ناول سرگزشت ہاجرہ کا تنقیدی جائزہ

صغرا ہمایوں مرزا کے ناول سرگزشت ہاجرہ کا تنقیدی جائزہ

صغرا ہمایوں مرزا کی ناول نگاری

ناول سرگزشت ہاجرہ اور صغرا ہمایوں

ناول سرگزشت ہاجرہ سرگزشت ہاجرہ صغرا ہمایوں مرزا کا ایک اہم اور اصلاحی ناول ہے۔ صغرا ہمایوں نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب خواتین ادبی دنیا میں قدم رکھ ہی رہی تھیں تعلیمی بیداری کے تحت لوگوں میں شعور بیدار ہورہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سرگزشت ہاجرہ از صغرا ہمایوں مرزا | pdf

روایتی زندگی سے قطع تعلق کر کے لوگ عملی طور پر حقائق کو پرکھ رہے تھے۔ لیکن ہندوستانی معاشرہ میں ایسا کرنے والوں کی تعداد نہ کے برابر تھی اور خاص کر خواتین کی کیونکہ ہندوستانی مرد اساس معاشرہ میں خواتین کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔

اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صغرا ہمایوں مرزا نے جب قلم اُٹھایا تو خواتین کی زندگی کو ہی موضوع بنایا۔

تنقیدی جائزہ

سرگزشت ہاجرہ کو بھی خواتین کے لیے لکھی گئی اصلاحی ناول کہی جاسکتی ہے ۔ جس میں صفرا ہمایوں مرزا نے خواتین کی تربیت ، ازدواجی زندگی کی کامیابی کے اصولوں کو پیش کیا ہے۔

ناول سرگزشت ہاجرہ میں دراصل ہاجرہ، سارا اور مسزعون کو اپنی آپ بیتی سناتی ہے پھر مسزعون ، سارا اور استانی بھی اپنے اپنے تجربات بیان کرتی ہیں ۔

دوران گفتگو یہ لوگ عورتوں کے مسائل اور حالات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

صفرا ہمایوں مرزا نے یہ ناول خواتین کو سمجھانے کے انداز میں لکھا ہے ۔ لیکن شاید نادانستہ طور پر اس وقت سماج میں عورت کی حالت دیکھ کر آنے والے فکر انگیز خیالات بھی پیش کر دیئے ہیں۔

ناول سرگزشت ہاجرہ میں جب ہاجرہ کہتی ہے کہ نکاح کے وقت وہ اپنے شوہر سے بالکل انجان تھی لیکن ماں باپ کے بھروسہ پر نکاح کر لیا تو اس سے احساس ہوتا ہے اس وقت بھی لڑکی اپنے اوپر ہونے والی زبر دستی اور حاکمیت کا دُکھ محسوس کرتی تھی۔ ہاجرہ کہتی ہیں:

"چاہے لڑکا زنگی حبشی ہو یا خوبصورت جواں ہو یا اسی برس کا بوڑھا عالم ہو یا جاہل ہر حال میں ”ہاں کہنا ہی شریف لڑکیوں کا کام ہے۔ میرے والدین روشن خیال تعلیم یافتہ تھے ۔ مگر اُنھوں نے بھی شادی سے قبل مجھ سے نہ پوچھا کہ تم کو یہ انتخاب پسند ہے یا نہیں ۔”(۵)

اس اقتباس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ اس وقت بھی لڑکی اپنے ساتھ کی گئی نا انصافی کا احساس رکھتی تھی لیکن روایتی بندھنوں میں کسی قدر جکڑی ہوئی تھی کہ اس کا اظہار تک نہیں کر سکتی ہے۔

لیکن اس نے روایت کو بدلنے کی بات ضرور کی ہے۔ ناول میں سارا کہتی ہے:

"واقعی ہند میں یہ بہت بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ اس کے دفعیہ کی تدابیر صاحب ہم لوگوں کو کرنا چاہیے .. اب تو یہ رواج ہے کہ لڑکی اپنی نسبت کی خبر تک نہیں سن سکتی ، جہاں نسبت کا ذکر نکلا لڑکی وہاں سے اُٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہے، میرے خیال میں یہ جھوٹی شرم ہے اور والدین کا ظلم ہے ۔” (۶)

صغرا ہمایوں مرزا کا مقصد خواتین کو کامیاب زندگی کے گر بتانا تھا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ ان پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتا نہیں بھولتیں جو عورت پر کئے گئے مظالم سے متعلق ہیں۔ وہ بھی چونکہ عورت ہیں۔ اسی لیے چاہتی ہیں کہ عورت پر زور و زبردستی نہ کی جائے بلکہ اسے بھی مرضی سے جینے کا حق دیا جائے۔

مرد حضرات کے عورتوں سے ناروار کھنے والے سلوک کے بارے میں اپنے کردار ہاجرہ کی زبانی یہ بتاتی ہیں:

"میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مرد ہم کو حقیر جانتے ہیں حالانکہ ہمارے سبب سے ان کی عزت ہے ، ہمارے سبب سے ان کی آبرو ہے، ہمارے سبب سے ان کا وجود ہے۔ (۷)

ناول سرگزشت ہاجرہ میں آگے صغرا عورت کی وجہ سے مرد کی اہمیت کے بارے میں کہتی ہیں کہ:

"صفر البجھتی ہیں کہ مرد کی آبرو ، دولت ، خاندان اور بچہ سب عورت ہی کے نام سے ہے۔ اس لیے عورت رتبہ میں مرد سے برتر ہو سکتی ہے لیکن کم تر نہیں ۔ ہاجرہ ، سارا ، مسز عون سماج میں لڑکیوں کی ناگفتہ حالت پر تبصرہ کرتی ہیں۔

کہ سماج میں لڑکی کو مرد اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے اس کی رائے اور مرضی کی کوئی اہمیت نہیں اسے بوجھ سمجھا جاتا ہے اس وقت ہاجرہ لڑکیوں کو اس حالت سے باہر نکالنے کے لیے تجاویز پیش کرتی ہیں:

"ہم کو یہ کوشش کرنی چاہیے۔ والدین اپنی لڑکی ہر گز ایسے شخص کو نہ دیں جس کے پاس پہلی بی بی موجود ہو۔ خواہ اس کو اولاد ہو یا نہ ہو۔ اگر بی بی مرچکی ہو تو لڑ کی دی جائے لیکن ایک بی بی کے ہوتے دوسرا عقد نہ کرنا. یہ کہ عقد ثانی کرنے کا رواج ڈالا جائے بیوہ عورتوں کو ترغیب دی جائے جو عورت جوان بیوہ ہو اس کو عقد ثانی کرنا واجب کر
دیا جائے۔” (۹)

صغرا ہمایوں مرزا عورتوں کی سماجی حیثیت سے واقف تھیں ۔ اس لیے وہ چاہتی تھیں کہ جھوٹے سماجی بندھنوں سے عورت کو آزاد کیا جائے ۔

اس لیے اُنھوں نے اپنے کردار ہاجرہ کے ذریعہ ان مسائل سے باہر آنے کا حل بتایا ہے ۔

ناول سرگزشت ہاجرہ میں وہ کہتی ہیں کہ سماج میں بیوہ کو ہر خوشی سے محروم کر کے نفاظ کیا جارہا ہے اور اگر کوئی عورت ایسا کرنا بھی چاہے تو والدین اور رسم ورواج اسے ایسا نہیں کرنے دیتے اس لیے ہاجرہ کہتی ہیں:

"بیوہ عورتیں عقد ثانی کرنا چاہتی ہیں ان کے والدین سر راہ ہوتے ہیں اور رواج مانع ہے۔ اس لیے اگر کوشش کی جائے تو اکثر بیوہ عورتیں عقد ثانی کر لیں گئی ۔” (۱۰)

یہ بھی پڑھیں: خواتین ناول نگاروں کے نسوانی کردار

ہاجرہ اپنی اچھی تربیت کی وجہ سے اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب بنا لیتی ہے لیکن اس کا اصل مقصد عورت کی حالت میں سدھار لانا ہے۔

وہ اپنے ساتھیوں کو مخاطب کر کے کہتی ہے.

غرض صفرا نے ہاجرہ کے روپ میں اس عورت کو پیش کیا جو اخلاقی طور پر بلند ہے اپنے عقل و فہم سے زندگی کو کامیاب بناتی ہے اور ساتھ ہی خواتین کی حالت میں سدھار لانا چاہتی ہے ۔

صغرا نے ہاجرہ کے تینوں کاموں کے ذریعہ در اصل سماج کے تین اہم مسئلوں کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

صغرا ہمایوں مرزا کی یہ سوچ یہ خیالات دراصل ان کی نسائی حسیت کا پتہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ناول میں زیادہ تر اخلاقی پہلوؤں پر ہی زور دیا گیا۔

اور عورت کو نا مناسب حالات میں بھی سوجھ بوجھ سے کام لے کر زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ نکاح کے لیے لڑکی کی مرضی اور بیواؤں کو دوسری شادی جیسے موضوعات پر قلم اُٹھا کر صغرا نے اپنے تئیں اس کا حل بھی پیش کیا ہے۔

ماخذ: ناول نگاری میں خواتین کا حصہ از پروفیسر برکت علی

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں