ممتاز شریں کی تنقید کا تنقیدی جائزہ
مصنف نمبر 2…۔ ممتاز شیریں
ممتاز شیریں نے (۱۹۲۴ء ۱۹۷۳ء) ۱۹۴۳ء میں بنگلور سے رسالہ نیا دور جاری کیا ، جس میں ان کا پہلا تنقیدی مضمون افسانے“ شائع ہوا۔ تنقیدی مضامین کا مجموعہ ” معیار ۱۹۶۳ء میں لاہور سے شائع ہوا ۔ ” معیار میں شامل چند مضامین سے ممتاز شیریں کے ادبی رجحان اور سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے: تکنیک کا تنوع ۔ ناول اور افسانہ میں رجحانات کا دائرہ ، طویل مختصر افسانہ، مغربی افسانے کا اثر اردو افسانے پر ترقی پسند ادب ، سیاست ، ادیب اور ذہنی آزادی ۔ ” معیار کا پیش لفظ حسن عسکری نے لکھا ہے۔ عسکری سے بہتر ممتاز شیریں کا جائزہ کون لے سکتا ہے، اس لیے ذیل میں پیش لفظ سے چند جملے نقل کیے جاتے ہیں :
اپنی نگریا افسانے از ممتاز شیریں | pdf
” جب ممتاز شیریں نے افسانہ نگاری اور تنقید نگاری شروع کی تو اس وقت پروفیسر نقادوں کا دور دورہ نہیں تھا۔۔۔ نقاد اور ادیب کا فرق ابھی پیدا نہ ہوا تھا۔ شاعر اور افسانہ نگار ہی تنقید بھی لکھتے تھے اور دونوں قسم کی تحریروں کے پیچھے وہی ایک جذبہ اور دریافت کا وہی احساس کارفرما ہوتا تھا۔ اس ماحول میں ممتاز شیریں نے لکھنا شروع کیا ۔۔۔ یہ مضامین صرف ممتاز شیریں نے نہیں لکھے ہیں بلکہ ایک خاص دور کی اندرونی ضرورتوں نے لکھوائے ہیں۔۔۔ یہ مسئلہ سب سے شدید اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ ادیب کے فرائض کیا ہیں۔ اسے کن چیزوں کے متعلق لکھنا چاہیے اور اس کے لیے کس قسم کے حالات سازگار ہوتے ہیں؟ ممتاز شیریں کو بھی خالص ادبی مسائل سے ہٹ کر ان وسیع تر مسائل کی طرف توجہ کرنی پڑی ۔“
(دیباچہ، مشمولہ معیار، ممتاز شیریں، معیار، نیا ادارہ ؛ لاہور ، ۱۹۶۳ء ص ۹-۱۱) ممتاز شیریں ایک ایسے دور میں اہم نقاد کے طور پر ابھریں، جب ترقی پسند تحریک اپنا پورا زور دکھا چکی تھی۔ ادب، ادیب اور معاشرے پر کافی بحثیں ہو چکی تھیں اور جذباتیت ایک حد تک کم ہو چکی تھی اور حسن عسکری اور آل احمد سرور جیسےنقادوں کے باعث ادبی معیارات پر بات ہونے لگی تھی۔ ممتاز شیریں حسن عسکری سے خاص طور پر متاثر ہوئیں۔ ان کی خصوصی دین فکشن پر ان کے تنقیدی مضامین ہیں۔ منٹو پر ان کے کئی مضامین شائع ہوئے۔
ان کے ذہن میں منٹو پر کتاب شائع پران کرنے کا خاکہ تھا، جوان کی زندگی میں ممکن نہ ہو سکا، تاہم یہ مضامین منٹو: نوری نہ ناری“ کے نام سے یکجا ہوکر ان کے انتقال کے بعد شائع ہوئے۔ ممتاز شیریں کے دور تک ترقی پسند ادیبوں اور نقادوں میں انتہا پسندی کم ہوگئی تھی۔ اپنے مضمون ” ترقی پسند ادب کے آخر میں وہ نہایت بصیرت افروز بات کہتی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو تنقید میں اب کس قدر گہرائی پیدا ہو چکی ہے۔
دو لیکن یہ مخصوص نظریے اور رجحانات ادب کے احاطے کو محدود کر دیتے ہیں۔ ادب کو وسیع ہونا چاہیے تا کہ داخلی، خارجی ، انفرادی ، اجتماعی لمحاتی ، ابدی ، روایاتی حدوں اور خصوصیتوں سے نکل کر ان سب کو اپنے دامن میں لے کر زندگی کی
ترجمانی کرے۔ زندگی جو اس لمحے ہمارے سامنے ہے، زندگی جو ازل سے ہے۔“
ترقی پسند ادب مشمولہ ، معیار ص ۱۴۷)
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں