مضمون اور انشائیہ میں فرق

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
موضوع ۔۔۔{مضمون اور انشائیہ میں فرق}
کتاب کا نام ۔۔۔{نثری اصناف}
کوڈ نمبر ۔۔۔{9009}
مرتب کردہ ۔۔۔{عارفہ راز}

مضمون اور انشائیہ میں فرق

مضمون میں پیش کیے جانے والے دلائل معروضی اور عمومی ہوتے ہیں جب کہ انشائیہ ذاتی تاثرات کا نام ہے۔

مضمون میں تمہید باندھی جاتی ہے جب کہ انشائیہ اچانک شروع ہو جاتا ہے۔

مضمون ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت لکھا جاتا ہے جب کہ انشائیہ غیر روایتی اور بے تکلفانہ اسلوب کا متقاضی ہوتا ہے۔

مضمون طویل بھی ہو سکتا ہے جب کہ انشائیہ افسانے کی طرح اختصار میں لطف دیتا ہے

۵۔ مضمون ہر طرح سے مکمل ہوتا ہے جب کہ انشائیے میں عدم تکمیل کا عنصر پایا جاتا ہے

انشائیے میں مصنف کی ذات یا شخصیت بھی شامل ہوتی ہے جب کہ مضمون میں یہ ضروی نہیں ۔

مضمون مکمل مزاحیہ بھی ہو سکتا ہے جب کہ انشائیہ صرف ہلکی پھلکی شگفتگی ہی کا متحمل ہو سکتا ہے۔
مضمون میں کوئی اصلاح یا تنقید کا پہلو بھی کارفرما ہو سکتا ہے جب کہ انشائیہ کا واحد مقصد محض تخیل آرائی یا خیال آفرینی ہوتا ہے۔

اصناف نظم و نثر ، ڈاکٹر علی محمد خاں ، ڈاکٹر اشفاق احمد درک، الفیصل ، لاہور ۲۰۱۹ ، ص ۲۶۹-۲۷۰) ڈاکٹر سلیم اختر انشائیہ لے لیے درج ذیل لوازمات کو لازمی قرار دیتے ہیں۔

اختصار

غیر رسمی طریق کار

اسلوب کی شگفتگی

عدم تکمیل کا احساس

شخصی نقطہ نظر

عنوانات کا موضوع یا نقطہ نظر سے ہم آہنگ نہ ہونا

مذکورہ بالا کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر سب سے اہم اور بنیادی جو ہر شخصی نقطہ نظر ہے اور یہ نقطہ نظر زندگی کے بڑے اور گھمبیر مسائل اور سوالات پر نہیں بلکہ عمومی اور بظاہر معمولی اور غیر اہم معاملات اور چیزوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار معمولی چیزوں میں غیر معمولی پن پیدا کر دیتا ہے مثال چھوٹی سی بات کہ مصنف بارش میں چھتری گھر بھول آیا، یا دفتر جاتے ہوئے پیسوں والا بود گم کر بٹوہ، یا صبح کی سیر کے دوران سکول جاتے ہوئے بچے سے مکالمہ،

یا بھیٹر میں گاڑی کا پھنس جانا یعنی روز مرہ واقعات سے بات شروع ہو کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے اور اس طرح معمولی واقعات سے کوئی ایسا پہلو ہمارے سامنے آجاتا ہے جو شائد ہمارے سامنے نہ ہو۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ انشائیے کے عنوان سے کسی قسم کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔

مثالا عنوان ہے کرکٹ، ماچس کی ڈبی ، صبح کی سیر، چائے کی پیالی کتاب وغیرہ تو عنوان کا انشائیے کے موضوعات سے خاص تعلق ضروری نہیں عنوان کا ہلکا پھلکا کا تعلق تو یقینا ہو گا مگر اسے مرکزی اہمیت حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔ کیونکہ انشائیے کا کوئی مخصوص موضوع نہیں ہوتا۔

موضوع پر قائم رہنا اور بار بار مرکزی موضوع کی طرف پلٹتا مضمون کی خصوصیت ہے۔ انشائیے میں بات سے بات نکلتی ہے اور کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ اس بات سے بات نکلنے میں یقینا ربط ہوتا ہے مگر جب تک مصنف اس طرف توجہ نہ دلائے قاری کا ذہن اس طرف عموما منتقل نہیں ہوتا ۔

اس لیے مصنف جس قدر صاحب مطالعہ ہو گا اس کے پاس جس قدر مشاہد ے اور تجربات کی دولت ہو گی اسی قدر انشائیے میں بات سے بات نکلنے کا پہلو جاندار ہوگا۔ انشائیے کا چونکہ کوئی موضوع نہیں ہوتا اس لیے مضمون کی طرح نہ اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ بلکہ قاری کو انشائیہ ختم ہونے پر عدم تکمیل کا احساس ہوتا ہے

دیگر اصناف میں عدم تکمیل کا احساس ایک خامی ہو سکتا ہے مگر یہاں ایک خوبی ہے۔ قاری کا ذہن خود بھی کام کر رہا ہوتا ہے اور انشائیے کے اختتام پر اس کا ذہن خود بھی بہت سی چیزوں کی طرف جا سکتا ہے۔ انشائیہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا ہے۔

انشائیہ پر لکھنے والے کی خوبی یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ میں ہمیں ایک خطے کے لیے روک کر زندگی کے وہ پہلو دکھا دیتا ہے جنہیں ہم بظاہر ہر روز دیکھنے کے باوجود نہیں دیکھتے۔ کوئی مقام خود کتنا ہی دلفریب کیوں نہ ہو وہاں کے مکینوں کے لیے اس مقام کی انفرادیت اور انوکھا پن ان کی نظروں سے محو ہوتا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک غیر ملکی سیاح چھوٹی چھوٹی چیزوں میں انفرادیت ڈھونڈتا ہے۔ انشائیہ نگار کا مزاج در اصل اس سیاح جیسا ہوتا ہے۔

اصناف کی حدود طے کرنا بعض اوقات بہت مشکل ہوتا ہے ایسا ہی معاملہ مصنف انشائیہ کے ساتھ ہے۔ اردو میں انشائیہ قدرے نئی صنف ہے۔ انگریزی میں اس کا متبادل Personal Essay یا Light Essay ہے۔

انشائیہ کی ایک
تعریف پر سب کا متفق ہونا بہت مشکل ہے۔ بہتر ہے اس کے خواص کو بیان کیا جائے ۔ ویسے بھی وقت کے ساتھ ساتھ انشائیے کے مفہوم اور ہیت میں کافی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ انگریزی میں اس کی ابتدا بیکن اور چارلس لیمپ کے مضامین کو Light Essy کہا جا سکتا ہے

جہاں ہلکے پھلکے انداز میں اور ہلکے پھلکے موضوعات پر مصنف اپنے ذاتی تاثرات اور خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ گو یا بنیادی طور پر انشائیہ مضمون ہی ہے مگر مصنف کا شناختہ انداز زندگی کی طرف اس کا مثبت رویہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں اور حقیقتوں کی طرف اس کا متوجہ ہونا اور انہیں ہمارے لیے بنادینا یہ اور ایسی باتیں مضمون کو انشائیہ بنادیتی ہیں یا انشائیہ کے قریب کر دیتی ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ مصنف شعوری طور پر انشائیہ لکھ رہا ہو ایسی بہت سی تحریرں جنہیں ہم نے بہت بعد میں غزلیں انشائیہ قرار دیا۔ دراصل یہ مصنف کا انداز اور نقطہ نظر ہے جو ایک تحریر کو انشائیہ بنا دیتا ہے مثلا مولانا ابوالکلام آزاد کی غبار خاطر میں شامل بعض فرضی خطوط کو انشائیہ قرار دیا جا سکتا ہے

حالانکہ مولانا کا اسلوب بہت مشکل اور فارسی زدہ ہے مگر بعض مقامات پر ان کا اسلوب انشائیہ کے قریب تر چلا گیا ہے۔ اسی طرح خواجہ حسن نظامی کی بعض تحریریں بھی انشائیہ کے قریب چلی گئ ہیں ۔ مقصد یت اور ثقالت جو مضمون کی خوبی ہے انشائیہ کے لیے سفر ہے۔ انشائیہ کی زندگی کا ہلکا پھلکا پن ہے۔ تازگی کو انشائیے کی سب سے بڑی صفت ہے انشائیہ ہی وہ واحد صنف قرار دیا جا سکتا ہے جس میں تازگی کو اولیت
حاصل ہے۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں