یوسف ظفر کی نظم نگاری: زندگی کی تلخیوں اور فن کے پانچ نئے زاویے تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی وسیع دنیا میں یوسف ظفر کی نظم نگاری کو ایک انتہائی منفرد، معتبر اور نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کا شمار حلقۂ اربابِ ذوق کے ان مایہ ناز وابستگان میں ہوتا ہے جنھوں نے اس تحریک کو پروان چڑھانے میں اپنا خونِ جگر صَرف کیا۔
وہ نہ صرف اس مؤقر ادبی حلقے کے کلیدی اراکین میں شامل تھے بلکہ انھوں نے متعدد بار سیکریٹری کی حیثیت سے بھی شاندار خدمات انجام دیں۔ ان کی شب و روز کی محنت نے اس حلقے کی ترقی اور ترویج میں ایک سنگِ میل کا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مولوی اسماعیل میرٹھی کی نظم نگاری کی خصوصیات
یوسف ظفر کی ادبی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے ہاں زندگی کے حقیقی دکھوں، معاشرتی کرب اور ذاتی المیوں کی ایسی سچی تصویر کشی ملتی ہے، جو قاری کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
یوسف ظفر کی نظم نگاری کا آغاز اور جوش ملیح آبادی کے اثرات
دیگر کئی معروف شعرا کی طرح یوسف ظفر کے تخلیقی سفر کا باقاعدہ آغاز بھی غزل گوئی سے ہوا تھا۔ تاہم، ان کی ادبی زندگی میں ایک بہت بڑا موڑ اس وقت آیا جب ان کی ملاقات شاعر شباب جوش ملیح آبادی سے ہوئی۔
اس تاریخی ملاقات نے ان کے فکر و فن کے دھارے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا اور انھوں نے غزل کی بجائے نظم کو اپنے داخلی اور خارجی احساسات کے اظہار کا بنیادی ذریعہ بنا لیا۔
اگرچہ جوش ملیح آبادی کی صحبت نے انھیں نظم کی طرف راغب کیا لیکن یوسف ظفر نے جوش کی طرح اپنی شاعری کو انقلاب اور بغاوت کے بلند بانگ نعروں سے نہیں سجایا۔ اس کے برعکس، ان کے کلام میں ایک گہری اداسی اور مایوسی کا پہلو غالب رہا۔
یہ مایوسی بعض مقامات پر شدت اختیار کرتے ہوئے قنوطیت کی سرحدوں کو بھی چھوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم، تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کی نظموں میں اس قنوطیت کی موجودگی کوئی ادبی خامی یا عیب نہیں ہے بلکہ یہ ان کے ذاتی تجربات کا انتہائی سچا عکس ہے۔
غربت، یتیمی اور زندگی کی کٹھن مشقتیں
یوسف ظفر نے اپنی عملی زندگی میں جن کٹھن حالات کا سامنا کیا، اسی کی صدائے بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی ہے۔ ان کا فن ان کے دکھوں کا آئینہ دار ہے اور یہی سچائی انھیں اردو ادب میں ایک محترم اور جداگانہ مقام عطا کرتی ہے۔
بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعد انہیں شدید مالی بحران اور آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک یتیم بچے کو دنیا کے جن بے رحم تھپیڑوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یوسف ظفر نے ان سب کو محض دور سے نہیں دیکھا بلکہ اپنے وجود پر برداشت کیا۔
شدید غربت اور افلاس کے باعث ان کا تعلیمی سفر بھی بری طرح متاثر ہوا۔ وہ میٹرک کے بعد اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے اور انھیں کم عمری میں ہی معاشی ذمہ داریوں کا بھاری بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانا پڑا۔
اپنی والدہ اور بہن کی کفالت اور ان کا پیٹ پالنے کے لیے انھوں نے سخت محنت و مزدوری کی۔ یہاں تک کہ سڑکوں پر غبارے بیچ کر روزگار کمایا، مگر حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے زندگی کے اس کٹھن سفر کو پوری ہمت کے ساتھ جاری رکھا۔
روشنی کی تلاش اور اندھیروں سے کشمکش
وقت گزرنے کے ساتھ جب ان کی مسلسل جِدوجہد رنگ لانے لگی، حالات معمول پر آتے دکھائی دیے اور زندگی قدرے بہتر ہونے لگی، تو قسمت نے ایک بار پھر پلٹا کھایا۔
ان کی زندگی میں ایک ایسا اندوہناک موڑ آیا جس نے ان کی خوشیوں کے تمام راستے مسدود کر دیے اور ان کی دنیا کو ایک بار پھر مکمل تاریکی میں دھکیل دیا۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نجات پانے کے لیے وہ اپنی شاعری کے کینوس پر روشنی کی کرنیں تلاش کرتے رہے۔
- انھوں نے اپنے کلام میں چاند اور سورج کے استعارے استعمال کیے۔
- شمع اور قُمقموں جیسی روشنی کی علامتوں کو اپنی نظموں کا حصہ بنایا۔
- مگر یہ تمام روشنیاں اُن کے دل کے اندھیرے کو دور کرنے میں ناکام رہیں۔
وہ اپنی ذات کو اس گہرے غم اور اندوہ سے آزاد کرانے کی مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ اس شدید داخلی کشمکش اور حالات سے مقابلے کا یہ سفر ان کے تیسرے شعری مجموعے "صدا بصحرا” تک پہنچتے پہنچتے ایک شکست خوردہ انسان کی تصویر پیش کرنے لگا۔
یوسف ظفر کی نظم نگاری میں داخلیت اور خارجیت کا حسین امتزاج
یوسف ظفر کی نظم نگاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے کرب (داخلیت) اور زمانے کے دکھوں (خارجیت) کے درمیان ایک غیر معمولی توازن قائم کرتے ہیں۔
وہ صرف اپنی ذات کے خول میں بند نہیں رہتے بلکہ معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات اور حادثات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ زمانے کا غم انھیں اسی شدت سے محسوس ہوتا ہے جس طرح ان کا اپنا ذاتی غم، اور وہ اس کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔
انسانیت کی زبوں حالی اور معاشرتی اقدار کی پامالی پر وہ خاموش تماشائی نہیں بنتے۔ وہ زندگی کی ان کڑواہٹوں اور تلخیوں کو الفاظ کا روپ دیتے ہیں، جن کا ذائقہ انھوں نے خود اپنی زبان پر محسوس کیا ہوتا ہے۔
ان کا ایک اور منفرد انداز اپنے آپ سے مخاطب ہونا ہے۔ وہ اپنی نظموں میں خود کلامی کی کیفیت طاری کرتے ہوئے اپنے وجود سے مکالمہ کرتے ہیں، جو ان کے کلام کو دیگر ہم عصر شعرا سے بالکل ممتاز اور منفرد بنا دیتا ہے۔
کلامِ یوسف ظفر کے چند شاہکار نمونے
ان کی شاعری کے مختلف اور دل نشیں رنگوں کو سمجھنے کے لیے ان کی مشہور نظموں کے درج ذیل اشعار نہایت اہمیت کے حامل ہیں:
نظم "سوالی” سے اقتباس:
گزر رہے ہیں برابر تباہیوں کے جلوس
یہ زندگی کے مسافر کہاں چلے جائیں
یہ اشتہار غموں کے الم کی تصویریں
جواں امیدیں فضائے حیات سے مایوس
تنور سینہ کا ایندھن ہیں وہ تمنائیں
جلی حروف میں یہ حادثوں کی تحریریں
اسی طرح ان کی ایک اور شاہکار نظم "مینارِ سکوت” کے یہ خوبصورت بند ملاحظہ فرمائیں، جن میں ان کے کرب اور سوچ کی گہرائی نمایاں ہے:
وقت کو صحرا کہوں یا بحر بے ساحل کہوں
رات ہے ریگ رواں کی لہر یا کہ موج آب
زندگی تارے جگنو ہیں کہ موتی پھول ہیں یا سیپیاں
کہکشاں ہے دھول تاروں کی کہ موج پر خروش و در فشاں
سوچ کی چنگاریاں اڑتی ہیں یوں جیسے دل پر چوٹ پڑتی ہو کسی احساس کی
جیسے میں تنہا نہیں
ان کی نظم "رنگِ گفتگو” کا یہ ٹکڑا بھی ان کی فکری بلوغت اور اظہار کی قوت کا بہترین نمونہ ہے:
ناز تھا خوبی گفتار پہ مجھ کو لیکن
آج پھولوں نے پکارا مجھے رنگ و بو سے
تو نظر آیا کہ پتھر بھی زباں رکھتے ہیں
مذکورہ بالا اشعار کا مطالعہ کرنے سے یوسف ظفر کی نظم نگاری کے تمام رنگوں کو بآسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان میں حیات و کائنات کی کشمکش، معاشرتی المیوں، اور انسانی اقدار کے زوال کی نہایت پر اثر عکاسی کی گئی ہے۔
معرا نظموں کی تخلیق اور اردو ادب میں انفرادیت
یوسف ظفر کے فن کا ایک اور انتہائی شاندار اور امتیازی پہلو ان کی معرا نظمیں (Blank Verse) ہیں۔ اردو نظم کی طویل تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مخصوص صنف میں معیاری شاعری بہت ہی کم شعرا نے کی ہے۔
پابندِ بحر مگر قافیہ و ردیف سے آزاد اس صنف (معرا نظم) میں طبع آزمائی کرنا اور اس میں کمال حاصل کرنا، بلا شبہ یوسف ظفر کا ایک بہت بڑا اور تاریخی کارنامہ ہے۔
پروفیسر کوثر مظہری کی تنقیدی رائے
ان کی شاعری کے فنی و فکری محاسن پر تبصرہ کرتے ہوئے نامور نقاد، پروفیسر کوثر مظہری نے اپنی کتاب میں انتہائی جامع الفاظ میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ وہ رقم طراز ہیں:
"یوسف ظفر کی روح ایک شفاف آئینہ کے مثل ہے جس میں معاشرے کا حسن و فتح صاف نظر آتا ہے۔ انھوں نے علمی شاعری نہیں کی ہے بلکہ زندگی کو سمجھ کر اس کی تفسیر پیش کی ہے، جس تہذیب اور جس ماضی کی اقدار کو کسی زندہ معاشرے کی میراث تصور کیا گیا ہے۔ یوسف ظفر نے اس کی یافت اور بازیافت کی کوشش کی ہے۔”
(حوالہ : جدید نظم حالی سے میراجی تک، صفحہ 500)
مختصراً یہ کہ حلقۂ اربابِ ذوق کے صفِ اول کے شعرا میں یوسف ظفر ہمیشہ ایک مستند اور نمایاں حوالے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی نظمیں نہ صرف اعلیٰ انسانی قدروں کی پاسداری کرتی ہیں بلکہ ہمارے تہذیبی اور ثقافتی رویوں کی نہایت سچی اور فنکارانہ تصویر بھی پیش کرتی ہیں۔
نظرِ ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ, معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
