کتاب کا نام :میر و غالب کا خصوصی مطالعہ 1
موضوع:میرکے ما بعد الطبیعیاتی موضوعات
صفحہ نمبر :105تا110
مرتب کردہ : ارحم
___💐___
میر کے ما بعد الطبیعیاتی موضوعات
میر کے نزدیک ہستی کی حقیقت یہ ہے کہ ہستی موہوم اور اعتباری ہے لہذا اس کے اصلیت کچھ نہیں یہ دنیا اپنے اندر بے پناہ دلکشی رکھتی ہے مگر یہ فانی اور عارضی ہے فنا پذیر ہونے کے باوجود یہ زندگی حسن اور کشش سے خالی نہیں ہے
چار دیواری عناصر میر
خوب جا کے ہے پر ہے بے بنیاد
دل کشی اس بزم کی ظاہر ہے تم دیکھو تو
ہو لوگ جی دیتے چلے جاتے ہیں کس حیرت سے یاں
کیا دل فریب جائے ہے آفاق ہم نشین وہ دن کو نہ جو آئے وہ برسوں نہ جا سکے
زندگی کے حسن و جمال اور اس کی دلکشی سے انکار ممکن نہیں لیکن پھر بھی یہ عرض یا ناپائیدار ہے زندگی میں عدم مساوات اور نہ ہماری بھی ہے موت کا خوف بھی اماں وقت موجود رہتا ہے میر زندگی کے حسن و جمال پر ہے مگر انہیں اس حسن و جمال کی عارضی اور فانی ہونے کا گہرا دکھ بھی ہے اور اپنی شاعری کے ذریعے حسن کائنات کا اثباتی پہلو مد نظر رکھتے ہیں وہ زندگی اور دنیا میں بے پناہ غموں اور دکھوں کی موجودگی کا اقرار اور اعتراف کرنے کے باوجود زندگی دنیا کے متعلق خوشگوار اثرات پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسے رہنے کے قابل بنایا جا سکے میر انسانی زندگی میں موجود حیرت انگیز تضادات کو بھی ظاہر کرتے ہیں چونکہ تمام کائنات بنا کی طرف گامزن ہے لہذا ان کے نزدیک کائنات حرکت دوام میں سرگرم عمل ہے
مرنا ہے خاک ہونا وہ خاک اڑتے پھرنا
اس راہ میں ابھی تو درپیش مرحلے ہیں
آے عدم سے ہستی میں نس پر نہیں قرار
ہے ان مسافروں کا ارادہ کہاں کہ تیئں
اس نظریہ سے متعلق ان کا تصور موت بھی ہے
ڈاکٹر سید عبداللہ کے الفاظ میں تصور موت کی جائے تصور حیات دوام (2) کہنا زیادہ صحیح ہوگا پھر کی شاعری میں موت کا موضوع مستقل حیثیت کا حامل ہے گویا موت حیات ابدی کے سفر میں محض ایک منزل ہے
موت ایک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی اگے چلے گے دم لے کر
مرگیا منزل مراد ہے میر
یہ بھی ایک راہ کا توقف ہے
وقفہ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم
برگ کا وقفہ اس رستے میں کیا ہے میر سمجھتے ہو
ہارے ماندے راہ کے ہیں ہم لوگ کوئی دم سو لیں گے
میر کا یا تبدیلی کا یہ تصور نرالا اور قدر اثباتی ہے موت تو ایک ایسی منزل ہے جہاں سے ایک لمحے کے توقف کے بعد بھی ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے ویر نے اپنی شہری میں دوامی حرکت کا ایک تصور پیش کیا ہے کہ زندگی معتبر متحرک اور ارتقا پذیر ہے
میر کی شاعری میں ایک اہم موضوع انسان ہے انسان کے متعلق ان کے تصورات میں کہیں جذبے کہیں تخیل اور کہیں تعقل کی کار فرمائی دیکھی جا سکتی ہے میر انسان کو موضوع فکر بناتے ہوئے صوفیہ کے بعد افکار سے بھی متاثر ہوئے ہیں بعض صوفیہ کی طرح میر بھی انسان کو مجبور محفل مانتے ہیں
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
لیکن اہل تصوف کی طرح انسان کی فضیلت اور فوقیت کے بھی قائل ہیں لیکن انسان بے حد کمزور ہونے کے باوجود خدا سے نیابت کا تعلق رکھنے کی وجہ سے کائنات اور اس کے مظاہر سے انفرادی طور پر برتر اور فائق ہے جیسا کہ قران مجید میں ایا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ خدا ہی کا ہے گویا انسان کے افضل مخلوق اور منتخب روزگار ہونے کا تصور خالص اسلامی تصور ہے ویسے بھی خدا نے جب اپنی امانت اسمان و زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے امانت اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ اس سے ڈر گئے جب کہ انسان نے بار امانت اٹھانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا
سب پہ جس بار نے گرانی کی
اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا
انسان کی فضیلت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ انسان کو فرشتوں پر فوقیت دیتے ہیں
آدمی سے ملک کو کیا نسبت
شان عرفہ ہے میر انسان کی
میر اس بے نشاں کو پایا جان
کچھ ہمارا اگر سراغ لگا
میرخدا کو خالق اور انسان کو مخلوق قرار دیتے ہوئے خالق کے اس احسان کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس نے ساری مخلوق میں ناچیز مشت خاک کو فضیلت عطا فرمائی ہے
شکر کیا اس کی کریمی کا ادا
بندے سے ہو
ایسی ایک ناچیز مشت خاک کو انسان کیا
میرے مالک نے میرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا
میر انسان کو ایک ترقی یافتہ اور ارتقا پزیر مخلوق سمجھتے ہیں وہ انسان کی اللہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ خود شناسی کی منزل سے ہوتے ہوئے حق شناسی کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے میں مشت خاک لیکن جو کچھ ہے میر ہم ہیں مقدور سے زیادہ مقدور ہے ہمارا مرتے ہیں ہم تو آدم خاکی کی شان پر اللہ نے دماغ کے ہیں اسمان پر کہاں ہے ادمی عالم میں پیدا خدائے صدقے کی انسان پر سے ہے میر نے نہ صرف خدا اور مخلوق کے رتوں پر روشنی ڈالی جب کہ اپنے حقیقت اور دوسرے زینب کی حقیقت پر بھی غور فکر کیا ہے دو قدم پر اپنا دوسرے انسانوں سے موازنہ کرتے ہیں
بقول حسن عسکری
ان کے معیار سے آپ کو جانچتے ہیں ان کے مطابق ان کی انفرادت میں جو خامیاں نکلتی ہیں انہیں بڑی جرات سے تسلیم کر لیتے ہیں ان تمام چیزوں کے باوجود اپنی اصلیت اور جس حقیقت کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں ان کی ہمت اور برتری سے ڈرا بھی بدزن یا غافل نہیں ہوتے وہ اپنا جلوہ صرف اپنی نظروں سے نہیں دیکھتے بلکہ بار بار اپنے اپ سے باہر نکل کر اپنی خودی کو دور سے دوسروں کی نظروں سے دیکھتے ہیں چنانچہ دوبارہ اپنے طرز زندگی اور طرز احساس کو سماج کے زندگی کے مقابل رکھتے ہیں اور دونوں کا موازنہ کرتے ہیں( 3)
ناکام رہنے ہی کا تمہیں غم ہے آج میر
بہتوں کے کام ہو گئے ہیں کل تمام یاں
زیر فلک بھلا تو ردوے ہے آپ کو میر
کس کس طرح کا عالم ہے یاں خاک ہو گیا
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
شاید اسی بنا پر شمس الرحمن فاروقی نے انسانی رشتوں کے تعلق سے سب سے بڑا شاعر کہتے ہیں اور انہیں عاشق یعنی ایک فرد کی متنوع اجاگر کرنے کے حوالے سے دنیاوی رشتوں کا شاعر قرار دیتے ہیں میر نے بڑی بھرپور زندگی گزاری تھی یہ تمام زندگی ان کی شاعری میں دیکھی جا سکتی ہے
شمس الرحمان فاروقی کے الفاظ میں ہماری تاریخ میں میر کے علاوہ کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں جس نے زمانہ کے سرگرم اتنے دیکھے ہوں جو جنگوں میں شریک رہا ہو جس نے بار بار ترک وطن کیا ہو جس نے بادشاہوں اور فقیروں کی صحبتیں اٹھائی ہوں جس نے آرام کے دن بھی دیکھے ہوں جو صوفیوں میں صوفی رندوں میں رند اور سپاہیوں میں سپاہی رہا ہو (4)
نوٹ: اس پوسٹ کے مواد کو گروپ کے ایک ممبر نے تحریری شکل میں منتقل کیا ہے۔ اگر اس میں کوئی غلطی یا کمی پائی جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری لکھنے والے پر ہوگی، پروفیسر آف اردو اس کا ذمہ دار نہیں۔
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں