اردو ادب میں ظرافت، طنز اور مزاح: ایک تنقیدی جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
انسانی زندگی صرف سنجیدگی کا نام نہیں بلکہ ہنسی، خوشی اور مسکراہٹ بھی اس کے لازمی اجزا ہیں۔ جہاں ہم روتے ہیں، وہاں مسکراتے اور قہقہے بھی لگاتے ہیں۔ ادب میں اسی ہنسی اور دل لگی کو ظرافت (Zarafat) کا نام دیا جاتا ہے۔
ذیل میں ہم ظرافت، مزاح اور طنز کے درمیان باریک فرق اور نامور ناقدین کی آرا کا جائزہ لیں گے۔
ظرافت اور مزاح میں بنیادی فرق
عام طور پر ہر وہ بات یا عمل جو انسان کے لبوں پر ہنسی بکھیر دے؛ اسے ظرافت کہا جاتا ہے۔ ایک ظرافت نگار کا بنیادی مقصد صرف اور صرف قارئین کو ہنسانا ہوتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑے۔
- ظرافت کا ادنیٰ درجہ: اکثر اوقات ظرافت میں چھچھوراپن اور عامیانہ انداز (Phakkar) بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں اسے مزاح کی نچلی سطح قرار دیا جاتا ہے۔
- مزاح (Humor): جب ظرافت فنی بلندیوں کو چھو لے اور اس میں شائستگی و ادبی حسن پیدا ہو جائے، تو یہ مزاح کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
مزاح کی پہچان: ہنسی کے ساتھ فکر
ظرافت اور مزاح میں سب سے بڑا فرق "غور و فکر” کا ہے۔ ظرافت صرف ہنسی پیدا کرتی ہے، جبکہ مزاح ہنسانے کے ساتھ ساتھ انسان کو سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی اس حوالے سے لکھتے ہیں:
”میں اس کو مزاح تصور کرتا ہی نہیں جو غور و فکر کی دعوت نہ دے۔ مزاح وہ ہے جو تفکر پیدا کرے۔“
طنز اور مزاح: دو الگ دنیائیں
اکثر لوگ طنز (Satire) کو بھی مزاح کی ہی ایک قسم سمجھتے ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔ یہ دونوں اپنی ماہیت میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
- مزاح میں ہمدردی اور شگفتگی ہوتی ہے۔
- طنز میں ہمدردی کی بجائے تلخی اور نفرت کا عنصر غالب ہوتا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا کا نقطہ نظر
اردو کے نامور ناقد ڈاکٹر وزیر آغا نے طنز و مزاح کا فرق بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق:
- طنز (Satire): یہ زندگی اور ماحول سے ناراضگی کا نتیجہ ہے۔ اس میں نشتر کی سی تیزی ہوتی ہے۔ طنز نگار جس چیز پر ہنستا ہے، دراصل اس سے نفرت کرتا ہے اور اسے توڑ پھوڑ کر بدل دینا چاہتا ہے۔ طنز نگار توڑنے کے بعد ایک فاتحانہ قہقہہ لگاتا ہے، جس میں فخر کا جذبہ شامل ہوتا ہے۔
- مزاح (Humor): یہ زندگی اور ماحول سے محبت اور سمجھوتے کی پیداوار ہے۔ مزاح نگار جس چیز پر ہنستا ہے، اس سے پیار بھی کرتا ہے۔ وہ اپنی ہنسی سے ٹوٹے ہوئے تاروں کو جوڑتا ہے اور سماج کی ناہمواریوں کو بڑے پیار سے تھپکتا ہے۔ یعنی مزاح میں ہمدردی کا عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
مشرق و مغرب کا فرق:
ڈاکٹر وزیر آغا نے اس فرق کو کھانے کی میز کی مثال سے بھی واضح کیا ہے:
- مغربی اصول: "قبل از طعام طنز، بعد از طعام مزاح۔”
- مشرقی اصول: یہاں معاملہ الٹ ہے، یعنی "مزاح کھانے سے پہلے اور طنز کھانے کے بعد۔”
دیگر ناقدین کی آراء
ادب کے دیگر بڑے ناموں نے بھی ان اصطلاحات کی تعریف اپنے اپنے انداز میں کی ہے:
سٹیفن لی کاک (Stephen Leacock)
ان کے نزدیک مزاح کی تعریف کچھ یوں ہے:
”مزاح زندگی کی ان ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا فنکارانہ اظہار ہو جائے۔“
رشید احمد صدیقی
رشید صاحب طنز کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”زندگی کے مضحک، نا قابل گرفت اور تنفر انگیز پہلوؤں پر مخالفانہ اور ظریفانہ تنقید اصطلاح میں طنز کہلاتی ہے۔“
طنز نگار اور مزاح نگار کی شخصیت کا فرق
خواجہ عبد الغفور نے طنز اور مزاح کے فرق کو سمجھانے کے لیے ان کے لکھنے والوں (مصنفین) کی خصوصیات کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جو کہ بہت دلچسپ ہے:
مزاح نگار (Humorist) کیسا ہوتا ہے؟
- وہ ہنسوڑ اور خوش طبع ہوتا ہے۔
- نت نئے شگوفے چھوڑتا ہے اور "گل” کرتا ہے۔
- دور کی کوڑی لاتا ہے۔
- اپنی تحریروں سے قاری کو چونکا دیتا ہے۔
طنز نگار (Satirist) کیسا ہوتا ہے؟
- وہ ایک سرجن یا جراح کی مانند ہوتا ہے (جو نشتر چلاتا ہے)۔
- اکثر احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے۔
- "کچھ نہ کہہ کر سب کچھ کہہ دینے” کے فن کا ماہر ہوتا ہے۔
- وہ بددماغ، بے درد اور بے لحاظ ہوتا ہے۔ نظرِ ثانی و تصحیح:
مجاہد حسین شاہ
معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
نظر ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ
معلمِ اردو کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
