موضوعات کی فہرست
ماحولیاتی تانیثیت
آخری بار اپ ڈیٹ کیا گیا: 6 اگست 2025
محقق: محمد بشارت، پی ایچ ڈی اسکالر، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد۔
تعارف
ادب، معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس میں انسانی وجود کے ہر پہلو کی عکاسی ہوتی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں، ماحولیاتی بحران اور تانیثی جدوجہد نے ادبی تنقید میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جسے ماحولیاتی تانیثیت (Ecofeminism) کہا جاتا ہے۔
یہ نظریہ عورت اور فطرت کے درمیان گہرے تعلق اور دونوں پر مردانہ بالادستی کے نظام کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔ پاکستانی اردو نظم نے بھی اس اہم موضوع کو اپنے دائرہ کار میں شامل کیا ہے، جہاں شعراء نے عورت اور ماحولیات کے پیچیدہ رشتوں کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا ہے۔ آئیے اس تصور کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔
ماحولیاتی تانیثیت (Eco-feminism) کا دائرہ کار
ماحولیاتی تانیثیت (Eco-feminism) ماحولیات اور عورت کے تعلق کا نام ہے۔ عورت کا ہر معاشرے میں ایک اہم اور نمایاں کردار رہا ہے۔ اُس کے اِس کردار کو سراہا بھی گیا ہے۔ لیکن اکثر اُسے وہ مقام نہیں ملا جس کی وہ حقدار تھی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ عورت نے تاریخ کے ہر دور میں اپنی بساط بھر کی کوشش سے معاشرتی عمل اور معاشرتی تبدیلی میں نمایاں حصہ لیا ہے۔ لیکن اس کی یہ مقدور بھر کوشش اس طرح منظرِ عام پر نہ آسکی اور نہ ہی اُس کو پذیرائی حاصل ہوئی۔
جس طرح پدرسری نظام مردوں کے کردار کو سراہتا اور اُجاگر کرتا ہے، اسی طرح ماحولیاتی تانیثیت کا دائرہ کار ہر معاشرے، وہاں کی تہذیب و تمدن، علاقائی اور جغرافیائی حالات، رہن سہن کے مطابق پھیلتا اور سکڑتا ہے۔
ماحولیاتی تانیثیت کو سمجھنے کے لیے پہلے تانیثیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو فیمنزم کی کئی وضاحتیں اور تعریفیں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ قاضی عابد اپنی کتاب ”اُردو ادب اور تانیثیت“ میں لکھتے ہیں:
”فیمنزم اس احساس کا نام ہے کہ معاشرے میں عورت مظلوم ہے اور اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔ فیمنزم اس صورتِ حال کو بدلنے کی شعوری کوشش کا نام ہے۔“
تانیثیت کی مختلف شاخیں اور ماحولیات
ماحولیاتی تانیثیت کا تعلق صرف ایک جہت سے نہیں بلکہ اس کی جڑیں تانیثیت کی مختلف شاخوں سے جاملتی ہیں۔ ان شاخوں میں شامل ہیں:
- حریت پسند تانیثیت (Liberal Feminism)
- مارکسی تانیثیت (Marrcist Feminism)
- انتہا پسند تانیثیت (Radical Feminism)
- تحلیلِ نفسی تانیثیت (Psychoanlytic Feminism)
- سماجی تانیثیت (Social Feminism)
- وجودی تانیثیت (Existentialist Feminism)
- مابعد جدیدیت تانیثیت (Post Modern Feminism)
- ماحولیاتی تانیثیت (Eco Feminism)
مختصر یہ کہ ماحولیاتی تانیثیت یا ایکو فیمنزم ادب کا دائرہ کار فطرت اور عورت کے لیے باہمی مزاج کو پروان چڑھانا، فطرت اور تانیثیت میں عین مطابقت کی کوشش کرنا اور پدر سری معاشرے کے استحصالی سلوک کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔
اردو نظم میں ماحولیاتی تانیثیت کا جائزہ
اردو نظم میں ہمیں ایکو فیمنزم کے کئی ایک پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ماحولیاتی تانیثیت کی تھیوریز پر مبنی ایک نظر ڈالنے سے ہمیں اس موضوع کے دائرہ کار کے پھیلاؤ اور وسعت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
ماحولیاتی تانیثیت پر اُس احساس، جذبے، کو خود میں سمونے کی صلاحیت رکھی ہے جس کا تعلق عورت، اس کے گرد و پیش، فطرت اور فطرت کی نمائندگی کرنے والے عناصر سے ہے۔
عورت سور فطرت میں یہ بھی ایک مماثلت ہے کہ دونوں میں فیاضی ہے، وہ دینا چاہتی ہیں چاہے وہ اُس کا ماحول ہو یا اُس سے وابستہ مرد، عورت فیاضی اور سپردگی کا نام ہے اور یہ خوبی فطرت میں بھی پائی جاتی ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا کی نظم ”ملاقات“ ماحولیاتی تانیثیت کا پہلو لیے ہوئے ہے۔
وزیر آغا کی شاعری میں عورت اور فطرت
نظم ”ملاقات“ ڈاکٹر وزیر آغا کی دو مختصر لمحوں کے بیچ اُلجھی ہوئی نظم اور عورت کی کتھا ہے۔ یہ نظم بحیثیتِ مجموعی ایک خوبصورت مگر ڈرے اور سہمے زدہ ماحول اور عورت کی عکاسی کرتی ہے۔
ایک ملاقات ایک انتہائی سادہ، معمولی اور ایک روٹین کی بات ہے۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں ٹُھنک مزاجی ہو، جہاں نازک جذبات کی ترجمانی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اُن کو کوئی وقعت دی جاتی ہے۔
وہاں یہی ایک مختصر سی ملاقات ایک غیر معمولی واقعہ بن کر اُبھرتی ہے۔ ”پون چلنے“ سے ”پون رُکنے“ تک کی بات ایک ملاقات کی روداد ہے اور اِس دور میں سادگی عورت کس اندرونی اور بیرونی کشمکش اور دباؤ کا شکار ہوتی ہے یہ دراصل وہ تناؤ ماحول ہے۔
اسی طرح وزیر آغا کی ایک اور نظم ”ذات کے روگ میں“ دو افراد کے روگ کا ایک منظوم بیانیہ ہے۔ اس نظم کا مرکزی نکتہ ماں کے دُکھ، الم، تکالیف میں اور ایک ایسے معاشرے میں عورت کی تڑپ ہے جس میں عورت کا ہر روپ ایک مرد یعنی بیٹے کے گرد گھومتا ہے۔
پروین شاکر کی شاعری میں تانیثی شعور
عام طور پر پروین شاکر کو صرف نسائیت کی علم بردار شاعرہ کی حیثیت سے پذیرائی دی جاتی ہے۔ ان کو پاکستانی عورتوں کے جذبات و احساسات کی نمائندہ کے طور پر سراہا جاتا رہا ہے۔ لیکن جب پروین اپنے بانکپن لہجے سے بھرپور ہونے کے باوجود یہ کہہ دیتی ہے کہ:
”اس بار جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے“
تو یہ المیہ صرف ایک نسوانی، جذباتی اور کم سن کے لیے مخصوص نہیں رہ جاتا بلکہ اس کی حساسیت کو فطرت اور فطرت پسندی کے ساتھ مخصوص کرنے دوشیزہ کی حس اُجاگر کرنے کے لیے لازم و ملزوم ہو جاتا ہے۔
ماحولیاتی تانیثیت کے اسی اہم موضوع کے اس پہلو پر پروین شاکر بھی بے چین رہتی ہیں اور ان کی نظموں میں ایسے جذبات کا اظہار ملتا ہے جو ماں کے مقدس رشتے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے بچوں کی خاطر قربانیاں دیتی ہے۔
خلاصہ
پاکستانی اردو نظم نے ماحولیاتی تانیثیت کے نظریات کو ایک منفرد اور گہری نظر سے پیش کیا ہے۔ ان نظموں میں عورت صرف ایک مظلوم کردار نہیں، بلکہ وہ فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے، جس کا استحصال پوری کائنات کے استحصال کے مترادف ہے۔
وزیر آغا سے لے کر پروین شاکر تک، شعراء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عورت اور فطرت کا تحفظ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ شاعری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماحولیاتی انصاف کے بغیر سماجی انصاف ادھورا ہے اور اس جدوجہد میں ماحولیاتی تانیثیت ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ماخذ اور حوالہ جات
مقالے کا عنوان: ادب اور ماحولیات: پاکستانی اُردو نظم کا ماحولیاتی تنقیدی مطالعہ (منتخب شعراء کی نظموں کے حوالے سے)
محقق: محمد بشارت
نگران: ڈاکٹر نعیم مظہر
یونیورسٹی: نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد
سالِ تکمیل: 2023
اقتباس کے صفحہ نمبر: 35، 237-259
SEO ٹیگز: ماحولیاتی تانیثیت, اردو شاعری, پاکستانی ادب, تانیثی تنقید, ماحولیاتی تنقید, عورت اور فطرت, پروین شاکر, اردو نظم
کیٹیگری: اردو ادب
ڈس کلیمر
کچھ جملوں میں SEO اور پڑھنے میں آسانی کے لیے معمولی ترمیم کی گئی ہے۔ مکمل اور اصل تحقیق کے لیے، براہِ کرم اوپر ‘ماخذ اور حوالہ جات’ کے سیکشن میں دیے گئے مکمل مقالے (PDF) کا مطالعہ کریں۔
آپ کی نظر میں کون سے دوسرے اردو شعراء نے اپنی شاعری میں عورت اور فطرت کے تعلق کو کامیابی سے پیش کیا ہے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔