عظمت میر کا اعتراف

کتاب کا نام ۔۔۔۔ میرو غالب کا خصوصی مطالعہ1
کوڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5611
موضوع۔۔۔۔۔۔۔۔ عظمت میر کا اعتراف
صفحہ نمبر ۔۔۔۔ 32 تا 35
مرتب کردہ ۔۔۔۔ Hafiza Maryam

عظمت میر کا اعتراف

میر کی غزل اپنے طریق اظہار اور فنی واسلوبیاتی اعتبار سے بالکل انوکھی اور بہت سی دلکش خصوصیات کی حامل ہے۔ ان کی شعری عظمت کا اعتراف ہر دور کے بڑے شعرا نے کیا ہے ۔ ناسخ ، غالب ، ذوق ، اکبر، حسرت، اثر لکھنوی ، فراق، میرا جی، ابن انشا اور ناصر کاظمی سب ہی ان کے شیوۂ گفتار پر رشک کرتے رہے ہیں۔ بقول حسرت موہانی:

شعر میرے بھی ہیں پر درد و لیکن حسرت

تیر کا شیوہ گفتار کہاں سے لاؤں

کسی بھی دوسرے شاعر کو میر کا انداز واسلوب نصیب نہ ہو سکا۔ ان کی غزل میں ایسے بہت سے فنی اور اسلوبیاتی محاسن موجود ہیں ۔ جو ان کی غزل کو تیر نیم کش بنا دیتے ہیں ۔ وہ زندگی سے متعلق اپنے خیالات و احساسات ایسے اسلوب میں بیان کرتے ہیں کہ ان کے ذاتی خیالات سب کے احساسات بن جاتے ہیں۔ اسے میر کا فنی اور اسلوبیاتی کمال ہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کے شعری تجربہ کی انفرادیت اور خیالات و احساسات کی ندرت ایسے شعری پیکر کی صورت میں ظہور کرتی ہے۔ جہاں میر اور ان کے قارئین کے درمیان کوئی پر دو حائل نہیں رہتا۔

میر کی انفرادیت کے اسباب

میر کے انفرادی فن اور اسلوب کی بنیاد بہت سے محاسن پر ہے، جن کے امتزاج سے ان کے کلام میں لطف والہ پیدا ہوا ہے۔ البتہ ان کے انداز بیان کی خصوصیات ان کی تخلیقی شخصیت کے داخلی امتیازات کی پیدا کردہ ہیں۔ انھوں نے جو شاعری تخلیق کی ہے، اس میں عظمت و رفعت اور حسن و دل کشی پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری پر ان کی انفرادیت کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ انفرادیت ان کے موضوعات اور اسلوب کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اسی انفرادیت کو میر کی مخصوص طرز کہا جاتا ہے۔

میر کی مسلمہ عظمت کا انحصار ان کی شاعری پر تو ہے ہی، لیکن زبان کے ارتقا کی تاریخ میں بھی ان کی شاعری بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جدید اردو زبان کی بنیاد میں کھڑی بولی کا رنگ رس بھی شامل ہے ۔ یہ کھڑی ہوئی نکھرے ہوئے رنگ وروپ میں میر کے ہاں نظر آتی ہے۔ زبان اور اسلوب کے اعتبار سے میر کی شاعرانہ حیثیت ایک ایسے سرچشمے

کی ہے، جس سے بعد کے شعرا اپنی شعری پیاس بجھاتے رہے ہیں:

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے

فیض کا چشمہ جاری ہے، حفظ ان کا بھی دیوان کریں

( میراجی)

دل پہ جو بیتے سہہ لیتے ہیں اپنی زباں میں کہہ لیتے ہیں

انشا جی ہم لوگ کہاں اور میر کا رنگ کلام کہاں

( ابن انشا)

اردو کی تشکیل و ترویج میں میر کا حصہ

اردو زبان کی تشکیل کی تاریخ میں اٹھارویں صدی ( میر کی صدی ) سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس صدی میں اردو زبان اپنے عہد کی مقامی بولیوں سے بہت کچھ اخذ و استفادہ کرتے ہوئے ایک مستند اور ہندوستان گیر زبان بن گئی۔ اس کی ادبی حیثیت کو تسلیم کروانے میں میر کی شاعری انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ میر نے اس کی صفائی اور آرائش کر کے اسے جدید عبد کی مستند زبان بنا دیا۔ یہ زبان عام بازاروں اور گلی کوچوں سے نکل کر سرکار دربار تک جا پہنچی، لیکن اس کا معیار عوامی ہی رہا۔ اہل دہلی کے محاورہ اور جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں پر بولی جانے والی زبان ہی کو مستند مانا جاتا تھا۔ میرا اور ان کے ہم عصر شعرا ایک بول چال کی زبان کو شعروں میں ڈھال کر ادبی بتا رہے
تھے اور الفاظ کی نئی صورتیں تشکیل دے کر اظہار و بیان کے لیے وسعتیں پیدا کر رہے تھے اور دوسری طرف فارسی کی او بی روایات سے استفادہ کر کے اسے ریختہ کا حصہ بنا رہے تھے۔ دیگر شعرا سے قطع نظر میر اور سودا کو زبان کے بڑے مصلحین میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان دونوں شعرا نے اردو کو حد درجہ مہذب ، شستہ اور شگفتہ بنانے کی کوشش کی، لیکن خاص کر میر کی زبان دیلی کی عوامی بولی سے قریب رہی ہے۔ اُنھوں نے عوامی بولی کے الفاظ بے تکلف اپنی شاعری میں استعمال کیے ہیں۔ وہ اس بات سے باخبر تھے کہ زبان کا عوامی چلن ہی سند اور معیار ہوتا ہے اور اس سے زبان میں پچک اور وسعت آتی ہے اور نئے اسالیب کے راستے کھلتے ہیں۔ چنانچہ وہ عوامی بولی کو اپنے مضامین کے ابلاغ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

میر کا شیوه گفتار

میر کو اپنے ذاتی احساسات و جذبات کے اظہار کے لیے ایک ایسی زبان کی ضرورت تھی ، جو عام بول چال کی زبان سے قریب بھی ہو اور جس میں تخلیق کا حسن بھی موجود ہو۔ چنانچہ میرا پنی باطنی کیفیات کو مانوس اور عام بول چال کی زبان ن کے قالب میں پیش کرتے ہیں۔ میر کی زبان عام بول چال کی زبان سے اس قدر قریب ہے کہ اس سے زیادہ قربت کا تصور محال ہے۔ اس لیے ان کا تخلیقی عمل ایک ایسی سطح پر جنم لیتا ہے جہاں ان کی شعری واردات قارئین کی شعری واردات بن جاتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ میر دوسرے انسانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ باتیں بھی اس انداز سے کہ کہنے اور سننے والے کے درمیان کوئی فصل ، اجنبیت، تا مانوسیت یا ذہنی اور نفسیاتی بعد قائم نہیں رہتا، بلکہ من وتو کا فرق مٹ جاتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ جو باتیں کرنے کا لب ولہجہ انھوں نے اختیار کیا ہے، وہ کیفیات کو بیان کرنے کا بھی سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں :

شعر میرے ہیں سب خواص پسند

پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

میر اپنی شاعری کو گفتگو ہی کہتے ہیں۔ وہ احساس و جذ بہ کی سطح پر عام و خاص کو یکجا کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاں جذبے، لہجے اور اظہار کا ایک حسین توازن ملتا ہے۔ اسی توازن میں میر کی عظمت اور انفرادیت کا راز پوشیدہ ہے۔ اسی توازن کی وجہ سے ان کے کلام میں اثر آفرینی پائی جاتی ہے۔ میر کے اس تخلیقی عمل کی وجہ سے ڈاکٹر جمیل جالبی نے خیال ظاہر کیا ہے کہ میر کے اشعار کے معنی سمجھے بغیر ہم ان کا اثر قبول کر لیتے ہیں ۔ میر کے شعر کا اثر قاری

تک پہلے پہنچتا ہے اور معنی بعد میں ۔ ان کے چند شعر دیکھیے :

خدا ساز تھا آزر بت تراش

ہم اپنے تئیں آدمی تو بتائیں

ہم دم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

اس کی زلفوں کے سب امیر ہوئے

موت اک ماندگی کا وقفہ ہے

یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

وی سے انتظار ہے اپنا

آگے کیو کے کیا کریں دست طمع دراز

وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے

میر کی اس انداز کی شاعری کا اثر معنی سے پہلے قاری تک پہنچتا ہے۔ میر اپنے تخلیقی عمل سے افکار و خیالات کو احساس اور جذبہ میں تبدیل کر دیتے ہیں اور پھر اسے ایسی عام فہم زبان میں بیان کرتے ہیں کہ اثر انگیزی ان کی شاعری کی بنیادی صفت بن جاتی ہے۔

میر کا شاعرانہ لب ولہجہ

میر کے انداز کی نمایاں خصوصیت ان کا لب ولہجہ ہے۔ تاہم میر کی شاعری جتنی سادہ اور دلکش ہے ، اتنی ہی بانکی اور تیکھی بھی ہے۔ اس میں جتنی نرمی اور گداز ہے، اتنی ہی تھی اور صلابت بھی موجود ہے۔ تخلی اور شیرینی ، نرمی اور گرمی کے اس امتزاج میں ان کی شخصیت کا جادو بول رہا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کی انفرادیت کے سبب دوسروں سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے لہجے میں مسکینی بھی ہے اور ایک وقار بھی ، محبت بھی ہے اور طنر کی تختی بھی۔ شکستہ دلی بھی ہے اور باطنی رفعت بھی ۔ سادگی بھی ہے مگر پستی نہیں ہے۔ ان کا لحجہ عام انسانوں کے لیے پسندیدہ ہے۔ جس طرح ان کے موضوعات عام انسانی جذبات کو متاثر کرنے والے ہیں ، اسی طرح ان کا طریق انتہار بھی خاص و عام کے لیے دل کشی کا باعث ہے۔ ویسے تو میر کے کلام میں فارسیت اور مشکل و نامانوس الفاظ بھی ملتے ہیں ۔ ان کے بعض موضوعات بھی طبقہ خاص سے متعلق ہیں، اس لیے خواص بھی ان کے کلام کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ خواص اس لیے کہ مناعتی نقطۂ نظر سے بھی میر کی شاعری پاید، اعتبار سے گری ہوئی نہیں ہے۔ اُنھوں نے ایسے مضامین بھی بکثرت منظوم کیے ہیں، جو طبع انسانی کے قریب ہیں اور ایسے انداز سے باندھا ہے جو مانوس اور فطری ہے۔ لہجہ عام کی پیروی کے طفیل میر کا کلام عام پسند ہوا۔ میر خیالات کو سادہ اور عام زبان میں پیش کرتے ہیں ۔ وقت اور اخلاق سے عموماً پر ہیز کرتے ہیں۔ فارسیت اور روز مزو کے مناسب امتزاج سے اظہار و بیان کے مقبول سانچے تیار کیے گئے ہیں ۔

میر نے فارسی شاعری کی روایت کو اپنانے کے باوجود اردو زبان کو فارسی زبان کا تاج مہمل نہیں بننے دیا۔ اس حوالے سے ان کے ہاں تو ازن ملتا ہے۔ انھوں نے زیادہ تر گلی کوچوں اور جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بولی جانے والی زبان کو برتا ہے۔ عام بول چال کی زبان کو شاعری میں استعمال کر کے انھوں نے شاعری کا تعلق براہ راست معاشرے سے جوڑ دیا اور بول چال کی زبان شاعری میں استعمال ہونے کی وجہ سے نکھر اور سنور گئی اور اس کی قوت اظہار میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ زبان کے سلسلہ میں میر کے ہاں گہرے فنی شعور اور موزوں ترین الفاظ کی تلاش کا احساس ملتا ہے ۔ انھوں نے جذبات و احساسات کو بول چال کی زبان میں سمو کر بیک وقت شاعری اور زبان دونوں کے لیے نئے امکانات روشن کر دیے۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں