میر تقی میر کی حالات زندگی حصہ سوم

کتاب کا نام ۔۔۔۔ میر و غالب کا خصوصی مطالعہ
کوڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔5611

موضوع۔۔۔۔۔۔۔۔ میر امان اللہ اور میر علی متقی کی وفات
صفحہ نمبر ۔۔۔۔ 11تا 13
مرتب کردہ ۔۔۔۔ Hafiza Maryam

میر تقی میر کی حالات زندگی

میر امان اللہ اور میر علی متقی کی وفات

میر نے امان اللہ کے زیر تربیت ابھی تین سال ہی گزارے تھے کہ وہ عید کے دن بیمار ہوئے اور دوسرے دن انتقال کر گئے۔ اس وقت میر کی عمر دس سال تھی ۔ ۲ ۔ شوال ۷/۵۵۴۱۱۔ مارچ ۳۳۷۱ ، کو امان اللہ نے وفات پائی۔ (۷) میر پر اس حادثے کا گہرا اثر ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: میر تقی میر مکمل معلومات | PDF

ذکر میر میں اُنھوں نے اپنا حال ان لفظوں میں لکھا ہے ” روز با یادی کردم شب با فریادی کردم ۔ ان کی وفات کے بعد علی متقی کی حالت غیر رہنے لگی اور وہ خود کو عزیز مردہ” کے نام سے موسوم کرنے لگے۔ تقریبا ایک سال بعد ۱۲ ۔ رجب ۶۴۱۱ ھ بمطابق ۷۲ ۔ دسمبر ۳۳۷۱ء میں علی متقی بھی انتقال کر گئے ۔ (۸)

علی متقی کے ذمہ بازار کے بنوں کا تین سو روپیہ قرض تھا۔ انھوں نے مرتے وقت وصیت کی کہ ہندی راستے میں ہے،

یہ بھی پڑھیں: میر تقی میر کی شخصیت و شاعری کا نفسیاتی مطالعہ

آئی ہوگی۔ جب تک قرض ادا نہ ہو جائے ، میرا جنازہ نہ اٹھانا ۔ اس حالت یاس میں سید مکمل خاں کا نوکر جو میر کے ہم

بزرگوار کا مرید تھا، پانچ سو روپیہ ہنڈی کا لے کر آیا۔ میر نے اپنے والد کا قرض ادا کیا اور اپنے والد کو ان کے پیر کے

پہلو میں دفنا دیا۔ والد نے اپنے ترکہ میں چند سو کتابوں کے سوا اور کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ ان کتابوں پر بھی میر کے سوتیلے

بھائی حافظ محمد حسن نے قبضہ کر لیا۔ پرورش اور نگہداشت کے لیے اپنے سوا کسی کا سایہ شفقت سر پر نہ رہا۔ یہ سب

واقعات اس قدر تکلیف دہ تھے کہ ان کا اثر میر کے مزاج اور ذہن پر تمام عمر رہا

اپنا ہی ہاتھ سر پہ رہا اپنے ہاں مدام مشفق کوئی نہیں ہے، کوئی مہرباں نہیں

نواب صمصام الدولہ سے ملاقات

والد کی وفات سے گیارہ سالہ میر بے آسرا ہو گئے ۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی محمد رضی کو گھر پر بٹھا کر اطراف شہر میں روزگار کی تلاش میں نکلے لیکن بے سود۔ معاشرتی حالات ہی ایسے تھے کہ روزگار کا ملنا مشکل تھا۔

وطن میں کوئی چارد کار نہ پا کر ۵۳/۵۷۴۱۱-۴۳۷۱ء میں شاہ جہان آباد و بلی کے لیے روانہ ہوئے ۔ وہ دہلی میں بھی پریشان گھومتے پھرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد خواجہ محمد باسط نے جو امیر الامر اصمصام الدولہ کے بھتیجے تھے،

میر کے حال پر عنایت کی اور انھیں نواب کے پاس لے گئے ۔ نواب صمصام الدولہ نے علی متقی کی وفات پر اظہار افسوس کے بعد کہا کہ ان کے (علی متقی ) مجھ پر بہت حقوق ہیں۔

اور ایک روپیہ روزانہ کا وظیفہ مقرر کر دیا۔۔ وظیفہ پا کر میرا کبر آباد واپس چلے گئے ۔ یہ وظیفہ میر کو ۹۳۷۱، یک ملتا رہا ۔ صمصام الدولہ، نادر شاہ درانی سے جنگ میں زخمی ہوئے اور ۹۱۔ ذی قعدہ ۷۲/۵۱۵۱۱۔ فروری ۹۳۷۱ ء کو فوت ہو گئے ۔

چنانچہ میرا اکبر آباد میں پھر بے روز گار ہو گئے ۔ اس وقت وہلی کی حالت نہایت خستہ تھی ۔ نادر شاہ کی افواج کی لوٹ کھسوٹ اور قتل عام نے دہلی کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ کچھ عرصے بعد جب حالات قدرے معمول پر آئے تو میر دوبارہ دہلی پہنچے ۔

اس بار آگرو سے نکلنے کے پیچھے کوئی واقعہ بھی تھا جس کو انھوں نے مثنوی خواب و خیال میں بیان کیا ہے بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ ۔۔۔۔ یہ نا کامی محبت کا حادثہ تھا۔ تذکرہ نگاروں نے اس بات کو ذرا کھل کر نہیں لکھا مگر ان کی مثنوی میں یہ حادثہ کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ (۹)

دونوں طرف کے اقربا نے رسوائی کے خوف سے میر کو ترک وطن پر مجبور کر دیا۔

خوشا حال اس کا جو معدوم ہے

زمانے نے رکھا مجھے محصل

گرفتار رنج و مصیبت رہا

چلا اکبر آباد سے جس گھڑی

1.4 جنونی کیفیت

کہ احوال اپنا تو معلوم ہے

پراکنده روزی، پراکنده دل

غریب دیار محبت رہا

اوروبام پر چشم حسرت پڑی

دوسری مرتبہ جب میر دہلی آئے تو ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی محمد رضی بھی تھے۔ دہلی میں میرا اپنے سوتیلے ماموں سراج الدین علی خان آرزو کے پاس رہنے لگے ۔ اس وقت میر کی عمر سترہ سال تھی۔ میرا ۹۳۷ء میں دوسری بار دلی آئے اور کچھ عرصے بعد جنوں کے مرض میں مبتلا ہو کر زندانی ور نجیری ” ہو گئے ۔ انھوں نے اس

موضوع پر مثنوی ” خواب و خیال میں بھی اظہار کیا ہے۔

جگر جور گردوں سے خوں ہو گیا

مجھے رکتے رکھتے جنوں ہو گیا

در اصل یہ جنوں جذباتی کیفیات کے لیے قابو ہو جانے کی وجہ سے لاحق ہوا میر جس حجرے میں رہتے تھے۔ اس کا دروازہ بند کر لیتے اور ہجوم غم میں تنہا بیٹھ رہتے ۔ میر نے ذکر میر” میں تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے کہ چاندنی رات میں ایک پیکر خوش صورت ، کمال خوبی کے ساتھ گرہ قمر سے میر کی طرف بڑھتا اور اُنھیں بے خود کر دیتا جنوں میر کا خاندانی مرض تھا اُن کے چچا نو جوانی میں اس بیماری سے فوت ہو گئے تھے۔ اسی بیماری کے دوران میں ان کی شاعری کا آغاز ہوا ۔ اردو شاعری کے آغاز کے بارے میں میر نے سعادت علی سعادت امروہوی کا ذکر کیا ہے کہ "

اس عزیز نے مجھے ریختہ موزوں کرنے کی طرف متوجہ کیا "

1.5 خان آرزو سے ملاقات

ڈاکٹر جمیل جالبی کا خیال ہے کہ میر کی اردو شاعری کا آغاز خان آرزو کی تحریک پر ہوا اس کی تفصیل سعادت

خان ناصر نے دیکھی ہے:

نقل فرماتے تھے کہ عنفوان جوانی میں جوش وحشت اور استیلائے سودا طبیعت پر غالب ہوا اور

زبان و کام ہرزہ گوئی پر غالب ، ترک سنگ و نام بلکہ رسوائی خاص و عام پسند آئی ۔ ہر کسی کو دشنام دینا شعار اور سنگ زنی کاروبار تھا۔ خان آرزو نے کہا کہ اے عزیز ا دشنام موزوں دعائے ناموزوں سے بہتر اور رخت کے پارہ کرنے سے تقطیع شعر خوش تر ہے۔ چونکہ موزولی طبیعت جو ہر ذاتی تھی جو دشنام زبان تک آئی مصرع یا بیت ہوگئی ۔ بعد اصلاح دماغ و دل کے مزا شعر گوئی کا طبیعت پر رہا ۔۔۔ ایک دن خان آرزو نے ان سے کہا کہ آج مرزا رفیع (سودا)

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں