سعادت حسن منٹو اور افسانہ نیا قانون|
تحریر بنت حوا، حنظلہ اور عبدالباسط
موضوعات کی فہرست
سعادت حسن منٹو کا شمار اردو ادب کے ان ادیبوں میں کیا جاتا ہے ہے جو انفرادیت پسندی کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیا قانون کا فنی و فکری تجزیہ
بلاشبہ وہ آج بھی اردو کے اہم اور متنازع افسانہ نگار ہیں۔ انہون نے اپنے افسانوں میں معاشرے کے دوہرے معیار، ظاہرداری، اخلاقی اور مذہبی قدروں کے تضادات اور مجموعی استحصالی رویے کو بے نقاب کیا ہے۔
نیا قانون منٹو کا شاہکار ہے جو 1938 کو رسالے ہمایوں میں شائع ہوا افسانے کا مرکزی خیال انقلاب ہے اور یہ خیال ہے کہ نیا قانون کے آتے ہی ہندوستان کو آزادی مل جاہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں آزادی کی بازگشت
منٹو کا یہ شاہکار افسانہ وقت کی قید و بند سے آزاد ہے۔یہ اگرچہ 1938 میں لکھا گیا تھا لیکن طرز بیان کی اثر انگیزی اور موضوع کی انفرادیت کے تحت اس افسانے کو جو افادیت اور ابدیت حاصل ہوئی اس سے یہ افسانہ عالمی ادب کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منٹو کے غیر مطبوعہ افسانے
افسانہ نیا قانون کا پس منظر
نیا قانون اس دور کا افسانہ ہے جب ہندوستان کی فضا سیاسی طور پر گرم تھی۔ عوام جوش و خروش سے آزادی کی تحریکوں میں حصہ لے رہے تھے۔
افسانہ نیا قانون ناقدین کی نظر میں
ابو اللیث صدیقی نیا قانون کے بارے میں لکھتے ہیں:
"یہ ہماری سیاسی جدوجہد کے دور کا ائینہ ہے جس میں ہماری ارزوئیں اور امنگیں تمنائیں اور ناکامیاں جھلکتی ہیں”
ڈاکٹر انوار احمد کے بقول:
"نیا قانون اردو کے شاہکار افسانوں میں سے ہے یہ افسانہ 1938 کے ہمایوں میں شائع ہوا اور اس میں برطانیہ کی ان آئینی مراعات پر زہر خند کی برق پاشی کی گئی ہے جو 1935 کے ایکٹ کے تحت نو آبادی کی رعایا کو دی گئی تھی”
ڈاکٹر نگار عظیم اس افسانے کے بارے میں لکھتی ہیں:
"نیا قانون موضوع ماحول جزیات نگاری اور فکری بصیرت کے باعث ایک لازوال افسانہ ہے۔اتنا ہی نہیں نیا قانون اس زمانے کی سیاسی جدوجہد عوام کی معصومیت مظلومیت اور محرومیت کا ترجمان ہے۔اردو ادب میں منگو کوچوان ہمیشہ زندہ رہے گا”
یہ بھی دیکھیں: منٹو کے خطوط
افسانہ نیا قانون کا مرکزی خیال
اس افسانے کا مرکزی خیال ایک عام آدمی کے دل و دماغ میں آزادی کے حصول کی تمنا اور اپنے محدود دائرے میں رہتے ہوئے آزادی کی جدوجہد میں اپنا حصہ ادا کرنے کا جذبہ ہے۔
نیا قانون آتے ہی ہندوستان کو آزادی مل جائے گی اور لوگ انگریز اقتدار سے نجات حاصل کر لیں گے۔اس خیال کو داخلی اور خارجی کشمکش کی صورت میں ابھارا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسان ابلیس یا فرشتہ منٹو کا زاویہ نگاہ
افسانہ نیا قانون کا مرکزی کردار
اس افسانے کا مرکزی کردار ایک تانگے کا کوچوان منگو ہے۔اس کردار کی زبانی منٹو نے گورنمنٹ انڈیا ایکٹ 1935 کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
وارث علوی کے بقول:
"افسانہ کی جان منگو کوچوان کا کردار ہے۔ایک عام ادمی اور بالکل معمولی آدمی میں دلچسپی کے اتنے پہلو پیدا کرنا منٹو کے کردار نگاری کا امتیازی وصف ہے”۔
افسانہ نیا قانون کا موضوع
افسانہ نیا قانون میں منٹو نے آزادی کو موضوع بنایا ہے نیا قانون اصل میں غلام معاشرے کے اندر دبی ہوئی اس خواہش کو سامنے لاتا ہے جو لاشعوری طور پر آزادی کی علامت ہے۔
سیاسی حالات کی تصویر کشی
افسانہ نیا قانون کے بارے میں ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں:
"نیا قانون یوں دیکھنے کو ایک کوچوان استاد منگو کے خیالات اور چند حرکات و سکنات سے متعلق ایک کہانی ہے۔لیکن اس کو پیش کرتے ہوئے منٹو نے اس زمانے کی سیاسی حالت سے جس کشمکش کو پیدا کیا ہے۔اس کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔
لیکن کوئی ایسی بات نہیں جس سے اس کشمکش کا کوئی حل بھی نکل سکے۔”
ہندوستانیوں کی سادہ لوحی
اس افسانے کا مرکزی کردار منگو کو چوان سادہ لوح عوام کی علامت ہے ۔خوابوں پر یقین کرنا اس کی اس سادہ لوحی کا ثبوت ہے۔منگو ایک بہت عقل مند آدمی سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کی تعلیمی حثیت کچھ بھی نہیں تھی ۔
انقلابی نقطہِ نظر
اس افسانے کو ترقی پسند نفاذ اس زمرے کا بہترین افسانہ قرار دیتے ہیں ۔
اس سلسلے میں خلیل الرحمٰن لکھتے ہیں:
"نیا قانون ایک انقلابی افسانہ ہے اور اس دور کے تمام ترقی پسند انتخابات میں اسے جگہ دی جاتی ہے۔اس افسانے میں سیاسی شعور چاہے خام ہو اور اس زمانے میں عام ترقی پسند ادیب اسی سیاسی سطح پر تھے۔
لیکن اس افسانے کی سب سے بڑی خصوصیت منگو کو چوان کی زبان سے جو باتیں کہلوائیں ہیں وہ خود افسانہ نگار کے خیالات نہیں معلوم ہوتے بلکہ اس کو چوان کے سیاسی رد عمل اور اس کی ذہنیت کی فطرت عکاسی کرتے ہیں ۔
افسانہ نیا قانون ایک طائرانہ نظر میں
نیا قانون سعادت حسن منٹو کا شاہکار افسانہ ہے۔اس کا مرکزی کردار منگو کو چوان ہے۔
جو ناخواندہ ہے مگر چوان برادری اسے اپنا استاد تسلیم کرتی ہے۔منٹو کا یہ افسانہ قید و بند سے آزاد ہے یہ اگر چہ 1938 کو لکھا گیا تھا لیکن اس کے طرز بیان کی اثر انگیزی اور موضوع کی انفرادیت کے تحت اس افسانے کو جو افادیت اور ابدیت حاصل ہوئی اس سے یہ افسانہ عالمی ادب کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
نیا قانون اس زمانے کی سیاسی جد وجہد عوام کی معصومیت مظلومیت اور محرومیت کا ترجمان ہے۔
منٹو نے منگو کو چوان کی نفسیات کا بخوبی تجزیہ کیا ہے۔
سماج کا ایک ایسا دبہ کچلا اور روانہ محنت مزدوری کر کے پیٹ پالنے والے شخص منگو کا کردار ٫نیا قانون،لاگو ہونے کی خبر سے انقلابی ہو جاتا ہے اور اپنے حقوق کے لیے نہ صرف احتجاج کرتا ہے نہ صرف چیختا چلاتا ہے
بلکہ ان حدود کو پار کر کے وہ تشدد کا مظاہرہ کرتا جس کے باعث وہ جیل کی ہوا کھانے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں