کھڑکی بھر چاند مصنف احمد سلیم سلیمی تحریر فرقان احمد
کھڑکی بھر چاند
دور جدید کے تخلیق کار کے زمرے میں آپ کو اردو ادب کے موجودہ دور کے لکھاریوں کا بھیجا گیا کام دیکھنے کو ملے گا۔
محبت کی داستان محبت ہوتی ہے وہاں جہاں قربت ہوتی ہےرشتے آخر ٹوٹ ہی جاتے ہیں جہاں غربت ہوتی ہےپیار ،محبت ،چاہت اور تمنّادل سے دل ملتا ہے جہاں اُلفت ہوتی ہےلبوں پہ مسکراہٹ کیسے جب دل ہی نہ ملےمحفلیں سجتی ہیں جہاں چاہت ہوتی ہےکیا کریں گے مظلوم اپنے ظلم کی شکایت وہاںجہاں ظالم
کلکرز کی واپسی: ایک نئی نسل کی بے سکونی وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور کئی بار ہم وہی چیزیں دوبارہ دیکھنے کو مجبور ہوتے ہیں جنہیں کبھی ماضی کا حصہ سمجھ کر بھلا دیا گیا تھا۔ آج کل پاکستانی بچوں کے ہاتھوں میں ایک کھلونا نظر آ رہا ہے جسے ہم کلکرز کے نام
اردو کے 50 مشہور ادبی شاہکار اور ان کے مصنفین: ایک لڑکی پاگل سی – **ابنِ صفی (عمران سیریز) دیوانِ غالب – مرزا غالب بانگِ درا – علامہ اقبال حمقّتے – پطرس بخاری مراۃ العروس – ڈپٹی نذیر احمد آنگن – خدیجہ مستور غبارِ خاطر – ابوالکلام آزاد گودان – منشی پریم چند (اردو ترجمہ)
سفر نامہ آساں نہیں ، ہے کشمکش ذات کا سفرتقدیر ایک ایسی شے ہے جس کے آگے تدبیر بھی اپنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتی ہے ۔ انسان، جو کہ اشرف المخلوقات ہے، جس نے بڑے اور طاقتور پہاڑوں، گہرے سمندروں اور پھیلے ہوئے میدانوں کو سر کرنے میں دیر نہ لگائی، لیکن ساتھ
کلمہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کی آزادی کی داستان اور موجودہ حالات 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے وہ خواب حقیقت میں تبدیل ہوتا دیکھا جو برسوں سے ان کی آنکھوں میں بسا ہوا تھا۔ یہ سرزمین اس لیے حاصل کی گئی تھی کہ یہاں اسلام کا نظام نافذ
غزل:خوابوں، خیالوں میں بس تو ہی تویادوں کی کتابوں میں بس تو ہی تو تجھے کہاں نہیں تلاش کیا میں نےدل کے حجابوں بس تو ہی توخوشبو کے تعاقب میں گھومتا رہا تنہاگلاب کے شبابوں میں بس تو ہی تو رقیب کی تنہائی دیکھی نہ گئی ھم سےاس کی طلب نگاہوں بس تو ہی تو
افسانہ ایک بیٹا صبح کے عین اس وقت جب پرندے درختوں پر چہچارہے تھے اسی اسنا میں پپو اپنی نوکری کا انٹرویو دینے جارہا تھا اتنے میں وہ جس کمرے میں تیاری کرکے انٹرویو دینے جارہا تھا اسی کمرے کے روشن دان سے گوجیتی ہوئی آواز معلوم ہوئی جو ایک نومولود بچی کی آواز تھی
افسانہ مجرم کون نصیر ایک اعلیٰ اخلاق کا مالک تھا بدقسمتی سے بوڑھا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ معزور بھی ہو چکا تھا اور کام کرنے کے قابل نہیں تھا- وہ جس گاؤں میں رہتا تھا اس کا رواج کچھ یوں تھا کہ گھر دینے پر ہمسایہ مالک کے گھر میں کام کرتے تھے لیکن