آغا حشر کاشمیری کی ڈرامہ نگاری
والد سے چھپ چھپا کر بعض مشاعروں میں بھی جاتے تھے۔ چنانچہ جلد ہی ان کی شہرت ہو گئی۔ انہی دنوں بمبئی کی مشہور پارسی الفریڈ تھیٹریکل کمپنی بنارس آئی ۔ احسن اس کمپنی کے ڈرامہ نویس تھے۔ حشر نے اس کمپنی کے کئی ڈرامے دیکھے جن سے خود ڈرامے لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔
چنانچہ ایک ڈرامہ "آفتاب محبت“ لکھ کر کمپنی کے مالک کے پاس پہنچ گئے۔ مالک نے یہ ڈرامہ احسن لکھنوی کو دکھایا ، ڈرامہ دیکھ کر حشر کو تعلیم پر زور دینے اور ڈرامہ نگاری سے پر ہیز کرنے کے ساتھ یہ مشورہ بھی دیا کہ ۔۔۔۔۔ ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ۔“
یہ بات آغا صاحب کو بڑی بُری محسوس ہوئی چنانچہ انہوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ ڈرامے ضرور لکھیں گے اور اس میدان میں نام پیدا کریں گے چنانچہ انہوں نے اپنے اس ڈرامے کو بنارس کے ایک ناشر اور کتب فروش بسم اللہ خاں کے ہاتھ ساٹھ روپے میں بیچ دیا۔
یہ ڈرامہ چپ تو گیا مگر سٹیج نہ ہو سکا۔ بعد میں بڑے ڈرامائی انداز میں آغا حشر کی رسائی بمبئی کی مشہور کمپنی الفریڈ ناٹک منڈلی کے مالک کاوس جی پائن کھٹاؤ تک ہوئی جس نے آغا حشر کی قابلیت اور ڈرامہ نویسی کی صلاحیت کو بھانپ کر اپنی کمپنی میں نوکر رکھ لیا۔
یہیں حشر نے پہلا ڈرامہ "مرید شک” لکھا جو سٹج ہوا تو حشر کا نام ہندوستان میں مشہور ہو گیا ۔ ان کا یہ ڈرامہ نو ماہ کی مدت میں ساتھ مرتبہ سے زیادہ لوگوں کے سامنے پیش ہوا۔
مرید شک کے بعد ان کا دوسرا ڈرامہ ” مار آستین، بھی اسی طرح عوام و خواص میں مقبول ہوا ۔ 1905ء میں دربار دہلی کے موقعہ پر ان کا ڈرامہ اسیر حرص توقعات سے بھی زیادہ کامیاب اور مقبول رہا۔ اس طرح روز بروز حشر کی مقبولیت اور ان کی تنخواہ میں اضافہ ہوتا رہا۔ ان تین ڈراموں کے بعد اس کمپنی کے لیے آغا حشر نے ایک ڈراما ابھی آدھا لکھا چھوڑ دی کہ ملازمت۔
دام حسن، میٹھی چھری عرف دور کی دنیا اور عشرت رحمانی کے بقول ایک اور ڈراما ٹھنڈی آگ حشر نے نو روز جی پری کی کمپنی کےلیے لکھے مگرکمپنی کے مالک کے ساتھ نباہ نہ ہوسکا۔
اسی دران کاؤس جی پان کھٹاؤ حشر کو اپنی کمپنی میں واپس لانے کی کوشش کر رہاتھا چنانچہ برائے اصرار سے حشر دوبارہ الفریڈ نایک منڈلی کے ملازم ہوئے یہاں آپ نے "دوم حسن” کو شہیدناز عرف اچھوتا دامن کے نام سے از سر نو ترتیب دے کر عوام کے سامنے پیش کیا۔
اس بارے بھی عوام نے حشر کے فن کی پذیرائی کی حشر کی مقبولیت کے پیش نظر آرد شیر دادا بھائی ٹھونٹی گراں قدر مشاہرے پر آغا صاحب کو اپنی کمپنی کی ملازمت پیش کی ۔ چنانچہ آغا صاحب نے اس کمپنی سے وابستگی کے بعد اس کے لیے دو ڈرامے سفید خون عرف کنگ لیئر اور صید ہوس“ لکھے اس کمپنی میں بھی آن حشر زیادہ دیر نہ ٹہر سکے اور سہراب جی کے اصرار پر ان کی کمپنی نیو الفریڈ تھیٹریکل کمپنی سے وابستہ ہو گئے ۔
ان کا ڈرامہ ” خوب صورت اس کمپنی کے سٹیج پر ہوا۔ ۔حیدر آباد جانے کے بعد آغا نے اپنی ذاتی کمپنی قائم کر لی اور اس کے لیے نیا ڈرامہ سلور کنگ عرف نیک پروین “ لکھا جو بقول عشرت رحمانی جرم وفا اور بقول ڈاکٹرعبد العلیم نامی پاکدامن کے نام سے بھی کھیلا جا تا رہا۔
آغا حشر بنیادی طور پر ایک فن کار ادیب اور شاعر تھے۔ مپنی کے انتظامی معاملات سے تھڑیکل کمپنی بنانے کی خواہش پیدا ہوئی ۔اور شکسپیئر تھیٹر یکل کمپنی آف کلکتہ کا قیام عمل میں آیا۔
1924ء میں حشر نے بنارس میں اپنی کمپنی قائم کی لکھنو میں مہاراجہ چرکاری“ نے اس کمپنی کا کھیل دیکھا اور بہت پسند کیا اور آغا صاحب سے نیا کھیل لکھنے کی فرمائش کی ، اس فرمائش کی تعمیل میں حشر نے سیتا بن باس لکھا جس نے ہندو عوام کو ان کا گردیدہ بنا دیا اور بقول عشرت رحمانی اس کھیل کو دیکھ کر بڑے بڑے پنڈتوں نے ان کی سنسکرت دانی اور علم و وقوف کی دل کھول کر داد دی اور ہندو معاصرین منشی بے تاب وغیرہ میں کھلبلی مچ گئی۔
سیتا بن باس“ کے بعد حشر نے 1925ء میں دہری بالک عرف غریب کی دنیا، بھارتی بھا لک اور دل کی پیاس کے نام سے ڈرامے لکھے۔اس دور کے تفصیلی حالات آغا حشر کے ایک قریبی دوست اور ساتھی حافظ محمد عبد اللہ یوں لکھتے ہیں۔ آغا حشر جب پہلی بار اپنی انڈین ٹیکس پیئر تھیٹریکل کمپنی کلکتہ لے گئے تو تارا چند اسٹریٹ کے موڑ پر سورتی بگان میں تالاب کے قریب جو میدان تھا اس میں منڈوا بنوایا اور تماشے دکھلانے شروع کیے۔
اس وقت کمپنی میں سید علی اطہر ، بچو بھائی ، سید چندا، محمود شیدی، منصف حسین ، رحیم بخش ، آغا محمود شاہ محمد اسحاق ، سید حسن ، حفیظ وغیرہ ایکٹروں میں اور گلنار و گلاب وغیرہ ایکڑ سیں ملازم تھیں کمپنی نے خواب ہستی، سفید خون اور صید ہوں وغیرہ میچ کیے۔ اس کے بعد آغا صاحب اپنی کمپنی کرزن تھیٹر ہریسن روڈ میں لے گئے ۔ بعد میں کاؤس جی نے یہ تھیٹر خرید کر الفریڈ تھیٹر اس کا نام رکھا۔
اس تھیٹر میں آغا صاحب نے یہودی کی لڑکی ، بلوا منگل اور شیر کی گرج ( یہودی کی لڑکی کا دوسرا حصہ ) وغیرہ دکھلائے ۔ جب آغا صاحب اپنی کمپنی کلکتہ لے گئے تو چونکہ یہ اکمپنی نئی تھی اس لیے میڈن کے الفنسٹن سٹیج پر تماشے سٹیج کیے ۔ اس وقت الفنسٹن باہر گئ ہوئی تھی۔ کرایہ کے عوض آغا صاحب نے بلوا منگل ( سور داس) ، شیر کی گرج ، اور بھارت رمنی کے حقوق میڈن کو دے دیئے ۔ آغا صاحب کمپنی کے ساتھ دورہ کرتے رہے اور آخر وہ آلہ آباد میں بند ہو گئی۔
خود آغا صاحب میڈن میں بارہ سو روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے اور اس کے علاوہ ایک شب کی آمدنی بھی (یعنی ہر ڈرامے جو آمدنی ہوتی تھی وہ بھی انہیں ملتی تھی) انہوں نے کمپنی کے لیے مدہر مرلی بھگیرت گنگا اور ترکی حور لکھے ، ترکی حور، اپرادھی کے نام سے بنگالی زبان میں شام بازار تھیٹر میں کھیلا گیا اور مقبول ہوا۔
یہ تھیڑ بھی میڈن کا تھا اس کے بعد (اس کمپنی کے لیے) پہلا پیار ہندوستان، آنکھ کا نشہ بھیشم پر تگیہ ، دھرمی بالک عرف غریب کی دنیا۔ بھارتی با لک عرف سماج کا شکار، شیریں فرہاد اور دل کی پیاس لکھے اور ملازمت چھوڑ دی۔کچھ عرصہ بعد یہودی کی لڑکی اور چنڈی داس قیمتاً دیئے۔
اس کے بعد آغا حشر موتی لال چری سیٹھ کی ایسٹ انڈیا فلم کمپنی میں ملازم ہو گئے ۔ اور اس کے لیے عورت کا پیار لکھا۔ اس زمانہ میں انہوں نے فرام جی میڈن کی فلم کمپنی کے لیے فلمی کہانیاں دل کی آگ ، لوکش، قسمت کا شکار، آتشی طوفان اور گناہ کی کے لیے بیٹیاں وغیرہ لکھیں۔آغا حشر نے معمولی تنخواہ سے ڈراما نویسی کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیتوں کی بدولت اتنی ترقی کی جو ان کے ہم عصر کسی ڈراما نولیس کو نصیب نہ ہوئی۔
1956ء میں آغا صاحب لاہور آگئے اور حشر فلمز کے نام سے اپنی ذاتی فلم کمپنی کی بنیاد رکھی اور اپنے مشہور ڈرامہ بھیشم پر تگیہ کہ فلمانے کی تیاری کرنے لگے۔ اس زمانہ میں مشہور مغنیہ اور فنکارہ مختار بیگم ان کے ساتھ تھیں لاہور کے قیام کے دوران آغا صاحب جیل روڈ پر کرایہ کی ایک کوٹھی میں رہتے تھے ۔
حشر کی فلم ابھی تکمیل کے ابتدائی مراحل میں تھی کہ 28 اپریل 1935ء میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ آغا صاحب کو میانی صاحب کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ لوح مزار پر پروفیسر عبدالطیف تپش کا یہ قطعہ بطور تاریخ کندہ ہے۔
ہوئی ختم تمثیل ہستی فانی
گراں پروہ مرگ بے رد وکد اب
تیش کس قیامت کا بدلا ہے منظر
تماشه گاہ حشر ہے یہ لحد اب
متعلقہ سوالات و جوابات
آغا حشر کاشمیری کا پورا نام کیا ہے؟
آغا محمد شاہ حشر کاشمیری
کیا ان کا خاندان مذہبی تھا؟
ہاں جی
آغا حشر کاشمیری کا تاریخ پیدائش اور جگہ پیدائش ؟
1879 بنارس۔
ابتدا میں ان کا رجحان کس صنف کی طرف تھا؟
شاعری
آغا حشر کاشمیری کا پہلا ڈرامہ؟
مرید شک،آفتاب محبت