کتاب کا نام : بنیادی اردو،کوڈ: 9001،موضوع: نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری،صفحہ: 211 تا 212،مرتب کردہ : ثمینہ شیخ۔
نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری
نظیر نے میر و سودا، ناسخ اور آتش، انشاء جرات کے ہم عصر ہونے کے باوجود ان سب سے الگ رنگ سخن اپنایا۔ شاعری میں خواص کی بجائے عوام سے ہم کلام ہونے کوترجیح دی۔ نظیر واحد کلاسیکی شاعر ہیں جن کے کلام میں سب سے زیادہ عوامی رنگ پایا جاتا ہے۔
انھوں نے قرب و جوار کے ماحول ، اپنے عہد کے رسم ورواج اور تہذیب و تمدن کو بڑی عمدگی کے ساتھ اپنی شاعری کے قالب میں ڈھالا ہے۔ شاعری کے لیے خوبصورت موضوعات کا انتخاب کیا۔
اُن کی نظموں میں براہ راست عوام الناس ، غریب اور مفلس طبقے کی نمائندگی نظر آتی ہے۔ ان کی نظموں میں مناظر فطرت، مذہبی تہوار ، سماجی رسوم، میلوں ٹھیلوں کی زندگی ، جانوروں حتی کہ ہندوستان کے مشہور پھلوں، سبزیوں اور درختوں کا بھی کثرت سے ذکر ملتا ہے۔
اپنے مخصوص طرز تحریر اور اسلوب کی وجہ سے نظیر کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کے اپنے دور میں انھیں کوئی پذیرائی نہیں ملی ۔ اُردو شاعروں کے بیشتر تذکرے ان کے ذکر سے خالی ہیں
بیسویں صدی میں جب ترقی پسندی کا رواج عام ہوا تو کھوج لگائی گئی کہ سب سے زیادہ عوامی اظہار کسی شاعر کے حصے میں ہے تو نظیر اکبر آبادی سب سے نمایاں شاعر کے طور پر سامنے آئے۔ نظیر اکبر آبادی کو پہلا ترقی پسند ( Progressive) شاعر بھی کہا جاتا ہے۔
اردو نظم کے کلاسیکی دور میں نظیر اکبر آبادی کی آواز بہت توانا اور مختلف ہے۔
انھوں نے اُردو نظم میں نئے الفاظ ، تراکیب اور محاورات کا بہت استعمال کیا۔ موضوعاتی حوالے سے انھوں نے اردو نظم کو وسعت دی۔ ان کی ایک نظم ” آئے وال کا ایک بند ملاحظہ کیجیے:
گر نہ آئے وال کا ہوتا قدم یاں درمیاں
منشی و میر و وزیر و بخشی و نواب و خان
جاگتے دربار میں کیوں آدھی آدھی رات یاں
کیا عجب نقشہ پڑا ہے آن کر کہیے میاں
سب کے دل کو فکر ہے دن رات آٹے دال کی
وہ انسان کے جینے کے لیے معاش اور معیشت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ایک نظم مفلسی میں بھی وہ غربت کو تمام مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں:
مفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پر
دیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پر
ہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پر
جس طرح کتے پڑتے ہیں ایک استخوان پر
ویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسی
نظیر نے بڑی تعداد میں اخلاقی اور اصلاحی نظمیں بھی لکھیں۔ نظم میں ان کا رجحان ہمیشہ خارج کی طرف رہا۔ دروں بینی کو انھوں نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ان کی شاعری کا ایک ضخیم کلیات شائع ہو چکا ہے۔
روٹیاں
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں
پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں
آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں
پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں
سینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں
جتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھرا
کرتا پھرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جا
دیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیا
ٹھٹھا، ہنسی، شراب، صنم ساقی اس سوا
سو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاں
جس جا پہ ہانڈی چولھا تو اور تنور ہے
خالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہے
چولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہے
جتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہے
اس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاں
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کا ہے کے
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں
پھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیا
اس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیا
وہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیا
کشف القلوب اور یہ کشف القبور کیا
جتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے
لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے
باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے
سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے
جتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں
روٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیر
روکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیر
یا پتلی ہو دے موٹی خمیری ہو یا فطیر
گیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیر
ہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں