مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

Author name: professorofurdu.com

اردو تنقید پر نفسیات کا غلبہ

تنقید پر نفسیات کا غلبہ: حلقہ ارباب ذوق کا تعارف اور اس کا طریق کار ترقی پسندی کا رد عمل، تنقید پر نفسیات کا غلبہ حلقہ ارباب ذوق کا تعارف حلقہ ارباب ذوق کا پہلا نام بزم داستاں گویاں تھا۔ بزم داستاں گویاں کا پہلا جلسہ ۱۲۹ اپریل ۱۹۳۹ء کو ہوا۔ جس میں نسیم حجازی […]

اردو ادب

حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی رویے

حلقہ ارباب ذوق کے تنقیدی رویے: ایک مجموعی جائزہ (۱۹۳۹ء سے ۷۰ کی دہائی تک) حلقہ ارباب ذوق کا قیام ۱۹۳۹ء میں ہوا جس میں شروع میں افسانے اور شاعری پیش کی جاتی تھی۔ اور اس پر وہاں موجود سامعین بے لاگ تبصرہ یا تنقید کرتے تھے۔ یہ ڈگر ادبی حلقوں کو ایسی پسند آئی

ادبی تحریکات, , , , , , , , ,

حلقہ ارباب ذوق مشرقی و مغربی تنقیدی رجحانات اور ارتقاء (۷۰ کی دہائی تک)

حلقہ ارباب ذوق مشرقی و مغربی تنقیدی رجحانات اور ارتقاء (۷۰ کی دہائی تک) حلقہ ارباب ذوق کے بانی مولانا صلاح الدین احمد تھے۔ اردو کے پرانے شعراء نے عربی اور فارسی شعر و نقد سے اکتساب فیض کیا۔ اس روایت کو اردو شاعری اور تنقید میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ فارسی اور عربی کی

ادبی تحریکات, , , , , , , , ,

ریاض احمد حلقہ ارباب ذوق سے وابستہ ایک منفرد نفسیاتی نقاد

ریاض احمد حلقہ ارباب ذوق سے وابستہ ایک منفرد نفسیاتی نقاد ریاض احمد ایک نفسیاتی نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ حلقہ ارباب ذوق میں ان کی شمولیت ۱۹۵۳ء کے اجلاسوں میں نظر آتی ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کے ۲۳ اکتوبر ۱۹۵۳ء کے ایک جلسے کی کارروائی جو کہ دیال سنگھ کالج ہوٹل

ادبی شخصیات (تعارف اور سوانح)

رشید امجد کی تنقیدی بصیرت اور حلقہ ارباب ذوق سے وابستگی

رشید امجد کی تنقیدی بصیرت اور حلقہ ارباب ذوق سے وابستگی فتح محمد ملک نے فیض کو سمجھنے کے لیے روایتی تنقیدی اصطلاحوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ برصغیر میں مسلم ثقافت کے تسلسل میں دیکھا ہے۔ رشید امجد نے فتح محمد ملک کے اس انداز نقد کو سراہا ہے۔ نئی غزل اور رشید امجد

ادبی شخصیات (تعارف اور سوانح)

ریاض احمد نفسیاتی تنقید اور حلقہ اربابِ ذوق میں شمولیت

ریاض احمد نفسیاتی تنقید اور حلقہ اربابِ ذوق میں شمولیت تعارف ریاض احمد ایک نفسیاتی نقاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق میں ان کی شمولیت 1935 کہ اجلاسوں میں نظر آتی ہے۔حلقہ ارباب ذوق کے 23 اکتوبر 1935 کہ ایک جلسے کی کاروائ جو کہ دیال سنگھ کالج ہاسٹل لاہور میں

اردو نثر, , , , , , , , ,

ڈاکٹر جمیل جالبی تنقید، تحقیق اور ادبی خدمات

ڈاکٹر جمیل جالبی تنقید، تحقیق اور ادبی خدمات ڈاکٹر جمیل جالبی ڈاکٹر جمیل جالبی تنقید نگار محقق اور مترجم کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ۱۹۲۹ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے ۔ اور سندھ یونی ورسٹی جام شورو سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی شخصیت اور فن پر

اردو ادب

ترقی پسند ادب اور بیسویں صدی کی خواتین افسانہ نگاروں کی نمایاں خدمات

خواتین ادب کا دوسرا دور خواتین ادب کا دوسرا اور اہم دور تقریباً بیسویں صدی کی تیسری دہائ سے شروع ہوتا ہے اور تقسیم ملک کہ واقعہ کو اس کی آخری حد مانا جاتا ہے۔ اس دور میں کئی خواتین ابھر کر سامنے آئیں جنھوں نے نہ صرف اردو افسانہ نگاروں میں اپنا نام روشن

اردو ادب

آزادی کے بعد کی خواتین افسانہ نگار

آزادی کے بعد کی خواتین افسانہ نگار تاریخی منظرنامہ *——>* *۱۹۴۷* کے انقلاب اور تقسیم وطن نے انسانی ذہن پر ایک کاری ضرب لگائی ، ملک گیر سطح پر فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ چاروں طرف لوٹ مار اور انتشار پھیل گیا۔ لوگ سکون کی تلاش میں نکل پڑے اور انسانی تاریخ کا سب سے

افسانہ, , , , , , , , ,

خاتون اکرم کے افسانے: سماجی مسائل اور نفسیاتی گہرائی

خاتون اکرم کے افسانے وہ ایک ترقی پسند مصنفہ ہیں۔ ان کے افسانے اور مضامین تھپک تھپک کر سلانے والی لوریاں نہیں بلکہ اس میں ایسے اہم مسائل ہیں جو قاری کو احساس تفکر پر آمادہ کرتے ہیں ۔ آرزؤوں پر قربانی ،انقلاب زمانہ ، شہید ستم، اور گلستان خاتون کے، سبھی افسانے اس کی

افسانہ