کلاسیکی اردو شاعری میں انسان کا تصور: ایک تفصیلی و تحقیقی جائزہ، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اردو کی کلاسیکی شاعری میں ‘انسان’ کا تصور ہمیشہ سے بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قلی قطب شاہ کے ابتدائی دور سے لے کر ولی دکنی اور پھر سراج اورنگ آبادی تک، تمام اہم شعراء کے ہاں انسان ہی کائنات کا مرکز و محور دکھائی دیتا ہے۔
ذیل میں ہم مختلف ادوار کے اہم شعراء کے کلام کے حوالے سے انسانی تصورات کا جائزہ لیں گے۔
قلی قطب شاہ: رنگا رنگ انسانی جذبات کا عکاس
دکن کے عظیم بادشاہ اور شاعر قلی قطب شاہ کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے، جس میں انسان اور اُس کے جذبات کو اوّلیت حاصل ہے۔ قطب شاہ نے اپنی شاعری میں "بارہ پیاریوں” کا ذکر نہایت مفصل اور دلکش انداز میں کیا ہے۔
یہ بارہ پیاریاں کوئی خیالی مخلوق نہیں بلکہ جیتی جاگتی انسانی عورتیں ہیں، جن کے حسن اور امتیازات کو قطب شاہ نے فنی تنوع کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہماری شاعری میں محبوب کا جو تصور ہے، وہ دراصل ایک زندہ انسان ہی کا تصور ہے۔
- ثقافتی تنوع: قطب شاہ کی شاعری میں مشترکہ ہندوستانی کلچر کی بہترین جھلکیاں ملتی ہیں۔
- تہواروں کا ذکر: انھوں نے ہولی، بسنت اور دیگر ہندوستانی تہواروں کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔
- نفسیاتی مطالعہ: عشق کے مضامین میں انھوں نے بارہ پیاریوں کے نام بارہ نظمیں (تھمیں) لکھیں، جن میں ہر ایک کی نفسیاتی کیفیات اور امتیازی خصوصیات کو بیان کرنا ان کا ایک بڑا فنی کارنامہ ہے۔
قاضی محمود بحری اور ترکِ دنیا کا تصور
دوسری جانب، قاضی محمود بحری جیسے شعراء نے انسانی زندگی کے روحانی پہلو کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں تصوف اور عرفان کے مضامین باندھے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ ایک باکمال انسان کو دنیوی مال و دولت کی ہوس سے آزاد ہونا چاہیے۔ وہ انسان کو قیدِ حیات میں بھی روحانی آزادی کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔
ولی دکنی: حسن پرست انسان
اردو غزل کے بابا آدم، محمد ولی دکنی کی شاعری کا انسان مختلف ہے۔ ان کے ہاں ایک ایسے حسن پرست انسان کا تصور ملتا ہے جو کائنات کے پیچیدہ اسرار و رموز میں الجھنے کے بجائے زندگی کے ظاہری حسن اور لطافتوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔
ولی کے انسان کے لیے بدنامی یا رسوائی کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اس کی حسن پرستی ہر چیز پر غالب ہے۔ ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
سراج اورنگ آبادی: عشق بطور پیامبرِ امن
سراج اورنگ آبادی کی شاعری کا مرکزی نقطہ "عشق” ہے۔ ان کی شاعری میں ایک ایسے انسان کی تلاش باآسانی کی جا سکتی ہے جو سر تا پا عشق میں ڈوبا ہوا ہے۔ سراج کے نزدیک عشق صرف جذباتی لگاؤ نہیں بلکہ امن اور صلح کا پیامبر ہے۔
ان کا فلسفہ یہ ہے کہ عاشق اور معشوق کے درمیان عشق ایک ثالث (Mediator) کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو بنی نوع انسان کو باہمی جھگڑوں، نفرتوں اور فساد سے نجات دلا سکتا ہے۔ خواہ عشق مجازی ہو یا حقیقی، سراج کے ہاں انسان ہی مرکز میں رہتا ہے۔
رو رنگی خوب نئیں یک رنگ ہو جا
پگھل کر موم بن تئیں تو سنگ ہو جا
جعفر زٹلی: سماجی انحطاط کا آئینہ
جعفر زٹلی اپنے دور کے ایک منفرد اور بے باک شاعر ہیں۔ ان کا خاص ہتھیار "طنز” (Satire) ہے۔ زٹلی نے اپنی شاعری کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اس کے توسط سے سماجی حالات کا پردہ چاک کیا ہے۔
ان کے کلام کی قرأت سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے سیاسی، سماجی، اَخلاقی اور معاشی زوال پر کتنے رنجیدہ تھے۔ انھوں نے اپنی ہجو گوئی کے ذریعے نہ صرف سماج کی بدحالی کو بیان کیا بلکہ حقائق کی اصل اور کریہہ صورت کو دکھانے کی جرات مندانہ کوشش بھی کی۔ ان کے عہد کی تاریخ سمجھنے کے لیے ان کی شاعری ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
شاہ مبارک آبرو: زندگی کا نشاطیہ پہلو
شاہ مبارک آبرو کا شمار "ایہام گوئی” کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ میر تقی میر سے قبل جن شعراء نے اردو غزل کو نئی وسعتوں اور نئے رنگ و آہنگ سے روشناس کرایا، ان میں آبرو کا نام نمایاں ہے۔
ان کی شاعری کی خاص بات یہ ہے کہ:
- ان کے ہاں فکر کی گہرائی اور گیرائی دونوں موجود ہیں۔
- انھوں نے انسانی زندگی کے نشاطیہ پہلو (Joyful aspects) کو خاص طور پر پیش کیا۔
- ان کے کلام میں میلوں، ٹھیلوں اور عوامی گہما گہمی کا ذکر کثرت سے ملتا ہے، جو مشترکہ تہذیب اور انسانی میل ملاپ کی عکاسی کرتا ہے۔
محمد شاکر ناجی: معاشی کشمکش اور انسان
محمد شاکر ناجی، جو آبرو کے ہم عصر تھے؛ ان کی شاعری کا مزاج مختلف ہے۔ ان کے کلام میں انسانی زندگی کی جِدوجہد اور کشمکش نمایاں نظر آتی ہے۔
ناجی کی شاعری ان کے دور کے ابتر سیاسی اور معاشی حالات کا آئینہ ہے۔ اس دور کا انسان جن دشواریوں سے دوچار تھا، بالخصوص معاشی بحران، اس کو ناجی نے بار بار موضوع بنایا ہے۔ امراء کی بدحالی کا نقشہ وہ کچھ یوں کھینچتے ہیں:
کیا ہنر مند کا شکار کریں
شیرِ قالیں ہیں آج کل کے امراؤ
مرزا رفیع سودا: شہرِ آشوب اور مایوسی
مرزا رفیع سودا کا نام قصیدہ گوئی میں سرِ فہرست ہے، لیکن ان کی غزلیں اور شہرِ آشوب بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ انھوں نے اپنے عہد کے زوال پذیر سماج کی تصویر کشی نہایت تفصیل سے کی ہے۔
سودا کی ہجو نگاری اور "تضحیکِ روزگار” اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ انھوں نے سیاسی اور معاشی ابتری کو جس طرح بیان کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں ایک ایسے انسان کا تصور ملتا ہے جو:
- مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہے۔
- اقتصادی بحران اور فکرِ معاش میں گھرا ہوا ہے۔
خواجہ میر درد: اَخلاق اور روحانیت
خواجہ میر درد صوفیانہ شاعری کے امام مانے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کی پوری زندگی دہلی میں گزری، اس لیے انھوں نے دہلی کے معاشرتی نشیب و فراز کو بہت قریب سے دیکھا۔
درد کی شاعری میں انسانی اَخلاق پر خاص زور دیا گیا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان اپنے اعلیٰ اخلاق ہی کے ذریعے سماج کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ان کے ہاں صوفیانہ خیالات اور اخلاقی درس جا بجا ملتا ہے:
جلوہ تو ہر اک طرح کا ہر شان میں دیکھا
جو کچھ کہ سنا تجھے میں سو انسان میں دیکھا
میر تقی میر: انسانی درد کا عظیم ترجمان
اردو غزل کے خدائے سخن، میر تقی میر کی شاعری میں "انسان” اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ مرکز اور محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالب جیسے عظیم شاعر نے بھی ان کی استادی کا اعتراف کیا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ میر کی شاعری دراصل ان کی اپنی زندگی کا المیہ (Tragedy) ہے، تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ میر نے وہی لکھا جو انہوں نے دیکھا اور برتا۔ ان کی شاعری میں:
- انسان کا تصور ہر دوسرے شعر میں ملتا ہے۔
- ان کی کلیات انسانی مسائل، ترجیحات اور محرومیوں سے لبریز ہے۔
- انسان کا درد اور غم ان کے کلام کی کلید ہے۔
میر کی شاعری "غمِ جاناں” سے سفر کرتی ہوئی "غمِ دوراں” تک پہنچتی ہے۔ قاری جب میر کو پڑھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ درد میر کا نہیں بلکہ خود اس کا اپنا ہے۔
نظیر اکبر آبادی: عوامی زندگی کا عکاس
مشہور نقاد کلیم الدین احمد نے نظیر اکبر آبادی کو اردو شاعری کا "درخشندہ ستارہ” قرار دیا ہے، اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ نظیر اردو نظم نگاری کے سب سے اہم اور عوامی شاعر ہیں۔
ان کی شاعری میں انسان اور انسانی زندگی اپنی پوری آب و تاب اور جزئیات کے ساتھ نظر آتی ہے۔ ان کی مشہور نظمیں انسانی معاشرت کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہیں، مثلاً:
- مفلسی
- روٹی کی فلاسفی
- بنجارہ نامہ (دنیا کی بے ثباتی)
- آدمی نامہ
ان نظموں میں انسان کی سماجی حیثیت اور انفرادی اخلاقیات کا عکس واضح طور پر ملتا ہے۔ "آدمی نامہ” میں تو انہوں نے انسان کے متضاد رویوں (مثبت اور منفی) کو کھل کر بیان کیا ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ معلمِ اردو کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
