علامہ اقبال کے افکار پر رومی کے اثرات

کتاب کا نام: علامہ اقبال کا خصوصی مطالعہ،کورس کوڈ:5613،موضوع: علامہ اقبال کے افکار پر رومی کے اثرات،ص:103تا 106،مرتب کردہ:رومیصہ

علامہ اقبال کے افکار پر رومی کے اثرات

انسان کامل

علامہ اقبال کے افکار و تصورات اپنی اساسی حیثیت میں ان کی اولین شعری تصنیف "اسرار خودی” میں ملتے ہیں ۔”اسرار خودی” میں انہوں نے انسانی خودی کے تین مراحل تربیت بیان کئے ہیں جنہیں طے کرنے سے سالک اپنی شخصیت کی تعمیل کر سکتا ہے یہ تین مرحلے اطاعت ،ضبط المسن اور نیابت الہی ہیں۔

اقبال کے نزدیک ان مرحلوں کی تکمیل سے انسان کاملیت کی منزل پا سکتا ہے اور یہی وہ انسان ہے جس کی تلاش میں فطرت سرگرداں رہتی ہے۔

طبع فطرت عمر پادر خون تپسید
تادو بیت ذات اوموزون شود

یہی انسان اس زندگی کا حاصل ہے اور کاروان حیات کے لئے منزل کا درجہ رکھتا ہے نوع انسان ایک کھیت کی مانند ہے تو یہ انسان اس کا ثمر

نوع انسان مزوع و تو حاصل

کاروان زندگی را منزلی

اقبال کے یہ تمام خیالات و افکار جس تمہید سے آغاز ہوتے ہیں اس کا طراز عنوان مولانا روم کے اشعار ہیں، مولانا کی ایک غزل ہے جس میں انہوں نے اپنے شیخ کے ساتھ چراغ لیکر سارے شہر میں ایک انسان کو ڈھونڈنے کا ذکر کیا ہے اور اپنے سست عناصر ہمراہیوں سے مایوسی و دل گرفتگی کا اظہار کیا ہے وہ ایسے انسان کی تلاش میں ہیں جو شیر خدا اور رستم دستان کی طرح قومی ہو۔

ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ جس شے کی تلاش کر رہے ہیں وہ یہاں نہیں ملتی وہ کہتے ہیں ہاں جو شے نہیں مل رہی میں اس کو تلاش کر رہا ہوں، "اسرار خودی” کے آغاز میں درج مولانا کی غزل منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

دی شیخ با چراغ همی گشت گرد شهر

کز دام و در ملولم دانسانم

آرزوست

زین همربان سست عناصر رسم گرفت

شیر خدا و رستم دستانم آرزوست

گفتم کے بافت می نشو وجته ایم سا

گفت آنکه یافت می نشود آنم آرز دست
مولانا روم کی یہ غزل نو اشعار پر مشتمل ہے۔” اسرار خودی” کے آغاز میں محولہ بالا تین اشعار درج کئے گئے ہیں۔ علامہ کو مولانا کے یہ اشعار اس قدر پسند ہیں کہ انہوں نے ایک بار پھر اپنے کلام میں یہ غزل دھرائی ہے اور وہ مقام "جاوید نامہ” کی تمہید زمینی ہے

جہاں یہ مکمل غزل موجود ہے یہاں ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ "اسرار خودی” علامہ کی پہلی کتاب ہے جو ۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی اور” جاوید نامہ "ان کی آخری عمر کی تصیف ہے جو ۱۹۳۲ء میں شائع ہوئی اور جس میں ان کا فکر اور فن اپنی رفعتوں کو چھورہا ہے۔ گویا علامہ کے ہاں رومی کا سا انسان کامل کا تصور آغاز سے لیکر ان کی نظر سے تکمیلی مراحل تیک موجود رہا اور ان کے ہاں یہ تمنا کروٹیں لیتی رہی کہ

ای سوار اشہب دوران بیا

ای فروغ دیدہ امکان بیا

خودی

علامہ اقبال کے افکار و تصورات میں تصور خودی کی حیثیت نیوکلیس کی سی ہے۔ خودی کا تصور ان کے ہاں شروع سے آخر تک زندگی کے ہر مرحلے میں چمکتا دکھائی دیتا ہے یہ خیال درست نہیں کہ علامہ کے ابتدائی کلام میں خودی کا تصور موجود نہیں تھا کہ گزشتہ سطور میں بتایا گیا

اولین شعری تصنیف "اسرار خودی” کا آغاز ہی تربیت کو دلی سے تین مراحل سے ہوتا ہے ان کی یہی کتاب ہے جو اول اول ڈاکٹر نکلسن کے انگریزی ترجمے Secrets of the self کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہو کر مغربی دنیا میں اقبال کے تعارف کا ذریعہ بنی اور خود اقبال نے جس ترجمے پر اصلاح دی علاوہ ازیں ان کے اردو کلام کے اولین بحر کے بانگ درا کی نظم طلوع اسلام کے یہ اشعار دیکھئے

تو راز کن نکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا

خودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہے

نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں پر جا

ڈاکٹر محمد رفیع الدین مرحوم نے اپنی کتاب "حکمت اقبال” میں خوبی کے ساتھ اس بات کو واضح کیا ہے کہ اقبال کے یہ افکار و تصورات کے مسلسل نظر یہ خودی کے ساتھ مربوط و مستقل ہیں ۔ خودی کا تصور اقبال سے قبل موجود تو تھا لیکن منفی معانی میں صوفیا اس سے غرور و تکبر مراد لیا کرتے تھے اور اسے ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیتے تھے

اقبال نے پہلی مرتبہ اس لفظ کو مثبت معانی عطا کئے اور اس سے مراد عرفانی ذات اور حیات و کائنات میں اپنے مقام کی پہچان متعین کئے ۔ مولانا روم کے ہاں بھی خودی کا تصور تعلیم فنا کے رو کی صورت میں ملتا ہے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے خیال ظاہر کیا ہے کہ :

"اقبال کا نظریہ خودی جو اقبال کے کمال کی وجہ سے اس کا اپنا بن گیا ہے اس کے بنیادی تصورات بھی رومی کے ہاں ملتے ہیں ۔” گویا اقبال کے ہاں تصور خودی اپنی ارتقائی شکل میں سامنے آیا ہے اور اگر اس کا بنیادی تصور انہوں نے مولانا سے اخذ کیا تو بھی اسے اتنا چمکا دیا کہ اب آ مبینہ تندی صہبا سے پکھل کر کچھ سے کچھ ہو گیا ہے۔

تقدیر

ادبیات اسلامیہ میں جبر و قدر کا مسئلہ بہت قدیم اور پیچیدہ مسئلہ شمار ہوتا ہے یعنی انسان اس دنیا میں اپنے اعمال میں آزاد و خود مختار ہے یا مجبور محض اس مسئلے پر تاریخ اسلام میں جبریہ اور قدریہ کے نام سے دو مستقل گروہ موجود ہیں جبریہ دنیا میں انسان کے اپنے اعمال میں مجبور محض ہونے قائل ہیں اور قدر یہ سمجھتے ہیں

کہ انسان فعال و خود مختار ہے۔ جبریہ کا استدلال بالعموم حدیث "جف القلم” سے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” قلم تقدیر لکھ کر خشک ہو چکا ہے اس نے لکھ دیا ہے کہ اطاعت اور نافرمانی امانت اور چوری، شکر اور کفر برابر نہیں ہو سکتے اور قلم یہ لکھ کر خشک ہو چکا ہے کہ بے شک اللہ نیکیوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔“

مولانا روم کے نزدیک اس حدیث کے معنی یہ نہیں ہیں کہ یہ اصول بنا کر اصول بنانے والا خود پابند و مجبور ہو گیا ہے بلکہ ان کے نزدیک اللہ کے کارخانے میں معافی اور درگزر عفو و کرم جرم کے باوجود راستہ کھلا رکھنے کی صفات بھی موجود ہیں

عمومی اصول سے تو چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن اللہ کی رحمت سے فضیل جیسا ڈا کو جب راست کی طرف بڑھتا ہے تو وہ حضرت فضیل بن جاتا ہے اس لئے انسانوں کے مراتب ان کی اپنے خالق کے ساتھ وفا شعاری کے مطابق ہیں۔ مولانا کہتے ہیں۔

معنی بین الحکم کی آن بود کہ جفا یا با وفا یکسان بود

بل جفا راہم جفا جف القلم

وان وفا را هم وفا بف القلم

جف القلم ( قلم لکھ کر سوکھ چکا ) کے یہ معنی کب ہیں کہ قلم وفاداری کے برابر ہوتا ہے بلکہ جف القلم کے یہ معنی ہیں کہ ظلم کا بدلہ ظلم ہے اور وفا کا بدلہ وفا۔ تقدیر سے متعلق مولانا ایک متوازن نظریہ رکھتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ میں نہ خود کو مختار کہہ سکتا ہوں نہ مجبور بلکہ در حقیقت میں تو ایک انقلاب انگیز خاک زندہ ہوں ۔ اشعار ملاحصہ ہیں۔

نہ مختارم تو ان گفتن نہ مجبور
کہ خاک زندہ ام در انقلابم

چہ گویم از چگون و بی چگونش
بردن مجبور مختار اندرونش
چنین فرموده سلطان بدر است
کہ ایمان در میان جبر و قدر است
علامہ اقبال کا تصور تقدیر مولانا کے مقابلے میں کچھ آگے کی بات سمجھاتا ہے علامہ نے جبر و قدر کے مسئلے کواپنی اولین تصنیف "اسرار خودی” ہی میں نہایت صفائی کے ساتھ یوں حل کیا تھا کہ

در اطاعت کوش ای غفلت شعار
می شود از جبر پیدا اختیار

اے غفلت شعار اطاعت میں (آگے بڑھنے کی کوشش کر کے اطاعت کی خاطر سے تو اپنے آپ پر جو جبر کر رہے گا وہ جبری تجھے صاحب اختیار بنا دے گا یہ تو مسلے کی ایک صاف اور واضح صورت ہے علامہ تقدیر کا ایک اور تصور بھی رکھتے ہیں اور وہ یہ کہ خدا کے پاس تقدیرات متعدد ہیں اور وہ کسی انسان کو ایک تقدیر دینے کا پابند نہیں ہے یہ انسان کی کوشش و کاوش پر منحصر ہے کہ وہ اپنی پسند کی کون سی تقدیر چن لیتا ہے۔

علامہ اپنے افکار کی اساس چونکہ قرآن کریم کو قرار دیتے ہیں اس لئے ملت کی اجتماعی تقدیر سے متعلق بھی انہوں نے یہی اصول بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات ان "الله لا يغير ما بقوم حتى يغيرو اما بانفسهم الرعد” کا حوالہ دیا ہے۔

ترجمه:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا”
تقدیروں کے متعدد ہونے کا تذکرہ انہوں نے اس طرح سے کیا ہے

گرز یک تقدیر خون گرد و جگر

خواه از حق حکم تقدیر دگر

تو اگر تقدیر نو خواہی رواست

زانکہ تقدیرات حق لا انتہاست

ار باریکش بحرنی مضمر است

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں