کہانی کی تعریف

کتاب کا نام: تحریر و انشا (عملی تربیت) (Tehreer o Insha: Amali Tarbiyat – Writing & Composition: Practical Training)

کوڈ کورس: 9008

صفحہ نمبر: 190 تا 111 (Page Numbers: 190 to 111)

مرتب کردہ: مسکان محمد زمان (Compiled by: Muskan Muhammad Zaman)

کہانی کی تعریف

کہانی ہندی زبان کا لفظ ہے، اسے کہنی بھی کہتے ہیں۔

کہانی یا کہنی کے لغوی معنی ہیں کہی گئی بات، واقعہ یا قصہ۔

اصطلاحاً کسی حقیقی یا تصوراتی واقعے کو کرداروں کی مدد سے بیان کرنا کہانی کہلاتا ہے۔

ہندی میں کہانی نثری قصے کو اور کبت شعر و شاعری کو کہتے ہیں۔

عام طور پر سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص کہانیاں اور کہیں سناتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ فلاں شخص واقعات کو کسی خاص انداز میں شعروں کی مدد سے بیان کرتا ہے۔

کہانی کسی بات، واقعے یا قصے کا دلچسپ بیان ہے۔

کہانی تخلیقی نثر فکشن کی قدیم، مختصر اور سادہ ترین صنف ہے۔

اس کے برعکس بہ قول کلیم الدین احمد: "داستان کہانی کی طویل، پیچیدہ اور بھاری بھر کم صورت ہے۔”

کہانی کا جواز (Justification of Kahani)

قدیم زمانے سے کہانی انسان کے ساتھ سفر کر رہی ہے۔

انسانی ارتقا کے ساتھ کہانی نے بھی ارتقا کی بہت سی منزلیں طے کیں جیسے داستان، ناول، ناولٹ، افسانہ، ڈراما، فلم اور کارٹون وغیرہ۔

اب کہانی سنانے، سننے اور پڑھنے کو پرانے دور کی یادگار سمجھا جانے لگا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں کہانی سنانا ایک دلچسپ مشغلہ تھا۔

موجودہ دور میں بچوں کو کارٹون کی مدد سے اور بڑوں کو ڈراموں اور فلموں میں دلچسپ انداز میں کہانیاں دکھائی جاتی ہیں۔

کہانی ختم نہیں ہوئی بل کہ اس کی پیش کش کا انداز بدل گیا ہے۔

کیا اب بھی اتنے مؤثر ذرائع کی موجودگی میں پرانے انداز میں کہانی کہنے، سننے اور پڑھنے کا جواز موجود ہے؟

روایتی کہانی کا جواز ہمیشہ رہے گا۔

کسی قوم کی کہانیاں اُسے روایت سے جوڑ کر رکھتی ہیں اور قوم کو میراث دانش فراہم کرتی ہیں۔

عالمی ادب پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ ہر زبان میں کہانیاں موجود ہیں اور ہر قوم کی کہانیاں مخصوص رنگ کی حامل ہیں۔

کہانیاں تاریخ کی لفظی تصویریں ہوتی ہیں، چشم تخیل ان کی روشنی میں مستقبل کی راہیں ہموار کرتی ہے۔

انسانوں میں ایک زبردست قوت متخیلہ ہے۔

خیال کرنے اور سوچنے سمجھنے کی قوت۔

یہی تخلیقی قوت کا سوتا ہے۔

یہی قوت ایجادات کی مخترع ہے۔

ہماری قوت متخیلہ کو بیدار کرنے کے لیے کہانی نہایت مفید محرک ہے۔

کلیم الدین احمد لکھتے ہیں: "تخیل کی اہمیت مثل روز روشن ہے اور کہانیاں بچوں کے تخیل کی ترقی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔”

کہانیوں میں ایسی دنیا کا ذکر ہوتا ہے جو بچوں کی جانی پہچانی ہوئی دنیا سے بالکل مختلف ہے۔

ایسے لوگوں کے حالات زندگی ہوتے ہیں جن سے بچہ واقف نہیں۔

ایسی چیزوں کا بیان ہوتا ہے جو ان دیکھی اور غیر معمولی اور اکثر فوق فطرت ہوتی ہیں۔

الغرض ان کہانیوں میں ایسی فضا اور ایسی جزئیات ہوتی ہیں جن سے بچہ ذاتی واقفیت نہیں رکھتا اور نہ رکھ سکتا ہے۔

اس لیے بچہ اپنے تخیل سے کام لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اور اس فضاء ان جزئیات کو وہ اپنے تخیل کی مدد سے محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے۔

اسی تخیل کی مدد سے وہ خود ان کہانیوں کا ہیرو بنتا ہے اور جہاں تک اس کے کچے، نو خیز اور محدود تخیل سے ممکن ہوتا ہے، وہ اس خیالی دنیا میں سانس لینے کی کوشش کرتا ہے اور خیالی افراد کے تجربات سے بہرہ ور ہوتا ہے۔

اور اس طرح اس کی دماغی زندگی زیادہ رنگین و پر لطف ہو جاتی ہے۔

اس کے جذبات کی بھی ترقی ہوتی ہے اور خصوصاً ہمدردی اور ترحم کے جذبات ابھرتے ہیں اور دوسروں کی خوشی سے خوش ہونا اور دوسروں کی تکلیف اور مصیبت پر آنسو بہانا سکھاتے ہیں۔

الغرض یہ کہانیوں کا فیض ہے کہ بچہ اپنی بعض ان قوتوں کو ترقی دیتا ہے جو آدمی کو انسان بناتے ہیں اور جن کے بغیر اس کی زندگی نا تمام رہ جاتی ہے۔” (فین داستان کوئی ص ۸۰۹)

نبی اکرم ﷺ صحابہ کی تربیت کے لیے سابقہ امتوں کے واقعات کہانی کے انداز میں ارشاد فرماتے۔

بہت سی احادیث میں کہانی کا انداز ملتا ہے۔

بہشتی زیور سے نمونے کے طور پر ایک کہانی دیکھیے۔

جناب رسول ﷺ نے فرمایا:

کہ کوئی شخص کسی جنگل میں تھا۔

ایکا ایک اُس نے ایک بدلی میں یہ آواز سنی کہ فلاں شخص کے باغ کو پانی دے۔

اس آواز کے ساتھ وہ بدلی چلی اور ایک سنگستان میں خوب پانی برسا۔

تمام پانی ایک نالے میں جمع ہو کر چلا۔

یہ شخص اس پانی کے پیچھے ہو لیا۔

دیکھتا کیا ہے کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہوا بیلچے سے پانی پھیر رہا ہے۔

اس نے باغ والے سے پوچھا کہ اے بندہ خدا تیرا کیا نام ہے۔

اُس نے وہی نام بتایا جو اُس نے بدلی سے سنا تھا۔

پھر باغ والے نے اُس سے پوچھا کہ اے بندہ خدا تو میرا نام کیوں دریافت کرتا ہے؟

اُس نے کہا کہ میں نے اس بدلی میں جس کا یہ پانی ہے، ایک آواز سنی کہ تیرا نام لے کر کہا کہ اس کے باغ کو پانی دے۔

تو ایسا کیا عمل کرتا ہے کہ اس قدر مقبول ہے؟

اُس نے کہا کہ جب تو نے پوچھا تو مجھ کو کہنا ہی پڑا۔

میں اس کی کل پیداوار کو دیکھتا ہوں۔

اس دور میں ہم اور ہمارے بچے میڈیا کے رحم و کرم پر ہیں۔

بڑوں میں کہانی کہنے کا رجحان قریباً ختم ہو چکا ہے۔

وہ بصیرت افروز مسرت جو ماضی میں بڑے بوڑھے اپنی آئندہ نسل کو عطا کرتے تھے وہ اب باقی نہیں رہی۔

بچوں کی معصوم فطرتیں ہم نے خود غیروں کے ہاتھ دے دیں۔

وحشت ناک کارٹونز اور بر بریت پر مبنی وڈیو گیمز کے جو بُرے اثرات انسانی فطرت پر ہو سکتے ہیں وہ ہمارے معاشرے میں سرایت کر رہے ہیں۔

خیر اور شر میں تمیز مشکل ہوتی جارہی ہے۔

کارٹونز کی مدد سے مشرقی معاشرے کے آئیڈیل (خیر) بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور ٹی شرٹس پر بری بری شکلیں ہمارے نوخیز ذہنوں کی عکاس ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کہانی سننے دیکھنے کے فطری تقاضے کی تسکین اپنے ہاتھوں، اپنی اقدار کی روشنی میں کی جائے۔


وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں