میرا جی کی شاعری میں ہندوستانی اساطیر اور دیومالا کے عناصر

میرا جی کی شاعری میں ہندوستانی اساطیر اور دیومالا کے عناصر

از: عیشیٰ امین

میرا جی کی زندگی اور شاعری کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ میرا جی کے ہاں تقلیدی رویہ بہت نمایاں تھا۔ میرا جی جس چیز کو، رنگ ڈھنگ یا اسلوب کو پسند کرتے تھے، اسی کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے۔ چونکہ میرا جی کا مطالعہ بہت وسیع تھا اس لیے میراجی نے نہ صرف اپنے دور کے جدید علوم، جدید نظریات اور جدید تحریکوں کا مطالعہ کر رکھا تھا بلکہ انہوں نے قدیم ہندوستان کی تاریخ کو تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی حوالے سے بھی پڑھ رکھا تھا۔ میرا جی کے ہاں یہ رویہ تھا کہ وہ جس علم، نظریے یا تحریک سے متاثر ہوتے تھے وہ اس کا تخلیقی اظہار بھی کرتے تھے۔ یوں میرا جی نے اپنے وسیع مطالعہ اور گہری دلچسپی کی بدولت قدیم و جدید کا امتزاج بھی کیا اور مغربی نظریات کو اردو ادب میں بھی ڈھالا۔ اردو ادب میں خواہ وہ پھر تنقید ہو یا نظم دونوں میں میرا جی نےنئی جہتیں متعن کیں۔میرا جی نے اپنے پسندیدہ اور بڑے شعرا کی وہ حرکات و سکنات جو ان کو اچھی لگیں وہ سب میرا جی نے اختیار کر لیں اور اپنی زندگی کے روپ کو بہروپ بنا لیا۔میرا جی کے تقلیدی رویے کی اولین مثال میرا جی کا میرا سین سے عشق تھا۔ کہ میرا جی نے یہ اپنے پسندیدہ شاعر چنڈی داس سے متاثر ہو کر کیا تھا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں:۔”چنڈی داس نے رامی دھوبن سے عشق کیا۔ میرا جی نے بھی میرا سین کے عشق کا افسانہ بنا دیا۔بودلئیر دوستوں کو دشمن بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتا تھا، میرا جی بھی اس سے کم نہیں تھے۔”مشرق ومغرب کے نغمے ” میں میرا جی نے بودلئیر کے بارے لکھا ہے کہ اس نے کئی نظمیں اپنی ہی ذات کے بارے لکھیں، میرا جی نے بھی ابتدائی دور کی شاعری اپنی ذات کے لیے کی۔بودلئیر کے بارے میرا جی نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ لاشعو ر کا شاعر تھا۔ وہ نئے احساسات، نئے لہجے، نئے اندازِ بیان اور نئی زبان کا شاعر تھا۔ میرا جی نے بھی یہی کام کیا۔” (۴) بودلئیر، ایڈگر ایلن پو، ہائنے، لارنس، ملارمے، اور چنڈی داس وغیرہ سے ثناءاللّٰہ ڈار نے میرا جی کو تخلیق کیا۔ میرا جی فرانس کی علامت نگاری سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے ملارمے اور بودلئیر سے علامت نگاری کے تاثرات قبول کیے۔ میرا جی کا خاصہ یہ تھا کہ انہوں نے نظریات تو مغرب سے لیے مگر اردو نظم کے لیے علامت نگاری میں مواد اپنی سر زمین سے لیا۔ اور وہ مواد میرا جی کے دور کا نہیں تھا بلکہ قدیم ہندوستان کا تھا۔ ہندوستان کا وہ دور جب آریہ یہاں آکر بسے تھے۔ میرا جی نے قدیم ہندوستان کی دیومالا سے اردو نظم کے لیے علامات اخذ کیں۔ میرا جی کے اس تخلیقی رویے کی توجیہات ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنی تنقیدی مقالے "دھرتی پوجا کی ایک مثال۔ میرا جی” میں پیش کی ہیں۔ جن کا ذکر آئندہ صفحات میں کیا جائے گا۔ اس سے پیشتر جاننا چاہیے کہ اساطیر یا دیومالا کہتے کسے ہیں۔
انسان کا سب سے پہلا اظہار اساطیر ہی میں ہوا۔ اساطیر فنونِ لطیفہ کی سب سے قدیم روایت ہے۔انسان کی ایک فطری خواہش کہانی کہنا اور کہانی سننا ہے۔ کہانی خواہ کسی بھی قسم کی ہو اس کے بارے میں کچھ بھی طے شدہ نہیں ہے۔ کبھی کچھ کردار کہانی کا روپ دھار لیتے ہیں اور کبھی کچھ روایات کہانی کا لباس پہن کر امر ہو جاتی ہیں۔ یہ کہانیاں تہذیب، سماج، روایات، تاریخ اور مذہب کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ اور انسان کے ذہنی، فکری اور کرداری رویوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اساطیر بھی ایسی ہی لاتعداد کہا نیاں ہیں۔
‘اساطیر’ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا واحد’اسطورہ’ ہے۔ جس کا معنی ہے ‘قصے یا کہانیاں’۔ اردو میں اساطیر کی اصطلاح علم الاصنام اور ہندی میں دیومالا، انگریزی میں متھ MYTH ہے۔ انگریزی میں متھ کی اصطلاح یونانی لفظ MYTHOS سے ماخوذ ہے۔ ان تمام لفظوں کے مفاہیم ان قصے کہانیوں سے مراد لیے جاتے ہٰں جو زبان سے ادا ہوں۔ تاہم قصہ کہانی، تمثیل یا تلمیح کو مخصوص اساطیر کے معنوں سے وابستہ کیا جاتا ہے۔ اساطیر کا مجموعہ MYTHOLOGY کہلاتا ہے۔
ابتدا میں اسطورہ سے مراد وہ بات لی جاتی تھی جو زبان سے ادا کی جائے۔ بعدازاں اس سے کہانی مراد لی جانے لگی۔ ایسی کہانی جس میں دیوی دیوتاؤں کا ذکر ہو۔ یہ دیومالائی قصے اور اساطیر فقط کہانیاں ہی نہیں بلکہ کسی قوم و ملک کی تاریخ ، فلسفہ، مذہب، تہذیب، ادب اور جغرافیہ بھی ہیں۔ انور جمال اپنی کتاب ادبی اصطلا حات میں لکھتے ہیں:۔ "اساطیر Mythology دیو مالا ، قدیم افسانوی قصوں اور دیوی دیوتاؤں سے متعلق آثار کو اساطیر، دیو مالا یا علم الاصنام کہتے ہیں۔ اس ضمن میں یونانی، مصری اور ہندی دیو مالا کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ نفسِ انسانی میں شاعری کی طرح دیو مالا کا سر چشمہ بھی تخیلِ اولٰی یا قصہ ساز فکر ہے۔۔۔ انسان یہ سجھتا تھا کہ عناصر فطرت بھی اس کی طرح خوشی اور غم کو محسوس کرتے ہیں اور اس کے ہم ذات ہیں۔ یہ قصہ ساز فکر آج بھی شاعری میں مستعمل ہے۔ آج کا شاعر بھی مظاہر قدرت سے اسی طرح ہم کلام ہوتا اور ان پر زندہ صفات کا اطلاق کرتا ہے۔ گویا دیو مالا قصۂ پارینہ نہیں بلکہ شاعری کی رگوں میں زندہ ہے۔ جدید علوم نے زبان کی تشکیل اور مذاہب کے ارتقا سے متعلق دیو مالائی وضاحتیں کی ہیں اور ان کی قدر و قیمت کا اقرار کیا ہے۔” (۵)
اساطیر خواہ کسی بھی خطے، قام مذہب یا تہذیب کا حصہ ہوں، یہ دراصل انسان کے اجتماعی لاشعور کی عکاسی کرتی ہیں۔دنیا کے ہر مذہب اور تہذیب میں اساطیری علائم و رموز موجود ہیں۔ان اساطیر کے مطالعے اور کھوج کا آغاز زمانہ قبل مسیح سے ہوا۔ انیسویں صدی میں تو اساطیر شناسوں کے کام نمایاں طور پر سامنے آئے۔ جن میں سے ایک اہم کارنامہ اجتماعی لاشعور کا نظریہ پیش کرنے والے نفسیات دان کارل ژونگ کا ہے۔ اسی اجتماعی لاشعور کے نظریے سے میرا جی بھی متفق تھے۔ فرانس کی علامت نگاری اور اجتماعی لاشعور کی بازیافت کو میرا جی نے اپنی اردو نظم میں اپنایا۔ میرا جی کی شاعری پر تنقید آسان کام نہیں۔ کیونکہ میرا جی کی شاعری تنقید کے نئے اصولوں کا مطالبہ کرتی ہے۔”میرا جی کے ہاں ایسے شعری نمونے جابجا ملتے ہیں جو نظری تنقید کے طے شدہ سانچوں پہ پرکھے جانے کے بجائے عملی تنقید کے نئے معیارات کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔” (۶)
اساطیر پر اردو ادب میں بہت کام ہوا بلکہ سترھویں صدی کے اخیر اور اٹھا رویں صدی میں اردو نظم (مثنوی)، نثر اور داستان گوئی میں اساطیر ایک نمایاں پہلو تھا۔اردو کے تقریباً ہر شاعر نے اساطیری رجحان کے اشعار کہے ہیں۔ میرا جی اپنی ذات میں ایک انجمن ہونے کے باوجود بھی ایک تنہا آدمی تھے۔ اساطیر کے حوالے سے ان کا کلام سب سے زیادہ با ثروت ہے۔میرا جی ہندوستانی اساطیر پر توجہ دیتے تھے۔ان کی شاعری میں صدیون پرانا جیتا جاگتا ہندوستان نظر آتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ میرا جی نے اپنی شاعری میں قدیم ہندوستان کو یوں پیش کیا جیسے انہوں نے زندگی کا ایک کثیر حصہ اس میں گزارا ہو یا پھر سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میرا جی کی ہندو دیو مالا اور قدیم روایات میں گہری میں دلچسپی تھی۔ میرا جی کی اس دلچسپی کی پہلی وجہ ان کا بنگالی لڑکی میرا سین سے عشق تھا۔ جو کہ ایک ہندو لڑکی تھی۔ میرا جی نے اس کے عشق میں نہ صرف نام بدلا اور اپنے بال بڑھا لیے بلکہ اس کے مذہب میں بھی دلچسپی لی۔ انسان کے بچپن کے حالات و واقعات عام طور پر اس کی بقیہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ میرا جی کا بچپن گجرات کاٹھیا وار میں گزرا۔وہ ایک طویل عرصے تک دوارکا کے قریب بھی رہے تھے۔ دوار کا نہ صرف کرشن مہاراج کی جنم بھومی ہے، بلکہ یہاں کی ساری فضا بھی قدیم آریائی فضا سے مماثل ہے۔ یہاں جنگل تھے، برسات تھی اور پھر پر بت بھی تھے اور ان میں سے ایک پر بت پر کالی کا مندر بھی تھا۔ ظاہر ہے کہ ان تمام باتوں نے میراجی پر گہرے اثرات مرتسم کئے ہوں گے۔ایک وجہ ژونگ کے نظریے کے مطابق میرا جی کا اجتماعی لاشعور تھا، جس میں ماضی کی روایات کے نقوش تھے جو پھر سے اظہار چاہتے تھے۔ میرا جی کے آباء آریائی تھے یہی وجہ ہے کہ میرا جی اس ہندوستان کو اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں جس میں آریائی قوم یہاں آکر بسی تھی۔ "میرے آباؤ اجداد آریا نسل کے انسان تھے۔ وہ آریا جو وسط ایشیا سے چل کر جب جنوب کی طرف روانہ ہوئے تو ان کا سفر کہیں رکتے ہی میں نہ آتا تھا انھی کی ذہانت، انھیں کا حافظہ، انھیں کی طبیعت نسل در نسل مجھ تک پہنچی ہے ۔ لیکن جیسے کہ ایک مغربی سیاح نے لکھا ہے کہ بنگال میں داخل ہونے کے کئی راستے ہیں وہاں سے لوٹ کر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ میں نے بھی اپنے سفر میں اس تلخ حقیقت کو محسوس کیا۔۔ میرا ذہن اپنی ادبی تخلیقات میں مجھے بار بار پرانے ہندوستان کی طرف لے جاتا ہے، مجھے کرشن کنہیا اور برند ابن کی گوپیوں کی جھلکیاں دکھا کر ویشنومت کا پجاری بنا دیتا ہے۔ پرانا ہندوستان میری حیات نفسی میں وقت کا وہ دور ہے جس میں میرے بڑوں نے ہمیشہ جنوب اور مشرق پر فتح پائی ہے ۔” (۷)میرا سین کا عشق تو میرا جی کے اسی لاشعوری رجحان کو محرک کرنے کا باعث بنا۔ اور میرا جی نے اس اجتماعی لاشعور کا مطالعہ کیا اور کھوج لگائی اور اپنی شاعری میں اس قدیم ہندوستان کی دیومالا کو جگہ دی جس کا مذہب وشنومت تھا۔ میرا جی کا یہ وسیع مطالعہ ہی تھا جو انہوں نے قدیم ہندوستان کی دیومالا کو مذہبی علائم کے ذریعے پیش کیا۔ اسی لیے میرا جی کی شاعری کو علامتی تجربات کی شاعری کہا جاتا ہے۔ یہ تھا میرا جی کا داخل اور خارج جس نے میرا جی کی شاعری میں اردو نظم کو نئےڈھنگ اور نئے رنگوں سے متعارف کروایا۔
آزاد نظم کے میدان میں میرا جی کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ رسالہ "ادبی دنیا” سے وابستہ رہ کر میرا جی نے کچھ نظمون پر تنقیدی مضمون بھی لکھے جو آزاد نظم کے اردو شاعری میں فروغ کے لیے بہت معاون ثابت ہوئے۔ اول میرا جی نے ردیف و قافیہ کی پابندی کو نظر انداز کیا دوسرا انہوں نے ماضی پرستی اور دیو مالائی عہد کو اپنی نظموں میں زندہ کیا۔اپنی دھرتی سے محبت اور ماضی کی دیومالا کو زندہ کرنے کا جام جس خوش سلیقگی سے میرا جی نے کیا ہے اردو شاعری میں اس کی مثال نہیں ملتی۔اس دھرتی کے سبھی انگ سبھی رنگ ان کی نظموں میں نظر آتے ہیں۔ میرا جی کی شاعری کے جائزے سے قبل یہ ذکر کرتی چلوں کہ میرا جی نے اپنی شاعری میں وشنو مت کے جس پہلو کو زیادہ اہمیت دی وہ کرشن اور رادھا کی محبت کا تھا کہ اس میں کرشن ایک چرواہا تھا، اور رادھا ایک بیاہتا تھی۔ یعنی دونوں کا ملن ناممکن تھا۔ ملن کی نسبت مفارقت زیادہ تھی۔ میرا جی نے رام سیتا کی محبت کو موضوع نہیں بنایا کیونکہ وہ ایک بیاہتا جوڑے کی داستان تھی۔ جبکہ کرشن اور رادھا کی محبت ایک معاشقہ تھا۔کرشن اور رادھا کا ملاپ زمین اور آسمان کا ملاپ تھا۔ وہ جن نظموں میں ہندوستان کی اساطیر لائے ہیں ان میں چل چلاؤ، دیوداسی اور پجاری ، بر ہا، سنجوگ ، چنچل ، ناگ سبھا کا ناچ ،اجالا، ترقی پسند ادب، مندر میں، ایک منظر، کتھک ، جل کی ترنگ ، سور یہ پوجا، جنگل میں ویران مندر، دیو مالا سے سائنس تک، اجتنا کے غار، ترقی، درشن ، دور کنارا، سمندر کا بلاوا، یہودی ، ایک شکاری ایک شکار، تحریک، موہ لو بھ کے بندھن بھاری، رات کے سائے، گھنا گرم جادو، مکتی، آخری سنگار، ایک ہی کہانی، وقت کا راگ ایک شام کی کہانی ، تو پاربتی میں شِوشنکر، پردان دان کی پہیلی ، تماشا، چیستان، ادھورا گیت اور ایک کا گیت جو سب کا ہے وغیرہ زیادہ قابل توجہ ہیں۔ چند ایک مثالیں ملاحظہ ہوں:ں:۔
من ساگر میں طوفان اٹھا
طوفان کو چنچل دیکھ ڈری
آکاش کی گنگا دودھ بھری
اور چاند چھپا، تارے سوئے
طوفان مٹا ہر بات گئی
چل چلاؤ (۸)
یہ چندا کرشن ستارے ہیں جھرمٹ برندا کی سکھیوں کا
اور زہرہ نیلے منڈل کی رادھا بن کر کیوں آئی ہے؟
کیا رادھا کی سندرتا چاند بہاری کے من بھائے گی؟
سنجوگ (۹)
ناگ راج سے، ناگ راج سے ملنے جاؤں آج
ناگ راج ساگر میں بیٹھے سر پر پہنے تاج
ناگ سبھا کا ناچ (۱۰)
یہاں پر ہندؤوں کی مذہبی اسطورہ کا ذکر ہے۔یعنی شیش ناگ یا ناگوں کا راجا بائک جو پاتال میں یا ساگر کی تہہ میں رہتا ہے اسے واسکی بھی کہتے ہیں۔
اس کو ہاتھ لگایا ہو گا ، ہاتھ لگانے والے نے
پھول ہے رادھا،بھنورابھنوربھنورے نے ہاں کالے نے
جمناتٹ ناؤ چلائی ناؤ چلانے والے نے
سکھیاں کب تھیں لاج بچاتیں کچھ نہ سنی متوالے نے
دل بے چین ہوا رادھے کا کون اسے بہلائے گا
جمناتٹ کی بات بھی ہوئی اب تو دیکھا جائے گا
چپکے سہے گی رنگ وہ رادھا جو بھی سر پہ آئے گا
اودھو شیام پہیلی رہتی دنیا کو سمجھائے گا
پریم کتھا کا جادو سننے والوں کے دل پر چھائے گا
یہ تو بتاؤ کون سورما اب کے ہاتھ لگائے گا
ترقی پسند ادب (۱۱)

جھومی گیسو کی چھایا تو دھیان انوکھا آیا
نٹ کھٹ برند این سے ساتھ میں رادھا کو بھی لایا
رادھا مکھ کی اجلی مورت ، شیام گیسو کا سایا
ایک منظر(۱۲)
رادھا اور کرشن جو پریمی تھے۔ انھی کی محبت ہندی گیتوں اور کرشن بھگتی کی کو تاؤں میں نظر آتی ہے۔ یہ محبت جمنا کے کنارے گوگل میں پروان چڑھی جو متھرا کا علاقہ ہے۔ شیام ہی کے حوالے سے گوپیوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہاں یہ بات عرض کرتی چلوں کہ میرا جی نے ہندی الفاظ کا استعمال فقط ایسی ہندی اساطیر کی حامل نظموں میں ہی نہیں کیا بلکہ میرا جی کے تمام کلیات میں ہندی اور اردو کا یہ امتزاج دیکھنے میں آتا ہے۔ میرا جی کی شاعری کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ ان کی شاعری میں جہاں اساطیر ہیں فقط وہیں کردار ہیں۔ کہ کہانی انہیں کرداروں سے چلتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر میرا جی کی شاعری میں زیادہ تر ماحول پر توجہ دی گئی ہے۔ اور یہ ماحول تمام کا تمام قدیم ہندوستان کا ہی ماحول ہے جس کی اساطیر کو میرا جی اپنی نظموں میں علامتی پیرائے میں پیش کرتے رہے۔ مثلاً جنگل، پربت، پہاڑ، سایہ، درخت، مندر، منڈل، گنگا، جمنا،
کیوں چھوڑ سنگھاسن راجا نے بن باس لیا کیا بات ہوئی
کب سکھ کا سورج ڈوب گیا کب شام آئی کب رات ہوئی
کتھک (۱۳)
اس نظم میں رام کے بن باس کی طرف اشارا کیا گیا ہے۔ رام چندر ہندو دیوتاؤں میں سب سے زیادہ پوجا جانے والا دیوتا ہے، جسے سچائی، بہادری اور قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہ اجودھیا کے راجا دشرتھ کا بیٹا تھا اور اپنی نیکی، انصاف پسندی اور بہادری کے سبب عوام میں بے حد مقبول تھا۔ اس کی شادی راجا جنک کی بیٹی سیتا سے ہوئی، جو اپنی پاکیزگی اور وفاداری کے لیے مشہور تھی۔راجا دشرتھ نے رام چندر کو اپنا ولی عہد بنانے کا ارادہ کیا، لیکن ان کی چھوٹی رانی کیکئی نے وعدہ یاد دلا کر اپنے بیٹے بھرت کو ولی عہد بنانے اور رام چندر کو چودہ سال کے لیے بن باس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ رام چندر نے اپنے والد کی بات مان کر بن باس قبول کیا اور اپنی اہلیہ سیتا اور بھائی لکشمن کے ساتھ جنوبی ہند کے جنگل کو روانہ ہو گیا۔
وہ سامنے کچھ دور
آکاش کا پربت
چپ چاپ کھڑا ہے
اور چوٹی پہ اس کی
ہے سوریہ کا مندر
اور دھیاں میں اپنے
خاموش مانجاری
کچھ پیڑ کھڑے ہیں
شور یہ پوجا (۱۴)
چھری لڑائی
کام کی کرنی لال لہو سا بھیس بدل کر سامنے آئی
گرو کو شاپ نے دیا سہارا
دو بولوں کا تیر وہ مارا
انت سمے تک چندر گھلے گا
گھٹ کے بڑھے گا بڑھ کے گھٹے گا
دیو مالا سے سائنس تک (۱۵)
یہاں محبت کے دیوتا کام دیو کا ذکر ہے۔ اسے ‘مانس پتر’ بھی کہا جاتا ہے۔کام دیو کو ایک اہم واقعے میں پیش کیا جاتا ہے جب دیوتا شیو کو مراقبے سے نکالنے کے لیے اس پر اپنے محبت کے تیر کا وار کرتا ہے تاکہ شیو اور پاروتی کی شادی ہو سکے۔ شیو کے غصے سے کام دیو جل کر راکھ ہو جاتا ہے، لیکن بعد میں دیوتاؤں کی درخواست پر انہیں دوبارہ زندگی ملتی ہے، ایک غیر مرئی وجود کے طور پر۔کام دیو کی اساطیر محبت، کشش اور قربانی کے پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں ،اور اسے ہندو روایات میں محبت کی روحانی اور جذباتی اہمیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
سوامی اپنے دیس سدھارے میں برہا کی ماری
لیکن رادھا بھی جائے گی جہاں گئے گردھاری
صندل کی ہے وانا بنائی اور پھولوں سے سنواری
سولہ سنگاروں سے بچ کر آتی ہے تیری پیاری
یہ ہے بیت کے میٹھے گیت کی درد بھری سنچاری
آخری سنگار (۱۶)
یہ بھائی وہ بھائی
کیسے بھائی ، پھینکا پانسہ
جال میں پھانسا سب کو بن کی سیر دکھائی
ایک ہی کہانی (۱۷)
مہا بھارت کے قصے کا ذکر ہے جب پانچ پانڈو بھائی جوئے میں اپنی سلطنت ہار گئے اور انھیں وعدے کے مطابق تیرہ برس کا بن باس کاٹنا پڑا۔ تیرہ برس بعد ارجمن، کرشن کی مدد سے جنگ جیت گیا۔
اب پہلی بات نہیں باقی
میں متوالا تھا، تو ساقی
تو پاربتی میں شِو شنکر
لیکن افسوس یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری

میں شِو شنکر تو پاربتی
تو پاربتی میں شِو شنکر (۱۸)
اس نظم میں شِو اور پاربتی کی اساطیر کو محبت کے ایک روحانی استعارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو ماضی کے ایک مقدس اور گہرے تعلق کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاربتی نے شِو کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور اس کی محبت کو حاصل کرنے کے لیے ریاضت کی۔ شِو، جو اپنی پہلی بیوی ستی کی موت کے بعد دنیاوی معاملات سے الگ ہو چکا تھا، پاربتی کی قربانی اور محبت سے متاثر ہوا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاربتی، شِو کی پہلی بیوی ستی کا دوسرا جنم ہے۔ یہ جنم ان کی محبت اور اتحاد کو ابدی اور لافانی قرار دیتا ہے، جسے وقت یا زندگی کے ادوار ختم نہیں کر سکتے۔
ندی دھیمے دھیمے سروں میں گاتی ہے
ان تھک چپکے چپکے بہتے جاتی ہے
او چندا کاہن نیلے منڈل کے
چمکو کرشن کنہیا اونچے جنگل میں
سات ستاروں کی ہر گوپی کو لاؤ
پھولوں میں کرنوں سے شبنم برساؤ
ایک شام کی کہانی (۱۹)
اس نظم میں اساطیری کہانی کرشن اور گوپیوں کے تعلق پر مبنی ہے، جو ہندو دیومالا میں "راسن لیلا” کے نام سے مشہور ہے۔”سات ستاروں کی گوپی” سے مراد پلیئڈیز (Pleiades) نامی ستاروں کا جھرمٹ ہے، جو ہندو دیومالا اور کئی دیگر ثقافتوں میں مشہور ہے۔ ہندو اساطیر میں یہ جھرمٹ کرتیکائیں (Krittikas) کہلاتا ہے، جو دیوتا کارتی کیہ (شِو اور پاربتی کے بیٹے) کی رضاعی مائیں تصور کی جاتی ہیں۔ہندو روایات کے مطابق، یہ سات بہنیں یا اپسرائیں تھیں جو آسمان میں پلیئڈیز جھرمٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ انہیں کارتی کیہ کو دودھ پلانے اور پرورش کرنے کا شرف حاصل ہوا، اسی لیے وہ ان کی "رضاعی مائیں” کہلاتی ہیں۔یونانی دیومالا میں اس کے متعلق مشہور ہے کہ سات بہنوں کو زیوس نے آسمان میں ستارے بنا دیا تھا۔جاپانی ثقافت میں اسے "سبارو” کہا جاتا ہے۔
میرا جی نے ایک سو اڑتیس کے قریب گیت بھی لکھے۔ گیت چونکہ ہندی ادبیات سے اردو میں آیا ہے تو اسی نسبت سے ہندو دیو مالا کے بہت سے حوالے گیت میں درج ملتے ہیں۔ ان گیتوں میں زیادہ تر شیام موہن یعنی کرشن رادھا کا ذکر آتا ہے۔ علاوہ ازیں دیوی ، شکتی ، شو ، کام دیوتا ، دیوداسی ، جمناتٹ ، گنگا بنسی، پریم ساگر، امرت پوجا، نیلے پربت، سبز جنگل، رام چندر، ایودھیا، دیوالی، وشنو ، ٹیگور، آرتی اور بھگت جیسے لفظوں سے بھی ہندو دیو مالا کے مختلف کردار اور اطوار سامنے آتے ہیں۔ گیتوں کے حوالے سے چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
رات اندھیری اور سنسان
بنسی گونجی
چھبتی چھبتی
جمناتٹ سے آئی تان
دکھ سندیسہ لائی تان
(۲۰)
راج بھون اب رنگ محل ہے
یا برندا بن کا جنگل ہے
جس میں رانی بنی رادھکا
اور راجا ہے شیام بہاری
آج کھلی من کی پھلواری
(۲۱)
رام چندر نے روپ دکھایا
شوریہ اجالا ہر سو چھایا
ہار ہوئی پااپی راون کی
جگ جگ جوت جلے جیون کی
(۲۲)
کیسے چنچل بھاؤ میں نٹور کے
جو سکھی ملے وہ یہی کہے
اب جانے وہی جو دل پہ سہے
من نیا پریم کھویا کی
داسی برندا کے بسیا کی
اب کھائے جھکولے ساگر کے
(۲۳)
یہاں یہ بات عرض کرتی چلوں کہ میرا جی نے ہندی الفاظ کا استعمال فقط ایسی ہندی اساطیر کی حامل نظموں میں ہی نہیں کیا بلکہ میرا جی کے تمام کلیات میں ہندی اور اردو کا یہ امتزاج دیکھنے میں آتا ہے۔ میرا جی کی شاعری کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ ان کی شاعری میں جہاں اساطیر ہیں فقط وہیں کردار ہیں۔ کہ کہانی انہیں کرداروں سے چلتی ہے۔ لیکن مجموعی طور پر میرا جی کی شاعری میں زیادہ تر ماحول پر توجہ دی گئی ہے۔ اور یہ ماحول تمام کا تمام قدیم ہندوستان کا ہی ماحول ہے جس کی اساطیر کو میرا جی اپنی نظموں میں علامتی پیرائے میں پیش کرتے رہے۔ مثلاً جنگل، پربت، پہاڑ، سایہ، درخت، مندر، منڈل، گنگا، جمنا،ساگر اور بالخصوص جنگل سے متعلقہ چیزوں کا ذکر میرا جی نے کیا ہے۔
میرا جی مغربی مفکر فرائڈ کے نظریہ ‘تحلیل نفسی’ سے متاثر تھے۔ اور ان کی شاعری میں جنسی رنگ بھی غالب نظر آتا ہے اس وجہ سے میرا جی کو بدنام شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ کہ انہوں نے جنسیت کو شاعری میں موضوع بنایا۔ مگر ایک شاعر کا زندگی کے تقریبا تمام شعبوں پر فن حاوی ہوتا ہے۔ اور جنسی رجحان ایک فطری عمل ہے۔ کسی ایک پہلو پر اعتراض ہونے کی وجہ سے فنکار /مصنف /شاعر کی دوسری چیزوں کی تردید کرنا انصاف نہیں۔ ہندوستان کی اساطیری روایات کی جو جھلک میرا جی نے اپنی نظموں میں پیش کی شاید ہی کسی شاعر نے کی ہوگی۔ اور آزاد نظم کو بامِ عروج پر میرا جی کی تحریک نے ہی پہنچایا۔ اور نئے لکھنے والوں کے لیے شاعری میں نئی راہیں ہموار کی۔ میرا جی کے کام اردو شاعری بلکہ تنقید میں بھی ناقابل فراموش ہیں۔ میرا جی بے شک جدید کے شاعر تھے مگر ہئیت ع اسلوب کے علاوہ علمیت میں قدیم و جدید کا امتزاج کرنا میرا جی کا خاصہ ہے۔ میرا جی کی علمیت کا اندازہ ان نظموں سے ہوتا ہے کہ ہندی اساطیر اور دیو مالائی مذہبی علامتیں وشنو مت کی علامتیں کس طرح تصنع و بناوٹ کے بنا فطرتی رنگ میں استعمال کی گئی ہیں۔ میرا جی کہ شخصیت اور ان کا کام دونوں دلچسپی سے معمور ہیں۔

حوالہ جات


۱۔جمیل جالبی، ڈاکٹر، میرا جی ایک مطالعہ، دلی: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۹۱ء، ص۲۵۔
۲۔ انور جمالی، ادبی اصطلاحات، لاہور: نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۱۹۹۳ء، ص۷۔
۳۔ احتشام علی، ڈاکٹر، جدید اردو نظم کی شعریات، لاہور: سانجھ پبلیکیشنز، ۲۰۱۹ء، س۱۲۴۔
۴۔ میرا جی ،”اپنی نظموں کے بارے میں”:مشمولہ، میرا جی ایک مطالعہ، جمیل جالبی، ڈاکٹر (مرتب)،لاہور: سنگِ میل پبلیکیشنز، ۱۹۹۰ء، ص ۴۷۵۔
۵۔میرا جی، کلیاتِ میرا جی، (جمیل جالبی، ڈاکٹر، مرتبہ)، لاہور: سنگِ میل پبلیکشنز، ۱۹۹۲ء،ص ۴۱۔
۶۔ ایضاً۔۔۔ص۵۸۔
۷۔ ایضاً۔۔۔ص۶۱۔
۸۔ایضاً۔۔۔ص ۸۰ تا ۸۱۔
۹۔ایضاً۔۔۔ص۹۴۔
۱۰۔ ایضاً۔۔۔ص۱۵۶۔
۱۱۔ ایضاً۔۔۔ص ۱۸۲۔
۱۲۔ایضاً۔۔۔ ص ۲۱۸۔
۱۳۔ایضاً۔۔۔ ص۳۵۳۔
۱۴۔ایضاً۔۔۔ ص ۳۸۸۔
۱۵۔ایضاً۔۔۔ ص ۴۱۲۔
۱۶۔ ایضاً۔۔۔ ص ۶۲۳۔
۱۷۔ ایضاً۔۔۔ ص ۷۰۶۔
۱۸۔ایضاً۔۔۔ ص ۷۲۱۔
۱۹۔ایضاً۔۔۔ص۷۴۷۔
۲۰۔ ایضاً۔۔۔ص ۷۹۷۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں