About the post
The content provides an in-depth exploration of the concept of "طوائف” and its depiction in Manto’s stories. The use of specific examples and quotes enriches the content
موضوعات کی فہرست
طوائف تعریف و مفہوم
طائفہ کی جمع طوائف عربی زبان کا لفظ ہے اس کے لغوی معنی منڈلی ، بیسوا ، گانے والی رقاصہ اور فاحشہ کے ہیں واضح رہے کہ طوائف جمع ہونے کے باوجو د بطور مفرد مستعمل ہے۔ اصطلاح میں طوائف ہر اس عورت کو کہتے ہیں جو روپے یا کسی چیز کے بدلے جسم یا آواز بچتی ہے بعض حضرات کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ عورت جو اپنے خاوند کے علاوہ کسی شخص سے جنسی فعل کی مرتکب ہوتی ہے کسی حد تک طوائف کے زمرے میں شامل ہے لیکن یہ خیال جزوی صداقت پر مبنی ہے بہر حال طوائف کا اطلاق ہر اس عورت پر ہوا ہے جو روپے یا کسی چیز کے بدلے اپنے جسم کو عارضی طور پر مختلف آدمیوں کے حوالے کرتی ہے بقول شورش کا شمیری:
"طوائف کا مستعمل مفہوم بازاری عورت ہے ہروہ عورت جو اپنے جسم یا آواز کا بیو پار کرتی ہے ۔ طوائف کہلاتی ہیں لغت میں طائفہ کی جمعطوائف ہے اور طائفہ جوق یا ( منڈلی ) کو کہتے ہیں۔”
طوائف معاشرہ کی ایک مجبور بے بس ہستی ہوتی ہے جسے افلاس نے ذلت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر رکھا ہے یہ الگ بات ہے کہ غربت کے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر طوائف یہ ذلیل پیشہ اختیار کرتی ہے لیکن زیادہ تر تعداد انہیں طوائفوں کی ہے جنہوں نے مفلسی سے مجبور ہو کر اس زندگی میں قدم رکھا ۔
منٹو کے افسانوں میں طوائف کا کردار
منٹو کے زیادہ تر افسانے طوائفیت اور جنس زدگی کے واقعات و حالات سے پُر ہیں انہوں نے جنس کو انسان کی بنیادی ضرورت کے طور پر پیش کیا ہے اور طوائفوں کی نفسیات اور ان کی زندگی کی خواہشات پر افسانے لکھے ان کے افسانوں میں ہمارا تعارف بہت سی طوائفوں یعنی سوگندھی ، سلطانہ ، جانگی ، شاردا، فو بھا بائی ، سراج ، زینت ، اور شانتی وغیرہ سے ہوتا ہے۔
منٹو نے طوائفیت اور انسانی نفسیات کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا ۔ طوائف اور اس کی بے راہ روی سے دلچسپی لے کر افسانوں میں جنسی تلذذ کی متنوع تصویر میں پیش کیں انہوں نے طوائف ، ان کے گاہکوں ، دلالوں ، عیاش مردوں اور بدکردار عورتوں کے بیشتر کردار ایسے پیش کئے ہیں جو موجود ہی سماج کی گناہ آلود جنسی زندگی کے مہرے ہیں ۔ جنس انسانی جبلت کا اٹوٹ حصہ ہے اس لئے اس کا اظہار فطرت کے عین متقاضی ہے اس پر قدغن لگانے کی صورت میں انسان کی جنسی زندگی میں افراتفری اور بے راہ روی پیدا ہو جاتی ہے اس لئے منٹو کے نزدیک طوائف کا وجود سماج کے لئے بہت ضروری تھا بقول منٹو …
"حضرات یہ جسم فروشی بہت ضروری ہے آپ شہر میں خوبصورت اور نفیس گاڑیاں دیکھتے ہیں یہ خوبصورت اور نفیس گاڑیاں کوڑا کرکٹ اُٹھانے کے کام نہیں آسکتیں گندگی اور غلاظت اٹھا کر باہر پھینکنے کے لئے اور گاڑیاں موجود ہیں جنہیں آپ کم دیکھتے ہیں اور اگر دیکھتے ہیں تو فوراً اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں ان گاڑیوں کا وجود ضروری ہے اور ان عورتوں کا وجود بھی ضروری ہے۔ جو آپ کی غلاظت اُٹھاتی ہیں اگر یہ عورتیں نہ ہوتیں تو ہمارے سب گلی کوچے مردوں کے غلیظ حرکات سے
بھرے ہوتے”
منٹو کی طوائف جو عورت پہلے ہے اور ویشیا بعد میں ۔ جب چند روپے کے بدلے اپنا جسم کسی مرد کے سپرد کرتی ہے تب اس کی روح اس کے جسم میں نہیں ہوتی ۔ ایک ویشیا کے الفاظ کو منٹو نے اس طرح بیان کیا ہے:
"لوگ مجھے باہر کھیتوں میں لے جاتے ہیں یعنی لیٹی رہتی ہوں بالکل بے حس و حرکت ۔ لیکن میری آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔ شمار کرنے لگتی ہوں انیس، بیس، اکیس ، ہائیس … اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ میرا ساتھی اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک طرف ہانپ رہا ہے۔”
طوائف پیٹ کی خاطر انسانیت کی سطح سے نیچے گرنے کے باوجود اپنا پیٹ نہیں پال سکتی اور اس کی زندگی معاشی بد حالی میں گزرتی ہے منٹو کے افسانوں میں ہتک” کی سوگندھی ”خوشیا“ کی کانتا اور "کالی شلوار” کی سلطانہ ایسی ہی طوائفیں ہیں جو معاشی اعتبار سے نا آسودہ ہیں ویشیا کے دل کی گہرائیوں کو پیش کرتے ہوئے ویشیا کے الفاظ میں منٹو لکھتے ہیں :
"ویشیا ایک بے کس اور بے یارو مددگار عورت ہے اس کے پاس ہر روز سیکڑوں مرد آتے ہیں ایک ہی خواہش لے کر ۔ وہ اپنے چاہنے والوں کے ہجوم میں بھی اکیلی رہتی ہے بالکل تن تنہا ۔ وہ رات کے اندھیروں میں چلنے والی ریل گاڑی ہے جو مسافروں کو اپنے ٹھکانے پر پہنچا کر ایک آہنی چھت کے نیچے خالی کھڑی رہتی ہے۔”
منٹو سے قبل بھی طوائف فکشن نگاروں کا محبوب موضوع رہا ہے لیکن منٹو کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ انہوں نے طوائف کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو انسانی ہمدردی کیساتھ پیش کیا ہے اس کی مسرتوں ، حسرتوں ، غموں اور مایوسیوں کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے تا کہ طوائف سے ہمدردی ہو سکے۔
منٹو اس حقیقت سے واقف تھے کہ آدمی جتنا باہر جیتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ اندر بھی جیتا ہے اسی لئے وہ طوائف کے جسم سے لطف اندوزی کا تصور کئے بغیر اس کے دل کے نہانخانوں اور اس کے ذہن کی گہرائیوں میں اتر کر اس درد و کرب کا سراغ لگاتے ہیں جو اس کی بیو پاری مسکراہٹ کے پیچھے چھپا ہوتا ہے سماج میں مناسب مقام پانے کی خواہش مستقبل اور آنے والے بڑھاپے کا خوف اور ارمانوں اور خواہشوں کی تکمیل نہ ہونے کے سبب جو نفسیاتی الجھنیں اور کشمکش اس کے وجود کو کھوکھلا کر دیتی ہے انہیں منٹو شدت سے محسوس کرتے ہیں اور اس میں ان انسانی قدروں کی تلاش کرتے ہیں جو ایک نارمل عورت میں ہوتی ہیں تب انہیں پتہ چلتا ہے کہ بعض کو ٹھے والیاں شریف گھرانے کی عورتوں سے زیادہ حساس ، جذباتی اور وفا شعار ہوتی ہیں گویا پاکیزگی ان کے جسم پر نہیں ان کے باطن میں ہوتی ہیں اس سلسلے میں جانکی ، شاردا ، شو بھا، ہمی ، ہتک ، کالی شلوار 1919ء کی ایک بات ، دس روپے، بابو گوپی ناتھ ، سرکنڈوں کے پیچھے ، شانتی ، سراج ، سو کینڈل پاور کا بلب اور پہچان وغیرہ کے کردار قابل ذکر ہیں ، یہ ضروری نہیں کہ عورت ماں کے روپ میں کوئی مقدس مریم ہی ہو بلکہ ممتا کا اعلیٰ و ارفع جذ بہ عورت کی فطرت میں اتنا گہرا ہوتا کہ وہ کسی بھی شکل میں پایا جا سکتا ہے چنانچہ منٹو کے افسانوں کی ان عورتوں میں بھی یہ جذبہ تلاش کیا جا سکتا ہے جو پیشہ ور طوائف ہیں ان کے اندر مادرانہ اور نفسیاتی دونوں پہلو ساتھ ساتھ موجود ہوتے ہیں سوال ان عناصر میں تناسب کا ہے عورت میں حد سے بڑھی ہوئی نفسانیت اسے طوائفیت کی طرف لے جاتی ہے ورنہ وہ بنیادی طور پر ہوتی ماں ہی ہے ڈاکٹر ہیلن کی تحقیقی کے حوالے سے ممتاز شیریں عورت کی اس نفسیات کا تجزیہ پیش کرتی ہیں جس میں اس کی فطرت کے دونوں پہلووں میں باہم تصادم اور کش مکش کی کیفیت رہتی ہیں لکھتی ہیں:
"ڈاکٹر ہیلن نے عورت کے اس نفسیاتی بناو کا انکشاف کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایک عورت جسمانی طور پر ہر جائی نہ ہو لیکن اس کا ذہنی اور نفسیاتی بنا وایسا ہو ۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عورت جسمانی طور پر اتنی زرخیز ہو کہ در جن بھر بچوں کی ماں بنے اور پھر بھی غیر مادری طوائفانہ فطرت رکھتی ہو ۔ اس کے بر خلاف جسمانی اعتبار سے ایک ہر جائی عورت بلکہ ایک پیشہ ورطوائف بھی ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے ایک مکمل ماں ہو سکتی ہے”
یہ تحریر جاری ہے۔
مقالہ برائے پی ایچ ڈی، منٹو کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ،مقالہ نگار:فیض الرحمن
یہ مقالہ اپنی اصلی حالت میں ٹیم پروفیسر آف اردو کے ساتھ موجود ہے، مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے۔
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں