کشمیری نثر کی تاریخ

کتاب کا نام ؛ پاکستانی زبانوں کا ادب۔
کوڈ نمبر 5618۔
موضوع ؛ کشمیری نظم۔
صفحہ نمبر ؛ 228۔
مرتب کردہ ؛ عارفہ راز۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کشمیری نثر کی تاریخ

1943 ء سے قبل کشمیری زبان میں نثر لکھنے کا رواج بہت کم تھا۔ چنانچہ اس سال سے قبل کشمیری نثر میں لکھی جانے والی دو چار کتا بیں ہی ملتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہل سنت کے دینی مسائل اور دوسری اہل تشیع کے دینی مسائل کے بارے میں تھی۔ ایک اور کتاب بھی کشمیری نثر میں لکھی گئی تھی جس کا نام ” کا شیر و مثالہ تھا جس میں کشمیری ضرب الامثال تھیں ۔

یہ حافظ احمد اللہ پنجابی کی تالیف تھی۔ قرآن پاک کے ترجمے بھی کشمیری زبان میں کیسے گئے جن میں سے حضرت محمد یوسف شاہ کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔

1947 ء کی جنگ آزادی کے بعد کشمیر میں ریڈ یونٹیشن قائم ہوا چنانچہ اس کے ذریعے نثر میں تحریر و تقریر کو فروغ حاصل ہوا۔ مقبوضہ کشمیر کے سکولوں میں کشمیری زبان کی تدریس بھی شروع ہوئی۔ لوگ اخبارات اور رسائل میں نظموں کے ساتھ ساتھ نثر بھی لکھنے لگے۔

کشمیری زبان میں مشہور کشمیری شاعر غلام احمد مجبور نے ایک ہفت روزہ جاری کیا۔ اس کا نام ” کاش ( روشنی ) تھا لیکن یہ تھوڑا عرصہ ہی چل سکا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مشہور کشمیری شاعر غلام نبی خیال نے وطن کے نام سے ایک کشمیری ہفت روز و جاری کیا۔ یہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔

مقبوضہ کشمیر کی سرکاری سرپرستی میں کشمیر اکادمی کا رسالہ شیراز و بھی کبھی کبھی کشمیری ایڈیشن شائع کرتا تھا۔ اس میں نظم کے ساتھ ساتھ نثر کا بھی خاصا حصہ ہوتا تھا۔ ایک ماہنامہ ” نیب” (معلومات ) بھی سری نگر سے )) کشمیری زبان میں جاری کیا گیا۔ اس کے مالک اور مدیر پروفیسر امین کامل تھے۔ سری نگر سے ہی کشمیر یو نیورسٹی نے ایک لغت بھی کشمیری سے اردو میں شائع کی ہے اس میں وہ عربی اور فارسی الفاظ درج ہیں جو کشمیری زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔
ادھر آزاد کشمیر میں بھی کشمیری نثر میں چند کتا بیں شائع ہوئی ہیں جو دراصل کشمیری زبان سیکھنے کے بنیادی قاعدے ہیں، جس چیز کو لٹریچر کہا جاتا ہے وہ بیشتر رسالوں اور کتابوں وغیرہ کی شکل میں سری نگر سے شائع ہوتا ہے چنانچہ وہاں سے کشمیری زبان میں ناول ، لطائف کی کتا ہیں،

مزاحیہ کتب اور تنقید وتحقیق کی کتا میں بھی شائع ہو رہی ہیں لیکن ان میں ایک چیز غالب ہے اور وہ ہے سیکولرزم کا پر چار اور اس بات پر زور کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔

اس صورتحال نے کشمیری زبان میں شائع ہونے والی ان کتابوں کو عوامی مقبولیت سے دور رکھا ہے کیونکہ وہاں کے لوگ ہندوستان سے الحاق پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ بایں ہمہ کشمیری نثر میں کچھ مفید کتب بھی سری نگر سے شائع ہوئی ہیں۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں