مفت اردو ادب وٹسپ گروپ

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

پنجابی زبان میں انشائیہ

پنجابی زبان میں انشائیہ

پنجابی زبان میں انشائیہ کی صنف کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے آٹھویں عشرے کے نصف میں ~مشتاق باسط~ کے انشائیوں کے مجموعے "سکھ دا ساہ” 1976 ء سے ہوتا ہے.

جبکہ اس سے قبل اردو کی طرح اس صنف ادب کے لیے کوئی مخصوص اصطلاح نہیں برتی جاتی تھی. اور انشائیہ سے مراد صرف انشائیہ پردازی ہی لیا جاتا تھا۔

اردو میں انشائیہ کی ترکیب یا اصطلاح کو ڈاکٹر وزیر آغا نے 66-1956 ء میں متعارف کرایا۔

پنجابی میں انشائیہ کی ایسی نئی صنف سخن کا جائزہ لیتے ہوئے۔ ڈاکٹر سلیم رانا نے انور علی کی طنز و مزاح پر مبنی کہانیوں کی کتاب ” کالیاں اٹاں کالے روڈ ” کی بعض کہاوتوں کو انشائیہ قرار دیا ہے ۔

1984ء میں ناصر رانا کے انشائیوں کا مجموعہ ” پنیڈا ” شائع ہوا۔

اس کتاب میں بھی مشتاق باسط کی طرح سادہ اور نیم شگفتہ انداز اختیار کر کے عمومی واقعات کو انشائیوں کا روپ دینے کی سعی کی گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض جگہ انشائیے اور جواب مضمون کا فرق مٹا ہوا بھی نظر آتا ہے۔

یہ کمی پنجابی میں لکھے گئے اکثر انشائیوں میں پائی جاتی ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی تک افسانے ، مزاحیہ تحریر اور جواب مضمون سے اپنی سرحدیں الگ کرتی ہوئی اس نوزائیدہ صنف سخن کے خدو خال لکھنے والوں پر پوری طرح واضح نہیں ہو سکے ۔

یہ بھی پڑھیں: پنجابی زبان میں اردو ڈرامے کا ارتقاء

1986ء میں البتہ محمد اسلم میتلا کی کتاب ” سرائیکی انشائیے ” اور کنول مشتاق کی مرتب کردہ کتاب ” چونویں انشائیے” کی اشاعت نے اس نئی صنف ادب کے مزاج کو سمجھنے اور سمجھانے میں ایک عملی کردار ادا کیا.

جن کے ذریعے انشائیے کے کچھ واضح نقوش سامنے آئے۔

کنول مشتاق کی کتاب میں 1947 ء سے 1986 ء تک سامنے آنے والے 29 قلم کاروں کے منتخب انشائیے پیش کئے گئے ہیں۔

1985ء میں میاں ظفر مقبول کی
کتاب ” چو ہلاں ” اور 1992 ء میں عاشق رحیل کی کتاب ” سوچاں ” شائع ہوئی ، بابو جاوید گر جاکھی کے انشائیوں کا مجموعہ ” چٹا کاں” 1997ء میں شائع ہوا۔

اس کے علاوہ کچھ اور کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔

حواشی

کتاب کا نام:پاکستانی زبانوں کا ادب،موضوع:انشائیہ،ص:224کورس کوڈ:5618،مرتب کردہ:رومیصہ

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں