نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری کا خصوصی مطالعہ

نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری کا خصوصی مطالعہ | Nazeer Akbar Abadi ki Nazm Nigari ka Khusoosi Mutalia

تحریر: ڈاکٹر فرح عابد

کچھ اس تحریر سے:

  1. میر و سودا کے بعد نظم میں جو اہم شاعر سامنے آتے ہیں وہ نظیر اکبر آبادی ہیں۔۔۔
  2. شیفتہ نے نظیر کی اس عام ہر دلعزیزی کو عامیانہ اور صوفیانہ کہا ہے لیکن یہی بات در اصل نظیر کے حق میں چلی جاتی ہے ۔۔۔
  3. ان کی نظموں میں جاندار اور انسان متحرک اور چلتی پھرتی تصویر میں دکھاتے ہیں۔۔۔
  4. نظیر اکبر آبادی کی کچھ نظمیں علامت کے توسط سے تشکیل پاتی ہیں۔ خاص طور پر بنجارہ نامہ اور ہنس نامہ۔۔۔
  5. انہیں پہلا باقاعدہ نظم گو تو کہا جا سکتا ہے مگر جدید نظم گو نہیں۔۔۔

نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری

میر و سودا کے بعد نظم میں جو اہم شاعر سامنے آتے ہیں وہ نظیر اکبر آبادی ہیں۔

نظیر نے نظم کو اس کے صحیح رنگ میں برتا اور اسے صحیح معنوں میں بام عروج تک پہنچا دیا۔

ڈاکٹر رشید امجد نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

"میر و سودا اور ان کے عہد کے جس شاعر نے بھی نظم کو اظہار کا ذریعہ بنایا اس کے یہاں غزل کی نسبت خارجی فضا زیادہ وضاحت اور کھردرے طریقے سے سامنے آئی اس دور کا ایک اور بڑا شاعر نظیر اکبر آبادی ہے۔

نظیر کی ساری عوامی شاعری اپنے عہد کے زوال کا مرثیہ ہے ۔ (۲۱)

نظیر اکبر آبادی نے اپنی ان مرثیہ نما نظموں میں معاشرے کی زبوں حالی کی جو تصاویر کھینچی ہیں وہ حقیقی معاشرتی انتشار کی عکاسی کرتی ہیں۔

نظیر اکبر آبادی نے نظم کو صیح طور پر اس کے حقیقی قالب میں پروان چڑھایا۔

نظیر کا دور میر سے غالب تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ دور غزل کا ہے لیکن غزل کی مقبولیت کے باوجود نظیر نے جس قدر خوبصورت انداز میں نظم کو حقیقت نگاری کا ترجمان بنایا یہ صرف انہی کا خاصا تھا۔

نظیر نے عوامی زبان ، رسوم و روایات اور میلوں ٹھیلوں پر نظمیں لکھیں اور موضوعاتی نظموں کا وسیع ذخیرہ شعر و ادب کو دیا۔ اسی لیے ان کو عوامی شاعر کا خطاب ملا ان کے کلیات کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے خواص کو بھی مد نظر رکھا اور ایسی نظمیں بھی لکھیں جو تعلیم یافتہ طبقہ کے ادبی ذوق کی تسکین کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ڈاکٹر غلام حسین کی رائے ہیں:

"نظیر کی نظموں کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سڑکوں اور بازاروں میں زبان زد عام ہوگئیں تھیں ۔

شیفتہ نے نظیر کی اس عام ہر دلعزیزی کو عامیانہ اور صوفیانہ کہا ہے لیکن یہی بات در اصل نظیر کے حق میں چلی جاتی ہے ۔ (۲۲)


نظیر نے جو موضوعاتی نظمیں لکھیں ان میں اپنے دور کے سیاسی ماحول کی تصویر کشی بھی کی ہے۔

انہوں نے اپنی نظموں کے لیے مخمس اور مسدس کی ہیت کو برتا ہے۔ نظیر کسی دبستان سے وابستہ نہیں تھے۔ نہ ہی کسی ادبی تحریک سے منسلک تھے۔ وہ اپنی ذات میں خود ایک دبستان تھے۔

نظیر کی نظمیں اپنے دور کے ماحول سیاسی و سماجی حالات کا گہرا مشاہدہ لیے ہوئے ہیں نظیر نے ہندوستان کے تہواروں، میلوں ، موسموں اور مذہبی شخصیات پر نظمیں لکھیں۔

ہندوستانی تہذیب ان کی نظموں میں مکمل روایات کے ساتھ نظر آتی ہے۔ نظیر کے دور کے دیگر شعراء اور بعد میں آنے والوں نے ان کی شاعری کو ابتدال اور سوقیانہ پن سے تعبیر کیا ہے۔

اس کی وضاحت دائرہ معارف اسلامیہ میں یوں درج ہے:

"انہوں نے فن اور طرز ادا کے معروف تصورات سے لاعلمی کی بنا پر گریز نہیں کیا بلکہ اپنے اسلوب کو اپنے فن سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قصداً مروج انداز (طریقہ راستہ ) سے انحراف کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظیر کی نگاہ میں گہرائی اور فکر میں وزن تو تھا لیکن اظہارمیں لطافت کی کمی تھی ،، (۲۳)

نظیر عوامی شاعر تھے اور انہوں نے نظم کو پہلی مرتبہ صحیح معنوں میں برتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری | pdf

انہیں پہلا باقاعدہ نظم گو تو کہا جا سکتا ہے مگر جدید نظم گو نہیں۔ اس حوالے سے ظہور احمد اعوان کی رائے اہمیت کی حامل ہے:

"نظیر نے ایسے دور میں اس نئی روایت کی بنیاد رکھی جن کے لیے زمانہ ایک صدی بعد تیار ہوا۔

انہیں اُردو کا پہلا باقاعدہ نظم گو کہا جا سکتا ہے مگر یادر ہے جدید نظم گو نہیں ۔ (۲۴)

نظیر اکبر آبادی نے روایتی موضوعات اور شعری سانچوں سے انحراف کرتے ہوئے نئے موضوعات اور الفاظ و تراکیب کو شاعری کا حصہ بنایا۔

روایت سے انحراف کرنے کی وجہ سے انہیں باغی قرار دیا گیا اور ایک عرصے تک انہیں سرے سے شاعر ہی تسلیم نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر وحید قریشی نظیر اکبر آبادی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :

"قدیم شعراء میں نظیر واحد شاعر تھے جنہوں نے حسن و عشق کے تصورات میں اُردو کی شعری روایت کو قبول نہیں کیا تھا اور مقامی اثرات پر زور دیا تھا۔
انہوں نے اپنا رشتہ روحانی قدروں پر استوار کیا اس کے لیے جو زبان انہوں نے اختیار کی وہ بول چال کی زبان تھی اور اپنے نظام فکر کے لیے نظیر نے جو شعری سانچے اختیار کیے وہ سرسید کے رفقاء کے بھی بہت کام آئے ۔ (۲۵)

نظیر اکبر آبادی کی نظموں میں ڈرامائی مکالمہ نگاری، مرقع کشی اور فطرت کے دلکش مظاہر کی جھلکیاں ملتی ہیں۔

وہ ان تصویروں اور مرقعوں سے اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کا کام لیتے ہیں۔

ان کی نظموں میں جاندار اور انسان متحرک اور چلتی پھرتی تصویر میں دکھاتے ہیں۔

نظیر اکبر آبادی کا اختصاص یہ ہے کہ اس نے لفظوں کی تراش خراش کی بجائے اپنے اردگرد سے تجربات اخذ کر کے نظم میں سمو دیئے ہیں۔

مقامی تہذیب اور دھرتی سے انسلاکیت نے ان کی نظموں میں مقامیت کا تاثر پیدا کر دیا ہے۔

نظیر اکبر آبادی کی کچھ نظمیں علامت کے توسط سے تشکیل پاتی ہیں۔ خاص طور پر بنجارہ نامہ اور ہنس نامہ میں انسانی معاشرے اور انسان کے دکھ درد کو بیان کرنے کے لیے علامتوں اور تماثیل سے کام لیا ۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں