غالب کا مزاج۔۔۔
مرتب کردہ۔۔۔منظور احمد
کتاب۔ میر اور غالب کا خصوصی مطالعہ۔۔
کورس کوڈ۔۔۔ 5612
پیج 30…34
////_/
غالب کا مزاج
غالب کی بڑھاپے کی تصویروں سے عیاں ہے کہ وہ اپنے شباب میں نہایت خوش شکل اور حسین رہے ہوں گے۔
شراب نوشی کے باعث اخیر عمر میں پاؤں کی انگلی سوج کر اینٹھ گئی تھی۔ جس سے جوتا پہنے اور چلنے میں تکلیف ہوتی تھی۔
جوانی میں ڈاڑھی منڈاتے اور سر پر پٹے رکھتے تھے۔ بڑھاپے میں ڈاڑھی منڈانا ترک کر دی۔ ان کی ڈاڑھی دو ڈھائی انگل سے زیادہ کی نہیں ہوتی تھی۔ جب انھوں نے ڈاڑھی بڑھائی تو سر منڈا دیا۔ جوانی میں مسی بھی استعمال کرتے تھے۔ جب سامنے کے دونوں دانت ٹوٹ گئے، تو مسی کا استعمال ترک کر دیا۔ لمباقد ہونے کی وجہ سے اخیر عمر میں کمر میں ذراخم آ گیا تھا اور جھک کر چلتے تھے۔ نوابوں کے استاد تھے، اس لیے ان کے اندر رکھ رکھاؤ کی عادت اور نفاست پسندی موجود تھی۔
مالک رام نے تفصیل کے ساتھ ان کے لباس اور خوراک کی کیفیت بیان کی ہے۔ اس بات کی بھی تفصیل ہے کہ وہ شراب کسی طرح پیتے تھے۔ اول تو ایک خاص مقدار سے زیادہ نہیں پیتے تھے۔ دوسرے یہ کہ خاصے اہتمام سے پیتے تھے۔
غالب کے رہنے سہنے کا کیا انداز تھا، وہ محل سرا اور دیوان خانہ ( ڈرائینگ روم) کو الگ الگ رکھنے کے قائل تھے۔ مکان شروع میں کرائے کا تھا، بعد میں خرید لیا تھا۔ ان کا ٹھاٹھ امیرانہ بلکہ مسرفانہ تھا۔ انھیں جانور پالنے کا بھی شوق تھا۔ باہر ان کی سواری کے لیے گھوڑے تھے۔ اندر بلی، مور کبوتر بیر دنبہ بکری وغیرہ نوکر چاکر خاصی تعداد میں رکھتے تھے۔ عموماً سفر میں بھی دو تین نو کر ساتھ ہوتے تھے۔
مطالعے کا شوق بہت تھا۔ دس گیارہ برس کی عمر میں ظہوری کا دیوان ( فارسی ) توجہ اور انہماک سے پڑھ چکے تھے۔ اخیر عمر میں قاآنی کا مطالعہ کر رہے تھے۔ بیٹائی بہت کمزور ہوگئی تھی۔ چشمہ لگانے کی ضرورت پڑتی تھی۔
شعر و شاعری کے علاوہ قصے کہانی کی کتابوں سے بھی دلچسپی تھی۔ داستان امیر حمزہ اور بوستان خیال، جیسی ضخیم داستانیں پڑھ چکے تھے۔ دن بھر کتاب دیکھا کرتے ۔ رات بھر شراب پیتے ۔ جمعرات اور جمعے کی شب کو اپنے ہاں دوستوں کے ذریعے داستان سرائی کا سلسلہ شروع کر دیتے۔
کتا بیں بالعموم خریدتے نہیں تھے۔ کرائے پر لے کر پڑھتے تھے۔ حافظہ اچھا تھا۔ کام کی باتیں ذہن میں محفوظ رہتی تھیں۔ دوست احباب اپنی کتابیں ہدیہ دیتے رہتے تھے۔ اپنے ہاں کوئی ذاتی لائبریری قائم نہیں کی ۔ کتاب جس نے مانگی، اسے دے دیتے ۔ صرف ایک کتاب دساتیر کو اپنا ایمان اور حرز جان کہہ کر اپنے پاس رکھتے تھے۔ کتابوں کے علاوہ اخبار بھی پڑھتے تھے۔ ان کے خطوں میں متعدد اخباروں کے نام ملتے ہیں۔ اخباروں میں شعرا کے کلام پر جو تنقید و تقریظ چھتی تھی ، اس میں خود غالب بھی حصہ لیتے تھے۔
عموماً وہ خط لکھنے میں پہل نہیں کرتے تھے، مگر ہر خط کا جواب ضرور لکھتے تھے۔ ان کا خط (Handwritig) نستعلیق شفیعاً آمیز نہایت دلکش ہے۔ وہ خوش خط ہونے کے باوجود بہت زود نویس تھے۔
خط لکھنے کے سلسلے میں ایک جگہ انھوں نے اپنے طریق کار کو یوں بیان کیا ہے کہ قلم ہاتھ میں لیا تقدیم و تاخیر سے قطع نظر مدعا پیش نظر رکھتا ہوں اور دازی سخن سے بے فکر باتیں کرتا چلا جاتا ہوں ۔ وہ پرانے ڈھنگ کے لیے لمبے القاب و آداب نہیں لکھتے ۔ شروع میں ایک آدھ لفظ ایسا لکھا ، جو مخاطب کے حسب حال اور اسے متوجہ کرنے والا ہو، جیسے پیرو مرشد حضرت بھائی یار برخوردار اور اس کے بعد مطلب کی ضروری باتیں سپرد قلم کر دیں۔
شاعری میں بھی کبھی عام شاعروں کی روش اختیار نہیں کی۔ مثلاً : یہ کہ عام شاعروں کی طرح وہ غزل یا صیدہ کہتے وقت اس کے قوافی لکھ کر فکر شعر نہیں کرتے تھے، بلکہ عموماً بحر اور ردیف ذہن میں رکھ لیتے اور شعر کہنا شروع کر دیتے تھے۔ غالب کے نزدیک شاعری معنی آفرینی تھی ، نہ کہ قافیہ پیمائی ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی غزلیں عام طور پر بھی نہیں ہوتیں۔ پندرہ سولہ شعر کی غزل شاذ و نادر ہوتی ہے۔ ان کے ہاں دس بارہ شعر سے زیادہ نہیں ہوتے ۔
غالب نے اپنا کلام کسی کو بہ غرض اصلاح نہیں دکھایا۔ وہ خود بہ نظر اصلاح دیکھتے اور ضروری ردو بدل کرتے رہتے تھے۔ فکر شعر کا طریقہ یہ تھا کہ اکثر رات کو شگفتہ موڈ میں فکر کیا کرتے تھے اور جب کوئی شعر ہو جاتا تھا، تو کمر بند میں ایک گرہ لگا لیتے تھے۔ اس طرح آٹھ دس گر میں لگا کر سورہتے تھے۔ دوسرے دن یاد کے سہارے سوچ سوچ کر تمام اشعار قلم بند کر لیتے تھے۔
شاعری کے لیے جو ذہنی سکون اور مادی اطمینان ضروری ہے، وہ غالب کو کبھی میسر نہ آیا۔ اپنی باتوں میں ، خطوں میں اور اشعار میں ظرافت کے باوجود بہ حیثیت انسان وہ ہمیشہ افسردہ خاطر اور دل گرفتہ رہے۔ چنانچہ انھوں نے ایک شعر میں کہا ہے :
واسطے فکر مضامین متیں کے غالب چاہے خاطر جمع و دل آرامیده اُن کا ایک اور شعر ہے :
شعر کی فکر کو اسد چاہیے ہے دل و دماغ
عذر کہ یہ فرده دل بے دل و دماغ ہے
نوجوانی کے زمانے کو چھوڑ کر غالب کبھی فارغ البال نہیں رہے، بلکہ ان پر ایسا وقت بھی گزرا، جب وہ فاقہ کشی کےکنارے کھڑے تھے۔ بقول مالک رام : ” وہ اطمینان اور بے فکری جو روح اور دل و دماغ کی غذا ہے اور انسان کی مخفی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی اور انھیں جلا دیتی ہے انھیں بہت کم نصیب ہوئی ۔“
اگر چہ غالب کا کلام متعدد اصناف سخن میں موجود ہے لیکن ان کا اصلی میدان غزل اور قصیدہ ہے۔ اردو میں قصیدے بہت کم ہیں۔ فارسی میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ قصید نے بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ہیں۔ بارہ حمد ونعت اور منقبت میں۔ چار محمد یوسف علی خان ناظم اور تین ان کے جانشین نواب کلب علی خان کی مدح ہیں۔ تین قصیدے ملکہ وکٹوریہ کے لیے اور سترہ ہندوستان کے وائسراؤں صوبوں کے گورنروں اور حکومت ہند کے سیکرٹریوں کے لیے لکھے گئے۔ بعض رؤسا اور احباب کی مدح میں بھی ان کے قصیدے موجود ہیں۔
انگریز حکام کی مدح میں ان کے قصیدوں پر کئی اصحاب نے اعتراض کیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات مد نظر رکھنی چاہیے کہ غالب درباری تھے۔ دربار میں ان کی عذرا شرفی دو اشرفی نقد نہیں، بلکہ یہی قصیدہ ہوا کرتا تھا۔
غالب کے قصیدوں کی تعبیب یا تمہید بہت شاندار اور پر شکوہ ہوتی ہے۔ گریز عموماً بہت پر لطف اور بے ساختہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد مدح بہت کم اور مختصر ۔ اخیر میں دو ایک شعر میں دعا پر قصیدہ ختم کر دیتے ہیں۔ ان کی مدح میں بے جاغلو اور اغراق کہیں نہیں ملتا۔
غالب نے ہجو بہت کم لکھی۔ ان کے کلیات میں تین چار منظر ہو ہیں ہیں۔ ان کی ہو نخش گوئی تک نہیں پہنچی۔
غالب کے مشہور شاگرد تو کم ہیں۔ ان میں حالی سب سے نمایاں ہیں۔ میر مہدی مجروح مشہور ہیں۔ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ ایک ممتاز حیثیت کے مالک ہیں۔ خود قالب ان کا بڑا احترام کرتے تھے لیکن ان کے غیر معروف شاگردوں کی تعداد خاصی تھی۔ غالب اصلاح کے ساتھ وجہ اصلاح بھی لکھتے جاتے تھے۔ اگر شاگردان کے اشارات غور سے نہیں دیکھتا تھا، تو وہ اس پر خفا ہوتے تھے، کیونکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی محنت رائیگاں جا رہی ہے۔ وہ زود رنج واقع ہوئے تھے۔ بحث کو پسند نہیں کرتے تھے۔ تاہم وہ شاگرد کے سوال کرنے سے گھبراتے نہیں تھے۔ اصلاح میں ان کا اصول یہ تھا کہ اگر تبدیلی سے کلام میں واقعی ترقی ہوتی ہے، تو بہتر ورنہ ایک لفظ کی جگہ دوسرا اہم معنی لفظ رکھ دینے سے پر ہیز کرتے تھے۔ وہ شاگرد کے مضمون کو بدلنے کے قائل نہ تھے، جو شعر انھیں پسند آتا ، اس پر صادر کر دیتے اور تعریفی کلمات لکھنے میں بخل سے کام نہ لیتے۔ لے کبھی کبھی اپنے شاگردوں کو شعر دینے کی مثالیں بھی ملتی ہیں لیکن شاذ و نادر ۔ ان کے شاگردوں میں ہر طبقے کے لوگ موجود تھے۔ والیان ریاست ملازمت پیشه صاحبان عالم فاضل بزرگ اور معمولی پڑھے لکھے لوگ۔ وہ سب سے یکساں مہربانی اور لطف کے ساتھ پیش آتے ۔ وہ اپنے شاگردوں کو اپنے دوستوں اور عزیزوں سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی ہر طرح کی بہتری اور بہبودکے خواہاں رہتے ۔ ان کے روز گار میں ترقی کے لیے دامے سخنے اور درے قدمے ہر طرح کی کوشش کرتے۔
غالب کی خود پسندی اور تعلی محتاج بیان نہیں ہے۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو اکابر اہل ایران سے کمتر نہیں سمجھتے تھے۔ اپنے کلیات فارسی کے دیباچے میں انھوں نے اساتذہ قدیم کو چراغ سے اور اپنے آپ کو آفتاب سے تشبیہ دی ہے۔ .
اس کے باوجود وہ حفظ مراتب کے قائل تھے اور حفظ مراتب کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ان کے ایک شاگرد سید احمد حسن فدا مودودی نے ایک غزل اصلاح کے لیے ان کے پاس بھیجی۔ انھی قافیوں میں دوسری ردیف کے ساتھ شہیدی کی غزل موجود تھی۔ غالب نے اصلاح دیے بغیر غزل واپس بھیج دی اور انھیں لکھا آپ اور غزل لکھیے ، اس کو ہرگز دیوان میں نہ رکھیے۔
نواب علاؤ الدین احمد خان نے ان سے مژگاں گله دارد۔ ارماں گله دارد کی زمین میں غزل کہنے کی فرمائش کی۔
غالب نے جواب دیا کہ یہ زمین قدسی کے حصے میں آچکی ہے۔ میں ان قافیوں میں لکھ کر بے حیائی کا مرتکب ہونا نہیں چاہتا۔ جس طرح غالب کی طبیعت میں غیرت مندی اور خود داری بلا کی تھی ، اس طرح احسان مندی کا جذ بہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ دارو گیر کے ایام میں ان کے بعض ہندو دوستوں نے ان سے بڑی ہمدردی کا اظہار کیا اور ء حتی الامکان ان کی خدمت کرتے رہے۔ غالب نے اپنی فارسی کتاب دستنبو میں ان اصحاب کا خاص طور پر ذکر کیا۔ جوئے کے مقدے میں جب ان پر مصیبت آئی، تو ان دنوں نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ ان سے بہت دلسوزی اور غم خواری سے پیش آئے۔ غالب نے اپنے مشہور ترکیب بند اسیر یہ میں ان کی اس خدمت کا پر جوش اعتراف کیا۔
غالب کی وفات کے بعد حکیم محمود خان اور نواب ضیا الدین احمد خان نے ان کی تجہیز و تکفین اہل تشیع کے طریقے پر نہیں ہونے دی، جبکہ ان کے شیعی عقائد کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔ ان عقائد پر وہ ابتدا سے قائم تھے گو ان کے والدین اور ان کی ننھیال کے لوگ جہاں ان کی پرورش ہوئی ۔ سب سنی طریقے کے پابند تھے۔ آبا کے اہل سنت والجماعت ہونے کا اقرار خود انھوں نے بھی کیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ غالب مذہب کے معاملے میں ذاتی عقیدے کے قائل تھے۔ چنانچہ جہاں تک مسلمان ہونے کا تعلق ہے، وہ شیعہ سنی فرقوں میں سے کسی ایک کے پابند نہ تھے۔ ایک طرف وہ خدا کی وحدانیت اور حضور اکرم کی نبوت پر ایمان کو واجب سمجھتے تھے۔ دوسری طرف وہ امامت مرتضوی کے قائل تھے اور اسی طرح بارہ اماموں پر اعتقاد رکھتے تھے اور امامت کے من اللہ ہونے کے معتقد تھے۔ ایک طرف وہ تمام صحابہ کا اب کرتے تھے۔ دوسری طرف حضرت علی کو نہ صرف تمام صحابہ پرترجیح اور فضیلت دیتے تھے، بلکہ انھیں امام من اللہ مانتے تھے۔ اگر یہ اثنا عشری عقیدہ ہے، تو غالب کے اثنا عشری ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن واقعہ یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں غالب اجتماع ضدین کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ شیعہ ہونے کے باوجود صحابہ کرام پر تبرا کے قائل نہیں تھے اور اگر چہ شیعیت اور تصوف کا ساتھ نہیں ۔ دونوں میں بیر اس لیے رہا ہے کہ شعیت میں شیخ اور بیعت کا تصور سرے سے مفقود رہا ہے ، پھر بھی وہ شیعہ ہونے کے باوجود اپنے کو صوفی بھی سمجھتے تھے۔ میر مہدی مجروح کے نام انھوں سے ایک خط میں لکھا ۔ صبر و تسلیم و تو کل و رضا شیوہ صوفیہ کا ہے، مجھ سے زیادہ اس کو کون سمجھے گا۔“
غالب کے مذہبی عقائد کے معاملے میں مسئلہ صرف ان تضادات کا نہیں، جو شیعہ سنی فرقوں میں وجہ تفرقہ ہیں، بلکہ ان پر یہ الزام بھی رہا ہے کہ اخیر عمر میں وہ Freemason بھی ہو گئے تھے۔ اگر چہ فری میسٹوں میں شامل ہونے کے لیے آبائی مذہب ترک کرنے کی ضرورت نہیں، پھر بھی مسلمان اور فری میسن کے درمیان مذہبی عقائد کے کچھ تضادات تو ہیں۔ ایک شخص جو عام طور پر اثنا عشری ظاہر ہوتا تھا اور مانا جاتا تھا، اس کے آخری رسوم اثنا عشری عقیدے کے مطابق ہی ہونے چاہیے تھے۔ ممکن ہے، خدا تعالی کے ہاں دنیوی خانہ بندی کی کوئی اہمیت نہ ہو۔
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں