مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو زبان میں حروف کی اقسام

اردو زبان میں حروف کی اقسام اور ان کا درست استعمال تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو گرامر میں "حروف” ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو اکیلے تو کوئی خاص معنی نہیں رکھتے لیکن جملوں میں ربط اور معنویت پیدا کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ذیل میں حروف کی مختلف اقسام، ان کی تعریف اور مثالیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں:

1. حروفِ جار (Huroof-e-Jar)

یہ وہ حروف ہیں جو کسی اسم (Noun) کو فعل (Verb) کے ساتھ ملانے کا کام کرتے ہیں۔ اگر ان کو جملے سے نکال دیا جائے تو جملہ بے معنی ہو جاتا ہے۔

  • مثالیں: کتابیں میز پر رکھ دو۔
  • مثال: وہ جماعت ششم میں پڑھتا ہے۔

ان مثالوں میں "پر” اور "میں” حروفِ جار ہیں جو اسم اور فعل کا تعلق جوڑ رہے ہیں۔

2. حروفِ اضافت (Huroof-e-Izafat)

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ حروف دو اسموں کے درمیان تعلق یا ملکیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

اہم مثالیں:

  • خالدہ کی ماں
  • فاطمہ کا رومال
  • درخت کے پتے
  • ارشد کی کتابیں

مندرجہ بالا مثالوں میں "کا”، "کی” اور "کے” حروفِ اضافت ہیں جو باہمی تعلق کو واضح کر رہے ہیں۔

3. حروفِ عطف (Huroof-e-Atf)

وہ حروف جو دو اسموں یا دو مکمل جملوں کو آپس میں ملانے کا فریضہ سرانجام دیں، حروفِ عطف کہلاتے ہیں۔

مثالیں:

  • شب و روز
  • ثمینہ اور کوثر
  • وہاں پر جوان اور بوڑھے سب تھے۔
  • میں تو آگیا مگر وہ نہیں آیا

ان جملوں میں "و”، "اور”، اور "مگر” بطور حروفِ عطف استعمال ہوئے ہیں۔

اہم نکته: حرفِ عطف "و” (واؤ) صرف فارسی اور عربی الفاظ کو ملانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر ایک لفظ ہندی/اردو ہو اور دوسرا عربی یا فارسی، تو ان کے درمیان "و” لگانا غلط ہے۔

  • غلط مرکبات کی مثال: میخ و پکار، دن و رات (کیونکہ یہ مختلف زبانوں کا جوڑ ہیں

4. حروفِ ندا (Huroof-e-Nida)

یہ وہ حروف ہیں جو کسی کو پکارنے یا مخاطب کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مثالیں:

  • یا اللہ! ہم پر رحم فرما۔
  • ارے بھائی! ادھر تو آؤ۔
  • اے یار!، اے باری!، او وغیرہ۔

5. حروفِ استفہام (Huroof-e-Istifham)

ایسے تمام حروف جو کوئی سوال پوچھنے یا کچھ دریافت کرنے کے لیے بولے جائیں، حروفِ استفہام کہلاتے ہیں۔

مثالیں:

  • تم کب لاہور جاؤ گے؟
  • کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟

ان جملوں میں "کب” اور "کیا” سوالیہ حروف ہیں۔ دیگر حروف میں کیوں، کیسے، کون، کس طرح، کس لیے، کس قدر وغیرہ شامل ہیں۔

6. حروفِ تشبیہ (Huroof-e-Tashbeeh)

جب کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز جیسا یا اس کے مانند قرار دینا ہو تو حروفِ تشبیہ استعمال ہوتے ہیں۔

مشہور حروف:

  • مثال، جیسا، صورت، مانند، ہو بہو اور طرح۔
  • مثال: وہ چاند جیسا ہے۔
  • وہ شیر کی *طرح * بہادر ہے

7. حروفِ نفرین (Huroof-e-Nafreen)

یہ وہ الفاظ ہیں جو بددعا نفرت، یا اظہارِ ناراضی کے لیے استعمال کیۓ جاتے ہیں۔

مثالیں:

  • لعنت، تف، اخ تھو، تھو تھو وغیرہ۔

8. حروفِ انبساط (Huroof-e-Inbisat)

یہ الفاظ شدتِ جذبات میں خوشی اور مسرت کے موقع پر زبان سے ادا ہوتے ہیں۔

مثالیں:

  • سبحان اللہ
  • الحمدللہ
  • ماشاء اللہ
  • آہا

9. حروفِ تحسین (Huroof-e-Tahseen)

کسی کے اچھے کام پر تعریف کرنے یا خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جو حروف استعمال ہوتے ہیں، انہیں حروفِ تحسین کہتے ہیں۔

الفاظ:

  • داد، واہ واہ، شاباش، ماشاء اللہ، جزاک اللہ، سبحان اللہ، خوب، آفرین۔

10. حروفِ تاکید (Huroof-e-Takeed)

وہ حروف جو کلام میں زور پیدا کرنے یا کسی بات کی پختگی کے لیے استعمال ہوں، حروفِ تاکید کہلاتے ہیں۔

الفاظ:

  • ضرور، سراسر، بھی، ہرگز، مطلق، بالکل، زینہار۔
  • بھی اکثر حروف تاکید مانا جاتا ہے
  • لیکن بعض اساتذہ حروف عطف بھی کہتے ہیں

11. حروفِ تاسف (Huroof-e-Tassuf)

یہ حروف غم، افسوس اور پچھتاوے کے مواقع پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

مثالیں:

  • حیف صد حیف، افسوس صد افسوس، ہائے ہائے، آہ، حسرت۔

12. حروفِ استدراک (Huroof-e-Istadrak)

کسی غلط فہمی کو دور کرنے یا کلام میں وضاحت (فہم و ادراک) پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے حروف۔

الفاظ:

  • لیکن، الا، مگر، ہاں، البتہ۔

13. حروفِ ایجاب (Huroof-e-Ijaab)

وہ حروف جو کسی بات کا اقرار کرنے، ماننے یا قبول کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔

مثالیں:

  • جی، جی ہاں، بے شک، بجا، واقعی، اچھا، بہتر، درست۔

14. حروفِ استثنا (Huroof-e-Istisna)

ایسے الفاظ جو ایک چیز کو دوسری چیز سے الگ کریں یا کسی حکم سے مستثنیٰ قرار دیں، حروفِ استثنا کہلاتے ہیں۔

الفاظ:

  • جز، الا، سوا، لیکن

15. حروفِ علت (Huroof-e-Illat)

یہ وہ الفاظ ہیں جو کسی کام کی وجہ یا سبب (Cause) ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

الفاظ:

  • تاکہ، اس لیے، لہٰذا، کیونکہ، پس۔

16. حروفِ تہجی (Huroof-e-Tahajji)

اس کا لفظی مطلب ہجے کرنا ہے، یعنی منفرد حروف کو الگ الگ پڑھنا۔ انسان اپنے مقصد کے اظہار کے لیے زبان سے جو الفاظ ادا کرتا ہے، وہ انہی حروف کا مجموعہ ہوتے ہیں۔

  • اردو زبان میں کل باون (52) یا (53) حروفِ تہجی ہیں۔
  • ان میں ‘س’، ‘ش’، ‘ص’، ‘ض’، ‘ط’، ‘ع’، ‘غ’، ‘ف’، ‘ق’، ‘ک’ وغیرہ شامل ہیں، اس کے علاوہ بھاری آواز والے حروف (جیسے کھ، گھ) بھی اس میں شمار ہوتے ہیں۔

17. حروفِ ابجد (Huroof-e-Abjad)

یہ بنیادی طور پر وہ حروف ہیں جو عربی حروفِ تہجی سے ماخوذ ہیں۔ علمائے کرام اور ماہرینِ لسانیات نے ان کی ایک خاص ترتیب مقرر کر رکھی ہے۔ ان حروف کے مجموعوں کے نام درج ذیل ہیں:

  1. ابجد (الف، ب، ج، د)
  2. ہوّز (ہ، و، ز)
  3. حطی (ح، ط، ی)
  4. کلمن (ک، ل، م، ن)
  5. سعفص (س، ع، ف، ص)
  6. قرشت (ق، ر، ش، ت)
  7. ثخذ (ث، خ، ذ)
  8. ضظغ (ض، ظ، غ)

18. حروفِ مقطعات (Huroof-e-Muqatta’at)

یہ قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں آنے والے وہ حروف ہیں جنہیں الگ الگ (حروف کے طور پر) پڑھا جاتا ہے، ملا کر نہیں۔

  • علمِ حقیقی: ان حروف کے اصل معانی کا علم کلی طور پر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کسی انسان کو ان کا حتمی علم نہیں دیا گیا۔
  • لکھنے اور پڑھنے کا طریقہ: ان کو لکھا ملا کر جاتا ہے لیکن پڑھا الگ الگ جاتا ہے۔

مثالیں:

  • الم (الف، لام، میم)
  • طہٰ (ط، ہ)
  • یس (یا، سین)
  • حم، کہیعص وغیرہ۔

پروف ریڈنگ : واصف احمد
ضلع ملاکنڈ
شعبہ اردو
میقات چھارم
جامعہ پشاور

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں