موضوعات کی فہرست
ناول اور تاریخ
ناول اور تاریخ کی موضوعی نوعیت ایک ہی ہوتی ہے۔ دونوں کا موضوع انسانی زندگی اور کارنامے ہوتے ہیں۔ دونوں خواب و خیال کی رومانی فضاؤں سے نیچے اتر کر واقعی اور حقیقی زندگی کے واقعات و حالات سے اپنے فن کی تعمیر میں کام لیتے ہیں۔
تاریخ
تاریخ کیا ہے؟ گزرے حالات و واقعات اور سابقہ انسانوں انسانی معاشروں قوموں اور تہذیبوں کی روداد حیات ہے۔
دوسرے الفاظ میں تاریخ گزرے زمانے کی انسانی زندگی اور تجربات کا حقیقی ریکارڈ ہے۔ جس میں آنے والی نسلوں کے لئے بے شمار عبرتیں پوشیدہ ہیں۔
حال کا انسان اگر رہین خواب وخیال نہی رہنا چاہتا اور حقیقی اور فعال زندگی سے اسے دلچسپی ہے تو تاریخ کی روشنی میں اس کے مستقبل کی منزلیں اجاگر ہوتی ہیں۔
ناول
اور ناول کیا ہے؟ ناول انسانی زندگی کی تخلیق نو کا نام ہے۔ یہ زندگی کی تخلیق بھی ہے اور تنقید بھی۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ زندگی کا دور بینی مطالعہ ہے جبکہ ناول، انسانی زندگی کا خورد بینی مطالعہ بھی ہے۔ ناول زندگی کے زیادہ لطیف پہلوؤں کو بھی سامنے لاتا ہے۔
ناول اور تاریخ کا فتی فرق
تاریخ کو ماضی کے انسانی مشاہدات و تجربات کا روز نامچہ بھی کہا جاسکتا ہے مگر ناول اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ہے۔
فین تاریخ کے عالموں کی رائے میں مؤرخ حقائق کے معروضی مشاہدے اور مطالعے تک خود کو جتنا محدود رکھے گا۔ اس کا تاریخی سر مایہ اتنا ہی وقیع اور مستند ہوگا۔
مگر ناول نگار کی نظر جہاں حیات انسانی کے معروضی پہلو پر پھیل کر پڑتی ہے۔ اس کے جذباتی حیاتی اور نفسیاتی پہلوؤں پر زیادہ گہری ہو کر پڑتی ہے۔ گویا تاریخ وسعتوں کو سمیٹنے سے زیادہ دلچسپ رکھتی ہے۔ اور ناول وسعتوں کے دائروں کو نقطوں میں سمیٹ کر گہرائی میں اترنے کا فن ہے۔
بہر حال دونوں کا موضوع زندگی ہے، انسانی زندگی اور مساعی ہے۔ اس لئے دونوں میں مغائرت نہیں اپنائیت ہے ۔
دراصل ہمیں ان کی مغائرت کا احساس آج کے پیچیدہ گونا گوں اور ترقی یافتہ دور کے پہلو دار مسائل کی افزونی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ورنہ انسانی زندگی اور اس کے مشاغل کو اگر عہد رفتہ کے تناظر میں دیکھا جائے جہاں انسان سادہ تھا اور اس کی زندگی سادہ تھی، تو تاریخ اور ناول یا ہم متخالف ہونے کی بجائے اصل میں دونوں ایک معلوم ہوتے ہیں۔
انسانی معاشرے کے اس ہموار و استوار دور میں کہانی اور تاریخ کو ایک ہی حقیقت کے دو رخ سمجھا جاتا تھا اور تاریخ اور کہانی دونوں کا محرک اور ماخذ تحقیق و تفتیش کا فطری جذبہ تھا۔
تاریخ انسانی زندگی کی کہانی تھی اور یہ کہانی سنانے والے مؤرخ ۔
کہانی سنانے والا مؤرخ جب تک کچی اور حقیقی باتیں کہے گا، سنے والا دل چسپی اور لذت محسوس کرتا رہے گا۔
انسانی زندگی نے جب سادگی کو رنگینی اور پر کاری سے بدل لیا تو قصہ گوئے بھی حقیقت کی سادگی میں ہلکے ہلکے رنگ بھر نے شروع کئے اور مشاہدے اور تجربے کی سپاٹ سادگی میں تخیل کی رنگین کاری شروع ہوئی۔
یہیں سے قصہ گو کی راہیں مورخ سے جدا ہونے لگیں اور پہلے جو مورخ اور قصہ گو بھی کچھ تھا، اب وہ اپنے ذوق و ذہانت کے مطابق نئی منزل کا راہرو بن گیا
کہانی کہنے والا بجائے تخیل کی راہ اپنا لے تو محض قصہ گو ہے۔ جب ایسی کہانی سناتا ہے جسکی بنیاد سرتاس سچائی ہے تو وہ قصہ گو بھی ہے، اور مؤرخ بھی مگر وہ کہانی کہتے ہوئے جب سچائی کی بجائے تخیل کی راہ اپنا کے تو محض قصہ گو ہے۔
متعلقہ سوالات اور جوابات
تاریخ کیا ہے؟
تاریخ گزرے ہوئے حالات کی روداد ہے۔
ناول کیا ہے؟
ناول انسانی زندگی کی تخلیق نو کا نام ہے۔