مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو شاعری میں تجریدیت

اردو شاعری میں تجریدیت تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو شاعری میں تجریدیت روایت، جدت اور فنی تجربات

ادب کی وسیع دنیا کو بنیادی طور پر دو حصوں—نثر اور شاعری—میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ تجریدیت (Abstraction) کا اثر دونوں پر گہرا ہے، لیکن فی الحال ہماری گفتگو کا مرکز شاعری (غزل اور نظم) ہے۔ تجریدیت کو عام طور پر جدید دور کی دین سمجھا جاتا ہے، مگر اردو تنقید میں ایک مضبوط طبقہ ایسا ہے جو مانتا ہے کہ ہماری کلاسیکی شاعری جدید تجریدی آرٹ سے بھی زیادہ تجریدی تھی۔

1. کیا اردو غزل پیدائشی تجریدی ہے؟ (احمد ندیم قاسمی کا نظریہ)

تجرہدی رجحان کو اکثر مغرب سے جوڑا جاتا ہے، لیکن احمد ندیم قاسمی اس تاثر کو غلط ثابت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اردو غزل کا قاری تجریدیت کے لیے اجنبی نہیں ہو سکتا کیونکہ غزل کا خمیر ہی اشاریت اور تجرید سے اٹھا ہے۔

قاسمی صاحب کا استدلال ہے:

"تجرید ہم لوگوں کے لئے قطعی اجنبی نہیں ہے۔ ہم صدیوں تک غزل کی شاعری کے عادی رہے ہیں اور دنیا کی کسی بھی زبان میں کسی بھی صنف شعر میں تجرید سے اتنا کام نہیں لیا گیا جتنا اردو غزل میں لیا گیا ہے۔”
(حوالہ: فنون، دسمبر 1966، مضمون: تجریدی مصوری، ص 292)

اس بات کو ثابت کرنے کے لیے وہ ایک بہت ہی دلچسپ تقابل پیش کرتے ہیں۔ اگر ہم ولی، میر، سودا، غالب اور اقبال کے کلام سے محبوب کے اوصاف جمع کریں اور کسی حقیقت پسند مصور سے تصویر بنوائیں، تو جو خاکہ بنے گا وہ اتنا تجریدی ہوگا کہ پیکاسو (Picasso) کا آرٹ بھی اس کے سامنے ہیچ لگے گا۔

اقبال کی شاعری میں تجرید کی مثال دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

"سورج نے جاتے جاتے، شام سیہ قبا کو خشب افق سے لے کر لالے کے پھول مارے… تو یہ دل آویز امیجری تجرید نہیں ہے تو اور کیا ہے؟”

2. تجریدیت: شاعری بمقابلہ افسانہ (تنقیدی مباحث)

ادبی ناقدین کے درمیان یہ بحث بھی گرم رہی ہے کہ "تجرید” دراصل کس صنف کا خاصہ ہے؟ اس حوالے سے وہاب اشرفی اور گوپی چند نارنگ کے خیالات میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔

  • وہاب اشرفی کا موقف: وہ جدید افسانے پر تجرید کے لیبل کے خلاف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مغرب میں یہ اصطلاح (جیسے ایڈتھ سٹوِل کی شاعری) صرف نظموں کے لیے تھی، افسانے کے لیے نہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگرچہ نثر کا مزاج تجریدی ہے، مگر افسانے میں صوت و آہنگ کو بنیاد بنانا (جیسے گوپی چند نارنگ نے کہا) درست نہیں۔
  • زمینی حقیقت: وہاب اشرفی کی رائے کے برعکس، جدیدیت کی تحریک کے دوران اردو میں ایسے افسانے لکھے گئے جو مکمل تجریدی تھے۔ بلراج مین را اور سریندر پرکاش جیسے افسانہ نگاروں نے شعوری طور پر تجرید کو اپنایا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ تجریدیت صرف شاعری تک محدود ہے، جدید ادبی تاریخ کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

3. مغرب کی تقلید یا روایت کا تسلسل؟

جدید اردو شاعری میں تجریدی اسالیب یقیناً مغربی ادب (Western Poetry) سے متاثر ہیں، لیکن سلیم شہزاد کے مطابق ہمارے ہاں اس کے لیے زمین پہلے سے ہموار تھی۔

وہ فرماتے ہیں:

"جدید شاعری میں اہمال پسندی یا تجریدیت کے مختلف طرز و اسالیب چاہے جدید مغربی شاعری سے مستعار ہوں، ہماری جدید شاعری میں ان کے پہنچنے کے لئے ہماری اپنی روایات ہی نے زمین ہموار کی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کل ان اسالیب (صنعتِ معمہ) کو سرے سے مہمل قرار دیا جاتا تھا اور آج ان کے مختلف نام… ہیں۔”
(حوالہ: جدید شاعری کی ابجد، ص 84)

4. ابلاغ کا بحران: مغربی شعراء کا رویہ

تجریدیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قاری سے رشتہ توڑ لیا جائے۔ سید محمد عقیل نے مغربی اور اردو کے جدید شعراء کے رویوں میں ایک بڑا فرق نوٹ کیا ہے۔

  • انگریزی شعراء (جیسے Kings اور Dom Moraes) اپنی تجریدیت کے باوجود سماج اور تہذیب سے اپنا رشتہ قائم رکھتے ہیں اور ابلاغ (Communication) کی کوشش کرتے ہیں۔
  • اس کے برعکس، اردو کے بعض جدید شعراء نے اسے محض فیشن کے طور پر اپنایا، جس سے شاعری میں وہ ابہام پیدا ہوا کہ معنی ہی گم ہو گئے۔

سید محمد عقیل لکھتے ہیں:

"وہ (مغربی شعراء) یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس سوسائٹی میں وہ زندہ ہیں اس سے اپنا رشتہ بالکل کاٹ کر زندہ نہیں رہ سکتے… جدید اردو شاعری میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔”
(حوالہ: غزل کے نئے جہات، ص 75)

5. تجریدی تکنیک: بصری آہنگ اور تکرار (Visual Poetry)

جدید تجریدی شاعری نے صرف خیال نہیں بلکہ ہیئت (Form) کے بھی تجربے کیے۔ اس میں لفظوں کی تکرار اور بصری پیکر (Visual Rhythm) اہم ہیں۔ یہاں شاعر الفاظ کو صفحے پر اس طرح سجاتا ہے کہ وہ پڑھنے سے زیادہ "دیکھنے” کی چیز بن جاتے ہیں۔

سلیم شہزاد نے اس کی بہترین وضاحت کی ہے۔ ان کے مطابق جب کسی نظم میں ایک ہی لفظ بار بار دہرایا جاتا ہے (جیسے: کالا، کالا، کالا…) تو یہ یکسانیت ایک خاص نفسیاتی اثر پیدا کرتی ہے۔

مثال: مچھلیاں اور جال

ایک مشہور نظم کی مثال دیکھیے جہاں الفاظ کی ترتیب خود ایک تصویر بنا دیتی ہے:

مچھلیاں جال میں… مچھلیاں جال میں…
مچھلیاں مچھلیاں… جال میں مچھلیاں…

سلیم شہزاد لکھتے ہیں:

"اس قسم کی نظم کو دیکھتے ہوئے الفاظ کی تکرار اور تصویری تحریر سے باصرہ (Visual Sense) کو تحریک ملتی ہے اور صفحے پر مچھلیاں جال میں نظر آنے لگتی ہیں۔”
(حوالہ: جدید شاعری کی ابجد، ص 92)

اسی طرح عادل منصوری کا شعر بھی تجریدی اظہار کی عمدہ مثال ہے:

الف سیر کرنے گیا نون میں
ملے میم کے نقشِ پا نون میں

حاصلِ کلام

اردو شاعری میں تجریدیت کے دو رخ ہیں۔ ایک وہ جو فنکارانہ مہارت (Artistic) کے ساتھ برتی گئی، جس نے معنی کی نئی تہیں کھولیں۔ دوسری وہ جو غیر فنکارانہ (Non-artistic) تھی، جو صرف فیشن کے طور پر اپنائی گئی اور جس نے قاری اور شاعر کے درمیان دوری پیدا کی۔

بقول سلیم شہزاد:

"خیالات کے انتشار میں مفہوم کا ارتکاز تجریدیت کی اہم خصوصیت ہے… جہاں شعری پیکر ایک تسلسل میں آکر ذہن میں معنی کا اہتمام کرتے ہیں۔”

ڈراما اور تجرید:
(آئندہ حصے میں ہم دیکھیں گے کہ ڈرامے کی صنف میں تجریدیت کس طرح ظاہر ہوئی…)

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں