کہانی کیسے لکھیں؟

کتاب۔ تحریر و انشاء(عملی تربیت)
موضوع۔ کہانی کیسے لیکھیں؟
کورس کوڈ۔ 9008
صفحہ۔ 111 تا 113
مرتب کردہ۔اقصٰی فرحین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہانی کیسے لکھیں؟

کہانی کسی نہ کسی تقاضے سے لکھی جاتی ہے۔ تقاضا فطرت کا بھی ہو سکتا ہے اور ضرورت بھی ۔ کچھ ذہن قطر نا قصہکوئی کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ عام طور پر جو لوگ واقعات کو دلچسپ اور موثر انداز میں بیان کر سکتے ہیں وہ بآسانی کہانی لکھ بھی سکتے ہیں۔ اُن کے لیے مطالعہ یا معمولی تربیت کہانی کہنے لکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہ ایک فطری صلاحیت ہے۔

اعلی پایے کی تخلیقات اسی فطری صلاحیت کی بدولت منصہ شہود پر آتی ہیں۔ قوت مشاہد اور قوت متخیلہ کہانی کہنے والے کے بنیادی اوصاف ہیں۔ مطالعہ ان اوصاف کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

کہانیاں ہماری معاشرتی تربیت کی ضرورت ہیں۔ بچوں کی تربیت کے لیے براہ راست حکم یا سزا کے مقابلے میں کہانی زیادہ مؤثر ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمارے ادب میں حکایات کا بہت قیمتی سرمایہ موجود ہے مگر افسوس ہم اُس سے کام نہیں لیتے ۔اگر اس قیمتی سرمایے کی گرد کو جھاڑ کر دیکھ لیا جائے تو بہت ما در معلومات اور پیرا ئیہ ہائے تلقین ہمارے ہاتھ آ سکتے ہیں ۔

روزمرہ زندگی میں بچے طرح طرح کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان مسائل کو چھوٹی چھوٹی گھڑی ہوئی کہانیوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بچے نے جھوٹ بولا ۔ اس عادت کی بیخ کنی کے لیے جھوٹ کا انجام شیر آیا شیر آیا والی کہانی مؤثر ثابت ہوگی یا بچے کے کسی پسندیدہ کردار کو واقعے کی مدد سے جھوٹ کا گزند پہنچا کر دیکھیے۔ وہ اپنے کردار کی حمایت میں جھوٹ سے نفرت کرنے لگے گا۔ بصورت دیگر بیچ کی برتری، کامیابی، حمایت یا خوشی وغیرہ کو واقعاتی شکل دے کر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کہانی کا تخلیقی عمل ایک موہوم تصور یا خیال سے شروع ہوتا ہے۔ تصور تخیل کی مدد سے خیال کی پیچیدہ گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کوشش میں کامیابی مل جائے تو موضوع ہاتھ آجاتا ہے۔ موضوع در حقیقت خیال کی وہ کلی شکل ہے جسے کہانی میں پیش کیا جانا ہوتا ہے، اسے مرکزی خیال بھی کہتے ہیں۔ کہانی لکھنے والا خیال کی لفظی تصویر موضوع یا عنوان کی صورت میں کھینچ لیتا ہے۔ پھر اُسے سامنے رکھتے ہوئے متحیلہ کی قوت سے خیال کے سلسلے ہوتا ہے۔

ان سلسلوں کو دیکھتا بھالتا ہے، کاٹ چھانٹ کرتا ہے، ترتیب دیتا ہے، تہذیب کرتا ہے، موٹر بنانے کی ہر شعوری کوشش کرتا ہے ۔ یوں خیال کی رعنائی کہانی کے روپ میں جلوہ گر ہو جاتی ہے۔

کہانی کے لیے موضوع کا انتخاب پہلا مرحلہ ہے۔ گھریلو زندگی میں مسائل خود کہانی کو موضوع فراہم کر دیتے تخلیقی سطح پر کہانی کا موضوع حاصل کرنے کے بہت سے وسائل ہیں۔ چند جہات ملاحظہ کیجیے:

تاریخ انسانی

تاریخ واقعات سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ کے بہت سے واقعات کو کہانی کی صورت میں آسانی سے پیش کیا جا سکتا ہے۔ انسانی ذہن میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ کسی واقعے کو دیکھ کر اُس سے نیا خیال بھی پیدا کر سکتا ہے۔ انتظار حسین نے کہانی کی بنت میں تاریخ سے استفادہ کیا۔

تہذیب

ہر تہذیب کی مخصوص شناخت ہے۔ تہذیب خواہ قدیم ہو یا جدید ، اس کی شناخت انت گفت موضوعات کو جنم دیتی ہے۔ تہذیب کا ایک ایک عنصر کہانیوں کا منبع ہے۔ مصری او رہا بلی تہذیبوں سے کتنی کہانیوں نے جنم لیا سندھ ہند کی تہذیبوں نے کتنے قصے اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ سید امتیاز علی تاج نے مغل تہذیب کو انارکلی میں نہایت مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے۔

واقعات

ہماری زندگی میں بعض واقعات غیر معمولی ہوتے ہیں ۔ یہ واقعات کہانی کا بہت اچھا موضوع بن سکتے ہیں۔ سفر: سفر میں ہمارا وجود اور دماغ دونوں متحرک ہوتے ہیں۔ ہم نئی نئی حالتوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ قوت متخیلہ تازگی محسوس کرتی ہے۔ مناظر کی کثرت میں بہت سے موضوعات چھپے ہوتے ہیں ۔

مظاہر فطرت اور ایجادات

مظاہر فطرت کی خموشی میں بہت سی کہانی خوابیدہ ہیں۔ جانوروں اور پرندوں کی بے زبانی میں بہت سے اسرار پوشیدہ ہیں۔ آسمانی مظاہر میں نابنا کی اور رومان کی ان گنت کہانیاں موجود ہیں۔ جدید ایجادات کاریں، اسرار ہوائی جہاز ، روبوٹ ، کمپیوٹر غرض ہر ایجاد میں کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ اہل مغرب کارٹون بنانے میں ان وسائل کو کثرت سے استعمال کر رہے ہیں۔ ہر مظہر فطرت اپنی کہانی خود سنا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر فطرت کو سنا جائے ۔

انسانی معاملات

ہمارے معاملات خواہ وہ گھر کے اندر کے ہوں یا باہر کے، یہ سب کہانی بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں محبت، نفرت، مہر قہر خوشی نغم ، کامیابی ناکامی، دیانت ، دھو که انصاف بظلم وغیرہ کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان معاملات میں متاثر کن نتیجہ ہمیں بہت اچھی کہانی فراہم کر دیتا ہے۔

تحلیل نفسی

نفسیات کی ترقی نے انسان کو دروں بین بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دروں بینی سے موضوعات کا ایک در انسان کے اندر بھی کھل گیا ۔ ہماری نفسی حالت ہماری دینی کیفیت، ہماری آسودگی ٬ نا آسودگی ہما را شعور ، لا شعور، یہ تمام جدید افسانے کی بنیا دیتے ہیں ۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں