کتاب: نثری اصناف تعارف و تفہیم (حصہ دوم)
موضوع: ابن انشا کی سفرنامہ نگاری کی خصوصیات
صفحہ: 119 تا 121
کورس کوڈ: 9009
مرتب کردہ: اقصٰی فرحین
موضوعات کی فہرست
ابن انشا کی سفرنامہ نگاری کی خصوصیات
ابن انشا کے زیادہ تر اسفار سرکاری نوعیت کی کانفرنسز کی بدولت ممکن ہوئے اور ان اسفار کا حال صحافتی ضروریات کے لیے لکھا گیا۔ لیکن اس اسفار کو جس شگفتہ اور دل کش اسلوب میں پیش کیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
پروفیسر فتح محمد ملک رقم طراز ہیں:
"صحافتی انداز نظر کی بجائے فکری تازگی اور ادبی رکھ رکھاؤ بدرجہ اتم موجود ہے۔ ابن انشا کا گہرے میٹھے طرز کا حامل اسلوب، شاداب انداز بیان اور انسان دوستی کا رچا ہوا شعور اس پر مستزاد ہے۔”
(فتح محمد ملک، انداز نظر، ص: 178)
شگفتہ اسلوب
شگفتہ اسلوب کے علاوہ ابن انشا نے اپنے سفر ناموں میں قارئین کی دل چسپی برقرار رکھنے کے لیے معلوماتی مواد پہنچانے، تاریخی واقعات بیان کرنے اور شخصیات کی سوانح نگاری کا فریضہ ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ انھوں نے اپنے سفر ناموں کو بیانیہ اسلوب میں پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابن انشا اور ابن بطوطہ کے تعاقب میں پر ایک نظر | pdf
کہیں خطابیہ انداز اپنایا ہے تو کہیں درویش کا روپ دھار کر داستانی اسلوب کو دل فریب رعنائی سے تازگی بخشی ہے۔ ان تمام عوامل سے ابن انشا نے تحیر ابھارنے اور اپنے قاری کو ساتھ رکھنے کے لیے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
غیر ملکی اسفار میں اپنے وطن کی یاد ان کے ہمیشہ ہمراہ رہتی ہے۔ ملکی اور غیر ملکی عادات پر رواں، دل کش اور طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں چوکتے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
"پانی ابال کر پیتے ہیں۔ موبل آئیں تو وہاں گاڑیوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اصلی بناسپتی گھی کہہ کر فروخت نہیں کیا جاتا۔ بھٹے کی اینٹیں بھی مکان بنانے کے کام آتی ہیں۔ ہلدی اور مرچ میں ملا کر ان سے تعمیرِ معدہ کا کام نہیں لیا جاتا۔
وہاں دودھ بھی گائیوں اور بھینسوں کا ہوتا ہے۔ تالابوں یا کمیٹی کے ملکوں سے حاصل نہیں کیا جاتا۔ بسوں اور کاروں کے اختیارات بھی محدود ہیں۔ آپ اپنی بس کو فٹ پاتھ پر نہیں چڑھا سکتے، نہ کسی مسافر کے اوپر سے گزار سکتے ہیں۔”
(ابن انشا، دنیا گول ہے، ص: 205-206)
طنز و مزاح
ابن انشا کے اس طنزِ لطیف میں عمق اور گہرائی ہے۔ چونکہ انھوں نے اپنے معاشرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اس لیے جہاں لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے، وہاں دل میں ایک چبھن کا احساس بھی ہوتا ہے۔
ڈاکٹر انور سدید لکھتے ہیں:
"ابن انشا دوسرے ممالک کے معاشروں میں خیر اور نیکی کی قدروں کی جستجو زیادہ کرتے ہیں۔ فرازی تہذیب کا موازنہ جب استحصالی تمدن سے کرتے ہیں تو اس تضاد سے ایک بے ساختہ مسکراہٹ کو جنم دے ڈالتے ہیں۔”
(ڈاکٹر انور سدید، اردو ادب میں سفرنامہ، ص: 263)
منفرد تکنیک
ابن انشا نے اپنی فطری ہنر مندی سے سفرنامے اور کالم کو باہم آمیخت کر کے اسے صحافتی ضرورت بنا دیا، جس سے ان کے قارئین میں وسیع اضافہ ہوا۔ انھوں نے جہاں طنز سے کام لیا ہے، وہاں ان کا لہجہ اور مزاج غیر جذباتی ہے۔ اس مزاج میں فطری نفاست کا رنگ نظر آتا ہے، جس سے ان کا اسلوب اور نکھر کر سامنے آتا ہے۔
مثال:
"ریل میں ہر نشست کے ساتھ چائے کا گلاس رکھنے کی جگہ ہے۔ کام کرتے جائیے اور ایک ایک گھونٹ چُسکتے رہیے۔ تھوڑی دیر میں کوئی آئے گا اور اس میں مزید گرم پانی ڈال جائے گا۔ معلوم ہوا کہ اس سے معدے کا نظام درست رہتا ہے، جراثیم کا دفعیہ ہو جاتا ہے۔ کم خرچ بلکہ بے خرچ بالانشین! ہم نے بھی کچھ دن پیا، پھر چھوڑ دیا۔ کس برتن پر تھا پانی؟”
(ابن انشا، چلتے ہو تو چین کو چلیے، ص: 127)
جزئیات نگاری اور تاریخی پس منظر
ابن انشا نے سفرناموں میں مناظر و مظاہر کو خوش نظری سے دیکھا ہے اور خوبصورت منظر کشی سے اپنے سفرناموں کو پُرلطف بنایا ہے۔ اس منظر کشی میں ان کی ایک خصوصیت جزئیات نگاری ہے۔ منظر کے جزوی حصے بیان کر کے پورے منظر کی مکمل تصویر کشی کرتے ہیں اور ساتھ ہی اس منظر سے وابستہ تاریخ کو بھی آشکار کر دیتے ہیں۔
مثال (دیوارِ چین):
"شہنشاہ اول چن شہ ہوانگ تی نے 214 ق۔ م میں ان کو مربوط کیا۔ ان پر برج بنائے اور دھوئیں کے سگنل دینے کا طریقہ رائج کیا۔ چین والے اپنی زبان میں اس کو دس ہزار میل لمبی دیوار کہتے ہیں، لیکن فی الحقیقت یہ ڈیڑھ ہزار میل کے لگ بھگ ہے۔ کہیں یہ پندرہ فٹ اونچی ہے، کہیں پچاس فٹ۔ سیڑھیاں چڑھ کے ایک برج پر پہنچتے ہیں جس پر چھت بھی ہے۔ وہاں سے چڑھائی شروع ہوتی ہے۔”
(ابن انشا، چلتے ہو تو چین کو چلیے، ص: 135)
ڈاکٹر انور سدید کا خلاصہ
"ابن انشا ایک ایسے بنجارے کے روپ میں سامنے آتے ہیں جو گردو پیش پر بے گانہ روی سے نظر ڈالتا ہے، لیکن درحقیقت اس کی آنکھ اشیا کے باطن کو ٹٹولتی ہے اور ہمیں ان کے ماضی اور حال سے آشنا کرتی جاتی ہے۔”
(ڈاکٹر انور سدید، اردو ادب میں سفرنامہ، ص: 655)
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں