معین احسن جذبی کی شاعری کا تنقیدی جائزہ | Moin Ahsan Jazbi ki shairi ka tanqeedi jaiza
نوٹ: یہ تحریر پی ایچ ڈی مقالے کے باب چہارم سے لی گئی ہے۔عنوان مقالہ: Mohammed Alvi Hayat O Khidmat
موضوعات کی فہرست
کچھ اس تحریر سے:
- معین احسن جذبی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔۔۔
- جذبی عصری آگہی کو بڑی ریاضت ، قناعت اور صبر کے ساتھ حسیاتی تجربے میں تبدیل کرتے ہیں اور جب تک اسے شخصیت کا جزو نہیں بنا لیتے ہیں اس وقت تک لب نہیں کھولتے۔۔۔
- ان کی شاعری کا بتدریج ارتقاء، ان کے فن کو ذرے سے عریض وبسیط کائنات تک پہنچا دیتا ہے۔۔۔
- جذبی کے غزلیہ اشعار میں تلخی، گردش ایام سے طنزیہ و مزاحیہ عناصر در آتے ہیں۔۔۔
- ان کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ اس متغز لانہ والہانہ پن کو صنعت گری یا امیجری کو بیساکھیوں سے پیدا نہیں کرتے بلکہ شخصیت کے گداز سے ابھارتے ہیں۔۔۔
معین احسن جذبی کی شاعری کا تنقیدی جائزہ
معین احسن جذبی کی غزل گوئی
معین احسن جذبی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے اور ان کی غزلوں میں ایک منفرد لب ولہجہ اور سوز و گداز ہے۔
وہ کلاسیکی غزل کی روایات کے امین ہیں۔ ان کی ابتدائی شاعری میں انقلابی لہجہ نمایاں تھا، مگر بعد کے دور میں ان کے لہجے میں سنجیدگی، متانت آ گئی۔ ان کی شاعری سے متعلق محمد حسن لکھتے ہیں:
"غزل کی دوسری پہنائی جذبی کے یہاں ملتی ہے۔ جذبی کلاسیکی مزاج سے ہمارے غزلگو شعراء میں سب سے زیادہ قریب ہیں۔ ان کی غم پسندی پر بہت زور دیا جاتا رہا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ جذبی کی جیت ان کے گہرے رچے ہوئے تغزل میں ہے۔ یہ تغزل غزل کے ظاہری روپ رنگ سے پیدا نہیں ہوتا نہ صناعی تشبیہ، امیجری کی آرائش سے پیدا ہوتا ہے
جن کا استعمال جذبی بہت کم کرتے ہیں۔
وہ عصری آگہی کو بڑی ریاضت ، قناعت اور صبر کے ساتھ حسیاتی تجربے میں تبدیل کرتے ہیں اور جب تک اسے شخصیت کا جزو نہیں بنا لیتے ہیں اس وقت تک لب نہیں کھولتے
تخمیر کا یہی عمل ان کے تغزل کی جان ہے۔ حسیاتی تجربے میں ڈھل جانے کے بعد عصری آگہی کے فکر پاروں میں بھی جذبے کا سا والہانہ پن پیدا ہو جاتا ہے
اور وژن ان کی شخصیت بن جاتا ہے اور وہ اسے کلاسیکی طرز میں ادا کرتے ہیں۔
یہی والہانہ پن جذبی کی غزل کا امتیازی نشان ہے۔ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ اس متغز لانہ والہانہ پن کو صنعت گری یا امیجری کو بیساکھیوں سے پیدا نہیں کرتے بلکہ شخصیت کے گداز سے ابھارتے ہیں۔
اسی لئے جذبی کی غزلوں کے اشعار سڈول اور مترنم ہیں۔
جذبی نے گویا غزل کی افقی توسیع کے بجائے اس کی پہنائی میں توسیع کرنے کا تجربہ کیا ہے۔
جو دشوار اور دقت طلب ہونے کے علاوہ غزل گو شاعر کی پوری شخصیت کو نئی جہات کے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔”
(کچھ جدید غزل کے بارے میں محمد حسن، کتاب جدید اردو غزل ، خدا بخش لائبریری پٹنہ، 1995 ص: 15)
ان کی مشہور غزل کے اشعار پیش ہیں:
مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کو کون کرے
جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے
جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
دنیا نے ہمیں چھوڑا جذبی ہم چھوڑ نہ دیں کیوں دنیا کو
دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں اب دنیا دنیا کون کرے
جس زمانے میں جذبی کا شعری مجموعہ ” فروزاں” منظر عام پر آیا اس زمانے میں مجاز کا مجموعہ ” آہنگ”مخدوم کا "سرخ سویرا” فیض کا نقش فریادی اور علی سردار جعفری کا مجموعہ خون کی لکیر بھی عوام میں مقبولیت حاصل کر رہا تھا۔
اس بھیڑ میں جذبی کے اشعار بھی لوگوں میں مقبول ہونے لگے کیونکہ ان کے اشعار میں جو خودرتگی تھی وہ عوام کے دلوں پر اثر کرتی تھی۔
فروزاں میں جذبی کے دیباچہ کی بناء پر ان کی شاعری کو ترقی پسندی کا ایک اہم دستاویز سمجھا جانے لگا تھا۔
اس تحریک کے آغاز میں مصنفین نے انتہا پسندی اور بے راہ روی کے رویے کو ترقی پسند خیالات سمجھنا شروع کر دیا تھا۔
جذبی سجھتے تھے کہ ترقی پسندی کی پہلی کسوٹی حقیقت پسندی ہے۔ ان کا یہ پختہ خیال تھا کہ ہر ایک شاعر کے لئے زندگی کا حقیقی مشاہدہ یا تجربہ ہونا ہی پہلی اور آخری شرط ہے۔
انہوں نے فروزاں کے دیباچے چند باتیں میں لکھا:کہا ہے:
"لیکن کوئی تجربہ اس وقت تک موضوع فن نہیں بنتا جب تک اس میں شاعر کو جذ بہ کی شدت اور احساس کی تازگی کا یقین نہ ہو جائے ۔
یہی دونوں چیزیں شاعر کو قلم اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں ۔
(دیباچہ چند باتیں فروزاں معین احسن جذبی ، ص: 16 ، پہلا ایڈیشن )
انہوں نے مارکسی سیاست پر مبنی تخلیق ہونے والے ادب کے بارے میں طنز کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا ہیں۔
"میں ہنگامی ادب کا کچھ زیادہ قائل نہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ادھر ایک واقعہ ہوا ادھر نظم تیار ہوگئی ۔
یہ اس وقت تو ممکن ہے جب زمین پہلے سے اس واقعہ کے لئے تیار ہو۔ تجربہ خلیق کی منزل تک پہنچنے کیلئے صرف صرف تحلیل و تجزیہ کے مراحل ہی سے نہیں گزرتا بلکہ شاعر کے مزاج سے بھی ہم آہنگ ہوتا ہے۔
اس کو ہضم کرنا اور رچاتا بسا نہ بھی کہتے ہیں۔ اس کے لئے تعین اوقات کافی مدت درکار ہوتی ہے جو حضرات ہضم کرنے اور رچانے بہانے کو غیر ضروری سمجھتے ہیں ان کے یہاں گہرائی اور گیرائی کے بجائے جذباتیت اور سطحیت کا
پیدا ہونا لازمی ہے۔”
(دیباچہ چند باتیں فروزاں معین احسن جذبی بص: 18، پہلا ایڈیشن )
جذبی کے یہاں یاسیت کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی رجائیت کا جذ بہ بھی ملتا ہے۔
اس طرح جذبی کی شاعری یاس وامید کے بیچ پلنے والی شاعری ہے:
دل ناشاد تری چپ سے مگر کیا ہوگا
تری فریاد بھی سمجھا ہے نہ سمجھے گا کوئی
گرا پڑتا ہوں کیوں ہر ہر قدم پر
الہی آگئی کیا پاس منزل ؟
جاگ اے چشم خندہ گلشن قریب ہے
اٹھ اسے شکستہ بال نشیمن قریب ہے
ان کی غزلوں میں ترقی پسندانہ خیالات پر مبنی اشعار بھی ملتے ہیں جیسے:
اسی سے غازہ روح جہاں بنے گا کبھی
رخ حیات پر جو گرد ہے تباہی کی
ہے اس کا عید زمانے کا ایک اک صیاد
فقط فضاؤں میں اڑتا نہیں مرا شاہیں
اسی قسم کے اشعار کی وجہ سے نقادوں نے جذبی کو ترقی پسند شاعروں کی صف میں لاکھڑا کیا۔
حالانکہ ان کی شاعری میں ترقی پسندوں کی طرح گھن گرج اور براہ راست طرز اظہار نہیں ہے۔
جب کہ وہ اسے حقیقت پسندی کہنا پسند کرتے تھے۔ ان کی طویل نظم ” میری شاعری اور نقاد” نے نقادوں کو جذبی کو ترقی پسند قرار دینے کا جواز پیدا کیا:
کوئی دیوانہ بہت داد جنوں پائے گا
صبر اے دوست کہ اک ایسا بھی دن آئے گا
انجمن بدلے گی سب ساز بدل جائیں گے
گانے والوں کے بھی انداز بدل جائیں گے
ہر لحظه تازہ تازہ بلاؤں کا سامنا
نا آزمودہ کار کی جرات کہاں سے لائیں
جذبی جس دور میں شاعری کر رہے تھے اس میں مجاز کی نظم ” آوارہ ، فیض کی تنہائی ، راشد کی رقص اور اختر الایمان کی پگڈنڈی اہل علم طبقے میں مقبول تھی۔
جذبی بھی اس کارواں میں شامل تھے۔ ان کی نظم ‘موت، عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی تھی۔
فروزاں اس زمانے میں مقبول شعری مجموعوں میں سے ایک تھا۔
اس مجموعے کے متعلق ڈاکٹر پروفیسر محمد حسن لکھتے ہیں :
"فروزاں جذبی کے فکر وفن کا ایسا موقع ہے۔ جس پر اردو شاعری بجاطور پر ناز کر سکتی ہے۔
غزل ہو یا نظم دونوں اصناف ، اصناف سخن میں جذبی اپنے ہم عصروں میں نہیں اردو شاعری کے وسیع میدان میں الگ نظر آتے ہیں۔
فکرو عمل کی دھیمی دھیمی آنچ میں سلگتی ہوئی ان کی آواز سب سے الگ ہے۔
ان کا انداز بیان صرف ان کا ہے جس نظام فکر کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں کیا ہے۔
وہ نظام فکر ان کی بیشتر شاعری کو ایک مضبوط اور توانا لے میں پروئے ہوئے ہے۔
ان کی شاعری کا بتدریج ارتقاء، ان کے فن کو ذرے سے عریض وبسیط کائنات تک پہنچا دیتا ہے۔“
(معین حسن جذبی : شاعر اور دانشور، از : پروفیسر محمد حسن ، ص: 124)
پرو فیسر محمد حسن جذبی کی غزلوں میں الفاظ کی نشست و برخاست پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"وہ جب تک سبھی الفاظ کی آوازوں میں آرکسٹرا تنظیم یا صوتی وحدت اور تاثراتی ہم آہنگی پیدا نہیں کر لیتے مطمئن نہیں ہوتے ۔“
(معین حسن جذبی : شاعر اور دانشور، از : پروفیسر محمد حسن بص: 124 )
چونکہ جذبی کی شاعری کا انداز اپنے دیگر معاصرین سے اکثر مختلف ہی رہا ہے۔
لہذا لوگ ان کی شاعری پر فدا بھی رہے ہیں۔ اس شاعری میں روایت پسندی کا جذبہ شروع سے ہی مختار حیثیت کا حامل رہا ہے۔
اسی جذبے کی پائیداری ان کا شیوہ گفتار رہا۔ ایسا کہا جاتا ہے بیان کے نظریئے سے بھی جذبی جدید طرز فکر اور روایت دونوں کا امتزاج اپنی شاعری میں نمایاں کرتے رہے ہیں۔
تاہم وہ ہمیشہ ہی روایت پسندی کو جدت بیان پر ترجیح دیتے ہیں۔
ان کے شعروں میں دونوں طرز بیان کی مثالیں مل سکتی ہیں:
بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
اک میٹھے میٹھے درد کی راحت کہاں سے لائیں
جبین شوق کے سجدے ہیں ذرے ذرے پر
بلا سے گر نہ ملا ترا نقش پا ہم کو
جذبی کی فطرت میں خودی اور خود داری کا جذبہ نقطہ عروج پر پہنچا ہوا مل سکتا ہے۔
حالات زندگی سے مایوس ہو کر کبھی اپنی شاعری میں یاس پسند جذبے کے تحت یہ دنیا جہاں سے اپنی لا تعلقی اور غیر جانب دارانہ رویے کا بھی عموماً اظہار کرتے ہیں
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خودی اور خود داری کا جذبہ ان کی شخصیت میں بیگانگی پیدا کرتا ہے۔
شمیم حنفی نے جذبی کی اس فطرت کے متعلق لکھا:
"جذبی صاحب کو دیکھ کر ہمیشہ کسی سدا بہار درخت کا خیال آتا ہے۔
ایک معصومانہ خود فراموشی کے ساتھ ساتھ ہمہ وقت بیدار رہنے والی زندہ دلی ان کے مزاج میں شامل تھی۔
ایسا نہیں کہ دنیا سے انہیں کوئی شکایت نہ رہی ہو مگر صرف شکایت بھی وہ زبان پر لاتے تھے تو اس طرح جیسے کوئی لطیفہ سنا رہے ہوں ۔”
)جذبی صاحب از شمیم حنفی مشموله معین احسن جذبی : شاعر اور دانشور، ص: 75)
جذبی کے غزلیہ اشعار میں تلخی گردش ایام سے جو طنزیہ و مزاحیہ عناصر در آتے ہیں۔ اس کی بھی مثال پیش ہے:
ان بجلیوں کی چشمک باہم تو دیکھ لیں
جن بجلیوں سے اپنا نشیمن قریب ہے
دلوں میں آگ، نگاہوں میں آگ باتوں میں آگ
کبھی تو یوں بھی نکلتی ہے غم زدوں کی برات
اے موج بلا ان کو بھی ذرا دوچار تھیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفان کا نظارہ کرتے ہیں
یہاں نہ شعر سناؤں یہاں سے نہ شعر کہو
خزاں پرستوں میں گلہائے تر کی قیمت کیا
آزادی کے بعد جذبی کے سیاسی شعور نے کروٹ لی اور ان کی فکر میں تبدیلی دیکھی گئی ۔
انہوں نے "نیا سال” عنوان والی نظم میں لوگوں کو آزادی حاصل کرنے کی خوشی کا تو بیان کیا تھا مگر عوام کو حسب خواہش خوشیاں نہ مل پانے کی مایوسی کو بھی استعاروں میں پرونے میں بخل اور تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔
معین احسن جذبی کی نظم نگاری
جذبی یوں تو بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے مگر انہوں نے نظموں کو بھی اپنے خیالات و احساسات کا وسیلہ بنایا
اور مثال نظمیں کہیں ۔ ان کی نظم ” موت” تو اردو حلقے میں بے حد مقبول ہوئی ۔ اس کے علاوہ طوائف مجاز پر مرثیہ "میری شاعری اور نقاد “ اور ” "نیا سورج‘ ان کی چند عمدہ نظمیں ہیں۔
نیا سورج کا موضوع و مقصد ہند کی آزادی ، اس سے منسلک فریفتگی اور اس کی تنسیخ کا بیان ہے۔
ان سبھی نظموں میں خصوصاً احساسات کی شدت ، وارفتگی اور خیالات کی ندرت قابل غور ہیں پر و فیسر محمد حسن لکھتے ہیں:
"جذبی نے غزل کی پہنائی اور درون بینی کو نظموں تک پہنچا دیا اور پوری شاعری پر محیط کر دیا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں غزل کی امیجری اور درد بست نہ ہونے کے باوجود کیفیت و نظام فکر کا خاصا گٹھا ہوا انداز ہے
جو غزل کے ساتھ مخصوص سمجھا جاتا تھا۔
یہ ارتکاز جذبے اور فکر کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے اور غزل اور نظم دونوں کے فنی سنگم کی کیفیت فراہم کرتا ہے۔“
( ارتکاز فن کا شاعر معین احسن جذبی محمد حسن
مشموله معین احسن جذبی شاعر اور دانشور ، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی ہی : 30-31)
نیا سال کے علاوہ بھی ان کی دیگر نظموں میں آزادی کے بعد کی مایوس کن صورت حال کا ذکر کیا ہے ۔ ان کی نظم ” مجاز” میں وہ کہتے ہیں:
اے شب تیرہ تاریک کے مارے جذبی
صبح ناپید کے موہوم اجالوں میں تو دیکھ
نظم ” میری شاعری اور نقاد” میں جذبی ہندوستانیوں کی محرومی کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
نہ تو دیوانے کا دامان دریدہ ہی ملا
نہ تو مے خوار کو ایک قطرہ صبا ہی ملا
بدلیاں چھٹنے نہ پائی تھیں کہ پھر چھانے لگیں
بجلیاں سر پر اس طور سے لہرانے لگیں
نظم مجاز میں جذبی کی رجائیت پسندی اور پر عزم طبیعت کا اظہار ملتا ہے:
ہماری راہ میں جذبی پہاڑ آئے پیہم
مثال ابر سر کوہسار گزرے ہیں
جبین شوق سے سجدے میں ذرے ذرے پر
بلا سے گرنہ ملا تیرا نقش پا ہم کو
کبھی تمازت، خورشید بھی تو کم ہو گی
کبھی تو سایہ ابر بہار بھی ہوگا
ہم گمرہان ، شوق کا عالم نہ پوچھئے
منزل سے دور بھی سر منزل رہے ہیں ہم
جذبی کے مندرجہ ذیل اشعار میں بھی ان کی رجائیت پسندی اور مستحکم فطرت کا اظہار ہوتا ہے:
گلشن میں جوش گل تو بگولے ہیں دشت میں
اہل جنوں جہاں بھی رہے ان سے رہے
میری دقت پسندی دیکھ میرا مسکرانا دیکھ
نگاہ پاس سے اومیری مشکل دیکھنے والے
مجموعہ "گداز شب” کے پیش گفتار میں انوار صدیقی نے جذبی کے متعلق لکھا ہے:
"وقت ان کی تنسیخ نہیں کر سکے گا کہ ان کی ساری شاعری ہر اچھی اور بڑی شاعری کی طرح خود وقت کی تنسیخ کے ایک سے زیادہ پہلو رکھتی ہے۔“
( پیش گفتار انوار احمد صدیقی، مشموله گداز شب ، معین احسن جذبی ، 1985 )
جذبی کی شاعرانہ خصوصیات کے متعلق محمد حسن مزید لکھتے ہیں:
"ان میں کلاسیکی ضبط و نظم ٹھہراؤ اور گداز کا انداز وہی ہے۔
کہیں کہیں وہ عصر حاضر کے مزاج کو بھی اپنے مخصوص لب و لہجے کے ساتھ غزل میں اسیر کر لیتے ہیں۔
ان کے یہاں لفظ پوری تصویر بن کر سامنے آتے ہیں۔
جذبات اور احساسات کی نئی پرت کھول دیتے ہیں اور تخیل کی مدد سے ایک نیا منظر سامنے لے آتے ہیں:”
(حریف شب تو رہا دل عروج ہو کہ زوال نشاط میں مد کامل فسردگی میں ہلال)
وہی ہے دشت و بیاباں وہی ہیں دیوانے
وہی ہے خواب سی منزل وہی ہے گرد ملال
اس میں دشت و بیاباں کے ساتھ گرد اور خواب کے الفاظ نے ایک عجیب فضا پیدا کر دی ہے جو معنویت کو ایک نئی جہت بخش دیتی ہے۔
جذبی کی غزلوں میں اب انقلابی اشارے اتنے نہیں ہیں جتنے پہلے کی غزلوں میں تھے۔
البتہ ایک نا آسودگی اور حیرت زدگی کا عالم ہے جو ان کی غزلوں کو ایک سنجیدہ درد مندی اور عصری احساس سے ہم آہنگ کرتا ہے ۔”
(کچھ جدید غزل کے بارے میں ، از محمد حسن مشمولہ جدید اردو غزل ، خدا بخش لائبریری 1995 بس : 30-29 )
جذبی کے یہاں جینے کے لئے حوصلہ افزا اشعار کا ذخیرہ مل جاتا ہے۔ یہ تمام عمر فن کی جو خدمت کرتے رہے ان کا یہ شعر ان کی تمام شاعری پر صادق آتا ہے:
کرتے رہے ہیں فن کی پرستش تمام عمر
محشر میں کیسے کیسے گنہ گار آئے ہیں
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں