مفت اردو ادب وٹسپ گروپ

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

حیات مرکزیت: پاکستانی اردو نظم میں انسان اور فطرت کے بدلتے رشتوں کا مطالعہ


حیات مرکزیت: پاکستانی اردو نظم میں انسان اور فطرت کے بدلتے رشتوں کا مطالعہ

آخری بار اپ ڈیٹ کیا گیا: 6 اگست 2025
محقق: محمد بشارت، پی ایچ ڈی اسکالر، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد۔

تعارف

ادب اور ماحولیات کا رشتہ گہرا اور قدیم ہے۔ شاعری، خاص طور پر، ہمیشہ فطرت کے مظاہر سے تحریک حاصل کرتی رہی ہے۔ تاہم، جدید دور کے ماحولیاتی بحران نے اس رشتے کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ ماحولیاتی تنقید (Ecocriticism) نے ادب کو پرکھنے کے نئے زاویے فراہم کیے ہیں، جن میں سب سے اہم تصور حیات مرکزیت (Biocentrism) کا ہے۔

یہ نظریہ انسان کی مرکزیت (Anthropocentrism) کو چیلنج کرتا ہے اور کائنات میں موجود تمام جانداروں کو برابر اہمیت دینے پر زور دیتا ہے۔ پاکستانی اردو نظم نے اس فکری تبدیلی کو بڑی خوبصورتی سے اپنایا ہے، جہاں شعراء نے انسان اور فطرت کے پیچیدہ اور بدلتے ہوئے رشتوں کو اپنی تخلیقات کا موضوع بنایا ہے۔

حیات مرکزیت کیا ہے؟

حیات مرکزیت یا بائیو سینٹرزم، دو الفاظ "بائیو” (زندگی) اور "سینٹرزم” (مرکز) کا مجموعہ ہے، جو اس ماحولیاتی احساس کا مفہوم فراہم کرتا ہے کہ انسانوں کے حقوق اور ضروریات کرۂ ارض پر بسنے والے دیگر جانداروں سے زیادہ اہم نہیں ہیں۔

بنیادی طور پر حیات مرکزیت کی یہ اصطلاح رشب مرکزیت (Anthropocentrism) کی ضد ہے۔ یعنی اس کی بنیاد انسان نہیں اور یہ اصلاح کسی طور پر انسان کو کائنات کا مرکز و محور خیال نہیں کرتی بلکہ بائیو سینٹرزم کی سوچ فطرت پر مبنی ہے۔

یہ انسانی بنیادوں پر استواری کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ حیات مرکزیت پر سب سے زیادہ اعتراض جو اُٹھایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بائیو سینٹرزم انسان مخالف ماڈل (خیال) ہے۔

اس کے برعکس، حیات مرکزیت کا دفاع کرنے والوں کا یہ موقف ہے کہ یہ عقیدہ فطرتی تنوع کی حفاظت، فطرت اور ماحول میں بسنے والے جانداروں (جن میں انسان شامل نہیں) اور ماحول و ماحولیات کا تحفظ کرتا ہے۔ اس نظریے کا مقصد انسان اور فطرت کے مابین دُوری کو کم کر کے قربت کو بڑھانا ہے۔

سادہ لفظوں میں، ماحول اور ادب کے بیچ تعلق کے مطالعے کا نام ماحولیاتی تنقید ہے، جس کا لازمی خاصہ حیات مرکزیت ہے۔

اردو نظم میں حیات مرکزیت کا جائزہ

پاکستانی جدید اُردو نظم کے شعراء نے حیات مرکزیت کے تصور کو اپنی شاعری میں گہرائی سے سمویا ہے۔ انہوں نے نہ صرف فطرت کی خوبصورتی کو بیان کیا بلکہ ماحولیاتی بحران اور اس میں انسان کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

وزیر آغا: فطرت کی وکالت

وزیر آغا کی شاعری میں حیات مرکزیت کا تصور نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ان کی نظم "مشورہ” اس کی بہترین مثال ہے، جس میں وہ فطرت کے تمام مظاہر کو اہمیت دیتے ہوئے انسان کو اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”کبھی جھاڑیوں سے
کسی اژدہا کے کھلے ہیں منہ میں جاتے ہرن کی
دلدوز چیخیں سنو جو ادب بن چکی ہیں۔“

یہاں شاعر صرف انسان کے دکھ درد تک محدود نہیں، بلکہ فطرت میں جاری زندگی اور موت کے کھیل کو بھی ادب کا حصہ قرار دیتا ہے۔ وہ ہرن کی چیخوں میں وہی کرب محسوس کرتا ہے جو انسانی تکلیف میں ہوتا ہے۔

یہ فطرت کے تمام جانداروں کو برابر سمجھنے کی ایک مضبوط دلیل ہے۔ وزیر آغا کی شاعری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کی پیدا کردہ شورش نے فطرت کے سکون کو غارت کر دیا ہے۔

جیلانی کامران: فطرت بطور کردار

جیلانی کامران کی نظم "کرن کی چاندی بکھری ہے” میں فطرت ایک جامد پس منظر نہیں بلکہ ایک متحرک کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ فطرت کے مظاہر کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے وہ خود ایک زندہ وجود ہوں جو انسانی احساسات رکھتے ہوں۔ اس نظم میں وہ صبح کے منظر کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”تجھ سے تیرے گھر کا رستہ پوچھ رہی ہے
تجھ کو کیسے پیار سے مینا دیکھ رہی ہے
اجالا دن ہے
اجلے پھول اور پتے ہیں“

اس نظم میں مینا کا بچے کو پیار سے دیکھنا، صبح کا اجالا، اور پھولوں کا کھلنا محض مناظر نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ہر شے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ حیات مرکزیت کے اس اصول کی بہترین ترجمانی ہے کہ کائنات میں کوئی بھی وجود تنہا نہیں ہے۔

منیر نیازی: فطرت کا درد

منیر نیازی کی شاعری میں فطرت اکثر ایک زخمی اور اداس کردار کے روپ میں نظر آتی ہے۔ وہ شہری زندگی کے پھیلاؤ اور صنعتی ترقی کے فطرت پر پڑنے والے منفی اثرات کو بڑی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کی نظم "شہر آسیب کا” میں ایک ایسی دنیا کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں قدرتی مناظر کو انسانی ترقی نے نگل لیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

”وحشت کا راج تھا، بے اماں تھی زمیں
بے صدا بستیاں تھیں، مکیں تھے حزیں“

منیر نیازی کی شاعری اس بات کی گواہ ہے کہ جب انسان فطرت سے اپنا رشتہ توڑتا ہے تو وہ خود بھی تنہائی اور وحشت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کی نظمیں ایک پُرامن اور متوازن ماحول کی تلاش ہیں جہاں انسان اور فطرت ایک ساتھ سکون سے رہ سکیں۔

پروین شاکر: نسائی اور ماحولیاتی حسیت

پروین شاکر کی شاعری کو اکثر نسائیتی حوالے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ان کی نظموں میں ماحولیاتی تانیثیت کے گہرے عناصر بھی موجود ہیں۔ وہ عورت اور فطرت کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرتی ہیں اور دونوں کو پدرشاہی نظام کے جبر کا شکار دکھاتی ہیں۔ ان کی نظم "خود کلامی” میں وہ لکھتی ہیں:

”پانی دیکھا نہ زمیں دیکھی، نہ موسم دیکھا
بے ثمر ہونے کا الزام شجر پر رکھا“

یہاں "شجر” (درخت) صرف ایک درخت نہیں، بلکہ عورت کی علامت بھی ہے جسے معاشرہ اکثر ان ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے جن میں اس کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ پروین شاکر کی شاعری اس بات پر زور دیتی ہے کہ جس طرح فطرت کو بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح عورت کو بھی معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خلاصہ

پاکستانی اردو نظم نے حیات مرکزیت کے تصور کو اپنا کر ماحولیاتی تنقید میں ایک گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ وزیر آغا، جیلانی کامران، منیر نیازی، اور پروین شاکر جیسے شعراء نے اپنی تخلیقات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے

کہ ادب صرف انسانی جذبات کا عکاس نہیں بلکہ یہ پوری کائنات کی آواز بن سکتا ہے۔ ان کی شاعری ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسان اس سیارے کا مالک نہیں، بلکہ اس کے اربوں جانداروں میں سے صرف ایک ہے۔ حیات مرکزیت کا یہ ادبی شعور ہمیں ایک زیادہ متوازن، پُر امن، اور پائیدار مستقبل کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جہاں انسان اور فطرت ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ساتھی ہوں۔


ماخذ اور حوالہ جات
مقالے کا عنوان: ادب اور ماحولیات: پاکستانی اُردو نظم کا ماحولیاتی تنقیدی مطالعہ (منتخب شعراء کی نظموں کے حوالے سے)
محقق: محمد بشارت
نگران: ڈاکٹر نعیم مظہر
یونیورسٹی: نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد
سالِ تکمیل: 2023
اقتباس کے صفحہ نمبر: 74-118


ڈس کلیمر: کچھ جملوں میں SEO اور پڑھنے میں آسانی کے لیے معمولی ترمیم کی گئی ہے۔ مکمل اور اصل تحقیق کے لیے، براہِ کرم اوپر ‘ماخذ اور حوالہ جات’ کے سیکشن میں دیے گئے مکمل مقالے (PDF) کا مطالعہ کریں۔

آپ کے خیال میں آج کے دور میں ادب ماحولیاتی شعور بیدار کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟ اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں