فیض احمد فیض کی مضمون ادب اور جمہور کا تنقیدی جائزہ | Faiz Ahmad Faiz ke Mazmoon "Adab aur Jamhoor” ka Tanqeedi Jaiza
مضمون ’’ادب اورجمہور‘‘بھی عوامی ادب اورجمہورکےبارےمیں لکھاگیاہےاورفؔیض نےتجزیاتی اندازاپناتےہوئےکہاہےکہ بعض لوگوں کاخیال ہےکہ پرانےزمانےمیں ادب کاکوئی تصورنہیں تھا۔فیض کاکہناہےکہ یہ بات غلط ہےکیوں کہ ادب کاوجودعوام اورعوامی سوچ سےقبل بھی موجوددکھائی دیتاہے۔
ان کےمطابق ادب کی ابتدائی شکل اورابتدائی نوعیت کچھ یوں تھی کہ اس میں دیوی،دیوتاؤں اورپری ومافوق الفطرت عناصروغیرہ پائےجاتےتھے۔اس ادب میں حقیقت پسندی اورواقعیت کےبجائےفراریت وروحانیت کاعنصرغالب تھا۔اس حوالےسےلکھتےہیں:
’’اس پرانےعوام کےادب کےمتعلق دوباتیں قابل ذکرہیں۔اول تواس ادب پرواقعیت اورحقیقت پسندی کےبجائےروحانیت اورفرارکاعنصرغالب تھا۔اس میں عوام کےروزمرہ دکھ درداوران کےبنیادی مسائل کاذکربہت کم آتاتھا۔
اس میں بیشتردیوی دیوتاؤں کےبھجن اورپرارتھنائیں،جنوں اورپریوں کےقصے یاپرانے سورماؤں کی داستانیں ہوتی تھیں۔اورانہیں شمعوں سےعوام اپنےحال اورمستقبل کی تاریک رات کوچندلمحوں کےلئےاجاگرکرلیاکرتےتھے۔دوسری بات یہ ہےکہ اس ادب کافنی درجہ کچھ بہت بلندنہیں ۔اس لئےاسےادب کی سرکاری مستندتاریخوں میں مشکل ہی سےجگہ ملتی ہے۔اس میں خروش اورتنومندی توہےباریکی وصناعی نہیں ہےاوراس کی وجہ ظاہرہے۔ہرفن تکمیل اورترقی کےلئےوقت اورفراغت چاہتاہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض احمد فیض کے فرانسیسی تراجم
اوریہ نعمتیں عوام کومیسر نہیں، امراء کے پاس دولت بھی تھی اورفراغت بھی۔چنانچہ جوادب ان کےسائےمیں پروان چڑھااسےامراء کے محلات کی طرح ہرطرح کی آرائش وزیبائش ،ہرطرح کابناؤ سنگھار نصیب ہے۔‘‘(۱)
فؔیض کویہ گلہ ہےکہ ادب کاجوصحیح کام ہےادباوشعرانےاس کاحق ادانہیں کیابلکہ انھوں نےحالات کےمطابق ادب کوسا نچےمیں ڈھالنےکی کاوش کی ۔اس مضمون میں انھوں نےقدیم ادب وادباکی تخلیقات وسوچ کوآشکاراکیاہےکہ وہ ابتدامیں حقیقت پسندی کےبجائےیااپنی ذات کےحوالےسےیااپنےسرپرستوں کی زندگی کی عکاسی کیاکرتےتھےیعنی طبقاتی نظام ادب میں بھی اپنی جگہ بناچکاتھا
اورادباس کےسامنےبالکل بےبس تھےاوران کاکوئی واضح مقصدنہیں ہواکرتاتھالیکن اس کےبرعکس جدیدادباچاہےوہ کسی ادب کےکیوں نہ ہوکےہاں ہمیں نئےموضوعات اورمختلف طرائق نظرآتےہیں۔
فیض احمدفؔیض نےبنیادی طورپراس مضمون میں ادب کی حقیقت پسندانہ پہلوپرزیادہ زوردیاہے اور مختصراًاندازمیں موجودہ دورکےعلاوہ ماضی کےدورمیں ادب کی ماہیت،ادباکےفرائض اورادبی تنقیدکاتجزیہ کیاہے۔ان کےمطابق ابتدامیں ادب کی نوعیت کچھ یوں تھی کہ ادباوشعراکےہاں ہمیں محلات،ڈرائنگ روم اورشاہانہ فضاکی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ل
ہٰذاس دورکےادباوشعراکےہاں زبان بھی پرشکوہ نظرآتی ہےجب کہ ترقی پسندی کےبعدیعنی یہ عوام میں جب یہ شعوراجاگرہواتوزبان وادب کی ساخت میں تبدیلی رونماہوئی اورابتدامیں جوجگہ شعرکی تھی وہ توقائم ہےلیکن مختصرافسانہ انتہائی پُرکشش بن گیاکیوں کہ اسی افسانےمیں جوابتدامیں نوابوں اورامراکی زندگی کی عکاسی کی جاتی تھی اب اس میں غریب عوام کی فاقہ کشی،غربت،بھوک وافلاس اورزندگی کےنشیب وفرازکوسلیس وآسان اندازمیں بیان کیاجاتاتھا۔اوراس کی اصل وجہ ایک طبقےکازوال اوردوسرےطبقے کاعروج ہےیعنی متوسط طبقہ اورغریب طبقہ اب باشعورہوچکاہےاوراسےآگاہی ہوچکی ہےہرحوالےسے۔چنانچہ مضمون کےآخرمیں رقم کرتےہیں:
’’اس میں شک نہیں کہ ابھی تک خودعوام میں بہت بلندمرتبہ ادیب پیدانہیں ہوئےاوران کےتجربات کی ترجمانی ایک دوسراطبقہ کررہاہےلیکن یہ ہمیں یہ نہیں بھولناچاہئےکہ ابھی عوام کےعروج کی ابتداہےاورہردرمیانی دورمیں ایک ابھرتےہوئےطبقہ کورہنمائی کےلئےکسی زیادہ ترقی یافتہ طبقہ کےافرادکی ضرورت پڑتی ہے۔اس میں خطرہ یہ پیداہوتاہےکہ پرانےطبقے کےافرادبعض اوقات اس نئےطبقےسےمکمل ذہنی اورجذباتی موافقت پیدانہیں کرسکتےاس لئےان کی تحریروں سےکچھ تصنع،کچھ سطحّیت کااحساس ہوتاہے۔
یوں بھی ہوتاہےکہ وہ اس نئےطبقےسےاپنی وفاداری کااظہار کرنےکےلئے اپنے امیر اجداد کی طرح سماجی حقیقت کودوبارہ ایک ہی طبقہ تک محدودکرلیتےہیں۔جس طرح پرانےادب میں نواب ہی نواب دکھائی دیتےہیں اسی طرح نئےادب کےمطالعہ سےیہ محسوس ہوتاہےکہ سماج میں عوام کےعلاوہ کوئی طبقہ موجودہی نہیں اس طرح سماج کاخاکہ ادھورااور غیر مکمل رہ جاتاہے۔‘‘(۲)
یہ بھی پڑھیں: فیض احمد فیض صدی نمبر منتخب مضامین
چوں کہ فؔیض کےمضامین کاتجزیہ کیاجارہاہےتوان پرایک مضمون ڈاکٹرسلیم اخترنے لکھا ہے جس میں انھوں نےفیض کےشعروادب کےنظریےاوران کےموقف کوواضح کرنےکی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر سلیم اخترنےمضمون کےابتداہی میں کہاہےکہ فیض بنیادی لحاظ سےایک شاعرتھےنہ کہ نثرنگار۔
ان کاخیال ہےکہ فیض کی نثرہمیں جہاں کہیں دیباچے،فلیپ یاخط وغیرہ میں نظرآتی ہےاس میں ان کاکوئی واضح تصوردکھائی نہیں دیتالیکن البتہ ان کےمضامین کامجموعہ’’میزان‘‘اس معیارپرپورابھی اترتاہےاوروہاں انھوں نےاپنےنظریات کی توضیح پیش کی ہے۔ڈاکٹرسلیم اختراپنےمضمون’’فیض کاتصورادب’’میزان‘‘کی روشنی میں‘‘رقم طرازہیں:
’’فیض صاحب پیشہ ورنقادنہ تھےلیکن ایک صاحب فہم دانشورہونےکے ساتھ ساتھ وہ زندگی ،تاریخ،عصراورادب کےبارےمیں مخصوص تصورات کےحامل بھی تھے۔یہ تھےزندگی اورادب کےبارےمیں ترقی پسندانہ تصورات۔ان تصورات نےجہاں تخلیقی سطح پران کی شاعری میں اظہارپایا وہاں ان کےتنقیدی مقالات میں منطقی استدلال کےلیےاساس بھی مہیاکی۔ یوں دیکھیں توفیض کی شاعری اورتنقیدان کی تخلیقی شخصیت کےسکےکے دورخ ہیں۔‘‘( ۳)
ڈاکٹرسلیم اخترنےفیض کےتقریباًتمام مضامین پرروشنی ڈالی ہےاورہرایک مضمون سےکوئی نہ کوئی ایساپہلولازم تلاش کیاہےجس سےفیض کااپنانظریۂ ادب وا ہوتاہے۔اوریہ نظریہ دراصل ترقی پسندادب کاہی نظریہ ہے۔فیض کی شخصیت کے عناصرترکیبی بھی اہمیت کی حامل ہےاسی سےفکرکے چشمے پھوٹتے ہیں،اس لیےڈاکٹرسلیم اختراس کاتجزیہ کرتےہوئےلکھتےہیں کہ:
’’بحیثیت نقادفیض صاحب کااسلوب ان کی شخصیت کےعناصرترکیبی کامظہرہے،میانہ روی،صلح پسندی،انتہاپسندی سےپرہیزاور رائے کے اظہار میں افراط وتفریط سےگریزاوربحیثیت مجموعی مزاج کادھیمااندازیہ سب میزان کےمقالات کےاسلوب سےعیاں ہیں۔انہوں نےاپنےموقف کو قطعی مگرمنطقانہ استدلال سےپیش کیا۔انہون نےدلائل کاسہارالیا،جارحانہ اندازنہ اپنایاحالانکہ وہ اس زمانےمیں لکھ رہےتھےجب تحریک اعتراضات کاہدف تھی لیکن انہوں صرف اپنی بات کےلیےتیقین آمیزیادشنامی اسلوب نہ اختیارکیا،نہ ہی دلیل پرفقرہ بازی کوترجیح دی،صرف ٹھنڈےٹھاراسلوب میں بات کی۔‘‘(۴)
یہی وجہ ہےکہ اشفاق حسین مجموعی طورپرفیض کی تنقیدکاجائزہ لیتےہوئےاس نتیجےپرپہنچتےہیں کہ:
’’۔۔۔فیض صرف شاعرانہ اظہارہی میں نہیں بلکہ اپنےمرتب افکارکی روشنی میں بھی ایک بالغ نظرترقی پسندادیب تھے۔انہوں نےجہاں ایک طرف عالمی ادب کامطالعہ کیاتھاوہیں اپنی زبان میں لکھےجانےوالےادب کےدھارےکوبھی خوب پہچانتےتھے۔چنانچہ یہی وجہ ہےکہ کسی بھی موضوع پررائےدیتےوقت ان کےیہاں کوئی ابہام نظرنہیں آتا۔جیساوہ وہ سوچتےتھےویساہی بیان کرنے پر انہیں مکمل قدرت تھی اوران کامجموعۂ مضامین ’میزان‘اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔‘‘(۵)
ان کےمضامین کاجائزہ لیتےہوئےاس بات کی وضاحت بھی کرنےکی ضرورت ہےکہ فیض کےمضامین کےمجموعہ ’’میزان‘‘کودیگرترقی پسندوں کےبرعکس مقبولیت کیوں نہ ملی۔اس حوالےسے صلاح الدین اپنےمضمون’’میزان‘‘ایک مطالعہ‘‘میں لکھتےہیں کہ:
’’۔۔۔یہ مضامین اپنےوقت سےبہت بعدمیں شائع ہوئے۔چنانچہ جن موضوعات پران مضامین میں قلم اٹھایاگیاہےوہ ہرچندکہ بنیادی نوعیت کےتھےمگرساٹھ کی دہائی میں اردوتنقیدوجودیت،سرریلزم،ماورائیت اورنئی لسانی تشکیلات جیسےمسائل کےگردگھومتی تھی اورایسےمیں میزان کےمضامین ادبی منظرنامےمیں کوئی خاص رنگ نہ بھرسکے۔‘‘(۶)
لیکن جوبھی ’’میزان‘‘کی اہمیت وافادیت سےانکارنہیں کیاجاسکتا،جیسےکہ صلاح الدین ایوبی نے اسےمولاناالطاف حسین حالی کے’’مقدمہ شعروشاعری‘‘کی طرح ایک اہم دستاویزگرداناہے۔ان کے مطابق فیض کےان مضامین میں نظریاتی بحثیں بھی ہیں اوران کاذاتی نقطہ نظربھی وضاحت کےساتھ موجودہے۔اس پس منظرمیں ان مضامین کےذریعےخودان کےنظریہ ادب کوپرکھا اورسمجھاجاسکتا ہے۔ مثلاًیہ کہ فیض نےنہ صرف اپنی شاعری میں بلکہ تنقیدکی دنیامیں بھی روایت کی پاس داری کاخیال رکھا ہے۔ چنانچہ کسی فن پارےکی تحسین یاتردیدوقت،وہ اس کےسیاق وسباق کوبےحد اہمیت ہیں۔ ’میزان‘کےاوراق میں بکھری ہوئی یہ اصولی باتیں فیض کےشاعرانہ مزاج سےپردہ اٹھاتی ہیں۔‘‘ (۷) بالامضمون’’ادب اورجمہور‘‘میں فیض کہتےہیں کہ ادب ہرزمانےمیں کسی نہ کسی طرح عوام سےربط استوار رہا ہے۔صلاح الدین حیدرکی اس حوالےسےرائےیہ ہے:
’’فیض نےانسان کےاولین سماجی رویوں سےبحث کی ہےاوریہ بتایاہےکہ ادب کاہرزمانےمیں کسی نہ کسی طرح عوام سےربط استواررہاہےلیکن یہاں فیض کی قوت بیان اس مرحلےپرکھٹکتی ہےجب وہ کہتےہیں کہ اُدھر شیکسپیئر پیدا ہوا، اِدھر عرفی ونظیری،اس کےبعدسماج کےبساط پرمتوسط طبقہ کی صف آگےبڑھی۔ ادھر ورڈزورتھ اورڈکنزپیداہوئےادھرحالی اوراقبال۔اوراب جمہورکاطبقہ پیداہورہا ہے۔یہ بیان غورطلب ہے۔جب ایسٹ انڈیاکمپنی پیداہوئی تومغرب میں دولت بڑھی اورمشرق میں گھٹی۔ایک طرف مشین اورپہیےنےنےکرشمہ دکھایااور دوسری طرف افلاس نےڈیرہ لگایا۔مشرق کا متوسط طبقہ نوآبادکاروں کاغلام اور مغرب کامتوسط طبقہ جارحیت کے غرورسےبدمست،لیکن اس موازنےسے جزوی طورپراتفاق کرتے ہوئےیہ تسلیم کیاجاسکتاہےکہ برایابھلاجیسابھی درمیانہ طبقہ انگریزوں کےعہدمیں برصغیرمیں پروان چڑھا،ادب کی نئی جمالیات اوراخلاقیات نے اسی طبقےمیں اپنی جڑیں بنائیں۔‘‘(۸)
ثقافتی اورتہذیبی حوالےسےفیض کےکئی مضامین اس مجموعےمیں شامل ہیں،جس طرح ڈاکٹرجمیل جالبی نےتہذیبی وثقافتی حوالےسےتنقیدی کارنامےسرانجام دیےہیں،اس لحاظ سےکچھ جھلکیاں ہمیں فیض کےہاں بھی نظرآتی ہیں بلکہ احمدندیم قاسمی تواپنےمضمون’’فیض نظریات کاشاعر‘‘میں اس حدتک کہتےہیں کہ:
’’فیض نےپاکستان کوتیسری دنیاکوبلکہ پوری دنیاکوفن اوررجائیت اورانسان کےروشن مستقبل پراعتمادکی صورت میں بہت کچھ دیاہے۔اس کےباوجودفیض کی رحلت کےبعداب تک باربارکہہ چکاہوں کہ فیض کی رخصت سےہم تہذیبی اورثقافتی اورفنی لحاظ سےغریب ہوگئےہیں۔غریب کایہ احساس اس وقت شدت اختیارکرلیتاہےجب ہم یہ سوچتےہیں کہ فیض ایک دوچارسال اورزندہ رہتے تو ہماری تہذیب کچھ زیادہ پرمایہ ہوجاتی اورہماراادبی افق کچھ زیادہ روشن ہوجاتا۔فیض کےجسدخاکی کےزیرخاک چلےجانےسےہمیں اپنےغریب ہوجانےکااحساس ہوتاہےورنہ فیض تواپنابہت کچھ لٹاکرہمیں تہذیبی لحاظ سے بہت امیر،بہت باثروت بناکررخصت ہوا۔‘‘(۹)
فیض کےمضمون’’ہماری تنقیدی اصطلاحات‘‘میں انھوں نےنہ صرف اصطلاح اوراس کےحوالے سے پائےجانےوالےاختلافات پرروشنی ڈالی ہےبلکہ اس سےپیداہونےوالےادبی مسائل کابھی خوب صورتی سےجائزہ لیاہے۔مضمون کےابتداہی میں انھوں نےاپنانقطہ نظرواضح کیاہےاورچندالفاظ و اصطلاحات کاچناؤکرکےاس کی تفہیم بھی کی ہے۔
سب سےقبل انھوں نےتشبیہ واستعارہ پرروشنی ڈالی ہےکہ ان کےمعنی میں توکوئی خاص فرق دکھائی نہیں دیتالیکن محاسن شعراورفنی حوالےسےیہ بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ان کےمطابق آج تک جتنےبھی شعراکےہاں تشبیہ واستعارہ کاجائزہ لیاگیاہےان میں استعاروں وتشبیہوں کی ندرت ورنگینی پرزورِقلم صرف کیاگیاہے۔انھوں نےمزیدوضاحت کچھ یوں کی ہےکہ تشبیہ واستعارہ کی اہمیت راستےکی ہےنہ کہ منزل کی،کیوں کہ راستےکی اہمیت تب ہوتی ہےجب منزل موجودہو،منزل کےبغیرراستےکاتصورممکن نہیں ،لہٰذاتشبیہ واستعارہ صرف راستہ ہے۔شاعرجس تجربے کو اشعارکے جامے میں پیش کرتےہیں توبراہ راست پیش کرنےکےبجائےوہ تشبیہ واستعارہ کاسہارااس لیےلیتاہےکہ کم الفاظ میں بڑی بات سمیٹی جائےاورابلاغ کاحق بھی اداہو۔اس حوالےسےانھوں نےغاؔلب کاحوالہ دیاہےاورتوضیحٰ اندازاپناتےہوئےکہاہےکہ:
’’بہت سےنقادکہتےہیں کہ غاؔلب کی عظمت کارازاس کی اچھوتی تشبیہوں اورجدیداستعاروں میں پوشیدہ ہے۔اگرہم کہتےنہیں ہیں توسمجھتےضرورہیں کہ ایک شاعرمحض تشبیہوں اوراستعاروں کےبل پربھی بڑا شاعربن سکتاہے،تشبیہ اوراستعارہ کی اہمیت جاننےسےپہلےہمیں ان کی صحیح نوعیت معلوم کرنی چاہئے، شاعر اپنےتجربےکی کوئی اکائی پڑھنےوالےتک پہنچاناچاہتاہےاس اکائی کی وضاحت کےلئےاسےموزوں الفاظ نہیں ملتےچنانچہ وہ اسےایک مختلف اکائی میں تبدیل کردیتاہے۔ اگر غور سے دیکھا جائےکہ فلاں چیزایسی ہے، وہ یہ کہتاہےکہ فلاں چیزجیسی ہے۔ اگر غورسےدیکھاجائےتویہ قدرت کلام کامظاہرہ نہیں عجزکااظہار ہے۔‘‘(۱۰)
تشبیہ واستعارہ کےمتعلق ان کانظریہ یہ ہےکہ اصل شےمضمون یاخیال ہےنہ کہ تشبیہ واستعارہ یعنی منزل اہم ہےنہ کہ راستےکی دل فریبی ورنگینی۔تشبیہ واستعارہ کووہ ایک آلہ یافقط راستہ قراردیتےہیں،اورکوئی شاعرکی عظمت کارازہرگزاس میں نہیں پوشیدہ۔ان کاخیال ہےکہ ادب برائےادب کی طرح تشبیہ برائےتشبیہ یااستعارہ برائےاستعارہ کانظریہ غلط اورگمراہ کن ہے۔
اسی مضمون میں وہ سلاست،بےساختگی اورروانی کی توضیح بھی کرتےہیں کہ سلاست سےمرادمحض الفاظ کی سادگی وآسانی نہیں بلکہ سلیس کلام یاشعروہ ہےجس میں خیال آسانی سےقارئین تک پہنچایا گیاہو، حالاں کہ ہم سلاست سےمرادیہ لیتےہیں کہ سلیس کلام وہ ہےجس کےالفاظ مانوس ہواورہم الفاظ ہی کی بدولت اسےسلیس قراردےیہ بات درست نہیں۔یعنی وہ الفاظ کی بجائےمطلب آوری پرتوجہ مرکوز کرتےہیں۔وہ کہتےہیں کہ سلیس شعرتووہی ہوناچاہئےجس کامطلب آسانی سےذہن میں آجائے۔‘‘(۱۱) روان اوربےساختہ تحریرکےمعنی بھی وہ یہی لیتےہیں کہ روانی الفاظ کی نہیں ہوتی بلکہ حرکت توپڑھنے والے کا ذہن کرتا ہےاوربےساختہ تحریروہ ہےجس میں کوئی تصنع،بےجانمائش اورکوئی آوردمحسوس نہ ہو۔غاؔلب کےاشعار’’دلِ ناداں تجھےہوا کیاہے‘‘وغیرہ کوبےساختہ قراردیاجاتاہےتوفیض کہتے ہیں کہ اقبؔال کےان اشعار’’ستاروں سےآگےجہاں اوربھی ہیں‘‘کوکیوں سلیس قرارنہیں دیاجاتاہے۔ یہاں بھی وہی بالاسطورکی بات لاگوہوتی ہے۔اس کےعلاوہ انھوں نےشوخی وظرافت،سوزوگداز،تصوف،بندش،قافیہ،معاملہ بندی،صنائع وبدائع اورمضمون آفرینی وغیرہ پربھی روشنی ڈالی ہےاوراپنانظریہ ان کےمتعلق واضح اندازمیں پیش کیاہے۔
’’فنی تخلیق اورتخیّل‘‘کےنام سےجوانھوں نےمضمون لکھاہےاس کی ابتدامیں مصحؔفی،انؔیس اورغاؔلب کےاشعاردرج کیےہیں اوران کی تشریح کی ہے۔اوراس حوالےسےہی تخیل وفن کی تعریف کی ہے۔ان کےمطابق مشاہدہ،یادداشت،تصور،جذبہ،تفکر،اورصناعت،انہیں اجزاءمیں سےانتخاب، تجدید، ترتیب اورتزئین کےبعدفن صورت پذیرہوتاہےاورفنی پیکرظہورمیں آتےہیں۔‘‘(۱۲)وہ تخیل کوایک تخلیقی قوت قراردیتےہیں خواہ فن کی صورت میں اس کااظہارہویانہ ہو۔انھوں نےایک بچےکی مثال دی ہےکہ ایک بچہ کسی دیواروغیرہ پربلی یاچچاچھکن کی تصویریں لکیروں کی صورت میں کھنچتاہےتواصل میں اس بچےنےان اشیاکوروزمرہ زندگی میں اپنےمشاہدےسےگزاراہےاوربعدمیں اسےفن کی صورت میں ظہورپذیرکیاہے،یعنی یہاں سےاس کاذہنی ارتقاہوتاہےاوریوں وہ خارجی وداخلی اشیا،کیفیتوں،یادداشت، واقعات وتجربات وغیرہ کوفن کی صورت میں سامنےلاتاہےاوریوں وہ ایک شاعربنتاہے۔انھوں نےاس سےدوصورتیں نکالی ہیں،ملاحظہ کیجئے:
’’تخیّل بجائےخودایک تخلیقی عمل ہے۔۔۔اس عمل کوہم تخلیقی اس لئےکہتےہیں کہ اس کےتوسط سےجوذہنی تجربہ مرتب ہوتاہےاس کی صورت اورماہیت اسی عمل سےایجادہوتی ہےاورخارجی یاداخلی دنیامیں اس کی کوئی اورنظیرنہیں ملتی اس اعتبارسےیہ عمل ان ذہنی تجربات سےقطعی مختلف ہے۔۔۔۔دوسری بات یہ ہے کہ تخیّل کسی مخصوص مشاہدے،یاد،تصور،جذبہ کاسامنفرداورالگ تھلگ ذہنی عمل نہیں ہوتابلکہ ان سب سےمرکب ایک کیفیت ہےجوان سب اجزاءمیں شامل اورجس میں یہ سب اجزاءشامل ہوتے ہیں۔‘‘(۱۳)
انھوں نےمصحؔفی کےشعر’’چلی بھی جاجرسِ غنچہ کی صدا پہ نسیم،کہیں توقافلۂ نو بہار ٹھہرے گا‘‘کی توضیح اس اندازسےکی ہےجرس،غنچہ،صدا،نسیم،قافلہ اوربہاراپنی فطری اورحقیقی صورت میں شاعرکےمشاہدےسےمتعلق ہیں،یعنی یہ شعراوراس میں ہونےوالافنی اکتساب کااظہاریاان میں سےکوئی جزوبجائےخودمصحؔفی کاشعرنہیں ہےبلکہ یہ تخیل کےطویل عمل سےگزرکرہی قافلۂ نوبہارتک پہنچاہے۔ یعنی شاعرکےتخیل نےاپنےپہلےمشاہدےاوریادداشت سےیہ سب تصورات چھانٹ کرالگ کئے۔پھران میں سےایسےرشتےایجادکئےجن کاعالم موجودات میں کوئی وجودنہیں،اس شیرازہ بندی کےبعدایک نیامجموعہ مرتب کیااوراس کےگردوپیش ان جذبات کی فضاقائم کی جومشاہدے اور یادداشت نےنجانےکب سےان تصورات سےوابستہ کررکھی تھی تب کہیں جاکران سب عناصراوران کےمجموعےکو وہ الفاظ نصیب ہوئےجومصحؔفی کاشعرہے۔‘‘(۱۴)تخیل کی وضاحت کرتے ہوئے کہتےہیں کہ تخیل کوزیادہ اہمیت حاصل ہےبجائےتخلیق کے،کیوں کہ تخلیق کاعمل تب مقصود ہوتا ہے جب ذہن میں یادیں اورنقوش اورتصورات وغیرہ موجودہوں،چنانچہ رقم کرتےہیں:
’’مشاہدات اورتجربات اپنی جگہ ذہن میں موجودیادیں اورجذبات یاجذبات کےنقوش اپنی جگہ محفوظ،الفاظ لغت میں متعین بحریں اورقوافی بھی ایک حدتک متعین۔ان سب کےالگ الگ کاروبارمیں تخلیق یایجادکوبہت کم دخل ہے،تخلیق اورایجادکی باری جب آتی ہےجب آپ ان کی قطع وبرید،شکست وآمیخت، اخذوترتیب سےکوئی ایسی شےوجودمیں لائیں جس کااس سےپہلےکوئی واقعی،یاخیالی پیکرموجودنہ تھا۔یہی عمل تخیّل کاعمل ہے۔فن تخلیق کےسبھی عناصراہم ہیں، مشاہدہ بھی،تجربہ بھی،جذبہ بھی، تصوّراورفکربھی۔صناعت اورقدرت اظہار بھی،لیکن ان میں اوّلیت یقیناًتخیّل ہی کوحاصل ہے۔‘‘(۱۵)
ان کےمطابق تخیل صرف مضامین ومعانی سےہی نہیں بلکہ ظاہری صناعت وہیت سےبھی متعلق ہے۔وہ ہرشےمیں تخیل کےدخل کوضروری سمجھتےہیں خواہ وہ الفاظ کی رعنائی ہو،رنگوں کی آمیزش ہو، بحورکاترنم،الفاظ کاحسن اورسنگیت کی مٹھاس وغیرہ ہو۔مضمون کےآخرمیں اختصارکےساتھ اس کانچوڑیوں نکالتےہیں کہ:
’’۔۔۔فنی تخلیق کےعمل میں مشاہدہ اورتجربہ گوشت پوست اوراستخواں کےمترادف ہیں۔جذبہ اس تخلیق میں لہوکی گرمی پیداکرتاہےاورفکرودماغ کی روشنی،صناعت اورقدرت اظہارسےاس تن مردہ میں جان پڑتی ہےاسےآپ دم عیسیٰ تصورکیجئےیاحرف کن فیکون!۔‘‘(۱۶)
’’خیالات کی شاعری‘‘میں فؔیض نےخیالات کی شاعری کی تعریف کرکےابتدا سےلے کر ۱۹۳۹ءتک کےاردوشعرااوران کی شاعری کاتجزیہ کیاہےکہ ابتدامیں ہمارےہاں خیالات کی شاعری ان معنوں میں ہےکہ یہ خیالات اس نوعیت کےہیں کہ شعراان تجربات سےخودنہیں گزرےبلکہ ایک خیالی مرقع پیش کیاگیاہےاوراس کی وجہ انھوں نےاس دورکےنوابین کوقراردیاہےکہ وہ اپنی شان وعظمت کےعلاوہ کسی اورچیزکےمتعلق سوچتےہی نہیں تھے۔ان کاخیال ہےکہ اس دورمیں بھی چندایک کےہاں ہمیں سیاسی،اقتصادی اورمعاشی ومعاشرتی مسائل نظرآتےہیں لیکن وہ بھی ان کی ذہنی اختراع کےعلاوہ کچھ نہیں یعنی بیرونی حالات کاذکرشعراکےہاں کم ہی دکھائی دیتاہے۔غاؔلب اورمیؔرکےہاں ہمیں فلسفہ زندگی وعشق نظرآتاہےلیکن باقی شعرااس سےغافل ہی رہے۔درباری شاعری کادورختم ہوتےہی اردوشاعری میں بھی ہمیں تبدیلیاں نظرآتی ہیں اورنئےشعرانےحالات کی دگرگونیوں اوربیرونی خلفشارکاعمیق مشاہدہ کرکےاسےشعرکی روپ میں پیش کرناشروع کیا۔اوران میں اکؔبروحاؔلی کانام سرفہرست ہے۔اس کےبعدانھوں نےاقبؔال کی شاعری کامختصراً اندازمیں خوب صورت جائزہ لیاہے،ان کی شاعری کی اہمیت وافادیت اوران کےاستعاروں وتشبیہوں کی ندرت وغیرہ پرانھوں نےنگاہ مرتکزکی ہے۔ان کےمطابق صحیح معنوں میں خیالات کی شاعری کاحق اقبؔال نےاداکیاہے۔انھوں نےکہاہےکہ اقبال نےپرانےاستعاروں اورتشبیہات میں نئی روح پھونک کرانھیں جان داربنادیاہے۔وہ لکھتےہیں:
’’موجودہ زمانہ میں خیالات کی شاعری علامہ اقبؔال کےکلام میں تکمیل تک پہنچی۔یوں بھی اس میدان میں کامیابی حاصل کرنےکےلئےایک عظیم شخصیت کی ضرورت تھی۔کچھ اس لئےکہ پرانےاسالیبِ بیان،پرانی اصطلاحات، پرانے استعارےکام میں نہیں لائےجاسکتےتھے۔اورکچھ اس لئےکہ مجّردخیالات کو شاعری کےدرجہ تک پہنچاناجذبات کی نسبت بہت زیادہ مشکل ہے۔یہ کہ اقبؔال نےیہ کام خوبی سےسرانجام دیا۔اقبؔال کی عظمت کاصحیح تصوّرپیدانہیں کرتا۔اس لئےکہ انہوں نےیہ کام پورانہیں کیابلکہ اسےانتہاتک پہنچادیا۔اقباؔل نےاپنےکلام میں چندغیرمربوط خیالات نہیں بلکہ ایک مسلسل نظام زندگی پیش کیاہے۔‘‘(۱۷)
اس کےعلاوہ اسی وہ راؔشد،وحیؔدی،اسرارالحق مجؔازاورحفؔیظ وغیرہ کی طرف توجہ کرکےیہ بتاتےہیں کہ ان حضرات کےہاں ہمیں خیالات کی شاعری کسی نہ کسی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔راشؔدنے پرانے اور نئےاسالیب کونہایت ہنرمندی وخوش اسلوبی کےساتھ یکجاکرنےکی کوشش کی ہےتوحفیؔظ نےشاہنامہ اسلام اورگیتوں کےعلاوہ بیانیہ نظموں میں نہ صرف بحروں کی طرف توجہ کی ہےبلکہ وہ بجرےوالےکےدکھ درد کا بھی احساس رکھتےہیں۔مضمون کےآخرمیں کہتےہیں کہ جدیدشعراکےہاں جذبات کےبجائےخارجی حالات کاعنصرزیادہ دکھائی دےرہاہےاورممکن ہےکہ مستقبل میں ایسےشعرا پیدا ہوں جن کاکلام زندگی کی تفسیر اور ترجمانی کرےگا۔
’’موضوع اورطرزِادا‘‘میں انھوں نےطرزِادااورموضوع پرسیرحاصل بحث کی ہےاوراس حوالے سےاپنانظریہ واضح کیاہے۔ان کےمطابق معاملہ بندی،مضمون آفرینی،شکوہ،شوکت الفاظ، سلاست،روانی، بےساختگی،سادگی،صفائی،شوخی،ظرافت اورسوزوگدازوغیرہ بظاہرموضوع کےبارےمیں ہیں لیکن یہ اصل میں عملی طورپرطرزِاداکی ہی مختلف صورتوں کےنام تھے۔ان کابنیادی مقصدیہ ہےکہ طرزِاداکی بجائےاگرہم شعرکی اصل معنویت کی طرف دھیان دےتوہمیں شعرکی اصل روح کاپتہ تب چلےگا۔اس ضمن میں انھوں نےابتداسےلےکراقبؔال تک شعراکی مثالیں پیش کی ہیں اورطرزِاداوموضوع کی بحث چھیڑی ہے۔چنانچہ لکھتےہیں:
’’اچھےادب میں موضوع اورطرزادااصل میں ایک ہی شےکےدو پہلو ہوتے ہیں اوران میں دوئی کاتصوّرغلط ہے،الفاظ اوران کےمعانی الگ الگ اوریکے بعد دیگرےنہیں ایک ساتھ اوربہ یک وقت ہم تک پہنچتےہیں۔اگرکسی کےپاس کہنےکی کوئی بات نہیں ہےتواس کاطرزبیان کیاکرےگا اور اگر اسےبیان پر قدرت نہیں توہمیں یہ کھوج کیسےملےگاکہ حضرت کیاکہنا چاہتےتھے۔‘‘(۱۸)
مختصراًیہ کہ وہ کہتےہیں کہ ادب موضوعِ اظہاراورطریقِ اظہاردونوں سےعبارت ہے۔موضوع اظہارکی خوبی کےبغیرناقص جب کہ خوبی بھی موضوع کےبغیربےمعنی ہی ہے۔اوران کےمطابق اگران میں تقدیم وتاخیرکاتعین کیاجائےتواولیّت اورفوقیت تجربےاورموضوع ہی کوحاصل ہے۔
حوالہ جات
۱۔ ، فیض احمدفیض،میزان،کوہ نورآرٹ پریس،۲/عبدالعلی رو،کلکتہ،۱۹۸۲ء،ص ۱۱۷
۲۔ایضاً،ص ۳۴،۳۵
۳۔فیض تنقیدکی میزان پر،اشفاق حسین،پاکستان اسٹڈی سینٹر،جامعہ کراچی،۲۰۱۰ء،ص ۶۷،۶۸
۴۔ ایضاً،ص ۶۸،۶۹
۵۔ ایضاً،ص ۶۹
۶۔ ایضاً،ص ۶۹
۷۔ ایضاً،ص ۷۷
۸۔ ایضاً،ص ۷۷
۹۔ ایضاً،ص ۷۷،۷۸
۱۰۔احمدندیم قاسمی،فیض نظریات کاشاعر،فیض احمدفیض تنقیدی جائزہ،مرتبہ خلیق انجم،انجمن ترقی اردو،نئی دہلی،۱۹۸۵ء
۱۱۔فیض احمدفیض،میزان،کوہ نورآرٹس،۱۹۸۲ء،ص ۴۱
۱۲۔ ایضاً،ص ۴۳
۱۳۔ ایضاً،ص ۵۰
۱۴۔ ایضاً،ص ۵۲
۱۵۔ ایضاً،ص ۵۲
۱۶۔ ایضاً،ص۵۲،۵۳
۱۷۔ ایضاً،ص ۵۳
۱۸۔ ایضاً،ص ۵۷،۵۸
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں