پشتو میں جدید شاعری

کتاب کا نام: پاکستانی زبانوں کا ادب،کوڈ: 5618،صفحہ: 55 تا 56،مرتب کردہ: ثمینہ شیخ،موضوع: پشتو میں جدید شاعری۔

پشتو میں جدید شاعری

بر صغیر میں بیسویں صدی کے شروع میں آزادی وطن اور اصلاح حالات کی جو تحریکیں شروع ہو ئیں ، ان کا براہ راست اثر شمال مغربی خطے پر بھی پڑا۔

ان قومی تحریکات کے آغاز اور پشتو زبان کے بہترین کلاسیکی ادب کے از سر نو مطالعہ کے ساتھ ساتھ جدید اردو شاعری اور مغربی علوم سے روشناسی کی بدولت پشتون اہل قلم کے فکر ونظر میں تبدیلی کا آغاز ہو اور انھوں نے اظہار جذبات کے نت نئے طریقے اختیار کیے۔ فکر ونظر کے زاویے بدلنے لگے۔

رجحانات میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی گئی۔ پشتون اہل قلم انگریزوں کے تسلط کے خلاف صف بستہ ہو گئے ۔

دوسری زبانوں کے ادب کے مطالعہ اور نئی اصناف سخن کے تراجم کی بدولت پشتو ادب کی بھی نئے رجحانات سے شناسائی پیدا ہوئی، جس کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ پشتو ادب میں جدت اور تنوع پیدا ہو گیا۔

پشتو کے جدید شعری ادب کے اس ابتدائی دور کے چند اہم شعرا میں غازی فضل محمود مخفی، سید راحت زاخیلی ، محمد اسلم کمالی، محمد اکبر خادم ، میاں آزاد گل اور عبد الاکبر خان اکبر شامل ہیں ۔

ان شعرا میں غازی فضل محمود تقی وہ پہلا شاعر ہے، جس کی شاعری میں کسی حد تک جدیدیت کا عنصر موجود ہے۔ ان کی زیادہ تر شاعری نظموں پر مشتمل ہے جو کہ ملی آرزؤں کی آئینہ دار ہے۔ انھوں نے آزادی کی تحریک کے پیش نظر جدید سوچ اور فکر کو نظم کا جامہ پہنایا اور پشتو شاعری میں موضوع کے ساتھ ساتھ ہیئت میں نت نئے تجربوں کا آغاز کیا۔

اس کے ایک اہم عصر شاعر سید راحت زاخیلی کی شاعری میں بھی فکری لحاظ سے جدیدیت کا ایک دھندلا سا عکس نظر آتا ہے۔ انھوں نے پشتون سوسائٹی کو اقبال کے افکار سے بھی متعارف کرایا اور ان کی کتاب ” ” بانگ درا کا پشتو میں منظوم ترجمہ بھی کیا ۔ جن شعرا نے با قاعد و طور پر فکر ، بیت اور موضوعات کے اعتبار سے پشتو شاعری کو نیا رخ دیا، ان کے فکر وفن کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

سمندر خان سمندر (1901ء – 1990ء)

سمندر خان سمندر کو پشتو شعری ادب میں عروضی مکتب کا بابا آدم تصور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے پشتو شعری ادب میں کئی ہزار اشعار کا اضافہ کیا۔ انھوں نے اپنی شاعری کی ابتدا نظم سے کی۔

تحریک آزادی کے دوران میں متحدو قومی ، انقلابی اور ولولہ انگریز نظمیں لکھیں اور عوام میں جذبہ حریت پیدا کیا چنانچہ قیام پاکستان کے بعد 1948ءمیں انھیں ملک الشعرا کا خطاب دیا گیا ۔ وہ طویل نظمیں لکھنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کا سب سے اہم ادبی ،

علمی اور مذہبی کارنامہ کلمہ طیبہ کی منظوم شرح و توحید ترنگ ( توحید کا نغمہ ) ہے۔ یہ دس جلدوں اور چونسٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ہے، جو پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ سمندرخان سمندر پشتو ادب کے وہ مینارہ نور ہیں،

جن کے کلام میں زور بیاں ، سلامت و مشقی اور فصاحت و بلاغت موجود ہے جو فارسی ادبیات میں فردوسی کی پرشکوہ شاعری کا خاصا ہے۔ ان کے آخری دور کی شاعری بالخصوص غزلیں عیدت پسندی مضمون آفرینی ، منفرد اسلوب، مضامین اور الفاظ کی مطابقت اور جذبات نگاری کی آئینہ دار ہیں۔

دورنگ

دورنگ ، دو رنگ، دورنگ

كان جواهر

میں پشتون

میں سنگین ہوں درون پشتون درون پشتون ہوں درون پشتون درون پشتون ہوں درون پشتون
درون پشتون ہوں درون پشتون
میں درون، میں درون، درون پشتون میں سنگین ہوں درون پشتون

زندہ خوں کی علامت ہوں

سرتا پا میں محنت ہوں

بڑھتا چلوں میں ہمت ہوں

ہم دم ہر دم قوت ہوں

گل ہوں گل کی نکہت ہوں

پیار ہوں، رحم ہوں، شفقت ہوں

میں ناموس ہوں، عزت ہوں

ور دنیا کی زینت ہوں

میں غیور ہوں، عزت ہوں

ور دنیا کی زینت ہوں

دنیا و دیں کی دولت ہوں

میں پرواز کی جرات ہوں

اپنے در کی شوکت ہوں

ہر درمان کی نیت ہوں

برق بلا کی آفت ہوں

معصوموں کی رفاقت ہوں

شیرینی کا شربت ہوں

تلخ نوا کی شامت ہوں

اک ملت اک اُمت ہوں

اپنے خدا کی رحمت ہوں

خوں کی حرارت ہوں پشتون

ترجمه: خاطر غزنوی ]

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں