افسانہ اور کوٹ کا فنی و فکری تجزیہ

غلام عباس کا افسانہ اور کوٹ ان کے مشہور زمانہ اور شاہکار افسانوں میں شامل ہے، جس کے بارے میں خود ان کا قول ہے کہ یہ افسانہ انہیں خود بھی بہت پسند تھا۔ اس افسانے کا ترجمہ کئی دوسری زبانوں میں ہو چکا ہے اور اس پر غلام عباس کو انعامات سے بھی نوازا گیا ہے، اس پر روسی افسانہ نویس گوگول کے افسانے "Over Coat” سے ماخوذ یا سرقہ ہونے کا الزام لگایا گیا تھا لیکن اس بارے میں غلام عباس کا خود کہنا ہے:

| جب میں نے اوور کوٹ لکھا تو مجھے یاد تھا کہ روسی استاد، گوگوں کا بھی اس نام سے ایک بے حد مشہور افسانہ ہے۔ اسی طرح را جندر سنگھ بیدی کا ایک افسانہ ” گرم کوٹ کے نام سے میں پڑھ چکا تھا۔ میں نے اسے نہایت بے باکی اور جرات مندی سے لکھا ہے کہنے کا مطلب یہ ہے اگر عنوان یکساں ہو تو سرقہ کی ذیل میں نہیں آتا ۔|

مگر بعد میں غلام عباس نے اس واقعہ کے بارے میں ایک انٹرویو میں اس طرح کہا:

|ایک دفعہ دوستوں کے ساتھ میں رات کے دس گیارہ بجے ایک کار میں ہوا خوری کے لیے نکلا تو جلدی میں میں نے ۔ شب خوابی کا لباس تھا تو اس کے اوپر اوور کوٹ لے لیا اور گلے میں گلو بند لپیٹ لیا، تا کہ معقول صورت معلوم ہو، تاثیر فیض اور پطرس یہ لوگ بیٹھے تھے ، پطرس موٹر چلا رہے تھے۔ باتوں باتوں میں ایسی گرم جوشی پیدا ہو جاتی کہ سب لوگ بات چیت کی دلچسپی میں تم گھم رہے۔ ہوا یہ کہ سامنے سے ایک ٹرک آرہا تھا ، بس اللہ نے بچالیا ورنہ ہماری موٹر ٹکرا جاتی۔

یہ بھی پڑھیں: غلام عباس بطور افسانہ نگار

اس پر میرے ذہن نے کام کیا۔ اب یہ صرف مشاہدہ تھا کہ ہم لوگ بے پروائی سے جا رہے تھے،

اس پر دماغ نے سوچا کہ خدانخواستہ اگر ٹکر ہوگئی ہوتی اور ہم لوگ زخمی ہو گئے ہوتے یا مر گئے ہوتے ، اب یہ مشاہدے سے احساس بنتا ہے کہ جب ہسپتال جا کر میرا اورکوٹ اتارتے تو اندر سے بنیان نکلتی اور وہ بھی پرانی کی کتنی شرم کی بات تھی کہ اوپر سے جنٹلمین نظر آرہے ہیں اور اندر میلی بنیان ہے۔ اس کو میرے ذہن نے بنایا اور خیال آرائی کی۔ اس پر مجھے خیال آیا تھا کہ ایک ایسا نو جوان ہوگا ۔۔۔|

اوور کوٹ کے بارے میں بھی ان کے دوسرے افسانوں کی طرح یہ بات پھیلائی گئی تھی کہ یہ ایک روسی افسانے کا چربہ ہے۔ مگر مذکورہ بالا بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ اوور کوٹ ایک طبع زاد افسانہ ہے اور آنندی کے بعد غلام عباس کے جس افسانے کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہو چکا ہے، وہ ” اور کوٹ” ہے۔

اس افسانے میں جدید افسانے کی نہ صرف تمام فنی خوبیاں موجود ہیں، بلکہ زندگی کے بارے میں ہر طرح کی بصیرت بھی رہنمائی کے لیے اس افسانے سے مل سکتی ہے ۔

یہ ایک بیانیہ افسانہ ہے جسے سیدھے سادے ، دھیمے اور متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے مگر جب ہم اس کے واقعات پر غور کرتے ہیں تو اور کوٹ ہمارے سماجی روپ یا خول کی ایک علامت بن کر ابھرتا ہے ۔

یہ روپ اور خول جسے ہم منافقت یا مصنوعی چہرہ بھی کہہ سکتے ہیں یا ن۔ م۔ راشد کے الفاظ میں اسے کردار کی ثنویت کا دوہرا پن بھی کہ سکتے ہیں جو ریا کاری اور منافقت کی شرط اول ہے۔

ہماری پہچان ہی ثنویت کا دو ہر اپن، یہی منافقت ، یہی روپ بہروپ ہے اور انہی مصنوعی چہروں ، لباس اور حوالوں سے ہم ایک دوسرے کو پہچانے کے کے عادی ہو گئے ہیں

اور جب پوسٹ مارٹم کی میز پر نوجوان کا برہنہ جسم دیکھ کر ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں تو اس خوف زدگی کا سبب یہی ہوتا ہے کہ کوئی ایساہی اچانک حادثہ ہماری منافقت اور ریا کاری کا نقاب نہ اُتار دے۔ ڈاکٹر انوار احمد کے قول کے مطابق اسی افسانے کا انجام متوقع نہیں ، کیونکہ :


| کہانی میں دو سے زیادہ مواقع ایسے ہیں جب اشاروں سے کام لیتے ہوئے ایسے انجام کے لیے فضا تیار کر کی گئی ہے |اس نو جوان جیسے دیگر نو جوانوں کا المیہ یہی ہے

کہ وہ منافقت اور ریا کاری کے سایوں میں جھلتی ہسکتی بلکتی اور تڑپتی اپنی ران کو آسودگی پہنچانے کی خاطر اپنی ناکام جد و جہد کے اسیر رہتے ہیں مگر جب اچانک اُن کی اصل حقیقت ان کا او درکوٹ بنتے ہی مارے سامنے نگی ہو جاتی ہے تو ان کی ظاہر داری ہمارا منہ چڑانے لگتی ہے۔

جاڑے کی چاندنی از غلام عباس | PDF

ہمارا معاشرہ منافقت کا شکار ہے اور ہر شخص دوہرے پن کے مرض میں مبتلا ہے، چنانچہ کسی کی شخصیت کا ایک رخ اگر خوبصورت ہے تو دوسرے لمحے اس کی شخصیت کا دوسرا اور منفی رخ سامنے آجائے تو ہمیں اس سے گھن آنے لگے گی اور ہم کہہ اٹھیں گے کہ ایسی شخصیت کے ظاہر اور باطن میں کوئی مناسبت اور ہم آبہنگی نہیں ، اس افسانے کا مرکزی خیال یہی ہے۔

افسانے کا بے نام نوجوان ، ہر طبقہ کے اُس نوجوان کا نمائندہ ہے، جو بظاہر خوشحال اور کھاتے پیتے گھرانے کا فرد معلوم ہوتا ہے، جسے زندگی کی ہر آسائش مہیا ہے اور وہ اس کی رونقوں اور دل فریبیوں سے لطف اندوز ہونے کا خواہاں ہے۔

اس کا لباس، ان کی گفتگو، چال ڈھال غرضیکہ ہر حرکت یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کا تعلق طبقہ امراء سے ہے، خوش بختی ، خوش فکری جس کا ساتھ دے رہی ہے۔ بے فکری ، لا ابالیا نہ پن اور خوش خرامی اس کی چال ڈھال سے نمایاں ہے۔ ظاہری ٹیپ ٹاپ اسے اس طبقے کا بے فکر نوجوان ظاہر کرتی ہے، اس کی شکل وصورت سے صاحبیت ٹپکتی ہے۔

اس کا ظاہر اس قدر کامیابی سے کیموفلاج کیا ہوا ہے کہ اس کی اصل حقیقت کے متعلق کوئی تصور نہیں اُبھرتا۔ اس کی ناداری ، غربت اور روح کی بے قراری اور کم مائیگی کو اس خوبصورت انداز سے چھپایا گیا ہے کہ اس کے شاندار اور بڑھیا اوورکوٹ کے اندر جھانکنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔

غلام عباس کا یہ افسانہ ہماری معاشرتی زندگی کے دوہرے پن یا منافقت پر ایک کاری ضرب ہے۔ غلام عباس ہمارے کردار کے ظاہر و باطن کے تضاد اور کشمکش کی غمازی کرتے ہیں۔ یہ ثنوویت یا دوغلا پن غلام عباس کی اکثر کہانیوں میں پایا جاتا ہے۔

یہ ثنویت یا دوہرا پن بھی کرداروں کی صورت میں ہوتا ہے اور کبھی نیک اور بدی کے تصادم کے ذریعے ہماری زندگی کے تضادات کو نمایاں کرتا ہے۔ یہی غلام عباس کا فن ہے اور غلام عباس کو واقعی اپنے فن میں بڑی مہارت حاصل ہے ۔

” اوور کوٹ بڑے معتدل رائی اور متوازن رویے کے ساتھ لمحہ لمحہ آگے بڑھتا ہے۔ جوں جوں کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے، قاری کا تجسس بڑھتا جاتا ہے اور اس کے دل کی دھڑکن تیز سے تیز تر ہونے لگتی ہے اور کہانی یک دم انجام کو پہنچتی ہے تو قاری ایک اتھاہ تحیر میں ڈوب جاتا ہے۔

اور کوٹ میں دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ کہانی کا مرکزی کردار جہاں جہاں چلتا ہے، قاری اس کے پیچھے پیچھے رواں دواں ہے، غلام لباس قاری کو مرکزی کردار کی ہر حرکت کا مشاہدہ کراتا ہے اور ایک نئے تجسس کا مواد بھی فراہم کرتا ہے۔

غلام عباس نے اس کہانی کے ذریعے ایک مکروہ معاشرتی عارضے کی نشاندہی کی ہے جس نے ہماری معاشرتی زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے اور غیرمحسوس طریقے سے یہ باور کرایا ہے کہ حقیقت پسندی زندگی میں خوشگواری پیدا کرتی ہے اور تکلف و تصنع اور منافقت اور دوغلا پن بظاہر خوشنما لگتے ہیں مگر باطن میں ایسی تلخیاں گھول دیتے ہیں کہ انسان اندر اندر بجھتا اور مٹتا چلا جاتاہے۔

اندر اور باہر کی کشمکش انسان کی توانائیوں کو چاٹتی جاتی رہتی ہے، تا آن کہ ایک عبرت ناک انجام اس کا مقدر بن کر سامنے آجاتا ہے۔

بقول سو یا مانے یا سر | اوور کوٹ کے پلاٹ کی ساخت میں توازن ہے۔ مرکزی کردار تو جوان لڑکے کی وضع قطع کی مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے۔

جوں جوں کہانی آگے بڑھتی اوور کوٹ کا ذکر کبھی اس کی اچھی سلائی اور کبھی اس کے کاج میں اٹکے ہوئے م شربتی پھول کے حوالے سے کیا جاتا ہے، وقفے وقفے سے اوور کوٹ کا ذکر لانے کا ایک مقصد تو کہانی کو آگے چلانا ہے، دوسری قاری کے ذہن میں آور کوٹ کا امیج’ image ‘ اجاگر کرتا ہے۔دراصل اس کہانی کے بنیادی موضوع ‘ «ثنویت» نوجوان لڑکے کے مردے کے حوالے سے اشاراتی طور پر پیش کیا جاتا ہے |

کا برہنہ جسم دیکھ کر ہم خوفزدہ ہو جاتے ہیں تو اس خوف زدگی کا سبب یہی ہوتا ہے کہ کوئی ایساہی اچانک حادثہ ہماری منافقت اور ریا کاری کا نقاب نہ اُتار دے۔ ڈاکٹر انوار احمد کے قول کے مطابق اسی افسانے کا انجام متوقع نہیں ، کیونکہ :

ں اس نو جوان جیسے دیگر نو جوانوں کا المیہ یہی ہے کہ وہ منافقت اور ریا کاری کے سایوں میں جھلتی ہسکتی بلکتی اور تڑپتی اپنی ران کو آسودگی پہنچانے کی خاطر اپنی ناکام جد و جہد کے اسیر رہتے ہیں مگر جب اچانک اُن کی اصل حقیقت ان کا او درکوٹ بنتے ہی مارے سامنے نگی ہو جاتی ہے تو ان کی ظاہر داری ہمارا منہ چڑانے لگتی ہے۔

پورے افسانے میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جس سے اس نوجوان کی کم ظرفی اور بازاری پن کا احساس ہو، اوورکوٹ میں مگن یہ تو جوان ہر جگہ اپنی شائستگی اور عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے والے لان میں سیمنٹ کی میز پر بیٹھا وہ مال پر آنے والے زن و مرد کو دیکھتا ضرور ہے مگر کسی چھچھورے پن کا مظاہرہ نہیں کرتا ، بلکہ سینما اس میں آنے والی فلموں کے پوسٹر دیکھتے ہوئے، اینگلو انڈین لڑکیوں کے عقب میں ایک مناسب فاصلے پر کھڑا ہو کر وہ فلمی پوسٹر دیکھتا ہے۔

جی ۔ پی ۔ او کے چوک میں نو جوان لڑکے اور لڑکی کو دیکھ کر، آن کی چال ڈھال اور ان کی ایک خاص موضوع پر گفتگو سن کر اُس کے اندر تجسس ضرور بیدار ہو جاتا ہے کہ ان کی مزید گفتگو سنے اور ہو سکے تو ان کے چہرے بھی دیکھ لے۔ مگر افسوس ! اس کوشش میں اپنی جان کی بازی ہار دیتا ہے، آخر پر ایک فاضل استاد کی رائے ملاحظہ کریں:

| غلام عباس کا افسانہ اوور کوٹ عوامی اور ادبی سطح پر بے حد مقبولیت کا حامل افسانہ ہے جو کہ فنی تکنیکی، فکری اور ادبی تخلیق اعتبار سے مکمل و کامل ہے۔ اس میں بھی مصنف کے تجرباتی اور مشاہداتی نظریات چھلکتے ہیں۔ | آنندی کے بعد غلام عباس کے جس فن پارے کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہوا وہ ” اور کوٹ ہی ہے۔ اس کی بنیاد معاشرے کے دوہرے پن اور منافقت پر ہے ۔

بتایا یہ گیا ہے کہ ہم معاشرتی زندگی میں اپنے جسم پر ریا کاری اور عیاری ومکاری کے اوور کوٹ پہنے رکھتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت پر دلکش پردے ڈال لیتے مگر جب ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی اصلیت کھلتی ہے اور ہمارا اصل چہرہ سامنے آتا ہے اور نقاب اترتی ہے تو اندرہناکی اور ترحم کے جذبات کے تحت اس بہروپیے کے لیے دل میں ایک افسوس ناک اور کر بناک صورت حال جنم لیتی ہے ۔“

܀܀܀«افسانوی نثر اور ڈرامہ ڈاکٹر جمیل احمد انجم »

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں