آپ بیتی کشمکش حیات کا تنقیدی جائزہ

آپ بیتی کشمکش حیات کا تنقیدی جائزہ | Aap Beeti "Kashmakash-e-Hayat” ka tanqeedi jaiza

آپ بیتی کشمکش حیات کا تنقیدی جائزہ

کشمکش حیات مرزا جعفر حسین کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔ جو پہلی بار 1984 ء میں حیدری مارکیٹ امین آباد ھو سے شائع ہوئی۔ اس خودنوشت کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیاہے۔ ہر اب کے اندر کی عنوانات درج ہیں۔ مصنف نے اردو ادب کو اپنی تحریروں سے مالا مال کیا ہے۔ اپنی ادبی خدمات کا ذکر بھی اس کتاب میں کیا ہے۔

پہلا باب ” پرائیویٹ زندگی کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ جس میں انہوں نے پیدائش، والدین، ماحول تعلیم وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ دوسرا باب وکالات کا دور ہے۔ اس باب میں انہوں نے پیشے کے بارے میں وضاحت سے حالات قلم بند کیے ہیں۔ پیشے کا انتخاب ، ترک ملازمت ، وکالت کی طرف بازگشت وغیرہ اس باب کے ذیلی عنوانات ہیں۔ تیسرا باب ان کی سیاسی وسماجی زندگی کے حوالے سے ہے۔ چوتھا یعنی آخری باب میں انہوں نے اپنی ادبی زندگی پر قلم اٹھایا ہے۔

مرزا جعفر حسین 1899ء میں فیض آباد پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام مرزا دلاور حسین تھا۔ وہ خوش اخلاق، نیک دل اور پاک فکس شخصیت کے مالک تھے۔ کھانے پینے کے بہت شوقین تھے۔ شعر و شاعری کے علاوہ گل و نغمہ کی محفلوں میں بھی جاتے رہتے تھے۔ اس دور میں فیض آباد میں رئیسوں کے یہاں مجرے ہوا کرتے تھے اور وہ اکثر ان محفلوں میں شریک ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز اور روزہ کے پابند بھی تھے۔ مصنف کی والدہ شرافت اور پاکی کا پیکر تھیں۔ نماز اور تلاوت کے پابند ہونے کے علاوو ان کے مزاج میں نفاست اور لطافت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے مطابق اعلی تعلیم حاصل کی تھی۔ تاریخ اسلام سے متعلق کتابوں کے علاہ وفاری اوراردو شاعری سے ان کو بہت دلچسپی تھی۔ وہ صرف 38 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

جعفر حسین کے گھر میں اچھا خاصا مذہبی ماحول تھا۔ تین سال کی عمر میں کلمہ طیبہ یاد کرایا گیا اور اصول دین سکھایا گیا۔ پانچ برس کی عمر میں خود ہی نماز کے پابند ہو گئے اس حوالے سے خود نوشت میں اس طرح لکھتے ہیں :

    "مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پانچویں برس میں پابندی اوقات سے از خود نمازیں پڑھنے لگا تھا اور یقینی طور پر کہ سکتا ہوں کہ ارکان نماز بجا لانے میں کبھی کوئی غلطی نہیں ہوتی تھی اور نہ کبھی کسی سجدہ سہو کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ بدست میں یہ شرف والدہ ماجدہ اور نانی صاحبہ محترمہ کی تربیت اور خود ان کے عمل کو دیکھ کر حاصل ہوا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ ایک مدرس بھی پڑھانے پر مامور تھے لیکن انھوں نے تقریبا ایک سال پڑھانے سے زیادہ کھلانے اور بھلانے پر توجہ فرمائی تھی میری کم سنی کا تقاضا تھا جو انہوں نے پورا کیا۔" 16~

گھر میں ابتدائی تعلیم کے بعد ایک عربی سکول میں ان کا داخلہ کرایا گیا، وہاں ان کو سبق رٹایا جاتا اور انہیں اس چیز سے نفرت تھی۔ ان کو انگریزی تعلیم کا بہت شوق تھا پانچ سال مربی اسکول میں گزارنے کے بعد والد سے التجا کر کے ان کا داخلہ گورنمنٹ ہائی اسکول فیض آباد میں کرایا گیا۔ وہاں سے دسویں جماعت کا امتحان کرنے کے بعد انہوں نے کنگ کالج لکھنو یونیورسٹی میں داخلہ لیا، یہاں پہنچ کر ادبی ماحول نصیب ہوا، بلند پایہ شعراء وادبا کی صحبت میں رہنے لگے۔ مسعود حسین خان علی عباس حسینی علی اختر کے علاوہ مصفی لکھنوی اور ثاقب لکھنوی سے بھی ملاقات ہوئی۔ اسی دوران انہوں نے شعر کہنا شروع کیا۔ بی ـ اے مکمل کرنے کے بعد ایم ۔ اے انگریزی میں داخلہ لیا تو والد نے شادی کا فیصلہ کیا جس وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہوئی اور ایم ۔ اے میں فیل قرار دیے گیے ۔ اس کے بعد وکالت کےشعبے میں جانے کا فیصلہ کیا۔

جعفر حسین نے ایل ایل بی کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ جج لکھنو کے دفتر میں بحیثیت وکیل اپنا نام رجسڑ کر لیا اور باضابطہ طور پر وہ سٹی کچہری میں بیٹھ گئے۔ وہاں انہوں نے کئی مقدمے لڑے۔ بیوی کے انتقال کے بعد ان کے دماغ پر بے زاری اور بے تعلقی کیفیات طاری رہتی تھی جس وجہ سے انہوں نے ملازمت ترک کی ۔ اس مدت میں مہا راجہ محمود آباد نے انہیں بلایا۔ خود نوشت میں جعفر حسین لکھتے ہیں کہ انہیں وہاں جانے میں کوئی خاص دل چسپی نہ تھی مگر ان کے آداب و اخلاق دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور وہاں کام کرنے پر راضی ہو گئے ۔ دو برس تک مصنف وہاں کام کرتے رہے مہاراجہ کے انتقال کے بعد انہوں نے وہاں جانا ترک کیا۔ ان کے رویے نے ان کے دل میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کیا ۔ کشمکش حیات میں ان کے ہمدرد اور رویے کے تعلق سے اس طرح رقم طراز ہیں:

مہاراجہ کی ملازمت میرے حق میں ایک نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی تھی ان کی صحبت میں میرا نیشنلسٹ عقیدہ مستحکم ہوا، ملک و قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ دل میں رائج ہو اور وہاں کے آداب محفل نے مجھ میں کچھ اسی خود اعتمادی کی صلاحیت پیدا کر دی تھی کہ میں جب سیاسیات کے میدان میں نبرد آزما ہوا تو گاندھی جی ، جواہر لال جی، مولانا آزاد و غیرہم سے بے باکا گفتگو کرتا اور ان کے حضور اظہار خیال میں کبھی جھجک پیدا نہیں ہوتی۔ مہاراجہ کی نوازشیں ان کی ذرہ نوازیاں اور سب سے بڑھ کر ان کی درس آموز محبتیں ہمیشہ یادر ہیں گی۔ 17~

مرزا جعفر حسین کئی سیاسی تحریکوں اور سماجی اداروں سے بھی جڑے رہے۔ نویں جماعت میں آل انڈیا شیعہ کانفرنس سے وابستہ ہو کر بحیثیت والنٹیر کور کارکن شرکت کی اور دس برس تک اس کے ساتھ جڑے رہے۔ وہ اس کانفرنس کے جنرل سیکرٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس ادارے کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کیا۔ اس کے بعد انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہوئے۔ اس دوران اکثر ان کی ملاقات مسلم لیگ اور کانگریس دونوں پارٹیوں کے لیڈروں سے ہوتی رہی۔ تصدیق احمد خان شیروانی ، ڈاکٹر انصاری حکیم اجمل خان محمد علی بخش جیسی شخصیات سے بہت متاثر تھے۔ گاندھی جی اور پنڈت نہرو، لال بہادر شاستری سے اکثر ان کی ملاقاتیں ہوتی رہتیں تھیں۔

ادبی ذوق مرزا جعفر حسین کو ورثے میں ملا تھا۔ نانیہال اور دادھیال دونوں گھرانوں میں کوئی بھی شخص ایسا نہ تھا جو پڑھا لکھا نہ ہو۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کے ادبی ذوق کا آغاز ہوا، اردو کے علاوہ انگریزی کے ناول بھی چڑھ ڈالے تھے۔ انہوں نے ناول ، غزل، تراجم کے علاوہ کئی تصانیف بھی لکھی ہیں۔ جن میں متاع غالب، مسعود حسن رضوی حیات و خدمات، ادبیات شخصیات، آل انڈیا شیعہ پولیٹیکل کانفرنس کی مختصر تاریخ وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

کشمکش حیات میں جہاں مصنف نے اپنی زندگی کے روشن پہلو پر گفتگو کی ہے وہیں اپنی ناکامیوں اور کمزوریوں سے بھی پردہ اٹھایا ہیں۔ شراب نوشی کے علاوہ طوائفوں کی محفلوں میں آیا جایا کرتے تھے ایسے بہت سارے واقعات انہوں نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس کتاب میں بیان کئے ہیں۔

مرزا جعفر حسین کو زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ جن کا ڈٹ کر انہوں نے مقابلہ کیا۔ بچپن سے ہی ان کو کافی مصیبتیں جھیلنی پڑیں۔ مقدمے لڑنے پڑے، پڑھائی کے لئے لوگوں سے ادھار لینا پڑا اس کے علاوہ والد کی دوسری شادی ان کے لیے ذہنی پریشانی کا سبب بنی۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں باری ، زندگی میں آگے بڑھتے رہے۔ یہ خود نوشت قاری کے لیے مشعل راہ ہے اور جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

پی ڈی ایف سے تحریر: ذیشان خان

نوٹ:یہ تحریر پروفیسر آف اردو واٹس ایپ کمیونٹی کے ایک رکن نے پی ڈی ایف سے تحریری شکل میں منتقل کی ہے۔براہ کرم نوٹ کریں کہ پروفیسر آف اردو نے اس کی پروف ریڈنگ نہیں کی ہے۔

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں