مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو ذریعہ تعلیم

ذریعہ تعلیم سے مراد وہ تعلیم ہے جس سے کوئی استاد کوئی فن یا علم اپنے شاگردوں کو سکھاتا ہے۔اس لیے اہم بات یہ ہے کہ استاد اور شاگرد اس زبان پر مکمل دسترس رکھتے ہوں۔اور دونوں اس زبان کو بہتر طور پر سمجھتے بھی ہوں۔ دنیا کے تقریبا تمام ممالک اپنی قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر سید عبداللہ کے بقول:
"مادری زبان میں تعلیم ہی جمہوری تعلیم کی اصل بنیاد ہے۔”( 1)

قومی زبان ہی تاریخی ورثے کی عکاس ہوتی ہے۔ زبان ہی کسی قوم کے مزاج ، امنگوں کی آئنیہ دار ہوتی ہے۔پاکستان ہی واحد ایسا ملک ہے کہ جس میں اس کی قومی زبان اردوکی بجائے ، انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا ہوا ہے۔
اس حیف صورت حال کا لب لباب یہی ہے کہ انگریزی زبان کی گرفت سرکاری دفاتر اور کاروبار مملکت پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ہے۔ چوں کہ ہمارے ہاں اعلی طبقہ انگریزی زبان کے ذریعے عوام پر برتری قائم رکھنے کی کوشش کررہا ہے جو کہ از حد غلط ہے ۔اب ہر سمت اعلی ملازمتوں کے حصول کے لیے ہمیں انگریزی زبان کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل اور آنے والی نسل کو انگریزی کی اہمیت اس قدر بتائی جاتی ہے کہ وہ اپنی قومی زبان میں بات کرنا کم تو سمجھتا ہے اور آنے والی نسل میں اردو کی اہمیت نہ ہونے کے مترادف ہوگئی ہے۔ اردو زبان کو سکولوں میں ایک زبان کی حد تک ہی برتا جاتا ہے ۔زیادہ تر معیاری تعلیم اور سکول انہیں ہی مانا جاتا ہے۔ جس میں انگریزی زبان میں بات چیت زیادہ ہورہی ہو۔ المیہ ہے کہ کبھی ہر فرد اپنی قومی زبان میں بات کرنا،اس کو سیکھنا فخر محسوس کرتا تھا ۔مگر آج کے دور میں اپنی قومی زبان میں بات کرنا ہتک سمجھا جاتا ہے۔
بقول علامہ اقبال :
"اردو ذریعہ تعلیم بنے بغیر عوام میں علم عام نہیں ہوسکتا۔”( 2)
تاریخ کی سمت دیکھیں تو معلوم ہو کہ لسانی اختلاف آگے چل کر مستقبل کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔1867ء میں اردو ہندی تنازع نے پاکستان کی راہیں ہموار کیں۔1971ء میں مشرقی بنگال( بنگلہ دیش) کی علیدگی میں بھی لسانی اختلافات پیش رو تھے۔ کچھ بھی ہو جائے ،کبھی بھی کہا جائے قومی زبان کی حیثیت مسلم ہے اور اس سے انکار کسی طور بھی ممکن نہیں۔ پاکستان کی قومی زبان کے حوالے سے قائداعظم نے فرمایا: ” میں آپ سب کو واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔”
ہمیں آزادی حاصل کیے ہوئے 78 سال بیت چکے ہیں مگر آج بھی ہم اپنی قومی زبان کو وہ مقام نہیں دیے پائے جو دینا چاہیے۔ ہم ابھی تک اسے بطور ذریعہ تعلیم تک رائج نہیں کر پائے ۔اسی وجہ سے ہماری ذہنی غلامی انگریزی سے مرعوبیت ہیں۔ ہمارے اعلی عہدے اور حکام بالا بھی کسی سے کم نہیں جو انگریزی زبان کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اگر کبھی غلطی سے ملک کے کسی حصے سے اردو زبان پر بات کو اجاگر کیا جائے تو حکام بالا فورا لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے تعلیمی کمیشن قائم کر دیتے ہیں۔یہی کمیشن بعد میں کئی ماہ تک بحث و تمحیص کے بعد اعلان کرتے ہیں کہ کچھ ماہ تک اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنادیا جائے گا ۔ایک ایسا ہی منصوبہ بہت مشہور ہوا تھا کہ 1980ء کو اردو کو مکمل طور پر رائج کر دیا جائے گا ۔مگر اس پر عمل آج تک ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ اگر جزوی طور پر عمل ہوا بھی تو نہایت بے دلی سے ہوا۔
اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا قرینہ سیکھو
سنگ مر مر پر چلو گے تو پھسل جاؤ گے
انگریزی خواں طبقے نے کھلم کھلا تو اردو زبان ختم کرنے کی کوششیں نہ کیں بلکہ بالواسطہ اس زبان کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں پیدا کیں۔ مثلا :-
علاقائی زبانوں کو فروغ دینا شروع کیا۔
اور یہ تجویز بھی دی کہ ہر علاقے میں علاقائی زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے ۔ حالانکہ یہ لوگ اس حقیقت سے ناآشنا تھے کہ جب علاقئی زبان ذریعہ تعلیم علاقے میں بنے گی تو علاقئی تعصب بھی جنم لے گا اور قومی یکجہتی پر بھی حرف آئے گا۔انگریزی زبان پر کام کرنے والے افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ اردو میں سائنسی اور دیگر اصطلاحات کی بھی کمی ہے ۔حالانکہ یہ بات حقیقت سے بہت کم تعلق رکھتی ہے ۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے بقول:
” تعلیم اگر مادری زبان میں ہو تو ذہنی نشوونما زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ "(3)

1842ء میں قائم ہونے والے دہلی کالج میں،اردو کو ہی تمام مشرقی و مغربی علوم کی ترویج کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔اسی طرح حیدرآباد دکن کے تعلیمی اداروں میں یہی تسلسل رائج رہا تھا۔اردو زبن تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے اچھی خاصی صلاحیت رکھتی ہے۔ دیگر زبانوں کے علوم کے تراجم کےل یے اردو زبان میں بہت سے مترادفات مل جاتے ہیں۔اردو دوسری زبانوں کے الفاظ کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اردو لسانیات کی دنیا میں فرد ہے
اردو ولی ہے،میر ہے،سودا ہے،درد ہے
اردو ذریعہ تعلیم نہ بنانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور عوام کے درمیان تفریق رکھنا چاہتے ہیں۔کیونکہ وہ تو اپنی اولادوں کو برٹش سکولوں،جامعات میں بھیجتے ہیں اور غریب کا بچہ گورنمنٹ کے سکولوں میں اور غریب عوام منھ کھولے دیکھتے ہی رہتے ہیں اور حکومت کی باگ دوڑ بھی انگریزی طالب علم ہی سنبھالتے ہیں۔اور ہر طرف امراؤ کی اجارہ داری نظر آرہی ہوتی ہے۔ انہی کی دیکھا دیکھی عوام بھی بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں بھجواتے ہیں اور ہر طرف انگلش میڈیم سکول ہی نظر آتے ہیں۔
سرسید احمد خان ایک جگہ لکھتے ہیں۔:
"جو قوم اپنی زبان میں تعلیم حاصل نہیں کرتی،وہ علمی ترقی نہیں کرسکتی۔”(4)
اردو ہزار قافلہ چہروں کی گرد ہے
اردو نوائے گل کی طرح رہ نورد ہے
اردو زبان بکھرے ہوؤں کو یکجا کرتی ہے ۔ٹوٹے دلوں کو جوڑتی ہے ۔منتشر لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک مرکز پر لاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کو قومی زبان ہونے کا شرف ہے ۔قومی زبان ملکی ثقافت کی امین ہے۔ زندہ قومیں اپنی قومی زبان سے محبت کرتی ہیں اور اس کی ترقی و ترویج کے لیے کوشاں ہوتی ہیں۔مردہ قومیں اپنی زبان سے محبت نہیں کرتیں۔چین آج عالمی افق پر ہے ۔انگریزی زبان بین الاقوامی زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک چائنہ وہ سب سے پہلے انگریزی زبان کو اختیار کرئے ۔لیکن جب وزیراعظم چائنہ چو۔این لائی پاکستان آئے تو انگریزی میں پیش کیے گئے سپاس نامے کا جاوب انھوں نے چینی زبان میں یہ کہہ کر دیا "چائنہ ابھی گونگا نہیں ہوا”۔ یہ ہے زندہ قوموں کا نشان۔
ہے زباں ایک بے شمار مزے
اس کی ہر بات میں ہزار مزے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

اردو بولنے سے انسان فخر محسوس کرتا ہے۔ اور یہ ہمارے وطن کی آن بان شان ہے۔ اور اس زبان میں بیشتر الفاظ جو ہمیں معاون کرتے ہیں بات کرنے اور سمجھنے میں اور یہی ہماری آن ہے۔

حوالہ جات
1۔ڈاکٹر سید عبداللہ از مقالات لسانیات،مکتبہ اردو،لاہور،صفحہ 96

2۔علامہ محمد اقبال(خطبات و مکتوبات اقبال)،اقبال آکادمی پاکستان ،لاہور،صفحہ 112

3۔مولانا ابوالکلام آزاد (تعلیمی خطبات)،مکتبہ جامعہ،دہلی،صفحہ 78
4۔سرسید احمد خان(تحریرات سرسید)،علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ،علی گڑھ،صفحہ 45

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں