طارق مرزا نیوزی لینڈ کے سفر کے دوران پاکستان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے حالات کا موازنہ بھی کرتے ہیں۔ آسٹریلیا کے موسم دنیا کے باقی ممالک سے بہت الگ ہیں ۔ دنیا کے باقی ممالک میں جون اور جولائی کے مہینوں میں سخت گرمی ہوتی ہے جبکہ نومبر سے فروری تک شدید سردی ہوتی ہے آسٹریلیا کے موسم اس سے بالکل الٹ ہیں ان ممالک میں نومبر سے فروری تک گرمی عروج پر ہوتی ہے۔ مئی سے اگست تک سردی کا راج ہوتا ہے طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’ براعظم آسٹریلیا کے موسم باقی دنیا سے الگ بلکہ ان کے برعکس ہیں۔اس خطے میں مئی سے اگست تک سردیاں زوروں پر ہوتی ہیں۔
جولائی سال کا سرد ترین مہینہ ہوتا ہے ستمبر اکتوبر میں یہاں بہار آ جاتی ہے۔ جبکہ نومبر سے فروری تک گرمیوں کا راج ہوتا ہے جو مارچ اپریل میں خزاں میں بدل جاتا ہے۔ یہاں کرسمس کے دنوں میں گرمی عروج پر ہوتی ہے ۔‘‘(۱۰)
براعظم ایشیا اور آسٹریلیا کے موسموں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آسٹریلیا میں مئی سے اگست تک شدید سردی اور اکثر علاقوں میں برفباری ہوتی ہے۔ اس سردی میں لوگ گرم لباس کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ سردی انسان کا خون تک جما سکتی ہے۔ جب کہ نومبر سے فروری تک شدید گرمی کا راج ہوتا ہے۔
گرمیوں میں لوگ گرم لباس کا استعمال . کرتے ہیں۔ آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جس کو قدرت کی تمام نعمتیں میسر ہیں سال میں چاروں موسم ہونے کی بدولت اس
ملک میں سبزہ بہت زیادہ دیکھائی دیتا ہے۔
پاکستان اور ہندوستان کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ ان ممالک کے وسائل محدود جبکہ آبادی لامحدود ہے۔ پاکستان میں پچھلے چالیس پچاس برس سے آبادی میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی آبادی بہت کم ہے اور ان کے وسائل لا محدود ہیں آبادی میں اضافے کی وجہ سے ان ممالک کے لوگوں کو رہنے کے لیے جگہ بہت محدود ہے ۔
لوگوں نے زرخیز زمینوں پر مکانات تعمیر کیے ہوئے ہیں۔ جن کی وجہ سے ان لوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ ان لوگوں کو سانس لینے کے لیے ہوا میں آکسیجن کی کمی کا سامنا بھی ہے گلی نورکی نیوزی لینڈ کا قصبہ ہے۔ وہاں لوگوں کے رہنے کے لیے زمین بہت ہے۔ لیکن وہاں رہنے والے لوگوں کی تعداد کم ہے۔ کئی مربع زمین میں صرف چند لوگ ہی رہائش پذیر ہیں طارق مرزا تحریر کرتے ہیں :
’’ یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستان اور اس جیسے دیگرملکوں میں لوگ رہنے کے لیے چند فٹ زمین کے لیے ترستے ہیں۔ادھر کرہ ارض پر گلی نورکی جیسی جگہیں بھی ہیں۔ جہاں اتنی فالتو زمین موجود ہے کہ انہیں استعمال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اللہ کی اس زمین پر کیسے کیسے خطے اور کیسے کیسے لوگ بستے ہیں۔‘‘(۱۱)
ورلڈاومیٹر کی رپورٹ ۱۶ جولائی ۲۰۲۳ ء کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جس کی مجموعی آبادی چوبیس کروڑ اڑتالیس لاکھ پانچ ہزار چھ سو اٹھاون ہے۔ پاکستان کی آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو بہت سی چیزوں کی قلت کا سامنا ہے۔
اگر آبادی اسی طرح بڑھتی رہی تو ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ یہاں کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ اس ملک میں بے روزگاری کا جن پہلے ہی بوتل سے باہر آچکا ہے لوگ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے غیر قانونی کام بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں جھوٹ ، فریب اور لوٹ مار بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کے بر عکس نیوزی لینڈ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ایک سو تیسواں ملک ہے جس کی کل آبادی باون لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو افراد پر مشتمل ہے ۔ اس ملک کی آبادی بہت محدود ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو ضروریات زندگی کی تمام سہولتیں آسانی سے میسر ہیں۔ نیوزی لینڈ میں بے روزگاری نہیں ہے۔
وہاں لوگ صاف فضا میں سانس لیتے ہیں ۔ ان ممالک میں درخت لگائے جاتے ہیں۔ درختوں کے کاٹنے پر پابندی ہے جس کی بدولت ، ان ممالک کی آب و ہوا میں آلودگی کے اثرات موجود نہیں ہیں۔ درخت فضا میں آلودگی کو کم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
جب کہ پاکستان میں آبادی کے اضافے کی وجہ سے درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کے زرعی رقبے پر ہاؤسنگ سکیمیں شروع ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے شہروں اور دیہاتوں سے بھی درختوں کا نام و نشان مٹ گیا ہے۔ درخت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی آب و ہوا مضر صحت ہے۔ سردیوں میں یہاں دھند کی بجائے سموگ کا راج ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگ سانس کی بیماریوں کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے قصبہ گلی نورکی میں جگہ جگہ زرعی فارم دیکھائی دیتے ہیں۔ ان فارموں میں درجنوں گائیں ، گھوڑے اور بھیڑیں بھی چر رہے ہوتے ہیں۔ یہاں مویشی بہت عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے سبزے اور پانی کی فراوانی ہوتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے دیہات میں رہنے والے لوگوں کا گزر بسر بہت مشکل سے ہوتا ہے۔
وہ ان جانوروں کو سلاٹر ہاؤس والوں کو بیچ دیتے ہیں ۔ یہی ان کی آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جانوروں کے دودھ بیچنے کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں پر فارم میں وافر مقدار میں گائیں اور بھینسیں ہوتی ہیں طارق مرزا رقم طراز ہیں :
’’ہمارے پاس جو گائیں اور بھیڑیں ہیں۔ یہ گوشت کی غرض سے پالی جاتی ہیں۔ ہم ان کا دودھ نہیں دوہتے۔ ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد انہیں سلاٹر ہاوس والوں کو بیچ دیتے ہیں- یہی ہماری آمدنی کا ذریعہ ہے ۔‘‘(۱۲)
نیوزی لینڈ کے دیہات میں لوگ بہت سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی آمدنی بہت قلیل ہوتی ہے۔ یہ لوگ محنت بہت زیادہ کرتے ہیں۔ ان قصبوں میں لوگوں کی آبادی بہت کم ہے۔ یہاں ریسٹورنٹ بھی کم ہیں اگر ریسٹورنٹ زیادہ ہوتے توان کے مالک ان لوگوں سے جانور اچھی رقم میں خرید لیا کرتے۔
نیوزی لینڈ کے زیادہ تر شہری کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ کسی بھی مذہب سے نفرت نہیں کرتے ۔ وہ لوگ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں ان شہروں میں بہت سے گرجا گھر چندا اکٹھا نہ ہونے کی وجہ سے بیچ دیئے جاتے ہیں۔
ان میں سے کچھ گرجا گھر مسلمانوں نے خرید کر مسجد میں تبدیل کر دیئے ہیں۔ ان مساجد میں ایک دن عیسائیوں کو بھی اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ طارق مرزا لکھتے ہیں :
’’ نیوزی لینڈ کے شہریوں کی اکثریت کسی بھی مذہب پر یقین نہیں رکھتی اور نہ کسی مذہب سے نفرت رکھتی ہے۔ یہاں مکمل مذہبی آزادی ہے۔ مذہب سے بیزاری کی وجہ سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے چرچ ویران ہوتے جا رہے ہیں۔ چرچ کے ماننے والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بہت سے چرچ فروخت کر دیئے گئے ہیں۔ ان میں درجنوں گرجاگھروں کو مسلمانوں نے خرید کر مساجد میں تبدیل کر دیا ہے ۔‘‘(۱۳)
انسان جب ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے تو پھر مذہب میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے لوگ مذہبی زندگی سے ہی اکتا چکے ہیں۔ مذہب ایک آئین ہے جس کے مطابق انسان اپنی زندگی بسر کرتا ہے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے جس کی بدولت وہاں پرمساجد کی تعداد بھی کم ہے مسلمانوں کو جب موقع ملتا ہے. وہ دین اسلام کو پھیلانے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ مسلمان مذہب کے لیے اپنی جان تک بھی قربان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں