بیچ سڑکوں پر انھیں ایک پہیے پر موٹر سائیکل روڑاتے دیکھا۔ دھوئیں اور شور سے حاجیوں کو حیران اور پریشان ہوتے دیکھا۔ ‘‘(۲۶)
کم عمر ڈرائیور جو لائسنس کے بغیر گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں۔ یہ اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ان کی بدولت کچھ معصوم لوگ بھی جان سے جاتے ہیں۔ حکومتوں کو ان کم عمر لوگوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسی گاڑیاں جو دھواں چھوڑتی ہیں ان پر مکمل پابندی کی ضرورت ہے تاکہ فضا کو بہتر بنایا جا سکے۔
طارق محمود مرزا اپنے ہم وطنوں سے بہت محبت کرتے ہیں ہمیشہ ان کے لیے کچھ کرنے کی لگن اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں بہت سے پاکستانی ملازمت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے خاندان والوں کو غربت سے نکالنے کے لیے خود سارا سال محنت کرتے ہیں۔ یہ لوگ وہاں
سال جتنا کماتے ہیں۔ان میں سے بہت کم رقم خود پر خرچ کرتے ہیں اور باقی رقم اپنے خاندان والوں کو بھیج دیتے ہیں۔ طارق مرزا تحریر کرتے ہیں:
’’منیٰ اور عرفات میں بہت سے خدام سے ہماری ملاقات ہوئی ہے یہ سب انتہائی غریب گھروں سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ پڑھے لکھےبھی نہیں تھے۔ لہذا انگریزی تو بہت دور کی بات ہے اردو بھی ٹھیک سے نہیں بول سکتے تھے۔ وہ بہاولپور کے علاقے کی مخصوص زبان بولتے تھے۔ بھوک اور افلاس ان کے چہروں پر تحریر تھی بھوک بیماری اور سخت زندگی کی وجہ سے ان کے چہرے کے رنگ جھلسے ہوئے تھے ۔‘‘(۲۷)
بیرون ملک مقیم پاکستانی بھوک پیاس کی شدّت کو محسوس کرتے ہیں۔ جس کے بعد ان کو اتنی رقم ملتی ہے کہ یہ گزر بسر کر سکیں۔ اگر یہی لوگ پاکستان میں بھی اسی طرح دن رات کام کریں۔ تو ان کے خاندانوں کی صورت حال بہتر ہو سکتی ہے اور ملک کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔
طارق محمود مرزا نے زمانہ طالب علمی میں کچھ دعائیں بھی یاد کر رکھی تھی ان میں سے ایک دعا طارق مرزا کو بہت پسند تھی۔ انھوں نے اس دعا کا ترجمہ اپنے عربی کے ایک استاد مولانا ظفر صاحب سے کروایا۔ تو وہ پہلے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو کسی نےمیرا امتحان لینے کے لیے بھیجا ہے ۔ مگر طارق مرزا کی طرف سے وضاحت کے بعد انھوں نے اس دعا کے نیچے اس کا اردو ترجمہ کر دیا۔۔ طارق مرزا اپنے سفرنامے میں رقم طراز ہیں:
’’یہ ۱۹۷۳ء کا واقعہ ہے۔جب میں چھٹی جماعت میں بڑھتا تھا۔اس وقت سے میں ہر نماز کے کے بعد ، تلاوت قرآن کے بعد اور دیگر مواقع پر ہیی دعا مانگتا ہوں۔ اس دعا میں الله تعالی سے بہت ادب کے ساتھ درج ذیل دعائیں یا حاجات مانگی گئی ہیں۔ ایمان مستقیم ، دائمی کی فضل ، رحمت کی نظر ، مکمل عقل، علم نافع ، منور دل، احسان کرنے کی توفیق ، صبر جمیل، اجر عظیم ، ذکر کرنے والی زبان ، مغفرت، مقبول عمل ، نیک اولاد، اچھی صحت ،مستحاب الدعوات ، جنت الفردوس میں دائی ٹھکانہ، دوزخ سے نجات ، حیا والی آنکھ ، والدین کی دعائیں ، نبی کے روضے کی زیارت اور خانہ کعبہ میں حاضری کی توفیق‘‘کی دوائیں شامل ہیں۔‘‘()
اگر انسان رب کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھتا ہے۔ وہ رب انسان کو اتنا عطا کرتا جس کی کوئی حد نہیں۔ طارق مرزا اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں جو کچھ وہ پچھلے چوالیس سالوں سے اللہ سے مانگ رہے ہیں ان میں سے بہت ساری ان کی حاجات پوری ہو چکی ہیں۔
کسی بھی ملک یا کمپنی کی ترقی کا انحصار اس ملک کی کسٹمر سروس پر ہوتا ہے۔ اگر ایئر پورٹ پر عملے کا رویہ مسافروں سے تمیز دار ہوگا۔ تو مسافر اس ملک کا دوبارہ رخ بھی کریں گے۔ سعودی حکومت کو بھی اپنے ایئر پورٹ پر تعینات عملے کو تربیت دینی چاہیے۔طارق مرزا اپنے سفرنامے میں عربی بھائیوں کی کسٹمر سروس کا ذکر کرتے ہیں :
’’عملے کے وہ دونوں آدمی ہمیں جانوروں کی طرح ہانک رہے تھے ۔ اور جلدی جلدی کی رٹ لگائے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے انھوں نے جو دس پندرہ منٹ ضائع کیے تھے۔ اس کا انھیں احساس نہیں تھا۔ وہ ہمیں ایسے ہانک رہے تھے ۔ جیسے کوئی جانور کو ہانکتا ہے۔ کیا خوب کسٹمر سروس ہے ہمارے عربی بھائیوں کی۔ وہ بین الاقوامی مسافروں کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر اپنےزیر کفالت مزدوروں کی طرح ہانک رہے تھے۔‘‘(۲۹)
طارق مرزا دنیا کے بیس سے زیادہ ممالک کی سیر کر چکے ہیں۔ وہ ہر ملک کی کسٹمر سرویس سے بہت حد تک واقف ہیں ۔ بہت سے لوگوں کو سعودی عرب کی حکومت سے ہی شکایت رہتی ہے ۔ سعودی حکومت کو ایسے لوگوں کی سرزنش کرنی چاہیے ۔ جن کا مسافروں کے ساتھ رویہ برا ہے۔ اگر خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ یہاں موجود نہ ہوتے تو لوگ اس ملک کا رخ ہی نہ کرتے۔
اس تحقیقی مقالے کے اس ذیلی باب میں ہم نے طارق محمود مرزا کے سفرنا ہے ” سفر عشق کے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا۔ ان کے سفر نامے کے اہم موضوعات میں حجاز مقدس میں موجود ہو ٹل ، سرکاری ملازمین کا عوام سے رویہ ، مسلمانوں میں فرقہ بندی ، پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹرینوں کا تقابل ، سگریٹ نوشی کی عادت ، آسٹریلیا کی کسٹمر سروس ، خدمت گاروں کا رویہ ، مکہ اور مدینہ منورہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کا من مانا کرایہ وصول کرنا ، فاطمہ نامی خاتون کی کہانی، مقامی باشندوں کا زائرین سے رویہ ، ترکوں کی سعودی عرب کے مقدس مقامات کے لیے محبت ، شجر کاری کا رجحان ، حجر اسود سے عقیدت و محبت ، ایمانداری کی مثال ، اپنے ہم وطنوں سے محبت، بچپن کی دعائیں اور سعودی حکومت کی کسٹمر سروس شامل ہیں۔ ان کے ان موضوعات کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انھوں نے اس سفرنامے میں ایک کامل مسلمان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے اس سفرنامے میں حج کی ادائیگی کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کا ذکر مکمل مذہبی جوش وجذبے سے کیا ہے۔
سفرنامہ سفر عشق کا اسلوبیاتی جائزہ
طارق محمود مرزا کے سفرنامے کا اسلوب بہت سادہ اور رواں دواں ہے ۔ انھوں نے بہت ہی آسان اور سلیس لفظوں اور جملوں کا استعمال کیا ہے۔ ان کے سفرنامے میں یہ مثال دیکھئے :
’’اس سفر میں میرے جذبات بالکل الگ تھے۔ اس میں جوش، خوشی اور خوف کے ساتھ ساتھ عقیدت اور محبت بھی شامل تھی۔ سڈنی سے روانہ ہوتے ہی میرا دھیان مدینہ منورہ پر مرکوز تھا۔ ‘‘(۳۰)
طارق محمود مرزا بہت آسان جملوں کا استعمال کرتے ہیں مختصر سے جملوں میں طویل بات کو بھی سمجھانے کا فن جاتے ہیں۔ ان کی باتیں آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں۔ طارق مرزا کے سفرنامے میں سادگی پائی جاتی ہے۔ طارق مرزا عام فہم اور سادہ الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ان کے سفرنامے سے یہ مثال دیکھئے :
’’انسان کو نازک جذبات کا حامل بنایا گیا ہے۔ اس کے اندر بہت سی کمزوریاں بھی رکھی گئی ہیں۔ غلطیوں اور کمزوریوں سے پاک صرف اللہ کی ذات ہے۔ انسان اپنی تمام تر کمزوریوں سمیت آزمایش کے لیے زمین پر اتارا گیا ہے ۔‘‘(۳۱)
طارق محمود مرزا کے سفرنامے میں مزاح کا رنگ بھی دیکھائی دیتا ہے۔ وہ قاری اکو بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتے ہیں۔ ان کے اس انداز کی بدولت قاری کی دلچسپی ختم نہیں ہوتی ہے وہ ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جس میں سے ہنسے ہنسانے کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ اس سے ان کے اندر تکلم کے شگفتہ اور شائستہ پہلو کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے سفرنامے سے یہ مثال ملاحظہ کریں :
’’حاجیوں کے بارے میں جہاں اچھی اور روحانی باتیں مشہور ہوتی ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ازراہ تفنن بھی بات کرتے ہیں۔ یہ مثلاً ہمارے محلے کے ایک صاحب حج کر کے واپس آئے تو ان کا بہت شاندار استقبال کیا گیا ۔ چند دن بعد وہ گلی میں سے گزر رہے تھے کہ ایک آدمی نے پوچھا : ’’عبد الغنی کیا حال چال ہے ؟‘‘ حاجی صاحب نے گھور کر اس آدمی کو دیکھا اور بولے:
میں نے پورا ایک لاکھ روپیہ خرچ کیا ہے۔ آیندہ مجھے عبدالغنی نہیں حاجی عبدالغنی کہنا، سمجھے؟ ‘‘(۳۲)
طارق محمود مرزا نے اپنے اس سفرنامے میں ایسے دلچسپ اور مزاح سے بھر پور واقعات کا گاہے بگاہے ذکر کیا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعہ کا ذکر کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’میں نے بتایا ہم رہی کرنے گئے تھے۔ وہاں اپنے قافلے سے بچھڑ گئے اور اب اپنا کیمپ نہیں مل رہا” بولے: یہ مسئلہ یہاں عا م ہے بہت لوگوں کے ساتھ ایساہو جاتا ہے۔
میں نے کہا : جی ہاں شیطان کو مار کر آئے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ تو کرے گا۔
وہ ہسنے لگے : ” آپ نے اسے زیادہ زور سے تو نہیں مارا کہ وہ انتقامی کاروائی پر اتر آیا ہے۔‘‘(۳۳)
انھوں نے سفرنامے کے واقعات کو بیان کرنے کے لیے مکالماتی انداز بھی اپنایا ہے ۔ وہ اکثر مقامات پر واقعات کے بیان میں مکالمے کا انداز اپناتے ہیں۔ ان کے مکالماتی انداز کی یہ مثال دیکھئے:
’’خاتون بولی: شرم تو آتی ہوگی اس لعین کو۔ مگر اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا ۔‘‘
’’میں تو اسے خوب ٹکا ٹکا کر ماروں گا۔‘‘ مردود نے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔
خاتون نے کہا :’’ اب اتنا بھی نہیں مارنا، آپ کا پرانا دوست ہے۔‘‘
سب لوگ پیش بڑے ‘‘(۳۴)
انھوں نے سفرنامے کے موضوع کو دلچسپ بنانے کے لیے شاعرانہ انداز بھی اپنایا ہے وہ اپنے خیالات ، جذبات اور احساسات کے اظہار کے لیے شاعری کی مثالیں بھی استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے ضرورت پڑنے پر اردو اور پنجابی کے شاعروں کی شاعری کے نمونے بھی درج کیے ہیں۔ اردو میں وہ غالبؔ، میرؔ، اقبال اور دوسرے شاعروں کے کلام کو درج کیا ہے۔ اس سفرنامے سے کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں :
؎مے کشو آؤ آؤ مدینے چلیں
دریہ ساقی کوثر کے پینے چلیں(۳۵)
؎یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں(غالب)(۳۶)
؎یہ شہر طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑے شخص فرشتہ ہے کہ ابلیس (۳۸)
پنجابی شاعری سے بھی کچھ مثالیں یہ ہیں :
سو سو جوڑ سنگت دے ویکھے ، آخر وتھاں پیناں
جنہاں باجوں ایک پل نہیں سی لنگدا، آج شکلاں یاد نہ رہیاں (میاں محمد )(۳۸)
مزید مثالیں بھی دیکھیں :
؎جے ویکھاں میں اپنے عملاں ول نے ککھ نہیں میرے بلے
جے ودیکھاں تیری رحمت دلوں تے بلے بلے بلے
ان کا یہ شاعرانہ انداز سفر نامے کے واقعات کو ایک خاص قسم کی دلکشی، رعنائی اور شگفتگی عطا کرتا ہے۔ ان کے اس اسلوب سے تخیل پردازانہ رویے اور انداز اسلوب کی جھلک نظر آتی ہے۔ انھوں نے جہاں اردو اور پنجابی شعروں کا استعمال کیا ہے۔ انھوں نے وہیں انگریزی زبان کے الفاظ سے بھی استفادہ کیا ہے۔ وہ انگریزی الفاظ کا اس قدر مہارت سے استعمال کرتے ہیں کہ انگریزی زبان کے الفاظ اردو زبان کے الفاظ سے خود کو الگ تھلگ محسوس نہیں کرواتے طارق مرزا ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’دوسرے کئی سگریٹ نوش حضرات بھی ہم سے آملتے۔ اس طرح ہمارا ایک سموکنگ گروپ بن گیا تھا۔ ‘‘(۳۹)
انھوں نے انگریزی الفاظ کے ساتھ ساتھ انگریزی ضرب الامثال اور محاوروں کا بھی استعمال کیا ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں :
’’میں شکریہ ادا کر کے جانے لگا تو انچارج نے دھرے سے کہا:
Good luck and have a safe trip to Mecca.‘‘(۴۰)
ان کے اسلوب پر تقابلی انداز کی بھی گہری چھاپ ہے۔ انھوں نے اپنے سفر نامے میں مختلف واقعات کے بیان میں تقابلی انداز اپنایا ہے۔ وہ اکثر پاکستان، آسٹریلیا اور سعودی عرب کے معاشی، سماجی اور مذہبی حالات کا موازنہ کرتے ہیں۔ طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’آسٹریلیا میں زبرا کراسنگ پر ڈرائیور کا پاؤں خود بخود بریک پر پہنچ جاتا ہے۔ چاہے وہاں کوئی سڑک کرس کرنے والا ہو یا نہ ہو جن کی وجہ سے حادثے بہت کم ہوتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب میں بھی ڈرائیوروں کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں وہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بلا ضرورت ہارن بجاتے ہیں اور پیدل چلنے والوں کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔‘‘(۴۱)
طارق مرزا سعودی عرب کے موسم کا تقابل بھی کرتے ہیں:
’’یورپ ، آسٹر یلیا اور امریکہ سے حجاج کے جتنے قافلے آتے ہیں وہ عموراً فائیو سٹار ہوٹلوں میں ٹھہرائے جاتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طویل عرصے تک معتدل اور ٹھنڈے موسم میں رہنے کے بعد ان کے جسم چوبیس گھنٹے کی مسلسل گرمی ، تیز دھوپ اور حبس برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ وہ چاہیں بھی تو ان کا جسم اس کا متعمل نہیں ہو سکتا۔‘‘(۴۲)
طارق مرزا کے سفرنامے کے اسلوبیاتی جائزے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اس سفرنامے کے واقعات کو بیان کرنے کے لیے اپنے اسلوب میں مزاح نگاری، مکالماتی انداز ، شاعرانہ رویے ، انگریزی الفاظ ، تقابلی انداز کا دلکش اور خوب صورت استعمال کیا ہے۔
حوالہ جات
۱۔طارق محمود مرزا، ’’سفرعشق‘‘، ادارہ معارف اسلامی منصورہ ، لاہور، 2016ء،ص۳۷
۲۔ ایضاً، ص۳۶
۳۔ ایضاً،ص۶۶
۴۔ ایضاً، ص۲۰
۵۔ ایضاً، ص۲۱
۶۔ ایضاً، ص۳۹
۷۔ ایضاً، ص۱۳۶
۸۔ ایضاً، ص۳۳۵
۹۔ طارق محمود مرزا، بازگشت، روزنامہ، دوراہا،ظہیر الدین بابر، ۱۸ دسمبر ۲۰۲۱ء، ص۴
۱۰۔ ایضاً، ص۴
۱۱۔ طارق محمود مرزا، ’’سفرعشق‘‘، ادارہ معارف اسلامی منصورہ ، لاہور، 2016ء،ص۱۱۴
۱۲۔ ایضاً، ص۵۳
۱۳۔ مسعود مفتی، زہد ملک،شرح کلیات اقبال، سیونتھ سکائی، پبلی کیشنز، لاہور ،۲۰۲۰ء، ص۳۷۰
۱۴۔ ایضاً، ص طارق محمود مرزا، ’’سفرعشق‘‘، ادارہ معارف اسلامی منصورہ ، لاہور، 2016ء،ص۵۵
۱۵۔ ایضاً، ص۶۹
۱۶۔۔ ایضاً، ص۶۹
۱۷۔۔ ایضاً، ص۷۹
۱۸۔ ایضاً، ص۱۱۲
۱۹۔ ۔ ایضاً، ص۱۵۵
۲۰۔ طارق محمود مرزا، ’’سفرعشق‘‘، ادارہ معارف اسلامی منصورہ ، لاہور، 2016ء،ص
۲۱۔ ایضاً، ص۱۶۸
۲۲۔ ایضاً، ص۱۷۴
۲۳۔ ایضاً، ص۱۶۸
۲۴۔ ایضاً، ص۱۹۱
۲۵۔ ایضاً، ص۲۳۵
۲۶۔ ایضاً، ص۲۵۷
۲۷۔ ایضاً، ص۲۶۸
۲۸۔ ایضاً، ص۲۹۸
۲۹۔ ایضاً، ص۳۲۴
۳۰۔ ایضاً، ص۴۱
۳۱۔ ایضاً، ص۱۱۱
۳۲۔ ایضاً، ص۴۶
۳۳۔ ایضاً، ص۲۶۹
۳۴۔ ایضاً، ص۲۴۶
۳۵۔ ایضاً، ص۸۴
۳۶۔ ایضاً، ص۲۹۵
۳۷۔ ایضاً، ص۳۲۷
۳۸۔ ایضاً، ص۲۹۵
۳۹۔ ایضاً، ص۲۰۱
۴۰۔ طارق محمود مرزا، ’’سفرعشق‘‘، ادارہ معارف اسلامی منصورہ ، لاہور، 2016ء،ص۵۳
۴۱ ۔ ایضاً، ص۲۵۸
۴۲۔ ایضاً، ص۹۰
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں