جاپان کے شہری بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرواتے ہیں جاپان میں بہت بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز بھی موجود ہیں۔ جاپان کے لوگ عمارتیں بناتے وقت زلزلوں کا بھی دھیان رکھتے ہیں جاپان کو کافی زیادہ زلزلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے جاپانی ایسی عمارتیں تعمیر کرواتے ہیں جو ہلنے جلنے کے باوجود اپنی جگہ کھڑی رہتی ہیں اور زلزلوں کی شدت کو برداشت کر لیتی ہیں طارق محمود مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’دوست کا کہنا تھا” جاپانی اپنی عمارتیں بناتے ہوئے زلزلوں کا بہت خیال رکھتے ہیں جاپان میں اس طرح کی کمرشل اور بڑی عمارتیں زلزلہ، پروف بنائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہلنے کے باوجود عمارت گرتی نہیں بلکہ ہل جل کے باوجود اپنی جگہ کھڑی رہتی ہیں۔زلزلوں سے محفوظ رکھنے والی یہ بنیاد بہت پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہے۔ اس لیے گھر جلدی زلزلے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔‘‘(۲۱)
جاپان کے لوگوں کو زلزلوں کا اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری زمین کی ساخت چھوٹی چھوٹی پلیٹوں سے مل کر بنی ہے۔ ایسی ہی ایک پلیٹ کی سمندر کے نیچے موجود ہے۔ یہ پلیٹ جب اپنے آس پاس کی پلیٹ سے ٹکراتی ہے۔ تو اس کی باؤنڈری پر اس طرح کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس پلیٹ کے آس پاس ایک سرکل بنتا ہے
جس کو رنگ آف فائر کہتے ہیں پوری دنیا میں اس رنگ آف فائر کی وجہ سے ایسے مسائل جنم لیتے رہتے ہیں۔ جاپان اس رنگ کے سب سے حساس حصے پر موجود ہے۔ جاپانی اتنی ساری مشکلات برداشت کرتے ہیں لیکن یہ قوم ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہے یہ قوم متحد ہو کر ان سب آزمائشوں کا سامنا کرتی ہے جاپانی زلزلوں سے محفوظ عمارتیں بناتے ہیں۔
جس سے نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ طارق محمود مرزا تعلیمی نظام کا تقابل بھی کرتے ہیں جاپان میں تقریباً سو فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ جاپان میں سولہ برس کی عمر تک تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے سولہ برس کی عمر تک بچوں کو تعلیم بالکل مفت دی جاتی ہے۔ کالج اور یونی ورسٹی میں بھی حکومت م طالب علموں کی مالی مدد کرتی ہے۔ مئی۲۰۲۲ء کے مطابق جاپان میں ۸۰۷ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔
اس کے برعکس مسلم دنیا میں جو یونی ورسٹیاں موجود ہیں۔ ان کا معیار بہت پست ہے۔ پاکستان کی صرف ایک یونی ورسٹی ہے جس کا شمار دنیا کی ہزار یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے طارق محمود مرزا اس مسئلہ پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تاثرات تحریر کرتے ہیں:
’’ انہوں نے بتایا کہ دنیا کی ایک ہزار یونیورسٹیوں میں پاکستان کی صرف ایک یونی ورسٹی کا نام شامل ہے۔ ہماری بقیہ تمام یونی ورسٹیاں بین الاقوامی معیار سے بہت نیچے ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے پاس ان یونی ورسٹیوں کا معیار بہتر بنانے کا مکمل منصوبہ تحریری شکل میں موجود ہے مگر ہمارے حکمران ڈاکٹر قدیر خان کے اس منصوبے کو دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔‘‘(۲۲)
پاکستان میں تعلیمی نظام کی صورت حال بہت بری ہے۔ یہاں بچوں کو عملی کام نہیں کروایا جاتا بچوں کو صرف تھیوری پڑھائی جاتی ہے۔ اس کی بدولت پاکستان میں تحقیق کا معیار بہت برا ہے۔پاکستان کا سلیبس وقت کے تقاضوں کے مطابق بہت پیچھے ہے۔ اس سلیبس میں رد و بدل کی ضرورت ہے۔ بچوں کو تمام چیزیں پریکٹیکل کی صورت میں کروانی چاہیں کلاسوں میں ملٹی میڈیا کا استعمال عام ہونا چاہیے۔
جس سے بچوں کے نظریات بہتر ہوں گے۔ کورس جدید تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے جس کو پڑھنے کے بعد طالب علموں کی عملی زندگی میں بہتری آسکے۔ طارق محمود مرزا ائر پورٹ پر مسافروں کے سامان کا تقابل کرتے ہیں۔ طارق مرزا اپنی اہلیہ کے ساتھ بنکاک ائر پورٹ پر اترتے ہیں ۔ وہاں ائرپورٹ کا عملہ منھ اور ناک پر ماسک چڑھائے اپنے کام میں مصروف تھا۔ عملے کے چہرے سے مسکراہٹ اور لہجے سے نرمی بالکل غائب تھی۔
طارق مرزا کو امیگریشن کے بعد اپنا سوٹ کیس تو صحیح سالم مل جاتا ہے جس سے ان کو اطمینان ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس ماضی میں پاکستان ائر لائن کے ساتھ ان کا سفر تسلی بخش نہیں تھا طارق مرزا کا سامان کسی اور ملک بھیج دیا جاتا ہے ان کو بائیس دن کے بعد اپنا سوٹ کیس ملتا ہے لیکن پھٹا ہوا اور ان کی کئی قیمتی اشیاء بھی اس میں سے غائب تھی طارق محمود مرزاتحریر کرتے ہیں :
’’جہاز سے سامان نکال کر ٹرالی اور ٹرالی سے بیلٹ پر پھینکتے دیکھا جائےتو اس ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سمجھ میں آجاتی ہے۔ اپنے قیمتی اور نازک سامان کو اتنی بے دردی سے پھینکتے دیکھ کر آپ کا کلیجہ منھ کو آئے گا مگر عملے کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ اس کے عادی ہوتے ہیں وہ سامان ایسے پھینکتے ہیں جیسے کچرا پھینک رہے ہوں۔ ‘‘(۲۳)
ائر پورٹ پر عملے کی نگرانی ہونی چاہیے تاکہ اس طرح کے معاملات کا لوگوں کو سامنا نہ کرنا پڑے۔ لوگوں کے سامان میں بہت قیمتی چیزیں بھی ہوتی ہیں جو کہ انھوں نے سیاحت کے دوران خریدی ہوتی ہیں ان میں سے کچھ چیزیں ان کو تحائف کی صورت میں بھی ملی ہوتی ہیں اگر ائر پورٹ پر عملے کا رویہ ایسا ہی رہا۔ تو لوگ ہینڈ بیگ کے علاوہ دوسرا سامان نہیں لے کر جائیں گے جس سے ان ائر لائن کے زر مبادلہ میں بھی کمی آئے گی کیوں کر بہت سی ائر لائن سامان کی اضافی رقم وصول کرتی ہیں لیکن سامان کی پھر بھی حفاظت نہیں ہوتی۔
طارق مرزا بنکاک کے کلوور اسکو ہوٹل میں قیام کرتے ہیں۔ اس ہوٹل کے کمرے روشن اور تمام سہولتوں سے آراستہ تھے۔ اس ہوٹل کے کرائے میں ناشتہ بھی شامل تھا۔ اس ہوٹل میں تھائی اور انگریزی تمام کھانے موجود تھے۔ پاکستانی کھانے اس ہوٹل میں موجود نہیں تھے۔ پاکستانی جہاں مرضی موجود ہوں۔ جب تک وہ صبح دو تین پر اٹھے نہ کھائیں ان کا ناشتہ مکمل نہیں ہوتا۔ طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’تاہم کمی ہے تو پراٹھے اور لسی شائد پراٹھے کھانے والے مہمان کم آتے ہوں گے ۔ ہم پاکستان سے آر ہے تھے جہاں ہر صبح پر اٹھے یا کلچے کا ناشتہ ہوتا تھا یہاں درجنوں چیزیں موجود تھیں مگر دیسی ناشتہ کی بات الگ ہے۔اس کا کوئی جواب نہیں۔ اگر آپ پاکستانی ہیں اور آپ کے ناشتے میں پراٹھے نہیں تو زندگی بے مزہ ہے۔‘‘(۲۴)
پاکستانی دیسی کھانوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کھانوں میں مرچ مصالحوں کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے۔ باہر کے ممالک میں ایسے کھانے نہیں ملتے ہیں وہاں لوگ مرچ مصالحوں کا استعمال زیادہ نہیں کرتے ان مرچ مصالحوں کے زیادہ استعمال کی وجہ سے پاکستان میں ہر دوسرا تیر اشخص معدے کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے۔
پاکستان کے لوگ اپنی صحت کا زیادہ دھیان نہیں رکھتے ۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
طارق محمود مرزا بنکاک میں موجود سونے کی دکانوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں سونا پہننے کا رواج عام ہے۔ ان ممالک کے لوگ سونا خریدنے کے لیے دبئی اور بنکاک کا رخ کرتے ہیں ان ممالک میں شادی بیاہ کی تقریبات میں دلہن کو زیادہ سے زیادہ سونے کے زیورات دینے کا رواج عام ہے۔
شادی کے دن کے بعد دلہنیں یہ زیورات لاکروں میں سنبھال کر رکھتی ہیں پھر انہی زیورات کو توڑ کر نئی شکل میں ڈھالا جاتا ہے اور پھر یہ نئی نسل کی شادی بیاہ میں کام آتا ہے ۔ یوں تو دنیا کے باقی ممالک میں بھی سونا پہننے کا رواج ہے مگر وہ ان ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ ان ممالک کی خواتین بھی اپنے حسن کا خیال کرتی ہیں وہ اپنے حسن کے لیے مصنوعی چیزوں کا سہارا نہیں لیتی ہیں طارق مرزا رقم طراز ہیں :
’’کیا ہی اچھا ہو کہ شادیوں میں نمود و نمائش کے لیے اتنا سونا خریدنے کی بجائی نوبیاہتا جوڑے کو ضرورت زندگی کی ایسی اشیاء تحفے میں دی جائیں جن سے ان کی زندگی میں آسانی ہو انہیں گھر گاڑی یا فرنیچر خرید کر دے دیں یا کوئی کاروبار کروا دیں تاکہ ان کی زندگی کی گاڑی آسانی سے رواں ہو سکے۔ لاکروں اور تہہ خانوں میں بند یہ سونا اگر انسانوں کے کام آئے تو سونا ورنہ بھاری پتھر جس کا بوجھ ساری زندگی اٹھانا پڑتا ہے۔ ‘‘(۲۵)
ان ممالک میں یہ رسوم زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے آج کے دور میں اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر دلہن کو سونے کے زیورات نہ دیے جائیں تو شادی سے ہی انکار ہو جاتا ہے سونے کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں جن کی وجہ سے غریب گھروں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی شادی نہیں ہو پاتی ہے۔
سونا انسان کی ضروریات زندگی کی اشیاء کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ سونا بینک کے لاکرز کی پہلے زینت بنتا ہے پھر نئی آنے والی نسل کی شادی بیاہ کی تقریبات میں کام آتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کو بیچ کر کوئی کاروبار کر لیتے ہیں جس سے ان کی زندگی کا پہیا بہتر انداز سے چلنے لگتا ہے۔
طارق محمود مرزا اپنے سفرنامے میں دو تہذیبوں کا تقابل کرتے ہیں۔ ان دونوں تہذیبوں میں نمایاں فرق ہے۔ بنکاک میں طارق مرزا کی ملاقات اسٹیو سے ہوتی ہے تب طارق مرزا اسٹیو کو بتاتے ہیں کہ وہ کل شام کی فلائٹ سے گھر جارہے ہیں۔ ان کو اپنے بچوں کی بہت یاد آرہی ہے میری بیوی جلد از جلد ان کے پاس جانا چاہتی ہے۔ اسٹیوان کی بات سن کر حیرانی سے کہتا ہے کہ میرا انتظار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اسٹیو ان کو بتاتا ہے کہ امریکہ میں جوانی اور بڑھایا انسان کو اکثر تنہا گزارنا پڑتا ہے جوانی میں کوئی نہ کوئی ملتا رہتا ہے۔ مگر بڑھاپا تنہا گزارنا پڑتا ہے۔ اسٹیو ان کو مزید بتاتا ہے کہ آج سے دو سال پہلے میری بیوی کا انتقال ہو گیا۔ گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا پھر مجھے اس گھر میں کوئی دلچسپی نہ رہی میں نے وہ گھر بیچ دیا۔
میرا ایک بیٹا ہے جو اٹھارہ سال کی عمر میں گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے یہ بارہ سال پہلے کی بات ہے مجھے اس کی اب کوئی پرواہ نہیں ہے اس کی ماں۔ اس کو یاد کرتی رہتی تھی وہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئی۔ جب تک میری بیوی زندہ تھی میں کاروبار کرتا تھا جب اس کا انتقال ہو گیا تو میں نے وہ فروخت کر دیا ۔ اب میری کوشش ہے جو رقم جمع ہے۔ اس کو اپنے اوپر خرچ کروں اس میں کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس م لیے میں دنیا کی سیر پر نکلا ہوں تاکہ یہ ساری رقم خرچ کر سکوں طارق مرزا مشرقی والدین کا بھی ذکر کرتے ہیں ان کے پڑوس میں ایک بزرگ رہتے تھے جو ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔
ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی انھوں نے ساری زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف کر دی وہ اپنے گھر کو تینوں بیٹوں کے رہنے کے لیے اس میں تقسیم در تقسیم کے اصول پر عمل پیرا تھے جس کی وجہ سے یہ گھر کسی کے بھی رہنے کے لیے مناسب نہیں رہا۔ ان کے تینوں بیٹے اچھے عہدوں پر موجود تھے۔ ان کی بیٹی کی شادی سعودی عرب میں ہوئی تھی۔ ایک دن فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ محلے کا ایک فرد دیوار پھلانگ کر ان کے گھر داخل ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ بابا جی تو دنیا فانی سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ان کے جنازے میں ان کے چاروں میں سے صرف ایک بیٹا شامل ہوتا ہے۔ طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’ یہ ایک مشرقی باپ کی کہانی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اولاد کی محبت اور ان کے مستقبل کی فکر میں اس حد تک چلے جانا کہاں تک درست ہے۔ دوسری طرف اسٹیو جیسے باپ کو اپنے بیٹے کی خبر ہی نہیں تھی کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اتنی بے اعتنائی کا کوئی جواز ہے۔ کیا یہ دو انتہائیں نہیں ہیں کوئی بھی معاشرہ اور اس کے رسم و رواج سو فیصد درست نہیں ہوتے۔ ہر معاشرے میں خوبیاں اور خامیاں دونوں پائی جاتی ہیں ان دونوں انتہاؤں کے درمیان میانہ روی ہی بہترین راستہ ہے ۔‘‘(۲۶)
والدین اپنے بچوں کے لیے اپنی جان تک وقف کر دیتے ہیں، خود سارا دن محنت مشقت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کو زندگی میں کسی بھی تکلیف اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے مغربی روایات کے مطابق جب بچہ اٹھارہ سال کا ہو جائے تو اس کو اپنی دنیا خود تلاش کرنی پڑتی ہے۔ وہ بچے والدین کے سہارے اپنی زندگی بسر نہیں کرتے جب کہ وہ سخت محنت اور مشقت کرتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو تے ہیں۔ اس کے برعکس مشرق میں والدین سخت محنت کرتے ہیں۔ بچوں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرتے ہیں۔ ان میں اکثر بچے اپنے والدین کو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
اس تحقیقی مقالے کے اس ذیلی عنوان میں ہم نے طارق محمود مرزا کے سفرنامے "دنیا رنگ رنگیلی” کے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا ہے ان کے سفرنامے کے اہم موضوعات میں وطن سے محبت ، آسٹریلیا کے موسم، بڑھتی ہوئی آبادی اور درختوں کا کٹاؤ ، نیوزی لینڈ کے مذاہب ، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے ڈرائیوروں کا تقابل ، پاکستان اور نیوزی لینڈ کے سیاحتی مقامات ، سیاحت کی تعریف ، آزادی رائے کا حق، کتاب بینی نہ کرنے والوں پر تنقید ، فرقہ بندی ، سیاست سے گریز،طرز تعمیر زلزلوں سے محفوظ عمارتیں، تعلیمی نظام کا تقابل ، ائر پورٹ کا تقابل ، یورپین تہذیب اور مشرقی تہذیب شامل ہے۔ ان کے ان موضوعات کا جائزہ لینے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں۔ طارق محمود مرزا نے دوران سفر پیش آنے والے تمام واقعات کو سچائی سے بیان کیا ہے انھوں نے تمام حقائق کو تفصیل سے بیان کیا ہے انھوں مختلف علاقوں کی تاریخ کو بیان کرنے کے لیے مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا ہے۔
اسلوبیاتی جائزہ
طارق محمود مرزا کے سفرنامے کا اسلوب بہت سادہ اور رواں دواں ہے. انھوں نے نے اپنے اپنے سفر نامے میں عام فہم الفاظ کا استعمال کیا کیا۔ ہے جس کو سمجھنے کے لیے قاری کو کسی بھی اردو لغت کا استعمال نہیں کرنا پڑتا ہے۔ ان کے سفرنامے سے یہ مثال دیکھیں :
’’آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے شہروں میں عمومی طور پر تجارتی اور رہائشی علاقے الگ الگ ہیں حتیٰ کہ اپنے گھر کے اندر اور اپنے گیراج میں بھی ایسی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں جو پڑوسیوں کے آرام اور سکون میں مخل ہو۔ یوں تجارتی اور کاروباری مراکز کے لیے علاقے مخصوص ہیں ۔‘‘(۲۷)
اگر سفرنامے کا اسلوب جاندار ہوگا تو اس میں قاری کی دلچسپی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ اگر اسلوب پیچیدہ ہوگا تو قاری کو بات سمجھ میں نہیں آئے گی اور وہ پھر مزید مطالعہ نہیں کرتا ہے۔ طارق مرزا کے سفرنامے کی خاص بات ان کا انداز بیان ہے۔ ان کے سفرنامے سے ایک اور مثال دیکھیں :
’’ اس علاقے میں کافی بڑے بڑے فارم تھے۔ جو شروع تو سڑک کے قریب سے ہوتے ہیں لیکن فارم ہاؤس کافی اندر جا کر بنا ہوتا ہے ۔ فارم ہاؤس جانے والی اکثر سڑکیں کچی ہوتی ہیں زیادہ سے زیادہ کنکریٹ ایا بجری ڈلی ہوتی ہے۔ ایک فارم ہاؤس مجھے سڑک کے کافی قریب نظر آیا تو میں نے گاڑی اس طرف جانے والی کچی سڑک پر ڈال لی۔‘‘(۲۸)
طارق مرزا قاری کو پریشانی میں نہیں ڈالتے وہ سفرنامے کو ایک منظم انداز سے تحریر کرتے ہیں جس میں آغاز سے اختتام تک تمام واقعات کو کہانی کی طرح بیان کرتے ہیں۔ جس کے سبب قاری کی دلچسپی کسی بھی جگہ ختم نہیں ہوتی۔
طارق مرزا کے سفرنامے میں مزاح نگاری بھی دیکھائی دیتی ہے۔ ان کے اس انداز سے قاری اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں جس سے پڑھنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ طارق مرزا ہنسی مزاح کے انداز میں کے اپنی بات کر دیتے ہیں اور مختلف برائیاں بھی بیان کر دیتے ہیں :
’’اس سٹور میں ہم نے ایسے ٹماٹر ،آلو اور سیب دیکھے جن کا وزن آدھ کلو سے زائد تھا معلوم ہوا کہ جاپانیوں نے سبزیوں اور پھلوں پر جو تجربات کیئے ہیں اسی کے نتیجہ میں یہ بھاری بھر کم سبزیاں اور پھل وجود میں آئے ہیں اتنے بڑے پھل اور سبزیاں میں نے پہلے نہیں دیکھی تھیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے ہاں ٹماٹر کھانے کے علاوہ جلسوں اور جلوسوں میں احتجاج کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اگر یہ میڈ ان جاپان ٹماٹر کسی لیڈر کے سر پر لگ گیا تو وہ شہید جمہوریت کہلائے گا۔‘‘(۲۹)
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں